ددیال تلہ گنگ میں ایک قدیم بیر (بیری) کا درخت صدیوں سے زمین پر سایہ ڈال رہا ہے، اور یہ سایہ صرف زمین کو نہیں، بلکہ انسانی شعور اور ذمہ داری کا بھی ہے۔ اس درخت کی حفاظت میں ایک نمایاں کردار مقامی سیاسی و سماجی رہنما اور لوکل یونین کونسل کے ممبر فضل الرحمان مولوی صاحب کا ہے۔ وہ ایک خدا ترس اور انسان دوست شخصیت ہیں، جن کی زندگی خدمت خلق اور علاقے کے عوام کے مسائل حل کرنے میں گزرتی ہے۔ وہ اس بیر کے درخت کے بارے میں کہتے ہیں: ”یہ ہمیں اپنے آبا و اجداد سے امانت ملا ہے اور اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔” راقم خود گزشتہ ہفتے تلہ گنگ گیا اور اس درخت کا مشاہدہ کیا، جس نے مجھے اس کی قدامت اور فضل الرحمان مولوی صاحب کی لگن کا عملی طور پر احساس دلایا۔ یہ درخت صرف لکڑی اور پھل نہیں، بلکہ صدیوں کی تاریخ، روایت اور معاشرتی شعور کا زندہ ثبوت ہے۔زمین صرف مٹی، پتھر اور پانی کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ نظام ہے جو ہماری سانسوں، معیشت اور بقا سے جڑا ہوا ہے۔ جب جنگلات اور سبزہ زار سکڑ جائیں، تو زندگی کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ یہی حقیقت پچھلے دنوں مارگلہ ہلز میں ”ریوائیول آف مارگلہ ہلز فاریسٹ” کے انعقاد سے دوبارہ منظرِ عام پر آئی۔ تقریب میں پندرہ سو سے دو ہزار افراد نے شرکت کی اور 822 ایکڑ رقبے پر سبزہ زار کی بحالی کا عزم کیا۔ یہ منظر امید کی کرن ضرور تھا، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم لگائے گئے پودوں کی حفاظت میں بھی اتنے ہی سنجیدہ ہیں جتنے پودے لگانے میں دکھائی دیتے ہیں؟حال ہی میں اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی نے ماحول دوستوں اور شہریوں میں تشویش پیدا کی۔ شہریوں کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوٹس لیا اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی سمیت متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کی۔ حکام کا جواز یہ تھا کہ بعض درخت بوڑھے ہو چکے تھے، مگر ماہرین نباتات کہتے ہیں کہ درست دیکھ بھال اور شاخ تراشی سے درخت دہائیوں تک توانا رہ سکتے ہیں۔ صرف ”بوڑھا ہونے” کو بنیاد بنا کر کٹائی کرنا دانشمندی نہیں بلکہ نگہداشت کی کمی کی علامت ہے ۔ہمارے ملک میں ایسے بے شمار درخت موجود ہیں جو صدیوں اور ہزاروں برس تک زندہ رہتے ہیں، ددیال کے بیر کا درخت اس بات کی زندہ مثال ہیں۔ ددیال کا یہ بیر دو ہزار سال سے زائد عمر کا دعویٰ رکھتا ہے اور آج بھی بھرپور پھل دیتا ہے۔ یہ درخت صدیوں کی زندگی، تاریخی ورثہ اور سماجی ذمہ داری کی علامت ہے۔درخت قدرت کے خاموش محافظ ہیں۔ وہ کاربن جذب کرتے ہیں، آکسیجن پیدا کرتے ہیں، زمین کو کٹاؤ سے بچاتے ہیں اور موسم کا توازن قائم رکھتے ہیں۔ آج جب موسمیاتی تبدیلی دنیا کے لیے خطرہ بن چکی ہے، شجر کاری صرف ایک پسندیدہ عمل نہیں بلکہ بقا کی حکمت عملی ہے۔ پاکستان میں بھی مختلف ادوار میں مہمات چلائی گئیں، اور عمران خان کے دور کا بلین ٹری منصوبہ عالمی توجہ کا مرکز بنا، مگر پودے لگانے کے بعد ان کی مسلسل دیکھ بھال اور حفاظت ہی کامیابی کی اصل ضمانت ہے۔بدقسمتی سے ترقی کے نام پر درختوں کی کٹائی ایک معمول بن چکی ہے۔ سڑکوں، رہائشی منصوبوں اور کمرشل عمارات کی وجہ سے ہزاروں درخت گرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان کے جنگلات سکڑ رہے ہیں جبکہ سندھ اور بلوچستان میں بھی سبزہ دباؤ کا شکار ہے۔ جنگلات کم ہونے سے بارش کے نظام، مٹی کی حفاظت اور زرعی پیداوار سب متاثر ہوتے ہیں۔شہری علاقوں میں درختوں کی کمی درجہ حرارت بڑھاتی، فضائی آلودگی بڑھاتی اور زندگی کے معیار کو متاثر کرتی ہے۔ درخت قدرتی ایئر کنڈیشنر ہیں اور ذہنی دباؤ کم کرنے، صحت بہتر کرنے اور ماحول کو تازگی بخشنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں شہری جنگلات اور اربن فارسٹ کے فروغ پر زور دیا جا رہا ہے۔شجر کاری محض پودے لگانے کی تقریب نہیں، بلکہ ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ موجودہ درختوں کی حفاظت، شاخ تراشی، بیماریوں سے بچاؤ اور نوجوانوں میں شعور بیداری، سب اس میں شامل ہیں۔ اگر ہم قدیم درختوں کو محفوظ نہ رکھیں تو نئی شجر کاری بھی محض علامتی قدم بن جائے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم درختوں کو وقتی ضرورت کے بجائے دائمی ورثہ سمجھیں۔ جیسے ددیال کے اس قدیم بیر کے درخت کو امانت سمجھ کر محفوظ رکھا جا رہا ہے، ویسے ہی ہر شہر اور ہر گاؤں میں درختوں کو نسلوں کی امانت تصور کیا جائے۔ آنے والی نسلوں کا حق ہے کہ انہیں سرسبز زمین، صاف ہوا اور معتدل موسم ملے۔ درخت صرف لکڑی نہیں، زندگی کی ضمانت ہیں—اور ان کی حفاظت ہی ہمارے محفوظ مستقبل کی بنیاد ہے۔

