کالم

قرضوں کا بوجھ اور خود انحصاری۔۔!

وطن عزیز اس وقت جس معاشی دلدل میں پھنسا ہوا ہے وہ کسی ایک حادثے یا ایک حکومت کی پیداوار نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط غلط ترجیحات، کمزور حکمرانی، بدانتظامی اور قومی وسائل کے بے دریغ ضیاع کا نتیجہ ہے۔ ریاستی ڈھانچے میں ایسی عادتیں رچ بس گئی ہیں جنہوں نے قرض کو وقتی سہارا سمجھ کر مستقل بیماری بنا دیا ہے۔ جب حکمران اپنی سادگی، دیانت اور کفایت شعاری سے قوم کو مثال دینے کے بجائے شاہانہ پروٹوکول، غیر ضروری بیرونی دوروں، بھاری سرکاری گاڑیوں کے قافلوں اور بے حساب مراعات میں ڈوبے ہوں تو پھر قرض پہاڑوں سے بڑھ کر ہو جانا کسی تعجب کی بات نہیں رہتا۔ایک صحت مند معیشت کی بنیاد اس اصول پر ہوتی ہے کہ ریاست اپنے وسائل کے اندر رہ کر خرچ کرے، ٹیکس کا بوجھ منصفانہ طریقے سے تقسیم کرے اور قومی دولت کو پیداوار، برآمدات اور انسانی ترقی پر لگائے۔ ہمارے ہاں اس کے برعکس قرض کو بجٹ خسارے پورے کرنے، پرانے قرض اتارنے اور اشرافیہ کی مراعات برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرض کے باوجود معیشت مضبوط نہیں ہوئی بلکہ مزید کمزور ہوتی چلی گئی۔ اس کمزوری کا سب سے زیادہ بوجھ عام آدمی پر پڑا جس کی آمدن افراط زر میں گھلتی رہی اور جس کی قوت خرید ہر سال کم ہوتی چلی گئی۔قرض کم کرنے کا سب سے مثر راستہ فضول خرچی کے خاتمے سے شروع ہوتا ہے۔ حکمرانوں اور اعلی سرکاری افسران کے پروٹوکول، رہائش گاہوں، غیر ضروری سکیورٹی دستوں، قیمتی گاڑیوں اور بیرون ملک علاج و تعلیم کے اخراجات وہ زخم ہیں جن سے قومی خزانہ مسلسل لہو بہاتا رہتا ہے۔ اگر ریاستی قیادت اپنے طرز زندگی کو عام شہری کے قریب لے آئے تو نہ صرف اربوں روپے کی بچت ہو سکتی ہے بلکہ قوم میں یہ پیغام بھی جائے گا کہ قربانی صرف عوام سے نہیں بلکہ حکمران بھی دیتے ہیں۔ یہ اخلاقی سرمایہ کسی بھی معاشی اصلاح سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے کیونکہ یہی اعتماد کو جنم دیتا ہے۔
ٹیکس کا نظام کسی بھی ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں یہ نظام بدعنوانی، پیچیدگی اور امتیاز کی نذر ہو چکا ہے۔ غیر ضروری ٹیکسوں کی بھرمار نے کاروبار کو بوجھ تلے دبا دیا ہے جبکہ طاقتور طبقے اکثر راستے نکال کر ٹیکس سے بچ جاتے ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے چند مگر موثر ٹیکس نافذ کیے جائیں جن کی وصولی شفاف ہو اور جس میں انسانی مداخلت کم سے کم ہو۔ جب ٹیکس براہ راست بینکنگ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے وصول ہوگا تو رشوت، جعل سازی اور اختیارات کے غلط استعمال کے دروازے خود بخود بند ہو جائیں گے۔ اس طرح ریاست کی آمدن بڑھے گی اور ایماندار شہری پر بلا وجہ کا دبا بھی کم ہوگا۔نجکاری ایک حساس مگر ناگزیر موضوع ہے۔ ہر سرکاری ادارے کو ریاست کے پاس رکھنا دانش مندی نہیں ہوتا کیونکہ بہت سے ادارے بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور نااہلی کی وجہ سے خسارے کا گڑھ بن چکے ہیں۔ تاہم نجکاری کا مطلب یہ نہیں کہ قومی اثاثے چند مخصوص خاندانوں یا سرمایہ دار گروہوں کے حوالے کر دیے جائیں۔ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ نجکاری کے ذریعے کارکردگی بہتر ہو، روزگار محفوظ رہے اور ریاست کو مستقل آمدن حاصل ہو۔ اس تناظر میں پی آئی اے جیسے ادارے کا معاملہ خاص توجہ کا طالب ہے کیونکہ اس کے ملازمین کی پنشن اور مراعات کا بوجھ پہلے ہی عوام کے ٹیکس پر ہے۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ انتظامی اصلاحات، پیشہ ورانہ قیادت اور شفاف احتساب کے ذریعے ایسے اداروں کو قابلِ منافع بنایا جائے تاکہ وہ قومی خزانے پر بوجھ بننے کے بجائے سہارا بن سکیں۔
آئی پی پیز کے معاہدے ہماری معاشی تاریخ کے سب سے مہنگے اور متنازع فیصلوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان معاہدوں نے بجلی کی قیمتوں کو اس سطح تک پہنچا دیا جہاں صنعت، زراعت اور گھریلو صارف سب متاثر ہوئے۔ بجلی مہنگی ہو تو فیکٹریاں بند ہوتی ہیں، برآمدات کم ہوتی ہیں اور بے روزگاری بڑھتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ریاست کی آمدن گھٹتی ہے اور قرض کا بوجھ بڑھتا ہے۔ ان معاہدوں پر نظرثانی، غیر منصفانہ شرائط کا خاتمہ اور قومی مفاد کے مطابق نئے اصول طے کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ توانائی کا شعبہ اگر سستا اور مستحکم ہو جائے تو معیشت کی نبض خود بخود مضبوط ہونے لگتی ہے۔خود انحصاری، دیانت اور میرٹ وہ ستون ہیں جن پر کسی بھی قوم کی ترقی کھڑی ہوتی ہے۔ جب فیصلے تعلقات، سفارش اور سیاسی وفاداری کی بنیاد پر ہوں تو نااہلی پھیلتی ہے اور وسائل ضائع ہوتے ہیں۔ اگر ہر شعبے میں میرٹ کو معیار بنایا جائے اور بدعنوانی کو بلا امتیاز سزا دی جائے تو نہ صرف سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ نجی شعبہ بھی اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کرے گا۔ سرمایہ کاری بڑھے گی تو روزگار پیدا ہوگا، پیداوار بڑھے گی اور برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ یہی وہ سلسلہ ہے جو قرض کو رفتہ رفتہ کمزور کرتا ہے۔عوام پر جرمانوں، فیسوں اور بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر وقتی طور پر بجٹ کے اعداد و شمار تو سنوارے جا سکتے ہیں مگر اس سے معیشت کی جڑیں مزید کمزور ہو جاتی ہیں۔ جب ایک چھوٹا دکاندار، ایک مزدور یا ایک درمیانی طبقے کا ملازم ہر طرف سے نچوڑا جائے تو اس کے پاس بچت اور سرمایہ کاری کے لیے کچھ نہیں بچتا۔ اس کے برعکس اگر بجلی، گیس اور ٹیکسوں میں معقول کمی کی جائے تو کاروباری لاگت گھٹتی ہے، مصنوعات سستی ہوتی ہیں اور عالمی منڈی میں مقابلہ ممکن ہوتا ہے۔ برآمدات بڑھیں گی تو زرِ مبادلہ آئے گا اور قرض پر انحصار کم ہوگا۔
حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ قرض سے نجات کسی ایک جادوئی فیصلے سے نہیں بلکہ ایک مسلسل اور منظم حکمت عملی سے ملتی ہے۔ اس حکمت عملی میں کفایت شعاری، شفاف ٹیکس نظام، منصفانہ نجکاری، توانائی کے شعبے کی اصلاحات اور انسانی سرمائے پر سرمایہ کاری شامل ہونی چاہیے۔ تعلیم، صحت اور تحقیق پر خرچ دراصل مستقبل کی معیشت میں سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ ایک صحت مند، تعلیم یافتہ اور ہنر مند قوم زیادہ پیدا کرتی ہے اور کم وسائل میں زیادہ قدر پیدا کرتی ہے۔جب ریاست قرض کے بوجھ تلے دبی ہو تو اس کی خارجہ پالیسی بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ معاشی خود مختاری کے بغیر سیاسی خود مختاری ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ اس لیے قرض کم کرنا صرف اقتصادی ضرورت نہیں بلکہ قومی وقار کا مسئلہ بھی ہے۔ ایک ایسی قوم جو اپنے فیصلے خود کر سکے، اپنے وسائل پر خود اختیار رکھے اور اپنی ترجیحات خود طے کرے وہی حقیقی معنوں میں آزاد ہوتی ہے۔
آخرکار یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ کسی بھی اصلاح کی کامیابی کا دارومدار عوام کے اعتماد پر ہوتا ہے۔ اگر لوگ دیکھیں کہ حکمران خود قربانی دے رہے ہیں، بدعنوانی کے خلاف عملی اقدامات ہو رہے ہیں اور وسائل منصفانہ طریقے سے تقسیم ہو رہے ہیں تو وہ ٹیکس دینے، قانون ماننے اور ریاست کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ یہی اجتماعی شعور قرض کے پہاڑ کو ریت کے ذروں میں بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔وطن عزیز کے پاس وسائل بھی ہیں، انسانی صلاحیت بھی اور جغرافیائی اہمیت بھی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ حکمرانی میں دیانت، فیصلوں میں جرات اور ترجیحات میں عوامی فلاح کو مرکز بنایا جائے۔ جب یہ تینوں اکٹھے ہو جائیں تو قرض کا بوجھ خود بخود ہلکا ہونے لگتا ہے اور ایک مستحکم، خود مختار اور باوقار معیشت کی راہ ہموار ہوتی چلی جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے