ایک ایسے دور میں جو روشن ضمیری اور ضابطہ بند بین الاقوامی قانون پر فخر کرتا ہے، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ طاقت کے ذریعے حاصل کی گئی سرزمینوں پر طویل قبضہ آج بھی جاری ہے، حالانکہ عالمی اصول اس کی صراحتاً ممانعت کرتے ہیں۔ تاریخ میں بہت سی ریاستیں فتوحات کی لغزشوں کا شکار رہیں، مگر ہمارے عہد میں دو تنازعات عالمی سفارت کاری پر گہرا اور پریشان کن سایہ ڈالے ہوئے ہیں؛ بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر اور اسرائیلی قبضے میں فلسطین۔ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے یہ خطے مزاحمت اور جبر کے ادوار سے گزر رہے ہیں، جبکہ عالمی نظام کے نگہبان کبھی احتجاج اور کبھی بے بسی کے درمیان جھولتے نظر آتے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کو طاقتور حلقوں کی اعلانیہ اور خفیہ سرپرستی نے ان تنازعات کی پیچیدگی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔بھارت کے معاملے میں یہ اخلاقی تضاد خاص طور پر نمایاں ہے۔ 1930 اور 1940 کی دہائیوں میں، جب بھارت خود برطانوی استعمار کے زیرِ نگیں تھا، اس نے فلسطینی معاملے کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔ 1938 میں موہن داس کرم چند گاندھی نے لکھا کہ ”فلسطین عربوں کا اسی طرح ہے جیسے انگلستان انگریزوں کا اور فرانس فرانسیسیوں کا”، اگرچہ انہوں نے یورپ میں یہودیوں کی مظلومیت پر بھی افسوس ظاہر کیا۔ آزاد بھارت نے 1947 کے اقوامِ متحدہ کے تقسیم فلسطین منصوبے کی مخالفت کی اور بعد ازاں اسرائیل کی اقوامِ متحدہ میں شمولیت کے خلاف ووٹ دیا۔ 1950 میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے باوجود وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے سے گریز کیا، تاکہ عرب ممالک سے تعلقات متاثر نہ ہوں اور نوآبادیاتی مخالف یکجہتی برقرار رہے۔تاہم وقت کے ساتھ تزویراتی تقاضوں نے نظریاتی سختی کو نرم کر دیا۔ 1962 کی چین کے ساتھ جنگ اور 1965 کی پاک۔بھارت جنگ کے دوران اسرائیل نے خاموشی سے بھارت کو اسلحہ فراہم کیا۔ 1970 کی دہائی میں یہ تعاون زیادہ منظم شکل اختیار کر گیا۔ 1971 میں جب پاک۔بھارت کشیدگی عروج پر تھی تو فرانس میں بھارت کے سفیر ڈی این چیٹرجی نے نئی دہلی کو اسرائیلی مدد حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اس تجویز کو قبول کیا اور بھارت کی خفیہ ایجنسی ”را” کے ذریعے لیختن شٹائن کے راستے اسلحہ حاصل کیا گیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا مئیر نے مبینہ طور پر سفارتی اعتراف کی خواہش ظاہر کی، مگر بھارت نے علانیہ فاصلہ برقرار رکھا جبکہ پسِ پردہ تعاون جاری رہا۔ فلسطین کے ساتھ عوامی یکجہتی اور اسرائیل کے ساتھ خفیہ روابط کی یہ دو رخی پالیسی دہائیوں تک بھارت کی مغربی ایشیا پالیسی کی پہچان بنی رہی ۔1992 میں باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے اور اس کے بعد دفاعی و تکنیکی تعاون میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے دور میں یہ تعلقات پسِ پردہ ہم آہنگی سے کھلی رفاقت تک پہنچ گئے۔ 2017 میں ان کا اسرائیل کا دورہ—کسی بھی بھارتی وزیر اعظم کا پہلا دورہ—طویل ہچکچاہٹ کے خاتمے کی علامت تھا۔ حالیہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب غزہ بدستور تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے اور خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دونوں ممالک کے درمیان ”غیر معمولی اتحاد” کا ذکر کرتے ہوئے دفاع، ٹیکنالوجی، جدت اور تجارت میں تعاون کو سراہا۔ 1992 کے بعد تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہوا اور اسرائیل بھارت کو جدید اسلحہ فراہم کرنے والوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ مشترکہ فوجی مشقیں، انٹیلی جنس تبادلے اور صنعتی اشتراک اس تعلق کو ابہام سے آزاد کر چکے ہیں۔ اگرچہ بھارت باضابطہ طور پر دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور فلسطینی قیادت سے سفارتی روابط رکھتا ہے، مگر اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے خلاف قراردادوں پر اس کی احتیاطی روش—خصوصاً حالیہ اجتناب—اندرون و بیرون ملک توجہ کا مرکز بنی ہے۔یہ تزویراتی منظرنامہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے جب اسے امریکہ اور ایران کے بڑھتے ہوئے تناؤ کے پس منظر میں دیکھا جائے۔ اسرائیل واشنگٹن کا قریبی حلیف ہے اور خطے میں وسیع تر تصادم کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ مبصرین جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا بھارت نے اسرائیل کے ذریعے امریکہ کو کسی ممکنہ جنگ کی صورت میں حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس کے بدلے اسرائیل ممکنہ طور پر امریکہ۔بھارت تعلقات میں بہتری میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایران سے متعلق امور میں بھارت کی حالیہ سہولت کاری خلیجی ریاستوں کی نظروں سے اوجھل نہیں، جہاں لاکھوں بھارتی کارکن مقیم ہیں اور جن کے ساتھ نئی دہلی کے قریبی تعلقات ہیں۔ ان ریاستوں کے لیے ایران کے خلاف کسی واضح صف بندی کا مطلب ایک نازک اور ممکنہ طور پر عدم استحکام پیدا کرنے والی تبدیلی ہو گا۔ جنوبی ایشیا کے لیے اس کے سلامتی مضمرات بھی کم اہم نہیں۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں دوطرفہ تعاون سے آگے بڑھ کر مشترکہ خطرات پر بھی گفتگو ہوتی ہے۔ بعض تجزیوں کے مطابق اسرائیل اور بھارت پاکستان کو ایک مماثل تزویراتی زاویے سے دیکھتے ہیں۔ اسلام آباد میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ سفارتی اور تزویراتی سطح پر پاکستان کو گھیرنے کی کوششیں ہم آہنگ کی جا سکتی ہیں، حتیٰ کہ افغانستان کی صورتِ حال کو بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔یہ امر بھی خارج الامکان نہیں کہ تل ابیب میں دونوں وزرا اعظم کی نشستوں میں افغانستان کی پاکستان کے خلاف عسکری اوت مالی معاونت کی تدابیر بھی زیر بحث ہوں گی اگرچہ یہ دعوے قیاس آرائیوں کے دائرے میں ہیں، پاکستان اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور سینیٹ اس قربت پر قرارداد کے ذریعے باقاعدہ تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔یہ ہم گرائی محض دو ریاستوں کا معاملہ نہیں، بلکہ وسیع تر علاقائی رقابتوں، بڑی طاقتوں کے مفادات اور حل طلب تنازعات سے جڑی ہوئی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اب بھی بے چین ہے؛ غزہ جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود زخم خوردہ ہے؛ عالمی عدالتیں اور انسانی ادارے شدید انسانی المیے کی دستاویز بندی کر چکے ہیں؛ اور مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع عالمی تنقید کو جنم دے رہی ہے۔ جنوبی ایشیا میں کشمیر ایک ایسا آتش فشاں ہے جس کی چنگاریاں بارہا مسلح تصادم کو جنم دے چکی ہیں۔ریاستیں اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے کثیر جہتی حکمتِ عملیاں اپناتی ہیں۔ بھارت عظیم طاقت کا درجہ حاصل کرنے کا خواہاں ہے، تکنیکی ترقی، متنوع توانائی ذرائع اور سفارتی اثر و رسوخ میں وسعت اس کے اہداف ہیں۔ اسرائیل کیلئے بھارت کی آبادی، معاشی امکانات اور جغرافیائی محلِ وقوع اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم اخلاقی اور قانونی سوالات اپنی جگہ قائم ہیں۔ جب قبضہ برقرار رہے اور شہری آبادی مسلسل مصائب کا شکار ہو تو محض تذویراتی مصلحت دیرپا جواز فراہم نہیں کر سکتی۔جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ دیرینہ تنازعات، ابھرتے اتحاد اور بڑی طاقتوں کی کشمکش ایک آتش گیر آمیزہ تشکیل دے رہے ہیں۔ اگر تصادم کا دائرہ وسیع ہوا—خواہ امریکہ اور ایران کے مابین، فلسطینی علاقوں میں، پاک۔افغان سرحد پر یا کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر—تو اس کے اثرات محدود نہیں رہیں گے۔بالآخر بھارت۔اسرائیل قربت ابتدائی نوآبادیاتی دور کے نظریاتی تصورات پر عملی سیاست کی برتری کی علامت ہے۔ یہ اس دنیا کی عکاسی کرتی ہے جہاں تاریخی یکجہتیاں عصری مفادات کے آگے پسِ پشت چلی جاتی ہیں۔ مگر تاریخ یہ بھی سکھاتی ہے کہ ناانصافی کے زخم محض نظرانداز کرنے سے مندمل نہیں ہوتے۔ اگر کشمیر اور فلسطین میں انصاف مؤخر ہی رہا تو کوئی بھی اتحاد، خواہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، پائیدار امن کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

