کالم

شفاف انتخابات ، وقت کی ضرورت

riaz chu

امیر جماعت اسلامی سراج الحق صاحب نے کہا ہے کہ12 اگست کو اسمبلیاں ختم ہو جائیں گی۔ چاہتا ہوں عوام ایکشن میں تبدیلی ، روٹی، کپڑا ، مکان اور ملک کو ایشیئن ٹائیگر بنانے کے دعویداروں کا احتساب کریں۔ انتخابات شفاف نہ ہوئے تو حالات گمبھیر ہو جائیں گے۔ الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے کہ انتخابات کو ہر لحاظ سے صاف اور شفاف بنائے۔ انتخابات شفاف اور مقررہ آئینی مدت پر نہ ہوئے تو حالات مزید خراب ہوں گے۔ عدالتیں ،ادارے طاقتور کا احتساب نہیں کرسکے ۔اب عوام صرف ووٹ کی طاقت سے ہی ایسا ممکن بنا سکتے ہیں۔ اسلامی نظام کے لیے ووٹ دیں ۔ پی ڈی ایم، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی آزمائی جاچکیں ۔ آپشن صرف جماعت اسلامی ہے۔ بجلی کاٹیرف بڑھانے کے بعد آئی ایم ایف کے حکم پر گیس کی قیمتوں میں بھی 40فیصد اضافہ کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ عوام کا خون نچوڑنا بند کیا جائے۔ مہنگائی کی وجہ سے لوگ فاقوں پر مجبور ہیں۔ حکمران غریبوں کو لوٹنے کی بجائے اپنی مراعات اور غیرترقیاتی اخراجات ختم کریں۔ مہنگائی کے خلاف ریلیاں نکالنے والوں نے اقتدار ملتے ہی چپ سادھ لی۔ سالہا سال سے قومی وسائل کو لوٹا جارہا ہے۔دوفیصد حکمران اشرافیہ وسائل پر قابض ہے۔ چند خاندان قوم کی تقدیر کا فیصلہ بند کمروں، واشنگٹن ، دبئی اور لندن میں کرتے ہیں۔ قوم استحصالی نظام کے خلاف کھڑی ہو۔ اپنی تقدیر خود بنانا ہوگی۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ عوام کو آج تک روٹی ،کپڑا اور مکان نہیں ملا جبکہ ایک کروڑ نوکریاں دینے کا بھی لولی پاپ دیا گیا۔پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں ہے ہم ترقی کر سکتے ہیں حکمران مخلص ہوں تو۔نوجوان ہمارا ساتھ دیں میں وعدہ کرتا ہوں کہ نوجوانوں کو ملک سے باہر نہیں جانے دوں گا۔بے روزگار نوجوانوں کو زمین دوں گا ساتھ زرعی الاعت بھی دوں گا تاکہ پاکستان گرین بن سکے۔ سراج الحق نے کہا کہ میں بڑھاپا الاو¿نس دوں گا تاکہ کوئی بوڑھا در در کی ٹھوکریں نہ کھائے۔موجودہ حکومت بھی یزید کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔سودی نظام سے ہمارے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنا دی گئیں ہیں۔جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو سود کے خلاف جہاد کر رہی ہے ہم انشااللہ پاکستان سے سودی نظام کا خاتمہ کریں گے۔ جماعت اسلامی کی معاشی پالیسی دولت کا ارتکاز نہیں اس کی سرکولیشن ہے۔ہمیں اقتدار ملا تو سودی نظام کو ختم کریں گے۔ ٹیکسز کی بجائے زکو اور عشر کا نظام لائیں گے۔ ملک میں ساڑھے سات کروڑ افراد زکو دے سکتے ہیں۔ صرف پچیس لاکھ انکم ٹیکس دیتے ہیں ۔ زکو و عشر کا نظام لاگو ہوجائے تو پاکستان لینے والا نہیں دینے والا بن جائے۔ صرف جماعت اسلامی ہی ملک کو اسلامی معیشت دے سکتی ہے۔ جماعت اسلامی ملک کی عدالتوں میں قرآن کا نظام نافذ کرے گی۔ یکساں تعلیمی نظام دے گی۔ ہمارے تمام مسائل کا حل اسلامی نظام ہے ۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا مگر ایک دن کے لیے بھی یہاں قرآن وسنت کا نظام نافذ نہیں ہوا۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد کا مقصد ملک میں پرامن جمہوری جدوجہد سے اسلامی انقلاب ہے۔ جماعت اسلامی کے پاس اسلامی نظام معیشت کا زکوہ و عشر کے نظام معدنیات۔بنجر زمینوں کو آباد کرکے پاکستان کوخوشحال کرنے کا واضح ایجنڈا ہے جماعت اسلامی عوام کی طاقت سے ملک کو اسلامی فلاحی خوشحال پاکستان بنائے گی۔ انتخاب سے پہلے احتساب مکمل کیا جائے ، عوام کی معاشی حالت ابتر ہوچکی ہے جس نے عام آدمی کیلئے زندگی گزارنا دشوار کردیا ہے۔ ملک کی زمین سونا اگلتی ہے۔ ہمارے پاس معدنیات کی وسیع دولت ہے۔ محنتی قوم ہے، پڑھے لکھے نوجوان ہیں، ہمیں کسی سے مانگنے کی ضرورت نہیں۔ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ پاکستانی قوم مانگنے والی نہیں دینے والی بنے، ہم دنیا کی امامت کر سکتے ہیں اور اس کے لیے ایمان دار اور اہل افراد کا اقتدار میں آنا ضروری ہے۔ قوم ووٹ کی طاقت سے آزمائی ہوئی جماعتوں کو گھر کا راستہ دکھائے اور جماعت اسلامی کے امیدواروں کو الیکشن میں ووٹ دے تاکہ ایک اسلامی پاکستان کی بنیاد رکھی جائے۔موجودہ اور ماضی کی حکومتوں نے کسی شعبہ میں اصلاحات متعارف نہیں کروائیں۔ حکمرانوں نے معیشت تباہ کی۔ ملک کوسودی قرضوں کے جال میں پھنسایا اور آئندہ نسلو ں کو بھی آئی ایم ایف کا غلام بنا دیا۔ رواں مالی سال میں پاکستان نے 25ارب ڈالر قرض کی ادائیگی کرنی ہے، موجودہ بجٹ کا 55فیصد سودی قرضوں کی ادائیگی کی نذر ہو جائے گا۔ حکومت سے آٹھ ماہ ایڑھیاں رگڑوائی گئیں اس کے بعد تمام شرائط تسلیم ہونے پر آئی ایم ایف قرض کے لیے راضی ہوا۔ بجلی کے ٹیرف اور ٹیکسوں میں بے تحاشا اضافہ اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔
٭٭٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے