امیر جماعت اسلامی سراج الحق صاحب نے کہا کہ موجودہ اور ماضی کی حکمران جماعتیں مضبوط جمہوری روایات قائم کرنے میں ناکام رہیں، اب بھی یہ عوام کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کی جانب دیکھتی ہیں۔ جماعت اسلامی نے الیکشن کے انعقاد کے لیے پہلے بھی کوششیں کیں، اب بھی جاری ہیں۔ 14اگست 2023ء قومی انتخابات کے لیے موضوع ترین دن ہے۔ ظالم جاگیردار اور کرپٹ سرمایہ ملک کی سیاست پر قابض ہیں ۔کسی بھی سیاسی جماعت کے بے گناہ کارکنان کی پکڑ دھکڑ کے خلاف ہیں۔ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ جماعت اسلامی سیاسی ورکرز کے ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے حق میں نہیں۔ جماعت اسلامی مثبت سیاست کرتی ہے۔ عوام کی طاقت پر سو فیصد یقین رکھتے ہیں۔ ”میرا چور زندہ باد، تیرا چور مردہ باد“ کہنے والے بہتری نہیں لا سکتے۔پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی نے اپنے ادوارِحکومت میں امن و امان، بہتر معیشت اور انصاف پر بالکل توجہ نہیں دی۔ نتیجہ معیشت، سیاست، سماج کی بربادی کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ تینوں نے مفادات کی لڑائی میں ملک تباہ کر دیا۔ موجودہ حالات میں کوئی بھی پاکستانی اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کرتا۔ خواتین معاشرہ میں خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ ایک طرف ظاہری حکومت ہے دوسری جانب انڈرگراﺅنڈ مسلح جتھے اور تنظیمیں جو اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، جائدادوں پر قبضے اور ناجائز کاروبار سے وابستہ ہیں، یہی لوگ بڑی حکمران جماعتوں کو سپورٹ کرتے ہیں۔ ملک کی کرنسی کی قدر، زرمبادلہ کے ذخائر، جی ڈی پی شرح جنوبی ایشیا کے تمام ممالک سے کم ہے۔ تنخواہوں کے لیے قومی خزانہ میں پیسے نہیں۔ آئی ایم ایف کے احکامات پر قانون سازی ہوتی ہے۔ لاکھوں پروفیشنل اور پڑھے لکھے لوگ ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ معاشرہ میں قانون کی حکمرانی کا تصور ختم ہو رہا ہے۔ عدلیہ بری طرح تقسیم ہے۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی نہیں ہوتی۔ سیاست دان دست و گریبان ہیں، طاقتور قانون کو روندتا ہے۔حکمران اشرافیہ کی وجہ سے غریب عوام رل گئے۔ ملک میں وسائل کی کمی نہیں۔ جماعت اسلامی کا منشورہے کہ معیشت کو سود سے پاک کر کے زکوٰة و ع±شر پر مبنی نظام قائم ہو جائے تو سات کروڑ لوگ ٹیکس دیں گے۔ 42قسم کے ٹیکسز کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ہمارے پاس معیشت کی بہتری کا مکمل پروگرام ہے۔ ہم نے ماضی میں خیبرپختونخوا کو قرض فری صوبہ بنایا، پی ٹی آئی کی دس سالہ حکمرانی کے بعد اب صوبہ پر ایک ہزار ارب کا قرضہ ہے۔جماعت اسلامی کو جب بھی موقع ملا ہم نے ڈلیور کیا۔اب بھی مسائل کا حل صرف جماعت اسلامی ہے۔ باقی سب بری طرح ایکسپوز ہو چکے ہیں۔ ان میں ڈلیور کرنے کی صلاحیت نہیں ہے جماعت اسلامی دیہاتوں میں ترقی لائے گی۔ زراعت کو بہتر کرے گی، کسانوں کو مفت بیج اور کھاد دیں گے۔ غیرآباد زمینوں کو آباد کرنے کے لیے نوجوانوں کے حوالے کریں گے۔ ریاست کی بقا، سلامتی اور بہتری کے لیے ضروری ہے کہ وہاں امن و امان ہو، معیشت بہتر ہو اور سب سے بڑھ کر انصاف کی حکمرانی ہو۔جماعت اسلامی واحد جماعت ہے کہ جو مسلک، زبان، صوبائیت اور دیگر تعصبات سے بالاتر ہو کر اسلام اور پاکستان کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔معاملات کو سدھارنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ سیاسی قیادت مل بیٹھ کر آپس میں مشاورت کرے لیکن ہر دھڑا اپنی اپنی ضد پر اڑا ہوا ہے۔ مذاکرات کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ فریقین اپنے اپنے موقف میں کچھ نرمی دکھا کر کچھ بات اپنی منواتے ہیں اور کچھ دوسرے کی مانتے ہیں۔ ضد اور ہٹ دھرمی سے مسائل مزید بڑھتے جائیں گے۔ ملک اس وقت جس مشکل صورتحال میں پھنسا ہوا ہے یہ عوام یا اداروں سے زیادہ سیاسی قیادت کا امتحان ہے۔ اگر سیاسی قیادت نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو کل جمہوریت اور جمہوری اداروں کے خلاف عوام کے ردعمل کی ساری ذمہ داری سیاسی قیادت ہی کی ہوگی۔ہمارا یہی المیہ ہے کہ ہماری ریاستی‘ انتظامی‘ دفاعی اتھارٹیز کو اپنی آئینی ذمہ داریوں سے زیادہ اپنے اختیارات جتانے اور استعمال کرنے کی فکر ہوتی ہے جس میں ادارہ جاتی غلط فہمیوں اور ٹکراو¿ کی بھی نوبت آجاتی ہے۔ اس سے ملک میں سیاسی عدم استحکام کی راہ بھی ہموار ہوتی ہے اور ملک کی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں جبکہ ہمارے پارلیمانی جمہوری نظام کے باربار تاراج ہونے میں بھی ایک دوسرے پر غلبہ پانے والی اسی سوچ کا عمل دخل ہے۔ اگر ہمارے تمام ریاستی‘ آئینی اور انتظامی ادارے اپنے اپنے آئینی اور قانونی دائرہ کار کے اندر رہ کر فرائض ادا کرنا اپنا شعار بنالیں تو ادارہ جاتی سطح پر کوئی غلط فہمی‘ جھگڑا یا تنازعہ پیدا ہی نہ ہو اور نہ ہی ریاستی اداروں کے ایک دوسرے کے مدمقابل آنے کی نوبت آئے۔

