میں آصف علی زرداری کے متحمل مزاج طرز سیاست کا مداح رہا ہوں اور ہوں بھی۔یہی وجہ ہے کہ رحیم یار خان کے خاردار آہنی تاروں سے مقید و منظم اجتماع میں ان کے خطاب میں ایک اسیر سیاستدان کے بارے میں ان کے استہزایئہ جملے مجھے اجنبی لگے ۔ یہ پاکستان کھپے کا نعرہ لگانے والے آصف علی زرداری کا انداز گفتگو نہیں تھا، جیل سے جلال کی بجائے کمال ،تحمل اور درگزر کی دولت سمیٹنے والا سیاستدان ایسی باتیں کیسے کر سکتا ہے۔؟ یہ بات درست ہے کہ ایک طاقتوروں نے عمران خان کی بے پناہ مقبولیت و عالمگیر محبوبیت کو پاکستان کی سیاست میں سرگرم سیاسی جماعتوں کی تاثیر اور قبولیت کا طلسم توڑنے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ساری کہانیاں اب راز کے اندھیروں سے نکل کر عام ،بلکہ طشت از بام ہو چکی ہیں ۔ چار سالہ دور اقتدار میں لانے والوں نے جب ہٹانے اور ٹھکانے لگانے کا فیصلہ کر لیا تو پھر طریقہ سیاسی اور سلیقہ دستوری اختیار کیا گیا ،یعنی قومی اسمبلی کے ذریعے تحریک عدم اعتماد ۔ماننا چاہیئے کہ ملک کی مقبول و موجود اور قدرے معتوب سیاسی جماعتوں نے فیصلہ سازوں کے اشارے کا ساتھ دیاتھا ؛ اور یہ سوچے بغیر کہ صرف ایک سال کا حق حکمرانی بذریعہ عدم اعتماد چھین کر اس کی تمام ناکامیوں کو اپنے سر پر تھوپ لینا خسارے کا سودا ہو جائے گا ۔ گویا ایک روایتی اشارے پر عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی ، سجائی اور کامیاب کرائی گئی تھی ۔یہ سلسلہ اور یہ طریقہ ختم کرنے میں پیپلز پارٹی کی تاریخی قربانیوں کو سیاست اور حکمت کے نام پر دھندلا کرنا مناسب نہیں تھا ۔آصف علی زرداری اگر مفاہمت، برداشت ، قربانی اور ضبط و تحمل کی سیاست کی یونیورسٹی ہیں ،تو پھر انہیں عمران خان کو بھی اپنے اسکالرز کے حلقے میں شامل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تھی ۔ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے کسی حکومت کو گرا کر اگر کوئی یہ گمان کرتا تھا کہ پاکستانیوں کو عقل وشعور کی دولت عطا ہو جائے گی، تو یہ درست نہیں تھا ، بلکہ محض خام خیالی تھی۔اس بات کو سمجھنا اور ماننا پڑے گا کہ ؛ بگڑے لوگوں کو سمجھانے اور بہلانے کی بجائے مستقل طور پر سدھارنے کیلئے جدو جہد کرنا اور قربانی دینا ہی آخری راستہ ہے ۔اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنے حسن سلوک اور تابع فرمانی سے مہر لگے دلوں میں جگہ بنا سکتی ہے ، تو یہ محض خام خیالی ہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ ؛پاکستان پیپلز پارٹی کے سامنے ضیاالحق نے بند باندھنے کے لیے جونیجو لیگ کو کاٹ پیٹ کر ن لیگ کی صورت میں ایک دیوار کھڑی کی تھی، اس دیوار میں ضیا الحق کی مجلس شوری کی باقیات اور دیگر مارشل لائی ملبہ شامل کیا گیا تھا ۔پھر اس ن لیگ کو متعدد بار حکومت میں لایا گیا ، اور اب بھی وہی حکومت کے مزے اڑا رہی ہے ۔اب اس صورت حال کا مقابلہ گہری بصیرت اور کھری سیاست کیساتھ کرنا چاہئے ۔اگر پی پی پی ن لیگ کیساتھ محض جمہوریت کی بحالی کے نام پر "چارٹر آف ڈیموکریسی” نام کا معاہدہ کر کے اس کے ان گنت جرائم کو نظر انداز کر سکتی ہے اور آج بھی اسی الزام تراش جماعت کیساتھ شریک اقتدار ہونا گوارہ کر سکتی ہے تو پھر وہ دوسری ن لیگ کو سیاست کا حصہ کیوں نہیں بنا سکتی۔ ؟ عمران خان کا پابند سلاسل ہونا آصف علی زرداری کا فیصلہ نہیں ہے۔بطور تجربہ کار سیاست دان آصف علی زرداری کو کسی بھی سیاستدان کے جیل جانے پر خوشی کا اظہار نہیں کرنا چاہیئے۔ایسے میں عمران خان کے حوالے سے کی گئی تقریر اور انداز بیان آصف علی زرداری کے کردار سے مطابقت رکھتا دکھائی نہیں دیتا ۔الٹا اس گفتگو میں چھپے خوف کے اشارے اور شرارے نظر آ رہے تھے ۔جس آصف علی زرداری کو میں جانتا ہوں وہ کسی مبتلائے مصیبت اور پابند سلاسل سیاستدان کو طنز و تعریض کا نشانہ نہیں بنا سکتا۔الٹا وہ نہایت عاجزی کے ساتھ غریبوں کی حمایت کرنے پر یقین رکھنے والا شخص ہے۔پھر جس خوف کا شکار ن لیگیوں کو ہونا چاہیئے تھا ،پیپلز پارٹی کا آئین کی برتری پر یقین رکھنے والا صدر مملکت اس کا اظہار کیوں کر رہا ہے؟ مجھے کہنے دیجیئے کہ یہ ایک زیرک اور متحمل مزاج سیاستدان کا لیول نہیں تھا ،آصف علی زرداری بزرگ سیاستدان ہونے کے علاوہ صدر مملکت بھی ہیں۔ عمران خان کی سب سے بڑی خامی یہ رہی ہے کہ وہ سیاست کے میدان میں یک و تنہا کھیلنا چاہتا ہے۔وہ جن روحانی قوتوںکی لائن پر چلتے ہوئے دیگر سیاسی جماعتوں کو حسب معمول مطعون کرتے ہوئے بات چیت یا باہم تعاون سے انکار کی روش پر گامزن ہے ،وہ سب پر عیاں ہے ، عمران خان نے جو مقبولیت جملہ مراعات کیساتھ جیل میں اڑھائی سال رہ کر حاصل کی ہے ، وہ چار سال حکومت کر کے اور ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کر کے حاصل نہیں کر پایا تھالیکن آصف علی زرداری کے بیان نے عمران خان کی مقبولیت کو ایک قابل قبول رسید مہیا کر دی ہے، جو کہ نہیں کرنی چاہیئے تھی۔ آصف علی زرداری کے بعد ایک بندہ دیکھا ہے جسے جیل سے باہر آنے کی کوئی جلدی نہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ عمران خان کا آصف علی زرداری کی زندانی کیساتھ کوئی موازنہ بنتا ہے۔عمران خان تہتر سال سے متجاوز عمر میں پابند سلاسل ہیں، کھانا پینا اور دیگر مراعات بھی بہتر ہیں ۔ ستم ظریف کے خیال میں یہ عمر بھی عملی طور پر مکمل اور محفوظ آرام کرنے کی ہوا کرتی ہے۔ اس کے برعکس آصف علی زرداری نے اپنی جوانی کے بیش قیمت سال اسیری کے صحرا کی نذر کر دیئے تھے۔ اس پس منظر کے ساتھ فرض کریں کہ آصف علی زرداری عمران خان کے بارے میں لطف اور نرمی سے کام لیتے ہیں،اور طعنہ زنی سے گریز کرتے ہیں تو سوچئے کہ خود عمران خان کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ ۔ ایسوں کو میر تقی میر کی یہ صدا یاد رکھنی چاہیے کہ ؛
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا
کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کار گہ شیشہ گری کا
کالم
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
- by web desk
- فروری 19, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 6 Views
- 1 گھنٹہ ago

