بھارت نے ایک بار پھر اپنا آرمی ڈے جسے وہ فخر سے ”یومِ فوج” قرار دیتا ہے منا یا ہے ۔ دھوم دھام سے پریڈوں کا انعقاد ہوا۔ وردیوں کی چمک دکھائی گئی۔عسکری طاقت کا مظاہرہ کیا گیا اور بھارتی قومی میڈیا نے اسے وقار، قربانی اور دفاعِ وطن کی علامت بنا کر پیش کیا مگر اس جشن کے شور میں ایک خطہ ایسا بھی ہے جہاں یہ دن خوشی نہیں، خوف، اذیت اور زخموں کی تازگی بن کر اترتا ہے۔ یہ خطہ مقبوضہ جموں و کشمیر ہے جہاں بھارتی فوج اور پیرا ملٹری فورسز کا ہر دن آرمی ڈے کی طرح منایا جاتا ہے مگر آنسوؤں، لاشوں اور چیختی خاموشیوں کے ساتھ بندوق کی نوک پر۔دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہونے کا دعویدار بھارت اگر واقعی جمہوریت، قانون اور انسانی وقار پر یقین رکھتا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جمہوریت کہاں ہے؟ قانون کہاں ہے؟ انسان کہاں محفوظ ہے؟ سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر کشمیری عوام آج بھی بنیادی انسانی حقوق، آزادیِ اظہار، آزادیِ نقل و حرکت اور سب سے بڑھ کر اپنے حقِ خود ارادیت سے محروم کیوں ہیں ؟وہ حق جو اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے مگر بھارت کے طاقت کے نشے نے جسے روند رکھا ہے کشمیریوںکے لیے ایک خواب کیوں بنا ہوا ہے ؟مقبوضہ جموں و کشمیر اس وقت دنیا کے سب سے زیادہ فوجی تعینات خطوں میں سے ایک ہے۔ دس لاکھ سے زائد بھارتی فوج اور نیم فوجی اہلکار ایک ایسی آبادی پر مسلط ہیں جس کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ اپنی شناخت، اپنی آزادی اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔ یہ فوج کسی سرحدی جنگ میں مصروف نہیں ہے ۔ کسی بیرونی جارحیت کا سامنا نہیں کر رہی ہے بلکہ ایک نہتی، بے سروسامان شہری آبادی کے سامنے کھڑی ہے اور طاقت کے تمام ہتھکنڈے آزما رہی ہے۔ماورائے عدالت قتل، جعلی مقابلے، بلا جواز گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں، گھروں کی مسماری، اجتماعی سزائیں، خواتین کی بے حرمتی، بچوں کی آنکھوں میں پیلٹ گن کے چھرے یہ سب وہ سیاہ ابواب ہیں جو بھارتی فوج کی وردی پر ثبت ہو چکے ہیں۔ 1947 سے اب تک ساڑھے چار لاکھ سے زائد کشمیری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ہزاروں ماؤں نے اپنے بیٹے کھوئے، ہزاروں عورتیں بیوہ ہوئیں اور ایک پوری نسل ایسی پروان چڑھی جس نے اسکول کی گھنٹی سے زیادہ کرفیو کے سائرن سنے۔پیلٹ گن بھارتی ظلم کی سب سے سفاک علامت بن چکی ہے۔ یہ ہتھیار بھیڑ کو منتشر کرنے کے نام پر استعمال کیا جاتا ہے مگر اس کے نشانے پر اکثر نوجوانوں کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ سینکڑوں کشمیری ہمیشہ کے لیے بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ وہ زندہ تو ہیں مگر اندھیری دنیا میں جہاں روشنی چھین لینے والے آج بھی خود کو امن کے محافظ کہتے ہیں۔خواتین کے لیے مقبوضہ کشمیر ایک کھلی جیل سے کم نہیں۔ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ جیسے کالے قوانین نے بھارتی فوج کو یہ استثنیٰ دے رکھا ہے کہ وہ کسی بھی شہری کو شک کی بنیاد پر قتل کر سکتی ہے بغیر کسی جواب دہی کے۔ یہی قانون اجتماعی زیادتیوں، تلاشی کے نام پر گھروں میں گھسنے اور عزت پامال کرنے کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ کنن پوشپورہ سے لیکر شوپیاں تک ایسے زخم ہیں جو آج بھی کشمیری عورتوں کے وجود پر تازہ ہیں۔یہ سب کچھ کسی جنگی محاذ پر نہیں ہو رہا ہے بلکہ ایک ایسے خطے میں ہو رہا ہے جسے خود بھارت بھی کبھی متنازعہ تسلیم کر چکا تھا اور جس کے مستقبل کا فیصلہ رائے شماری کے ذریعے کرنے کا وعدہ اقوام متحدہ کے سامنے کیا گیا تھا مگر وعدے فائلوں میں دفن کر دیے گئے اور بندوق کو دلیل بنا لیا گیا۔ بھارتی فوج کا کردار صرف مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں۔ شمال مشرقی بھارتی ریاستوں میں بھی یہی وردی، یہی بندوق اور یہی جبر نظر آتا ہے۔ منی پور، آسام، ناگالینڈ اور دیگر علاقوں میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہزاروں شہری قتل کیے جا چکے ہیں۔وہاں بھی انسانی جان کی کوئی قیمت نہیںہے۔ وہاں بھی ریاستی تشدد کو قومی سلامتی کا نام دیا جاتا ہے۔آج بھارتی فوج پر ہندوتوا سے متاثر انتہا پسند آر ایس ایس/بی جے پی نظریے کا واضح غلبہ ہے۔ یہ اب محض ایک پیشہ ور فوج نہیں رہی بلکہ ایک نظریاتی ہتھیار بن چکی ہے جس کا ہدف صرف سرحدوں کا دفاع نہیں بلکہ ایک مخصوص سوچ، ایک مخصوص قوم پرستی کو بزور طاقت مسلط کرنا ہے۔ اقلیتیں، اختلاف رکھنے والے اور مزاحمت کرنیوالے سب اس نظریے کے دشمن ٹھہرتے ہیں۔ایسے میں سوال پوری شدت سے ابھرتا ہے کہ بھارت کس منہ سے ملٹری ڈے مناتا ہے؟ کس اخلاقی جواز کے تحت وہ اپنی فوج کو امن کا ضامن قرار دیتا ہے؟ کون سا قانون، کون سا ضمیر اور کون سا انصاف اس جشن کی اجازت دیتا ہے جب اس کے سائے میں ایک پوری قوم سسک رہی ہو؟عالمی ادارے، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مہذب دنیا کب تک خاموش تماشائی بنی رہے گی؟ کشمیر کا المیہ صرف کشمیریوں کا نہیں یہ عالمی نظامِ انصاف کی ساکھ کا امتحان ہے۔اقوام متحدہ کی قراردادیں آج بھی فائلوں میں موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد کی آواز کہیں سنائی نہیں دیتی۔ اگر دنیا واقعی انصاف پر یقین رکھتی ہے تو اسے بھارتی مظالم پر محض تشویش کے بیانات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ملٹری ڈے طاقت کا جشن ہو سکتا ہے مگر جب طاقت کمزوروں کو کچلنے لگے تو وہ جشن نہیں شرم کا نشان بن جاتی ہے۔تاریخ ایسے دنوں کو معاف نہیں کرتی۔ کشمیریوں کا خون، ان کی بینائی، ان کی بے حرمتی اور ان کی قربانیاں ایک دن سوال بن کر ابھریں گی اور اس دن بھارتی فوج کے تمغے، پریڈیں اور دعوے کسی کام نہیں آئیں گے۔کشمیر آج بھی سوال ہے اور بھارت کا ملٹری ڈے اس سوال کے سامنے ایک بے بس جواب۔ دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ وردی کی چمک دیکھے گی یا انسانیت کے زخم کیونکہ تاریخ خاموشی کو بھی جرم کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتی ہے۔

