پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مئی 2025 کے مختصر مگر شدید تصادم نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ عزم، حکمتِ عملی اور قوموں کے حوصلے سے جیتی جاتی ہیں۔ 7 سے 10 مئی 2025 تک جاری رہنے والے اس معرکہ حق میں پاکستان نے نہ صرف اپنی سرحدوں کا بھرپور دفاع کیا بلکہ دنیا کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان بھی طاقت کے کھیل کا شہسوار ہے اور اس خطے میں طاقت کا توازن ہندوستان کے حق میں یکطرفہ نہیں ہو سکتا۔
یہ جنگ محض چار دنوں پر مشتمل تھی، مگر اس کے اثرات، اس کے مناظر اور اس میں دکھائی گئی بہادری آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بن چکی ہے۔ اس معرکہ حق میں ہماری مسلح افواج نے ہندوستان کا غرور خاک میں ملا دیا اور اس میں سب سے نمایاں کردار پاک فضائیہ کا رہا، جس نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، جدید حکمت عملی اور بے مثال جرات کے ذریعے دشمن کی فضائی برتری کے دعوؤں کو خاک میں ملا دیا۔
جب دشمن نے اپنی جدید ٹیکنالوجی اور مہنگے جنگی جہازوں، خصوصاً جدید ترین فرانسیسی رافیل طیاروں پر انحصار کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف جارحیت کر کے برتری حاصل کرنے کی کوشش کی، تو اسے شاید یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ مقابلہ صرف مشینوں سے نہیں بلکہ ان مشینوں کے پیچھے بیٹھے ہوئے باہمت اور تربیت یافتہ پائلٹس سے ہونا ہے۔ پاکستانی شاہینوں نے جس مہارت اور بہادری کے ساتھ چشم زدن میں ہندوستان کے تین فرانسیسی رافیل طیاروں سمیت سات جنگی طیارے مار گرانے کے علاوہ جدید ترین ہوائی دفاعی نظام ایس 400 کی ایک بیٹری کو بھی تباہ کر دیا۔ یہ نہ صرف ایک عسکری کامیابی تھی بلکہ ایک نفسیاتی فتح بھی تھی جس نے ہندوستانی حکومت اور افواج کے حوصلے پست کر دیے۔
یہ کارنامہ کسی ایک فرد یا ایک دن کی محنت کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ برسوں کی محنت، تربیت، نظم و ضبط اور ایک مضبوط دفاعی نظریے کا عکاس تھا۔ پاک فضائیہ کے پائلٹس نے جس دلیری سے دشمن کے مقابلے میں اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر اڑان بھری، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے محافظ کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
فضائی جنگ کے دوران وضع کی گئی حکمت عملی بھی انتہائی قابلِ تعریف تھی۔ دشمن کی نقل و حرکت پر گہری نظر، بروقت فیصلہ سازی، اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال وہ عوامل تھے جنہوں نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔ پاکستانی پائلٹس نے نہ صرف دشمن کے حملوں کو ناکام بنایا بلکہ جوابی کارروائی میں ایسی مہارت دکھائی کہ دشمن کو ناقابل تلافی نقصان اٹھا کر پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
مگر یہ جنگ صرف فضاء میں نہیں لڑی گئی۔ زمین پر بھی پاک فوج کے جوان سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہے۔ سرحدوں پر تعینات فوجی جوانوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر دشمن کے ہر حملے کو ناکام بنایا۔ ہماری فوج نے اپنے میزائلوں کے ذریعے لائن آف کنٹرول کے پار ہندوستانی فضائیہ کے تمام اڈوں اور فوجی تنصیبات کو چار گھنٹے کے اندر اتنا برباد کر دیا کہ وزیراعظم نریندرا مودی کو امریکہ کے ذریعے پاکستان سے جنگ بندی کی بھیک مانگنا پڑی۔
اس کے ساتھ ساتھ پاک بحریہ بھی مکمل طور پر چوکس رہی، تاکہ دشمن کسی بھی سمت سے پاکستان کی خودمختاری کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ ہماری قابل فخر بحریہ کی دہشت کی بدولت ہندوستان کا طیارہ بردار جہاز وکرانت، پاکستانی سمندری حدود سے 400 کلومیٹر دور جا کے انٹرنیشنل سمندر میں دبک کر کھڑا ہو گیا اور اس کو پاکستان کی سمندری حدود میں داخل ہونے کی جرات تک نہ ہوئی۔ آپریشن "بنیان المرصوص” کے دوران ہماری تینوں مسلح افواج کے درمیان مثالی ہم آہنگی نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی دفاعی قوت ایک متحد اور مضبوط نظام پر مبنی ہے۔ اس معرکہ حق و باطل میں ہمارے مجاہدوں کی آنکھوں میں ایک ہی خواب تھا، مادر وطن کا دفاع، چاہے اس کے لیے اپنی جان کا نزرانہ ہی کیوں نہ پیش کرنا پڑے۔
اس جنگ کا ایک اور اہم پہلو پاکستانی قوم کا جذبہ تھا۔ جب بھی ملک پر مشکل وقت آیا ہے، پاکستانی قوم ہمیشہ ایک مضبوط دیوار کی طرح اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے۔ اس معرکہ حق کے دوران بھی یہی منظر دیکھنے میں آیا۔ ہر شہری، چاہے وہ کسی بھی طبقہ فکر سے تعلق رکھتا ہو، اپنے وطن کے دفاع کے لیے پرجوش اور پرعزم نظر آیا۔
سوشل میڈیا سے لے کر وطن کے گلی کوچوں تک، ایک ہی نعرہ گونج رہا تھا: "پاکستان زندہ باد!”۔ یہ محض ایک نعرہ نہیں تھا بلکہ ایک عہد تھا، ایک جذبہ تھا جو ہر دل میں دھڑک رہا تھا۔ عوام نے اپنی افواج پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور یہی اعتماد ایک ایسی طاقت بن گیا جسے کا مقابلہ کوئی بھی دشمن نہیں کر سکتا۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ جنگ صرف میدان میں نہیں بلکہ ذہنوں میں بھی لڑی جاتی ہے۔ آپریشن "بنیان المرصوص” کے دوران دشمن کی جانب سے ہماری قوم کی حوصلہ شکنی کے لیے منفی پروپیگنڈا اور غلط معلومات پھیلانے کی کوششیں کی گئیں، مگر پاکستانی قوم نے اجتماعی شعور اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ میڈیا اور عوام نے مل کر ایک ذمہ دارانہ کردار ادا کیا، جس سے قومی یکجہتی مزید مضبوط ہوئی۔
معرکہ حق اور آپریشن "بنیان المرصوص” نے یہ بھی ثابت کیا کہ جدید ہتھیاروں سے زیادہ اہم ان کا درست استعمال اور ان کے پیچھے موجود افراد کی صلاحیت ہوتی ہے۔ پاکستان کی بری فوج اور پاک فضائیہ کے شاہینوں نے نہ صرف دشمن کے میزائلوں اور جدید جہازوں کا مقابلہ کیا بلکہ انہیں شکست دے کر یہ پیغام دیا کہ مہارت، جذبہ اور ایمان کسی بھی ٹیکنالوجی پر بھاری پڑ سکتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ ایسے ہی سنہری ابواب سے بھری پڑی ہے، جہاں ہم نے کم وسائل کے باوجود بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ مئی 2025 کا آپریشن "بنیان المرصوص” بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر قوم متحد ہو، قیادت مضبوط ہو اور افواج پیشہ ورانہ مہارت کی اعلیٰ مثال ہوں، تو کوئی بھی چیلنج ناقابلِ عبور نہیں رہتا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس کامیابی کو محض ایک واقعہ سمجھ کر نہ بھول جائیں، بلکہ اسے ایک سبق کے طور پر یاد رکھیں۔ ہمیں اپنی افواج کی قربانیوں کا احساس ہونا چاہیے اور اپنے اندر بھی وہی جذبہ پیدا کرنا چاہیے جو ہمارے بہادر سپاہیوں میں موجود ہے۔ ملک کی ترقی، استحکام اور دفاع صرف فوج کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا اولین فرض ہے۔
یہ جنگ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ امن کی خواہش کمزوری نہیں ہوتی، مگر اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا ہر قوم کا حق ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، مگر جب بھی اس کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا، اس نے پوری قوت کے ساتھ اپنے دشمن کو دندان شکن جواب دیا ہے۔
آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ مئی 2025 کا معرکہ حق اور کامیاب آپریشن "بنیان المرصوص” صرف ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ ایک قومی بیداری کی علامت ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم ایک بہادر قوم ہیں، ہماری افواج دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں، اور جب ہم سب ایک ہو جائیں تو کوئی بھی دنیاوی طاقت ہمیں جھکا نہیں سکتی۔ پاکستانی بری فوج کو سلام، پاکستان کے شاہینوں کو سلام، پاک بحریہ کے عزم کو سلام اور سب سے بڑھ کر اس قوم کو سلام جو ہر مشکل گھڑی میں اپنے وطن کے محافظوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔
پاکستان زندہ باد، پاکستانی مسلح افواج پائندہ باد۔

