کالم

بیگم صاحبہ ادب اور نیئر مصطفی

بیگم صاحبہ ادب پڑھنا بھی جانتی ہیں اور اپنا ذاتی ادب کروانا بھی۔بیچارا صاحب ادب پڑھنے کا سلیقہ سیکھ رہا ہے،ادب کرنا تو اسے بچپن سے آتا ہے،اپنا ادب کروانا شاید وہ عمر بھر نہ سیکھ سکے،ادب سے اسے اتنا لگاؤ ہے،ساہیوال اور گرد و نوا ح کے ہر چرند پرند کا بھی احترام کرتا ہے۔انسان تو ہوتے ہی قابل احترام ھیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے معزز بنایا ہے ۔ساہیوال کی بیٹی، نفسیات کی پروفیسر، ادب پڑھنے کی شوقین ہے،ساہیوال شہر سے متعلقہ جملہ فیس بک پوسٹس پڑھتی ہیں ،گروپس میں بھی مواد دیکھتی رہتی ہیں،ساہیوال کے بارے میں کیا چل رہا ہے،ساہیوال میں کیا چل رہا ہے، وغیرہ وغیرہ ۔ویسے تو خاتون خانہ ساہیوال کے داخلی و خارجی امور سے باخبر رہتی ہیں لیکن کالم نگارکی قسمت اتنی اچھی نہیں کہ خاتون خانہ کوئی خبر اسے بھی بروقت دے دیں۔ وقت گزرنے کے بعد معلوم ہوا نیر مصطفی صاحب ساہیوال آ کر چلے بھی گئے ۔دلی صدمہ ہوا ۔بیگم صاحبہ نے ان کے جانے کے بعد پوسٹ دیکھی جس میں ساہیوال آرٹ کونسل میں ان کے ساتھ شام منانے کا ذکر تھا ۔ پوسٹ دیکھنے کے بعد خاتون خانہ نے صاحب کا کچھ ایسا حشر کیا ، دل کیا پاکستان پوسٹ کی وساطت سے ہی بندہ کہیں پوسٹ ہو جائے۔ بیگم صاحبہ نے بار بار،ہزار بارطعنے دیے ،ہم پہ تو بڑا رعب ڈالتے تھے ، نیر میرے چھوٹے بھائیوں کی طرح ہیں ۔وہ تو شاید تمہیں جانتے بھی نہ ہوں، یہ کیسے ممکن ہے وہ ساہیوال آئیں،آرٹ کونسل میں انکے ساتھ شام منائی جائے،نہ تمہیں کوئی مدعو کرے اور نہ تمہارے بھائی صاحب تمہارے ساتھ رابطہ کریں،بڑے افسر ، بڑے کالم نگار بنے پھرتے ہو "عزت تو خراب ہوئی تھی،بیعزتی بھی خراب ہونے لگی تو نیر صاحب سے رابطہ کیا ۔ نیر صاحب معصوم ثابت ہوئے ۔کالم نگار ہمیشہ کی طرح ہارڈ لک کا شکار ہوا۔ آج کل واٹس ایپ ہیک کرنے والے بے شمار ہیں۔ کالم نگار کا ایک نمبر انہی معاملات کی نذر ہو گیا ۔وہ بروقت نیر صاحب کو اپنے نئے نمبر سے مطلع نہ کر پایا اور یوں اس کی محرومیوں میں ایک اور محرومی کا اضافہ ہو گیا۔ ریاض ہمدانی صاحب نے بھی دوستی کا حق ادا نہ کیا حالانکہ وہ کالم نگار کی نیر مصطفی سے محبت اور عقیدت سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ کالم نگار کو کالج اور سروس میں نیر صاحب کا سینیئر ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ نیر صاحب کی وجہ سے اسے اکثر فخر کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے ۔نیر نئی نسل کے لکھاری ہیں، مختصر افسانہ لکھنے میں انہیں کمال حاصل ہے۔ دنیا کے تمام موقر ادبی جرائد میں ان کے افسانے چھپ چکے ہیں ۔کالم نگار کو ذاتی طور پر انتظار حسین کے علاوہ اگر کسی کے علامتی افسانے پڑھنے میں مزہ آتا ہے تو وہ نیر مصطفی ھیں ۔ ساہیوال آرٹ کونسل میں نیر مصطفی صاحب کے ساتھ شام منائی گئی ۔نیر مصطفی صاحب ہمارا اثاثہ ہیں ۔جن لوگوں نے اس تقریب کا اہتمام کیا انہوں نے ادب پروری کا حق ادا کر دیا، تقریب کے منتظمین کو خراج تحسین پیش کرنے کے علاوہ کالم نگار یہ گزارش کرنے کی بھی جسارت کرتاہے ، آئندہ اتنی خوبصورت شخصیت کی آمد کے موقع پر پبلیسٹی کا حق بھی ادا کیا جائے ۔اگر علم ہوتا تو کتنے لوگ نیر صاحب کی گفتگو سے مستفید ہوتے۔ ہمارے ہاں سول سروس اور ادب کا رشتہ بہت پرانا ہے۔ لوگ سول سرونٹس کا ادب کرتے ہیں۔ اگر لوگ ادب نہیں کرتے تھے تو سول سرونٹس ادب کروا بھی لیتے تھے ۔ کئی سول سرونٹس بطور سول سرونٹ نہیں بطور ادیب لوگوں کی یادداشت کا حصہ ہیں ۔مصطفی زیدی کو بطور شاعر کون نہیں جانتا۔قدرت اللہ شہاب صاحب نے شہاب نامہ کے علاوہ چند خوبصورت افسانے بھی یادگار چھوڑے ہیں۔ نیر مصطفی بھی سول سروس کا فخر ہیں ۔جواں سال افسانہ نگار نے کئی کتابیں لکھ چھوڑیں ہیں۔ امید ہے ،مستقبل میں اس فہرست میں مزید خوبصورت اضافے ہوں گے۔ دنیا بدل گئی ہے لیکن افسر اور ادب کا رشتہ آج بھی قائم ہے۔ نیر مصطفی اسی رشتے کو لیکر چل رہے ہیں ۔شاعری ہمارے خمیر میں ہیں، نثر ہمارے ضمیر میں ہے۔ اگرچہ ضمیر جعفری شاعری فرماتے رہے۔ آج کل اکثر ایسے افراد شاعری فرما رہے ہیں جن کا ضمیر ہمارے ضمیر جعفری صاحب کے ساتھ محو خواب ہے ، خیر ضمیر حاضر ضمیر غائب۔ضمیر اگر بالکل غائب نہ ہو تو بندہ نیر مصطفی کا پرستار بن جاتا ہے، فقط ایک تحریر پڑھنا شرط ہے۔ نیر کی ہر تحریر میں اتنی جان ہے کہ وہ اپنا آپ منوا لیتی ہے۔ نیر کا بنیادی تعارف نیر کا فن ہے۔ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری پڑھ کر دل میں ہونیوالی ٹوٹ پھوٹ ختم ہو گئی ۔یقین ہو گیا ، اردو ادب کا مستقبل محفوظ بھی ہے, روشن بھی ہے ۔ موجودہ دور میں بڑا ادب لکھنے والے ، بڑا ادب پڑھنے والے، بڑے لوگوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔نیر جیسے لوگوں کا دم غنیمت ہے۔نیر ادبی جہاد کر رہے ہیں۔نرک میں نرتکی ، کولاج،ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری،معنی کی تلاش،ڈھشما اور سینٹرل چوک کے مصنف سے ادبی دنیا کو بڑی امیدیں ہیں۔نیر پہلے بھی امیدوں سے بڑھ کر ثابت ہوئے ہیں ۔ اک دنیا کی دعائیں نیر کے ساتھ ہیں۔نئی نسل میں ادبی ذوق کی آبیاری ایک ایسا فریضہ ہے جس سے والدین کی اکثریت پہلو تہی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ہمارا ماضی ادبی روایات کے حوالے سے درخشاں ہے .مشاعرے اور ادبی محافل کثرت سے منعقد کیے جاتی تھیں ۔ٹی ہاس آباد تھے۔ادیب کو وی آئی پی کا درجہ دیا جاتا تھا۔امید ہے ہماری معاشرتی زندگی کا سنہری دور لوٹ کے آئے گا۔نیر کی کتب کا مطالعہ کیجئے ،زندگی کی تفہیم آسان ہو جائے گی۔ڈیجیٹل میڈیا انفارمیشن بانٹتا ہے ،حکمت چھین لیتا ہے۔سائنس بدنی زندگی آسان کرتی ہے،روحانی زندگی مشکل کر دیتی ہے۔ روح کی غذا ادب ہے۔اپنی آنے والی نسلوں کو روحانی بانجھ پن سے محفوظ رکھیے،ادب اور زندگی باہم متصل ہیں۔انہیں الگ الگ الگ خانوں میں بانٹا نہیں جا سکتا،ادب سے ہی زندگی میں چاشنی ہے۔نیر کافن موجودہ دور کے سکہ بند نقاد حضرات سے دادو تحسین وصول کر چکا ہے،نیر درویش صفت انسان ہیں،نیر جیسے لوگ کسی بھی قوم کی زندگی کی علامت ہوتے ہیں ۔کالم نگار نیر کے خاموش قا رئین کی ایک قابل ذکر تعداد کے جذبات اپنے کالم کی وساطت سے نیر تک پہنچانا چاہتا ہے۔لکھتے رہیے۔آپ ہمارا فخر ہیں۔امید ہے،نیر اپنے خاموش قارئین کی صدا ضرور سنیں گے،کالم کے آخر پر ہم ایک مرتبہ پھر ان تمام خواتین و حضرات کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جو نیر جیسے ادیب حضرات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں،جو نئی نسل کو ایسی شخصیات سے روشناس کرواتے ہیں،امید ہے نیر کے ساتھ ساہیوال میں جلدہی ایک شام مزید منائی جائے گی۔ اتنی پبلسٹی کی جائے گی ، ہمارے جیسے حضرات بیگم کے طعنوں سے محفوظ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے