یقینا 5 فروری کو ایسے دن کے طورپر منا یا جاتا ہے جس میں نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا تذکرہ ہوتا ہے بلکہ وہ جذبہ حریت بھی نمایاں ہوتا ہے جس کا مظاہرہ کشمیری قوم تقسیم ہند سے لیکر اب تک پوری قوت ایمانی سے کررہی ، بادی النظر میں تو تحریک آزادی کشمیر سے وابستہ ہر دن یہ سوال پوچھتا ہے کہ جدوجہد آزادی کی منزل کب ملے گی۔ مگر بطور فیض احمد فیض
نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
سمجھ لینا ہوگا کہ قوموں کی زندگیوں میں سالوں یا دہائیوں کی بجائے مقصد کی اہمیت ہوا کرتی ہے یوں منزل کا حصول ہی کسی محکموم قوم کی سب سے بڑی ترجیح ہوا کرتی ہے ، مقبوضہ کشمیر کے باسی اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ بھارت کا ہر ظلم وجبر ان کے حوصلہ توڈنے کیلئے ہے یہی سبب ہے کہ وادی کا بچہ ہو یا بوڈھا، مرد ہو یا عورت ہر کوئی بھارتی ظلم وستم کے سامنے سیہ پلائی دیوار کی ماند کھڑا ہے ، اسی پس منظر میں 1990 میں اہل کشمیر سے اظہار یکجہتی کیلئے 5 فروری کا دن قومی سطح پر منتخب کیا گیا ،اس روز سرحد کے آر پار ہی نہیں دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری ایک زبان ہوکر بھارت سے آزادی کی جدوجہد پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں، کشمیری آزادی نہ صرف اس کیلئے بلکہ اس کی آئندہ آنے والی نسلوں کیلئے بھی لازم ہے ، یہ بات بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیکہ مقبوضہ کشمیر ہی نہیں آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد بیرون ملک میں تعلیم ، کاروبار یا پھر روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں یوں وہ جدوجہد ازادی کے ہر دن کو بھرپور انداز میں یوں منا سکتے ہیں کہ اس کا حق ادا ہوجائے ۔ درحقیقت کشمیرکی جدوجہد آزادی کے دو فریق ہی متحرک ہیں ایک مظلوم ومحکموم کشمیری اور دوسرا پاکستان ، مسئلہ کشمیر کے حل کی بڑی زمہ داری اقوام متحدہ کے سر ہے۔المیہ ہے کہ جس ادارے کو عالمی تنازعات حل کرنے کا فرض سونپا گیا وہ عملا خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہے ، مسئلہ کشمیر اور تنازعہ فلسطین دونوں یواین میں پڑے پیچیدہ اور پرانے تنازعات ہیں،حال ہی میں حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملہ کے بعد نتین یاہو جو ظلم وستم کے پہاڈ محکوم فلسطینیوں پر توڈے وہ جدید تاریخ کی بدترین جنگی کارروائی قرار دی گی ہے ، ہزاروں فلسطینی بچوں اور عورتوں لائیو کوریج کے دوران شہید کیا جاتا رہا ۔امریکہ سمیت انسانی حقوق کے بالادستی کے ترجمان مغربی ممالک خاموش تماشائی بنے رہے ۔حالیہ فلسطین اسرائیل جنگ نے اس تاثر پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ دنیا میں اب صرف طاقت ہی فیصلہ کن کردار ادا کرے گی ، جان لینا چاہیے کہ اسرائیل اور بھارت میں قریبی تعلقات ہیں، مودی سرکار کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے کیلئے اسرائیلی طور طریقوں کا استعمال کرتی چلی آرہی ہے ۔یوں کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان اور کشمیری قوم بھارت اور اسرائیل دونوں سے ساتھ نبرد آزما ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ پانچ فروری کے دن کون سے حکمت عملی کی یاد دہانی کرواتا ہے ، بنیادی معاملہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں کشمیریوں کو دنیا بھر میں پرامن احتجاج کرتے ہوئے اقوام عالم کے سامنیاپنا مقدمہ پیش کرنا چاہے۔ یاد رہے کہ آج اگر اسرائیل نے مظلوم فلسطینیوں پر جارحیت روکی ہے تو اس کی وجہ فلسطینیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر اپنا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرنا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کس طرح دنیا بھر میں اسرائیلی کی جانب سے فلسطینیوں کے قتل عام کی خبریں اور تصاویر کو پھیلایا گیا، اس ضمن میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بھرپور کوشش رہی کہ غزہ کی صورت حال بارے اقوام عالم کو اصل صورت حال کا پتہ نہ چلے مگر دونوں طاقتیں ناکام رہیں ۔ کشمیری قوم کو یہ بات سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ حصول آزادی کا خواب اسی وقت شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے جب وہ پوری قوت کے ساتھ میدان عمل میں دکھائی دیں ، بادی النظر میں یہ کہنا کسی طور پر غلط نہ ہوگا کہ مودی سرکار کشمیریوں کو پاکستان سے گمراہ کرنے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتی ، بے جے پی کی جانب سے 370اور 35اے کا خاتمہ اسی لیے کیا گیا کہ کشمیری قیادت حوصلہ ہاردے ۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کی قیادت کو مسلسل جیل میں رکھنے کی وجہ بھی اس کے سوا کچھ نہیں کہ کشمیری تحریک آزادی سے لاتعلق ہوجائیں۔ افسوس کہ مغربی دنیا ہی نہیں مسلم ممالک بھی بھارت کیساتھ سیاسی ،سفارتی اور معاشی تعلقات کا فروغ چاہتے ہیں ،یوں چین کا مقابلہ کرنے کیلئے بھارت کو یوں تیار کیا جارہا ہے کہ اسے سات خون معاف کردیئے گئے ہیں یقینا ایسے میں 5فروری کا دن ہمیں نئے ولولہ اور جوش کیساتھ جدوجہد آزادی کی ترغیب دیتا ہے۔
کالم
سوشل میڈیا تحریک آزادی کشمیر کی نئی قوت
- by web desk
- فروری 5, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 24 Views
- 6 دن ago

