کالم

عوامی فلاح کا تسلسل۔۔۔!

پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ حکومت عوامی فلاح، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور دیرپا ترقی کے وژن پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہے۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں صوبے بھر میں سڑکوں، سیوریج، پینے کے صاف پانی، صفائی ستھرائی اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو جس جامع منصوبہ بندی اور رفتار کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے وہ نہ صرف ماضی کے مقابلے میں ایک واضح بہتری کی علامت ہے بلکہ مستقبل کے پاکستان کی سمت بھی متعین کرتا ہے۔ ترقیاتی منصوبے محض اعداد و شمار نہیں ہوتے بلکہ یہ عوام کے معیارِ زندگی میں حقیقی بہتری کا ذریعہ بنتے ہیں اور حالیہ اقدامات اسی سوچ کا عملی اظہار ہیں۔پنجاب میں ہزاروں کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و بحالی، سیوریج لائنوں کی تبدیلی، نئی واٹر سپلائی اسکیموں کا آغاز اور شہری و دیہی علاقوں میں یکساں ترقی کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت وسائل کو بنیادی ضروریات پر خرچ کر رہی ہے۔ سڑکیں کسی بھی علاقے کی معاشی شہ رگ ہوتی ہیں۔ بہتر سڑکیں نہ صرف آمد و رفت کو آسان بناتی ہیں بلکہ تجارت، روزگار اور سماجی روابط کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ پنجاب میں جاری منصوبوں سے دیہی علاقوں کو شہری مراکز سے بہتر طور پر جوڑا جا رہا ہے جس سے کسان، تاجر اور عام شہری سب یکساں طور پر مستفید ہو رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت پر خصوصی زور قابلِ تحسین ہے۔ منصوبوں کی بروقت تکمیل، معیار کی سخت نگرانی اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی نے عوام کے اعتماد کو بحال کیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں بہت سے ترقیاتی منصوبے بدعنوانی، ناقص معیار اور تاخیر کا شکار رہے مگر اب ایک نیا طرزِ حکمرانی سامنے آ رہا ہے جہاں ہر منصوبہ عوامی ضرورت، تکنیکی معیار اور وقت کی پابندی کے اصولوں پر پرکھا جا رہا ہے۔حکومتِ پنجاب نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ ترقی صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ دور دراز اور نظر انداز شدہ علاقوں تک بھی پہنچنی چاہیے۔ سیوریج اور نکاسی آب کے بہتر نظام سے نہ صرف گلیاں اور سڑکیں صاف رہتی ہیں بلکہ صحتِ عامہ کے مسائل میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔ گندے پانی کی درست نکاسی وبائی امراض کے پھیلا کو روکتی ہے اور شہریوں کو باوقار زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیوریج اور صفائی کے منصوبے کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔موجودہ حکومت نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھا ہے۔ صاف پانی انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کے بغیر صحت مند معاشرہ ممکن نہیں۔ پنجاب میں مختلف علاقوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس، نئی پائپ لائنیں اور پرانی لائنوں کی تبدیلی جیسے اقدامات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت عوام کی بنیادی ضروریات سے غافل نہیں۔ یہ منصوبے آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک محفوظ اور صحت مند ماحول کی ضمانت ہیں۔ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ حکومت نے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دی ہے۔ جب بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام شروع ہوتے ہیں تو اس سے ہزاروں مزدوروں، انجینئرز، تکنیکی ماہرین اور دیگر وابستہ شعبوں کو روزگار ملتا ہے۔ اس طرح ترقی کا فائدہ صرف انفراسٹرکچر تک محدود نہیں رہتا بلکہ معیشت کے مختلف شعبوں میں گردش کرتا ہے۔ یہی وہ پائیدار ترقی ہے جو ایک مضبوط معیشت کی بنیاد بنتی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی جماعت کا ترقیاتی ریکارڈ اس بات کا گواہ ہے کہ وہ ہمیشہ عوامی سہولیات کو اپنی سیاست کا مرکز رکھتے ہیں۔ ماضی میں بھی شہباز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب ترقیاتی منصوبوں کی مثال قائم کی اور آج ان کے وژن کو مریم نواز شریف ایک نئے انداز اور نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہیں۔ یہ تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم لیگ ن کی سیاست محض نعروں پر نہیں بلکہ عملی کارکردگی پر مبنی ہے۔ پنجاب کے شہروں میں جاری منصوبوں کے تکمیل سے نہ صرف ٹریفک کے مسائل کم ہوں گے بلکہ شہری زندگی میں نظم و ضبط بھی آئے گا۔ بہتر سڑکیں، مناسب نکاسی آب، روشنی کا انتظام اور صاف ستھرا ماحول کسی بھی شہر کو رہنے کے قابل بناتا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ شہریوں کو وہ سہولیات فراہم کی جائیں جو ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقیاتی کاموں میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ موجودہ حکومت عوامی شکایات کے ازالے کے لیے بھی متحرک نظر آتی ہے۔ مختلف فورمز پر شہریوں کی آرا اور مسائل کو سنا جا رہا ہے اور ان کی بنیاد پر پالیسی سازی کی جا رہی ہے۔ یہ طرزِ حکمرانی جمہوری اقدار کے عین مطابق ہے جہاں عوام کی آواز کو اہمیت دی جاتی ہے۔ جب حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہو تو ترقی کے ثمرات زیادہ دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔تاہم ترقیاتی کاموں کی اس وسیع تصویر میں کچھ ایسے علاقے بھی ہیں جہاں ابھی توجہ کی اشد ضرورت ہے۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں بھی ایسے مقامات موجود ہیں جہاں بنیادی سہولیات کی کمی ایک تلخ حقیقت ہے۔21کلومیٹر فیروز پور روڈ لاہور کے گرین کیپ ایریا میں ہزاروں گھر آج بھی بجلی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ اندھیروں میں ڈوبی گلیاں، ناقص سیوریج نظام اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں وہاں کے مکینوں کی روزمرہ زندگی کو مشکل بنائے ہوئے ہیں۔ گلیوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے اور بارش کے دنوں میں یہ مسائل مزید سنگین صورت اختیار کر لیتے ہیں۔گرین کیپ ایریا اور اس کے مضافات میں بجلی کی عدم دستیابی نے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ گرمیوں میں شدید حبس، گھروں میں اندھیرا، بچوں کی تعلیم متاثر ہونا اور کاروباری سرگرمیوں کا ٹھپ ہونا اس محرومی کے نمایاں اثرات ہیں۔ سیوریج کا ناقص نظام گندے پانی کو گلیوں میں جمع کر دیتا ہے جس سے بدبو، مچھروں اور بیماریوں کا پھیلا معمول بن چکا ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی طرح ایک بڑے شہر کے شایانِ شان نہیں۔یہ علاقہ وزیراعظم شہباز شریف کا حلقہ انتخاب ہے اور اسی نسبت سے یہاں کے عوام کی توقعات بھی زیادہ ہیں۔ عوام یہ امید رکھتے ہیں کہ جس حلقے سے وزیراعظم منتخب ہوئے ہوں وہاں ترقی اور سہولیات کی مثال قائم کی جائے۔ گرین کیپ ایریا میں موجود مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں اور ان کا حل کوئی ناممکن کام نہیں۔ اگر حکومت اپنی ترجیحات میں اس علاقے کو شامل کر لے تو یہاں بھی وہی ترقی اور بہتری آ سکتی ہے جو پنجاب کے دیگر علاقوں میں نظر آ رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو چاہیے کہ وہ گرین کیپ ایریا میں ذاتی دلچسپی لے کر وہاں کے مسائل کا عملی حل یقینی بنائیں۔ بجلی کی فراہمی کیلئے ہر گلی اور ہر گھر تک لائنیں بچھائی جائیں اور باقاعدہ میٹر نصب کیے جائیں تاکہ شہری قانونی اور مستقل بنیادوں پر بجلی استعمال کر سکیں۔ سیوریج کے لیے بڑے اور معیاری پائپ لگوائے جائیں تاکہ نکاسی آب کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو سکے۔ گرین کیپ اور اس کے مضافات میں کوئی گلی یا نکڑ ایسا نہ رہے جہاں بجلی، گیس اور سیوریج جیسی بنیادی سہولت موجود نہ ہو۔یہ اقدامات نہ صرف وہاں کے مکینوں کی زندگی کو آسان بنائیں گے بلکہ حکومت کے ترقیاتی دعوں کو مزید تقویت دیں گے۔ جب عوام دیکھتے ہیں کہ ان کی دہلیز تک سہولیات پہنچ رہی ہیں تو ان کا اعتماد حکومت پر مزید مضبوط ہوتا ہے۔ گرین کیپ ایریا میں ترقی کا آغاز ایک مثبت پیغام دے گا کہ حکومت کسی علاقے کو نظر انداز نہیں کر رہی اور ہر شہری اس کے لیے برابر اہمیت رکھتا ہے۔ پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبے ایک روشن مستقبل کی نوید ہیں۔ موجودہ حکومت کی نیت، منصوبہ بندی اور عملدرآمد قابلِ تعریف ہے۔ اگر اسی جذبے کے تحت لاہور کے گرین کیپ ایریا جیسے نظر انداز شدہ علاقوں پر بھی توجہ دی جائے تو ترقی کا یہ سفر مزید جامع اور ہمہ گیر ہو جائے گا۔ عوام کی محرومیوں کا ازالہ، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور باوقار زندگی کا حق ہر شہری کا حق ہے اور یہی وہ مقصد ہے جس کی تکمیل سے حکومت واقعی تاریخ میں اپنا مثبت نقش ثبت کر سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے