کالم

غزہ کی تباہی ! مسلم امہ

غزہ کا علاقہ ایک چھوٹی سی پٹی ہیے جو کہ اسرائیل اور بحر روم کے درمیان سینڈوج کی حیثیت رکھتی ہے اس کا جنوبی باڈر مصر سے ملا ہوا ہے۔ غزہ کی دو ملین آبادی اسرائیلی پابندیوں کے تحت زنگی گزارنے پر مجبور ہے۔ انہیں بہت محدود سفری اور تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہے۔ غزہ کی سیکوریٹی مکمل طور پر اسرائیل کے کنٹرول میں ہے۔ برسوں قبل ایک معاہدے کے تحت آزاد فلسطینی اتھارٹی قام کی گی تھی ۔ یاسر عرفات جو آزاد فلسطینی ریاست کے حامی تھے نے تھوڑے سے حصے پر مشتمل حکومت کو قبول کی اور خود اس کے صدر بن گے۔ فلسطین کے لوگ گزشتہ کی دہایوں سے آزاد فلسطین کے لے جدوجہد کر رہے ہیں اسرائیل جب چاہتا ہے اس پر جنگ مسلط کر دیتا ہے۔ اسرائیل کا قیام انیس سو اڑتالیس میں امریکہ کی اشیر باد سے عمل میں آیا۔ امریکہ اور اس کی حواری مغربی طاقتیں اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہیں ۔ یو این او میں پانچ بڑی طاقتوں کی ویٹو پاور کی وجہ سے اب تک سیکورٹی کونسل میں جنگ بندی کی کوی قرار داد پاس نہ ہو سکی۔ گزشتہ تین ماہ سے غزہ پر اسرائیلیی وہشیانہ بمباری جاری ہے ۔ وہ جنگ بندی کی طرف نہیں آ رہا کیونکہ امریکہ بہادر اس کے ساتھ ہے۔ نیتن یاہو جب پارلیمنٹ میں آیا تو اسے حماس کی طرف سے گرفتار کیے گے فوجیوں کی رہای کے سوال پر پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل عرب لیگ او آی سی اسرائیل سے جنگ بندی نہیں کرا سکے۔ مسلمان ممالک صرف اسرائیل مخالف بیانات دے رہے ہیں اب تک اسرا یل کے خلاف کوی سخت عملی قدم نہیں اٹھا سکے۔ وہ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کی مخالفت مول نہیں لے سکتے۔ مڈل ایسٹ کے موجودہ حکمرانوں سے تو سعودی فرمانروا شاہ فیصل نے جرات دکھای اور تیل کا ہتھیار استعمال کر کے مغرب کو جھکنے پر مجبور کر دیا ۔ عرب ممالک کسی قسم کے عملی اقدام اٹھانے سے کترا رہے ہیں۔ اس وقت ایران اور ترکی فلسطین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور طیب اردگان سب سے آگے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر جے بایڈن سے فون پر بات بھی کی اور اپنے سفیر کو واپس بلا کر عملی اقدام اٹھایا۔ امریکہ فرانس جرمنی برطانیہ کے عوام اسرائیل کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں اور لندن میں اسرائیل کے سفارت خانے کے سامنے احتجاج کیا گیا۔ پاکستان میں بھی غزہ میں اسرائیلیی غنڈہ گردی کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غزہ کے فلسطینیوں کے حالات انتہای مخدوش ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کی گیس بجلی اور پانی بند کر دیا گیا ہے۔ دنیا بھر سے بھیجا جانے والا امدادی سامان اور خوراک سے بھرے ہوے ٹرک اور ٹرالرز قطاروں میں کھڑے ہیں انہیں غزہ کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ۔ غزہ کا واحد الیکٹرک یونٹ بھی ایندھن کی کمی کی وجہ سے بند پڑا ہے۔ قطر کی کوششوں سے چند روز کی جنگ بندی ہوی تھی جو کہ نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے قام نہ رہ سکی۔ غزہ میں اسرائیل کی زمینی اور فضای بمباری جاری ہے اور اب تو اسرائیلیی ٹینکوں اور طیاروں نے محفوظ علاقوں اور صدارتی عمارتوں کو بھی نشانے پر رکھ لیا ہے۔ اسرائیلیی فوج نے بمباری کرکے مساجد گرجا گھر سکول اور ہسپتال تباہ کر دیے ہیں۔ بمباری سے کی منزلہ عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ غزہ کی ہولناک تباہی دیکھ کر پوپ فرانسس نے اسرائیل کو دہشت گرد ملک قرار دیے دیا ۔ فلسطین کے شہدا کی تعداد اکیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جس میں پچاس ہزار سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کی جاری کردہ ویڈیو میں فلسطینیوں کی میتیں دکھای گیں اور ایک جگہ فلسطینی قیدی اسرا یلی جیل میں نظر آ رہے ہیں۔ اسرائیل کی سفاکی دیکھیں کہ ایک ٹرک سے فلسطینیوں کی اسی لاشیں برآمد ہویں۔ یو این سکورٹی کونسل نے روس اور امریکی نمایندوں کی غیر حاضری میں تیرہ ممبران کی حمایت سے ایک قرار داد پاس کی جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے محصور فلسطینیوں کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خوراک ادویات پانی اور بحلی بحال کی جاے۔ غزہ میں اسرائیلی بربریت کی وجہ سے انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جنگ جاری رہے گی۔ غزہ کا علاقہ بچوں کا قبرستان بن چکا ہے ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد آٹھ ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ غزہ میں یتیم ہونے والے بچوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ حماس کے راکٹ حملوں سے جنگ تو چھڑ گی لیکن اب نیتن یاہو جنگ بندی کے لے تیار نہیں ہے اس کے سامنے عرب اور دیگر مسلم ممالک بے بس نظر آرہے ہیں۔ اسرائیل کو اس وقت تک جنگ بندی پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جب تک مسلم امہ اسرائیل کے خلاف کوی حتمی اقدم نہیں اٹھاتی۔ اب مسلمانوں کے جاگنے کا وقت آ پہنچا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے