کالم

قوم کی آنکھ اور اندھے حکمران

جب کسی ملک کے لوگ اپنے بنیادی حقوق کے لیے سڑکوں پر ہوں جب ریاستی اداروں کی قیادت پر اعتماد ٹوٹ چکا ہو جب پارلیمنٹ بے اثر دکھائی دے آئین عملًا معطل نظر آئے اور الیکشن کے نتائج پر عوام کا یقین اٹھ جائے تو یہ کسی ایک بحران کی نہیں بلکہ پورے نظام کے بیمار و فرسودہ ہونے کی علامت ہوتی ہے۔جب معیشت قرضوں کے سہارے چل رہی ہو فیکٹریاں بند ہو رہی ہوں بے روزگاری عام ہو، اور عوام خوراک جیسی بنیادی ضرورتوں پر ٹیکس دینے سے عاجز ہوں تو حکمرانوں کے دعوے جھوٹے اور کھوکھلے محسوس ہونے لگتے ہیں ایسے حالات میں قوم کی نظریں اپنے رہنماں پر ہوتی ہیں کیونکہ قوم کی امید ہی اس کی اصل طاقت ہوتی ہے۔آج پاکستان میں ایک ایسا ہی سوال زیرِ بحث ہے اور اس سوال کا مرکز ہیں سابق وزیراعظم، جو اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کی صحت اور بینائی سے متعلق سامنے آنے والی خبروں نے ملک بھر میں بے چینی، غم اور غصے کی کیفیت پیدا کر دی ہے گلی محلوں سے لے کر سوشل میڈیا تک ایک ہی سوال سنائی دیتا ہے ۔کیا کسی قومی رہنما کے ساتھ ایسا سلوک کسی مہذب ریاست میں قابل قبول ہے؟جب یہ کالم لکھا جا رہا ہے تو پورے پاکستان میں تمام تر سختیوں بندشوں کے باوجود عمران خان کی حمایت میں مظاہرے جاری ہیں۔ مختلف شہروں سے موٹرویز بند ہونے کی اطلاعات آ رہی ہیں، جبکہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں رکاوٹیں اور دھرنوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ دنیا کے مختلف مغربی ممالک میں،لندن سے لے کر امریکہ تک، پاکستانی سفارت خانوں کے باہر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔یہ صورتحال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ملک شدید سیاسی کشیدگی اور تقسیم کا شکار ہے اور یہ تقسیم قومی یکجہتی کے لیے زہرِ قاتل بن سکتی ہے اس وقت پاکستان کو جن دو بڑے اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے وہ کمزور معیشت اور ملک کی سکیورٹی ہیں۔ خطے کی صورتحال بھی غیر یقینی ہے افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات پیچیدہ ہیں جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں جنگ کے بادل بھی منڈلا رہے ہیں مڈل ایسٹ کی سیاست اور حالات سے پاکستان لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ ایسے حالات میں سب سے بڑی ضرورت قوم کو ایک صفحے پر لانے کی ہے نہ کہ نفرتوں اور تقسیم کو مزید گہرا کرنے کی۔اگر اسی نوعیت کی خبر تہاڑ جیل سے آتی تو شاید لوگ اسے بھارت کے سیاسی ماحول کے تناظر میں دیکھتے کیونکہ اسی جیل سے مقبول بٹ شہید اور افضل گورو شہید کی غمناک داستانیں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ مگر افسوس کہ آج ایسی خبریں پاکستان کے اندر سے آ رہی ہیں ایک ایسے ملک سے جس کے آئین میں انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ خان صرف ایک سیاستدان نہیں۔ وہ وہی کرکٹ کپتان ہیں جنہوں نے قوم کو عالمی اعزاز دلایا، عالمی معیار کے ہسپتال اور یونیورسٹیاں قائم کیں، اور عالمی فورمز پر پاکستان امت مسلمہ اور کشمیر کا مقدمہ پیش کیا۔ اگر آج انکی صحت کے بارے میں تشویشناک خبریں سامنے آ رہی ہیں تو یہ محض ایک فرد کا معاملہ نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری کا سوال ہے۔سیاسی مبصرین اور مختلف غیر سرکاری جائزوں کے مطابق خان آج بھی عوام کی ایک بڑی تعداد میں مقبول ہیں۔ یہ ایک غیر معمولی حقیقت ہے کہ طویل قید و بند اور سیاسی دباؤ کے باوجود ان کی عوامی حمایت کم نہیں ہوئی۔ حالیہ انتخابات کے بعد بھی ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ عوامی مینڈیٹ کی حقیقی ترجمانی نہیں ہو سکی، اور یہی احساس بے چینی اور اضطراب کو مزید بڑھا رہا ہے۔ایسے ماحول میں بانی کی بینائی سے متعلق خبر جلتی پر تیل کا کام ثابت ہوئی ہے۔ عوام کے ذہن میں یہ سوال پہلے سے زیادہ شدت سے ابھر رہا ہے کہ کیا سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کسی رہنما کی صحت کو خطرے میں ڈالنا درست ہے؟۔کیا ریاست کی ذمہ داری نہیں کہ ہر قیدی کو خواہ وہ کوئی بھی ہو مکمل اور معیاری طبی سہولت فراہم کرے؟۔ایک مہذب ریاست کی پہچان یہی ہے کہ وہ قانون اور انصاف کو سیاسی اختلاف سے بالا رکھے۔ اگر واقعی ان کی بینائی اس حد تک متاثر ہو چکی ہے تو انہیں فوری اور بہترین طبی سہولت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ یہ کسی رعایت کا نہیں بلکہ بنیادی انسانی حق کا معاملہ ہے۔آج کا سوال صرف ایک شخص کی آنکھ کا نہیں بلکہ پوری قوم کی آنکھ کا ہے۔ قوم کی بیداری اور بنیائی کا سوال بھی ہے۔کیا ہم انصاف کو صاف دیکھ پا رہے ہیں؟تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اپنے ہیروز کیساتھ ہونے والے سلوک کو کبھی نہیں بھولتیں۔ اقتدار، طاقت اور منصب سب عارضی ہیں۔ ہم سب نے ایک دن چلے جانا ہے، مگر جو فیصلے آج کیے جاتے ہیں وہ آنے والی نسلوں کی تاریخ بن جاتے ہیں۔ قوموں کو توڑنا آسان ہے مگر انہیں جوڑنا صدیوں کا کام ہوتا ہے۔ آج ضرورت نفرت بڑھانے کی نہیں بلکہ پاکستان کو جوڑنے کی ہے۔ میں ایک اوورسیز پاکستانی ہوں جو صحافت کیساتھ ساتھ اورسیز پاکستانیوں کی بھی آوازیں بھی اجاگر کرتا ہوں جو اس وقت محض زریعہ رہ گئے جہاں سے زرمبادلہ پاکستان کو آتا ہے پاکستان کے ذخائر میں جو پیسے ہیں وہ زیادہ تر ادھار ہیں ابھی دو ارب ڈالر کے لئے متحدہ عرب امارات کے قرضے کے لئے پاکستان سے دو سال کی مہلت مانگی تھی لیکن دو سال کی مہلت کے بجائے صرف دومہینے کی مہلت ملی ہے جب قوم کو معیشت ٹھیک ہونے کے دعوئے کیے جاتے ہیں اب بھی وقت اپنی عوام کو اپنے ساتھ جوڑیں کوئی بھی جماعت کوئی بھی لیڈر جو وفاق کی علامت اور وحدت پر یقین رکھتا ہے وہ ملک کا اثاثہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے