بھارت حکومت خارجہ پالیسی کے حوالے سے عجب مخمصے کا شکار ہے، مودی حکومت، امریکا اور روس دونوں کو خوش کرتے کرتے کہیں کی نہ رہی۔ گزشتہ10برس سے مودی سرکار امریکہ اور مغرب کی خوشنودی کےلئے کوشاں رہی۔ ان کوششوں میں بھارت کی دیرینہ اتحادی روس سے دوریاں پیدا ہوئیں۔اسی طرح حالیہ دنوں میں اسکی کنیڈا سے بھی کشیدگی پیدا ہوئی تو امریکہ بھی اس دہشت گردی کے معاملے میں اس سے نالاں ہے۔ گزشتہ برس جون میں بھارتی ایجنٹس نے وینکوور، کینیڈا کے مضافات میں ایک سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو اس لئے قتل کروایا گیا کہ وہ بھی خالصتان تحریک سے وابستہ تھے۔ گزشتہ سال ہی نومبر میں سکھ علیحدگی پسند رہنما گرو پتونت سنگھ پنوں کو امریکہ میں قتل کرنے کی کوشش کی گئی جوناکام ہوئی ۔ برطانیہ میں بھی ایک علیحدگی پسند رہنماو¿ں کے قتل کی سازش تیار کر رکھی ہے۔ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا کی انٹلیجنس ایجنسیوں اور انتہائی خفیہ عالمی انٹیلی جنس ادارے فائیو آئیز نے اس ضمن میں بھارت کو مورد الزام ٹھہرایا۔ بیرون ممالک ریشہ دوانیوں، تخریب کاری اور قتل عام پر بھارت کے کینیڈا اور امریکا سے تعلقات شدید متاثر ہوئے۔روس اور امیکہ کے درمیان اسلحہ کی خرید فروخت بھی اسکے گلے کی ہڈی بن چکی ہے۔یہ وہ سارے معاملات ہیں جو اسکی متشدد پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔امریکی ادارہ برائے مذہبی آزادی نے بھی بھارت کو مذہبی آزادی پر تشویشناک صورتحال والے ممالک میں شامل کرنےکامطالبہ کیا ہے،ماہرین کا ماننا ہے کہ اس پس منظر میں اس نے یو ٹرن لیتے ہوئے دسمبرسے دوبارہ روس سے تعلقات بحال کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ بھارتی و روسی وزرائے خارجہ نے 2024تا 2028تزویراتی شراکت داری کا اعلان کیا ہے یہ بیل کیسے منڈیر چڑھتی ہے اسے دیکھنا پڑے گا۔بھارت و روس نے نئے ہتھیاروں کی مشترکہ پیداوار شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔یہ وہ نکتہ ہے جس پر امریکا کی جبین پر بل پڑنے لگتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بھارت امریکا باہمی کشیدگی میں اضافہ اور روس بھارت شراکت داری پر امریکی صدر نے دورہ بھارت کی دعوت ٹھکرا دی ہے۔ امریکی صدر بائیڈن نے24 جنوری کو بھارت یوم جمہوریہ میں شرکت کا دعوت نامہ ٹھکرایا ہے۔ نتیجتاً بھارت کو”پاکستان و چین “مخالف کواڈ اتحاد کا اجلاس بھی ملتوی کرنا پڑا۔ بھارت کی کوئی واضح پالیسی نہیں ہے بلکہ ہمیں اس حوالے سے کنفیوژن اور انتشار کی کیفیت نظر آتی ہے۔اس کی خارجہ پالیسیوں کا محور و مرکز ہمیشہ چین اور پاکستان ہی رہا ہے۔ لگتاہے کہ بھارتی حکام چین پاکستان بغض میں بلا سوچے سمجھے قدم اٹھا لیتے ہیں۔ بھارتی خارجہ پالیسی پر اس وقت ملک کی اندرونی سیاسی صورتحال کا اثر بھی ہے تاہم خارجہ پالیسی اس انداز میں نہیں چلائی جاسکتی۔بھارت کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا مشکل ہے ۔ متنازعہ معاملات بات چیت کے ذریعے ہی حل کیے جا سکتے ہیں ،اس کیلئے ضروری ہے کہ بھارت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے ۔ خطے کے لئے اسکی ابہام پر مبنی پالیسی کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ خطے میں امن ہر کسی کے مفاد میں ہے ،بدمعاشی اور تھانیدارانہ رویہ مسائل کو ہوا دیتا ہے۔ڈرامہ بازی سے نہ ملک چلتے ہیں نہ خارجہ پالیسی میں استحکام آتا ہے،اسکی ڈرامہ بازی ابھی اگلے روز ہی سامنے آئی ہے۔بھارتی ناو سینا یا نوٹنکی سینا، بھارتی نیول چیف ایڈمرل ہری کمار نے ڈرامہ بازی کا نیا ریکارڈ قائم کر تے ہوئے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی یہ بھی کوشش ناکام ہوگئی۔ صومالیہ کے قریب پھنسے لائیبیرئین تجارتی جہاز کو بحری قزاقوں سے چھڑانے کا جھوٹا ڈرامہ رچایا گیا۔دنیا جانتی ہے کہ بحیرہ عرب قزاقی سے پاک خطہ ہے۔اپنے مغربی آقاو¿ں کو خوش کرنے کےلئے بھارتی بحریہ تمام حدیں پار کر گئی، جس قزاقی کی کوشش کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا گیا وہ سرے سے ہوئی ہی نہیں۔ بھارتی دفاعی ذرائع نے بحیرہ عرب میں قزاقی سے نمٹنے کےلئے 4 جنگی جہاز روانہ کرنے کا دعویٰ کیا اور اپنی نیوی کے کارنامے کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے جو سرے سے وجود ہی نہیں رکھتا۔ حقیقت میں بحیرہ عرب کو نو پائریسی زون قرار دیا جا چکا ہے۔ شاید بھارتی نیوی کے کرتا دھرتا اس بارے پوری طرح معلومات نہیں رکھتے۔
یونیسیف کاانتباہ
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے (یونیسیف )نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ، غذائی قلت اور بیماریوں کی شدت ایک مہلک وبا پیدا کر رہی ہے جس سے 10 لاکھ سے زائد بچوں کو خطرہ ہے۔غزہ میں صرف ایک ہفتے کے دوران بچوں میں اسہال کے کیسز میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ دو سال سے کم عمر کے 90 فیصد بچے اب "شدید غذائی قلت اور غربت” کا شکار ہیں۔ غزہ میں بچے "ایک ایسے ڈراﺅنے خواب میں گرفتار ہیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بدتر ہوتا جا رہا ہے، غزہ کی پٹی میں بچے اور خاندان "لڑائی میں ہلاک اور زخمی ہو رہے ہیں، ان کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں انہیں پانی اور خوراک نہیں مل رہی اور وہ خطرناک بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہو رہے ہیں۔ تمام بچوں اور عام شہریوں کو تشدد سے محفوظ رہنے اور بنیادی خدمات اور سامان تک رسائی یقینی بنانے کا مطالبہ کیاگیا۔ رپورٹ کے مطابق17دسمبر سے شروع ہونے والے صرف ایک ہفتے میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں اسہال کے کیسز 48 ہزار سے بڑھ کر 71ہزار تک پہنچ گئے، جو کہ روزانہ اسہال کے 3,200 نئے کیسز کے برابر ہے۔ اتنے کم وقت میں کیسز میں بڑا اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ غزہ کی پٹی میں بچوں کی صحت تیزی سے خراب ہو رہی ہے، یہ حالیہ اضافہ تقریبا 2ہزار فیصد کے حیران کن اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔ حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماﺅں کے ساتھ ساتھ دو سال سے کم عمر کے بچوں کی غذائی ضروریات اور کمزوریاں باعث تشویش ہیں ۔ تجارتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جانی چاہئیں تاکہ دکانوں کو دوبارہ بھرنے کے قابل بنایا جا سکے اور انسانی وجوہات کی بنا پر فوری جنگ بندی کی جائے۔یونیسف غزہ کے بچوں کو زندگی بچانے والی امداد فراہم کرنے کے لئے کام کر رہا ہے جنہیں اس کی اشد ضرورت ہے لیکن فوری طور پر بچوں کی زندگیاں بچانے کے لئے بہتر اور محفوظ رسائی کی ضرورت ہے، غزہ میں ہزاروں دوسرے بچوں کا مستقبل دا ﺅپر لگا ہوا ہے، دنیا کھڑے ہو کر نہیں دیکھ سکتی اب بچوں پر تشدد اور مصائب کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔غزہ ایک تباہ کن انسانی بحران کا شکار ہے۔ خوراک، پانی، ایندھن اور ادویات کی شدید قلت ہے اور شہریوں کو زندگی بچانے کےلئے بنیادی خوراک نہیں مل رہی ہے۔واضح رہے کہ غزہ کی پٹی کے خلاف اسرائیل کی جنگ کو 90روز مکمل ہوچکے ہیں ۔اسرائیلی جنگ میں شہادتوں کی کُل تعداد 22ہزار سے زائد ہوچکی ہے جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 57,910 تک پہنچ گئی ہے۔
پنجاب میں سی ٹی ڈی کی کارروائیاں
آٹھ فروری دوہزارچوبیس کے انتخابات کی آمدآمد ہے مگر کچھ دہشتگرد بیرونی عناصرکے ہاتھوں کھیل کرپاکستان میں افراتفری کاماحول پیدا کرناچاہتے ہیں مگر ہمارے سیکیورٹی فورسز کے ادارے ان کے ناپاک عزائم کوناکام بنانے کے لئے ہروقت چوکس ہیں اورکارروائیاں جاری رکھے ہیں۔گزشتہ روز محکمہ انسداد دہشت گردی نے پنجاب کے مختلف شہروں میں خفیہ اطلاعات پر کارروائیاں کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 3مبینہ دہشت گرد سمیت 7 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ترجمان سی ٹی ڈی نے بتایا کہ مختلف شہروں میں 59 انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن کیے گئے، یہ کارروائیاں لاہور، قصور، سرگودھا، بہاولپور اور بہاولنگر میں کی گئیں۔ لاہور سے کالعدم ٹی ٹی پی کے 3اہم کارکنان کو گرفتار کر لیا۔ مزید بتایا کہ دہشت گردوں سے بارودی مواد، ایک ای ڈی بم، 2حفاظتی فیوز، پرائماکارڈ، موبائل فون اور نقدی برآمد کر لی۔ حکام نے بتایا کہ دہشت گردوں کی شناخت خان زمان، شاہ محمد،عابد، خالد محمود، عظیم، احمد شاہ اور نور کے نام سے ہوئی، دہشت گرد قانون ناقذ کرنے والے اداروں پر حملے کی منصوبہ بندی کر رے تھے۔ انتخابات کے انعقاد کا اولین تقاضا امن و امان کی صورتحال کا بہتر ہونا ہے۔ یہ صرف سکیورٹی فورسز کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں، مذہبی حلقوں اور ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا مسئلہ ہے۔ لہٰذا اختلافات سے بالا ہو کر متحد ہویا جائے تاکہ پُر امن فضا میں انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے۔
اداریہ
کالم
بھارتی حکومت خارجہ پالیسی میں تذبذب کا شکار
- by web desk
- جنوری 8, 2024
- 0 Comments
- Less than a minute
- 1470 Views
- 2 سال ago

