کالم

عزیمت و استقامت کا پیکر جری

دنیا پسر دجال کے ہاتھوں تباہی کے دہانے پر اور شیطان بزرگ کی کھلی حمایت نے اسے بے رحم ،قاتل اور سفاک بنا دیا ہے۔ مسلم دنیا تو جرم ضعیفی کی سزا بھگت ہی رہی ہے ظلم سہہ کر خاموش رہنا اس کی عادت بن چکی مگر روس کو کیا ہوا کہ ایٹمی قوت کو بھی سانپ سونگھ گیا اور چین جیسے معاشی اور عسکری جن کو بھی امریکی عفریت نے بوتل میں بند کر رکھا ہے۔ چین اتنے ظلم کے باوجود اپنے استحکام کی فکر میں، حالانکہ چین و روس کا سخت سفارتی پیغام ہی امریکہ و اسرائیل کو جارحیت سے روکنے کو کافی تھا۔ ہم کب ایران کے لیے انہیں جنگ کا میدان سجانے کو کہتے تھے مگر افسوس کہ ایران ان کا جرات مند حلیف تھا۔ ہر دو سپر پاوز کو علم کہ مضبوط ایران اسرائیل کو لگام دینے اور امریکہ کے خلاف ان کے ترکش کا کاٹ دار تیر۔ جو تلخ اور صائب بات ان ممالک کے سفارت کارانہ مزاج میں آڑے آتی ایران ببانگ دہل وہ کہہ ڈالتا۔ خامنہ ای مظلوم و مقہور ممالک ہی نہیں طاقتور ریاستوں کے دل کی بھی آواز تھے دنیا کے بیشتر ممالک کی ترجمانی تن تنہا کرنے والا ایران دوستوں کی بے اعتنائی کا شکار ہو رہا پے۔ اور یہ روسی بلاک کے مسمار ہونے کی ایک وجہ کہ روس آج تک اپنے حلیفوں کے لیے ڈٹ کا کھڑا نہ ہوا جبکہ اس کے برعکس امریکہ اپنے حواریوں کی جائز ناجائز خواہشات پوری کرنے سے نہیں کتراتا۔ عدم مداخلت کے اصول پر کاربند چین بھی اپنا کردار ادا نہ کر کے امریکی بالا دستی کے آگے خاموش کھڑا ہے۔ جرات مند دوستوں کی عدم دستیابی کے باوجود ایران کا باوقار رہنا اس کی استقامت کا ثبوت کہ جو رہبر معظم ان کیلئے وراثت چھوڑ گئے۔ جرات و استقامت کے پیکر سید علی خامنہ ای کو دوستوں اور دشمنوں نے مل کر گرایا۔ وگرنہ مرد مجاہد پیرانہ سالی میں بھی امریکہ و اسرائیل کے ہاتھوں زچ ہونے کو تیار نہ تھا۔ رہبر معظم کے مشیر و سیکورٹی اہل کار زیر زمین بنکر میں محصور ہونے کی تجویز دیتے رہے مگر حریت کا استعارہ امریکی دھمکیوں سے بے پرواہ قوم کی امامت و قیادت پر ڈٹا رہا۔ وقار کے ساتھ شہادت کو گلے لگایا مگر آخر وقت تک دنیا کے دجالوں کیلئے دہشت کی علامت رہا۔ ایران کے اندر غداروں کی موجودگی نے صف اول کی قیادت کی شہادت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سی آئی اے، موساد اور ان کی حواری را کا مضبوط نیٹ ورک ایرانی انٹیلی جنس کی ناکامی کا ثبوت کہ جس نے قوم کو صف اول کی قیادت سے محروم کر دیا۔ علی خامنہ ای بھی غداری کی بھینٹ چڑھے وگرنہ دشمن میں تو دم نہ تھا۔ اقبال نے ایسے ہی خوددار مردان حق کیلئے کہا تھا کہ
خودی ہے زندہ تو موت ہے اک مقام حیات
کہ عشق موت سے کرتا ہے امتحان ثبات
حریم ذات ہے اسکا نشیمن ابدی
نہ تیرہ گاہ لحد ہے نہ جلوہ گاہ صفات
اب تو شک نہیں رہا کہ مغربی دنیا نے تہذیب کے دھوکے میں بربریت اور سفاکیت کو پروان چڑھایا ان کا اندرون دور جدید میں بھی تاریک تر
چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر
مسلم دنیا سمیت روس و چین تو امریکہ کو قواعد و ضوابط یاد نہ دلا سکے اور کھلی غنڈہ گردی کو اپنے ہی بنائی گئی اقوام متحدہ کے ہاتھوں لگام نہ دلوا سکے مگر شاید قدرت امریکہ سے امریکیوں کے ذریعے ہی منقسم کروا کے نام نہاد علمبرداروں کے منہ پر طمانچے کے موڈ میں ہے ۔ پہلی بار امریکی رائے عامہ فلسطین کے حق اور اسرائیل مخالف ہوتی چلی جارہی ہے کیا یہ بھی باعث حیرت نہیں کہ امریکہ جیسا ملک کس طرح ایک جنونی شخص کے ہاتھوں یرغمال کہ جسے اقوام عالم کے مروجہ اصولوں کی پرواہ ہے اور نہ وہ کسی ملک کے باسیوں کے قتل عام کو جرم سمجھتا ہے۔ کس طرح امریکی قوم ناجائز ریاست اسرائیل کیلئے بروئے کار لائی جارہی ہے۔عالمی ادارے بے بس اور سپر پاورز گنگ ۔ کیا دنیا ایک بار پھر دور جاہلیت کی یاد تازہ کرنے کو ہے کہ جب کمزور قبائل اور ملک طاقتور کے رحم و کرم پر اور اصول و ضابطہ اسی کا کہ جس کے پاس طاقت۔ رہی سہی کسر مشرق وسطیٰ کے امیر مگر اسرائیل کے ہاتھوں یرغمال ممالک نے پوری کر دی۔ ان کی بے بسی و بے حسی اسرائیل کو شہہ دیتی رہی اور وہ آگے سے آگے بڑھتا ہی چلا گیا۔ عرب ممالک کی غیرت متعدد بار ذلت آمیز شکستوں کے بعد بھی نہ جاگی بلکہ انہوں نے اپنی حفاظت کی ذمہ داری بھی بالواسطہ اسرائیل کو دے ڈالی۔ آج ان ممالک پر برستا قہر انہی کے اعمال بد اور ہوس دنیا کا نتیجہ کہ سالانہ اربوں ڈالر لٹانے کے باوجود وہ چند میزائلوں سے نڈھال کہ جائے پناہ ملنے سے نہیں مل رہی۔ کہتے ہیں کہ ہماری سالمیت پر حملہ !افسوس کہ آپکی سالمیت تو کب کی گروی ہے۔ یہ درست کہ مسلم ممالک کا باہمی دست و گریباں ہونا بنتا نہیں مگر جب وہ سفاکیت اور بربریت میں معاون بنیں تو شعلوں کی تپش تو محسوس ہو گی۔ علی خامنہ ای کی شہادت پر ہر پاکستانی آزردہ، غمزدہ و افسردہ۔ ایسے میں متشدد مظاہرین کے عمل کو بھی کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا اور ایسے حالات میں کہ ایک سرحد پر منافقین کے شر کیخلاف آپریشن جاری تو دوسری طرف بھارت اپنی خفت مٹانے کیلئے تیار۔ یہ صرف اہل تشیعہ کیلئے غم کی گھڑی نہیں بلکہ بلا امتیاز ہر پاکستانی اس کا شکار۔ اس وقت ملک کو یک جہتی اور اتحاد کی ضرورت کہ کینہ پرور پاکستان کیلئے خیر نہیں چاہتے تو دشمن بھی ہمہ وقت تاک میں۔ روس چین اور فرانس پر ذمہ داری کہ وہ کھلی بربریت کو روکنے اور اقوام متحدہ کی ساکھ کو مکمل تباہ ہونے سے بچانے کیلئے جرات مندانہ کردار ادا کریں کہ او آئی سی میں دم تو نہیں البتہ خم ضرور۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے