کالم

جب قیادت منتشر ہو جائے

سیاسی جماعتیں محض نعروں، جلسوں اور بیانات کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ منظم حکمتِ عملی اور اجتماعی شعور کا استعارہ ہوتی ہیں۔ مگر جب اسی استعارے میں دراڑیں پڑنے لگیں تو منظر دھندلا جاتا ہے۔ آج کل پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی حالات کچھ ایسے ہی ابہام کا نقشہ پیش کر رہے ہیں،جہاں قیادت ایک صفحے پر دکھائی نہیں دیتی بلکہ ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑی محسوس ہوتی ہے۔حالیہ بیانات اور جوابی بیانات نے اس تاثر کو مزید گہرا کیا ہے۔ سلمان اکرم راجہ کی جانب سے بیرسٹر گوہر علی خان پر تنقیدی نشتر ہوں یا علی امین گنڈا پور کا علیمہ خان کو موردِ الزام ٹھہرانا اور یہ سب کسی مضبوط داخلی ہم آہنگی کی علامت نہیں ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ضرور ہے، مگر جب اختلاف ذاتی نوعیت اختیار کر لے اور عوامی سطح پر الزام تراشی میں ڈھل جائے تو وہ کمزوری کا اعلان بن جاتا ہے۔ کارکنان کے لیے یہ طے کرنا دشوار ہو جاتا ہے کہ اصل مقف کیا ہے اور کس سمت بڑھنا ہے۔سیاسی ناپختگی کی سب سے بڑی علامت غیر منصوبہ بند اقدامات ہیں۔ایسے فیصلے جو جذبات کی رو میں بہہ کر کیے جائیں اور جن کے نتائج کا ادراک بعد میں ہو۔ خیبر پختونخوا میں حالیہ بحران اسی عجلت پسندی کی ایک تلخ مثال بن کر سامنے آیا۔ صوبے میں ایمبولینسوں میں مریضوں کا دم توڑ دینا، پٹرول کی قلت سے نظامِ زندگی کا متاثر ہونا، اور آٹے سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوجانا یہ سب محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ انسانی اذیت کی داستانیں ہیں۔سوال یہ نہیں کہ سیاسی جدوجہد کا حق کس کو ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا اس جدوجہد کی قیمت عوام ادا کریں؟ اگر کسی اقدام کی حکمتِ عملی واضح نہ ہو، اگر اس کے ممکنہ اثرات کا سنجیدہ جائزہ نہ لیا گیا ہو، تو پھر وہ اقدام محض نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔ قیادت کا فرض تھا کہ کسی بھی بڑے قدم سے پہلے انتظامی اور سماجی مضمرات کو سامنے رکھتی۔ مگر بظاہر ایسا محسوس ہوا کہ پہلے فیصلہ کیا گیا اور بعد میں اس کے اثرات پر غور شروع ہوا۔اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو وہ رویہ ہے جو نتائج سامنے آنے کے بعد اختیار کیا گیا۔ اجتماعی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے الگ الگ صفائیاں پیش کی گئیں۔ سیاست میں غلطی ہو جانا ناقابلِ معافی نہیں، مگر غلطی تسلیم نہ کرنا اور اس کا بوجھ دوسروں پر ڈال دینا اخلاقی کمزوری کی نشانی ضرور ہے۔ عوام نے بحران دیکھا، مشکلات برداشت کیں، مگر قیادت کی صفوں میں سنجیدہ احتساب کی جھلک کم ہی نظر آئی۔ اس ضمن میں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ جب اندرونی اختلافات میڈیا کی زینت بن جائیں تو پارٹی کا وقار متاثر ہوتا ہے۔ سیاسی اختلاف کو مکالمے کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، مگر الزام تراشی اور کردار کشی سے صرف خلیج بڑھتی ہے۔ اس طرزِ عمل نے نہ صرف پارٹی کے کارکنوں کو مخمصے میں ڈالا بلکہ عوامی اعتماد کو بھی مجروح کیا۔ ایک جماعت جو خود کو نظم و ضبط اور اصولی سیاست کی علمبردار قرار دیتی رہی ہو، اس سے زیادہ سنجیدگی کی توقع کی جاتی ہے۔خیبر پختونخوا کے عوام پہلے ہی معاشی اور انتظامی دبا کا شکار ہیں۔ ایسے میں اگر سیاسی فیصلے ان کی روزمرہ زندگی کو مزید مشکل بنا دیں تو یہ محض حکمتِ عملی کی ناکامی نہیں بلکہ ترجیحات کی غلط ترتیب بھی ہے۔ ایک مزدور جو پٹرول پمپ پر قطار میں کھڑا ہے، ایک مریض جو بروقت اسپتال نہ پہنچ سکے، ایک گھرانہ جو مہنگے آٹے کی وجہ سے پریشان ہو،ان سب کیلئے سیاسی بیانیہ کوئی تسلی نہیں بنتا۔ انہیں عملی ریلیف درکار ہوتا ہے۔سیاسی بلوغت کا تقاضا یہ ہے کہ اختلافات کو بند کمروں میں سلجھایا جائے، مشترکہ مقف طے کیا جائے اور عوام کے سامنے یکسوئی کا پیغام دیا جائے۔ اگر قیادت خود ہی کنفیوژن کا شکار ہو تو کارکنان میں نظم کیسے پیدا ہوگا؟ اور اگر کارکنان منتشر ہوں تو عوام کا اعتماد کیسے برقرار رہے گا؟یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی بڑی جماعت کا داخلی عدم استحکام پورے جمہوری عمل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ سیاست محض اقتدار کی کشمکش نہیں، بلکہ عوامی خدمت کا عہد ہے۔ جب اس عہد میں سنجیدگی کی جگہ جذباتیت لے لے اور حکمت کی جگہ ردِعمل، تو نتائج عموما تلخ ہی نکلتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قیادت الزام تراشی کے دائرے سے باہر نکلے اور خود احتسابی کا راستہ اختیار کرے۔ عوامی مسائل کو ترجیح دی جائے، فیصلوں سے پہلے ان کے اثرات کا جامع جائزہ لیا جائے اور اختلافات کو ذاتی انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے اصولی مکالمے میں بدلا جائے۔ بصورتِ دیگر، سیاسی بیانیے جتنے بھی بلند بانگ ہوں، زمینی حقائق انہیں بے اثر کر دیتے ہیں۔آخرکار سیاست کی ساکھ عوام کے اعتماد سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر یہ اعتماد مجروح ہو جائے تو اسے بحال کرنا آسان نہیں۔ خیبر پختونخوا کے حالیہ حالات ایک تنبیہ ہیں۔یہ یاد دہانی کہ قیادت کی کمزوری کا بوجھ سب سے پہلے عوام اٹھاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سیاست کو سنجیدگی، منصوبہ بندی اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھایا جائے، ورنہ قافلہ یونہی منتشر رہے گا اور منزل مزید دور ہوتی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے