ترک صدر محترم رجب طیب اردگان نے حماس اسرائیل جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ صرف فلسطینیوں کا ہے۔ یہودیوں کو اس پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔ غزہ کی پٹی کی تعمیر نو ہونی چاہیے اور یہ کہ اسرائیل کے قبضے کے باوجود یہ فلسطینی سرزمین رہے گی۔ امید ہے یہ جنگ بندی مستقل امن کا باعث بنے گی۔ ترک صدرنے واضح کہا کہ فلسطینی بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، ترکیہ ہمیشہ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا۔ ترک خفیہ ایجنسی کے سربراہ حماس کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ فلسطینی بھائیوں کے ساتھ مل کر اسرائیلی جبر سے بچانا ہے۔ یہ ہماری تاریخی ذمہ داری ہے کہ اسرائیلی جرائم کو بے نقاب کریں۔ ہمارا فرض ہے کہ یروشلم کے مقدس مقامات بشمول حرم اول شریف اور دیگر مقامات کی حفاظت کریں۔طیب اردگان نے اسرائیل کا ساتھ دینے پر مغربی ممالک اور یورپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین غزہ پر منصفانہ انداز میں بات کرنے میں ناکام رہی۔ یورپی یونین پر ہمارابھروسہ ختم ہوگیا ہے۔ ہم غزہ میں امن کیلئے ضامن بننے کو تیار ہیں۔ نیتن یاہوسےاب کوئی با ت نہیں ہوسکتی، وہ سب سے زیادہ قصور وار ہیں۔ غزہ کے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کردیا گیا۔ دنیا کی آنکھیں بند ہیں۔ ترکیہ غزہ میں فیلڈ اسپتال بھیجنے کے لیے تیار ہے۔غزہ سے مریضوں کی ترکیہ منتقلی کے حوالے سے ان کا کہنا تھاکہ وہ غزہ کے مریضوں اور زخمیوں کا ہرممکن علاج کریں گے۔اس سلسلے میں بہت سے مریضوں کو غزہ سے مصر کے راستے ترکیہ منتقل کیا جا چکا ہے۔ ترک صدر اردگان نے فلسطین کی حمایت میں نکالی گئی ریلی میں ایک گھنٹہ طویل تقریر کی جس میں انہوں نے اسرائیل کو جنگی مجرم اور غاصب اور غزہ میں اسرائیلی حملوں کو ‘نسل کشی’ قرار دیا اور مغربی اتحادیوں کے ذریعے اسرائیل پر جنگی جرائم کا اصل مجرم ہونے کا الزام لگایا۔مجھے امید ہے کہ موجودہ درد اس امن کی پیدائشی تکلیف ہے جس کی ہمارے خطے اور فلسطینی ریاست میں برسوں سے امید کی جا رہی ہے جو اسے حاصل کر لے گی۔غزہ کا محاصرہ ختم کرنا ان اقدامات اور حکمت عملیوں سے ممکن ہو گا۔ اسلامی تعاون کی تنظیم اور عرب لیگ ایک یا دو ممالک کی طرف سے نہیں پورے عالم اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں۔اسرائیلی قابض فوج کی غزہ کی پٹی پر مسلسل 48 ویں روز بھی تباہ کن جنگ جاری ہے جس کے نتیجے میں 5 ہزار 840 سے زائد بچے اور 3 ہزار 920 خواتین سمیت 14 ہزار 128 فلسطینی شہید اور 33 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔حماس اور اسرائیل کے درمیان چار روزہ عارضی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہوگیا ہے۔ معاہدے کے تحت حماس 50یرغمالیوں کو رہا کرے گی جس کے بدلے میں اسرائیل 150 فلسطینیوں کو رہا کرے گا جن میں بڑی تعداد خواتین اوربچوں کی ہے۔ غزہ میں4 روزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل مصر سے روزانہ 300 امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت اور ایندھن کی فراہمی کی اجازت دے گا۔فلسطینی گروپ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کا کہنا ہے کہ ناکامی چھپانے کے لیے اسرائیل ہسپتالوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔غزہ کے کسی بھی ہسپتال کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا۔اسرائیل نے شمالی غزہ کے شہریوں کو مصر میں دھکیلنے کا منصوبہ بنایا ہے غزہ کے شہری اپنی سرزمین چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ’ہمارا مقصد جنگ کو عارضی طور پر روکنا نہیں، بلکہ مقصد اس جنگ کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہو گا۔‘بائیڈن نے جنگ بندی سے آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ ’دو ریاستی حل ہی اسرائیلی اور فلسطینی عوام دونوں کے لیے طویل المدتی سلامتی کی ضمانت دینے کا واحد راستہ ہے۔ موجودہ بحران نے اس حل کو ناگزیر بنا دیا ہے۔‘ ’غزہ تقریباً دو دہائیوں تک ایک حل طلب مسئلہ رہا، یہاں تک کہ 7 اکتوبر کی صبح جنگ شروع ہو گئی، جس نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔‘تاہم، دیگر افراد غزہ کی جنگ کو ایک بار اور ہمیشہ کے لیے تنازعہ کو حل کرنے کے راستے اور موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس سانحے کو ایک موقعے میں تبدیل کرنے کے بارے میں بات کی ہے۔گوتریس نے کہا کہ ’ایسا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جنگ کے بعد ہم دو ریاستی حل کی راہ پر مضبوطی سے قدم بڑھائیں۔‘ امریکہ کو امید ہے کہ موجودہ جنگ کے خاتمے کے بعد عرب ممالک غزہ میں ایک امن فوج کا حصہ بنیں گے۔ اس تجویز کو متعدد اسرائیلی حکام کی حمایت حاصل ہے لیکن اب تک یہ واضح نہیں کہ عرب دنیا کے ممالک اس تجویز کا خیر مقدم کریں گے یا نہیں۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ غزہ کی دہشت ناک صورتحال انسانی بحران سے کہیں بڑا مسئلہ ہے اور یہ انسانیت کا بحران ہے۔ غزہ میں بڑھتی ہوئی تباہی کے باعث امدادی مقاصد کے لیے جنگ بندی کی ضرورت بھی ہر گزرتے لمحے بڑھتی جا رہی ہے۔ جنگ میں شہریوں کو تحفظ دینا ضروری ہے۔ غزہ بچوں کا قبرستان بن رہا ہے۔ روزانہ سیکڑوں نوعمر لڑکیاں اور لڑکے ہلاک یا زخمی ہو رہے ہیں۔ ایک مہینے سے جاری لڑائی میں جتنے صحافی مارے گئے ہیں اتنے گزشتہ تین دہائیوں کے عرصہ میں ہونے والی کسی جنگ میں ہلاک نہیں ہوئے۔ اس دوران جتنے امدادی کارکن مارے جا چکے ہیں اقوام متحدہ کی تاریخ میں کبھی اتنے روز میں اس قدر بڑی تعداد میں ان کی ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔ سیکرٹری جنرل نے شہریوں کی زندگی کو تحفظ دینے کے لیے فوری جنگ بندی اور تمام فریقین سے بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کا راستہ واضح ہے اور وہ یہ کہ غزہ میں محفوظ طریقے سے، فوری اور بڑے پیمانے پر مزید خوراک، پانی، ادویات اور ایندھن مہیا کرنے کی ضرورت ہے۔ علاقے میں ضروری اشیا کی تمام لوگوں تک بلاروک و ٹوک رسائی ہونی چاہیے اور شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔
٭٭٭٭٭
کالم
غزہ صرف فلسطینیوں کا ہے
- by web desk
- نومبر 24, 2023
- 0 Comments
- Less than a minute
- 990 Views
- 2 سال ago

