ملک میں مہنگائی کی شرح میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور ہر آنیوالا دن غریب عوام کیلئے مشکل ترین بنتا چلا جارہا ہے مگر اس کے باوجود حکومتی موقف یہ ہے کہ وہ مہنگائی کو کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھارہی ہیں ، اب صورتحال یہ ہے کہ ایک جانب دالیں ، سبزیاں ، گوشت اور دیگر اشیائے خورنی کی قیمتوں میں آئے روز تیزی سے اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے ، بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے ، بجلی کی مہنگا ہونے سے اس ماہ بلوں کی شرح میں ہزاروں روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا جس کی بدولت غریب عوام خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوچکی ہیں جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ کی کرایوں کی شرح میں ٹرانسپورٹرز حضرات نے من مانا اضافہ کردیا ہے جبکہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں جو اضافہ کیا گیا تھا اس شرح سے مہنگائی کا تناسب دگنا ہوگیا ہے ، عوام ایک ایسی چکی میں پسنے میں مجبور ہے جہاں سے باہر آنے کیلئے ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں مگر اس کے باجود نگران وزیر اعظم اس بات پر پرامید ہے اور ان کا موقف ہے کہ وہ ملک سے مہنگائی کا خاتمہ کرکے رہیں گے ، گزشتہ روز نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے وزیرِ توانائی، بجلی اور پیٹرولیم محمد علی کی ملاقات کی جس میں نیک تمناو¿ں کا اظہار کیا، اس موقع پرنگران وزیراعظم نے کہا کہ معاشرے کا ہر ایک طبقہ تاجر ، وکلاء، کسان، انجینئر ز، فنکار اور ڈاکٹر پاکستان کے خواب کی تعبیر میں تعاون کررہے ہیں ۔ اس تعاون کے ساتھ، ہم اپنی قوم کے لیے ایک روشن اور زیادہ خوشحال مستقبل کی طرف سفر کر رہے ہیں، ملک میں توانائی و بجلی شعبے کی اصلاحات پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔توانائی و بجلی شعبے کی اصلاحات ملکی معاشی استحکام و ترقی کیلئے انتہائی کلیدی ہیں، دوسری جانب سرکاری دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مذکورہ اضافے کے علاوہ سرکلر ڈیٹ میں بھی 392 ارب روپے کا اضافہ ہوگا جو بجٹ سبسڈی کے ذریعے کم کیا جائے گا، 4.37 روپے فی یونٹ اضافے کا مقصد گردشی قرضے کو اس کی موجودہ 2.31 ٹریلین روپے کی سطح پر رکھنا ہے کیونکہ پاور ڈویژن کو بجلی چوری اور دیگر نقصانات روکنے میں کوئی بہتری نظر نہیں آرہی ہے جس کے باعث گزشتہ مالی سال 236 ارب روپے کا اضافی نقصان ہوا تھا۔نظرثانی شدہ سرکلر ڈیبٹ مینجمنٹ پلان کے مطابق جسے پاور ڈویژن نے آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا ہے، بجلی قیمت میں مذکورہ اضافہ گزشتہ مالی سال کی چوتھی سہ ماہی کی ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے کیا گیا ہے جو ستمبر سے دسمبر 2023 تک صارفین سے وصول کیا جائے گا۔ منصوبے میں انکشاف کیا گیا کہ ملک کے گردشی قرضے میں 1.37 ٹریلین روپے کا اضافہ معمول کی کارروائی کا حصہ ہے،یہ ایک ایسا سوراخ ہے جسے حکومت اب بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے (721 ارب روپے)اور تقریبا 600 ارب روپے کی مالی معاونت سے بند کرنا چاہتی ہے۔حکام نے پہلے ہی سہ ماہی اور سالانہ بنیاد پر بجلی ٹیرف میں اوسطا 7 روپے فی یونٹ اضافہ کر دیا ہے، جس سے صارفین سے 600 ارب روپے کی وصولی میں مدد ملے گی، تاہم نئے منصوبے میں جان دکھائی دیتی ہے، کیونکہ یہ روپے اور ڈالر کی شرح تبادلہ 286 روپے فی ڈالر اورکراچی انٹر بینک آفر 19.4فیصد کے مفروضے پر بنایا گیا ہے۔پاور ڈویژن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا) اگلے ہفتے ٹیرف میں اضافے کی درخواست پر غور کرے گی،اضافہ نیپرا کے فیصلے پر منحصر ہو گا، وفاقی کابینہ اس کے بعد اس اضافے کے بارے میں حتمی فیصلہ کرے گی جو صارفین پر لاگو ہو گا، بجلی کے نرخ پہلے ہی بہت زیادہ ہیں اور صارفین بجلی بلوں کی بروقت ادائیگی نہیں کر پا رہے،بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ دیگر اشیاءکی قیمتوں میں بھی تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے مگر اس وقت ملک میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہوگیا جس کے بعد شرح 27.57 فیصد ہوگئی۔قومی ادارہ شماریات کے سروے کے نتائج کے مطابق پاکستان میں 32 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہواہے جب کہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 0.78 فیصد اضافہ، 7 اشیا کی قیمتوں میں کمی اور 12 اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہا۔رپورٹ کے مطابق جن اشیا کی قیمتوں میں ا ضافہ ہوا ان میں سرخ مرچ پاوڈر 7.58 فیصد ، چاول 7.48 فیصد، لہسن 5.06 فیصد، چینی 4.02 فیصد، گڑ 3.23 فیصد، چاول ٹوٹا 3.06 فیصد مرغی 2.83 فیصد، کیلے 2.72 فیصد، ڈیزل 7.29فیصد اور پیٹرول 6.40 فیصد مہنگا اضافہ ہوا۔اس کے علاوہ ٹماٹرکی قیمت میں 13.60فیصد، خوردنی تیل 1.65 فیصد، گھی 0.85 فیصد، سرسوں کا تیل 0.23 فیصد اور آٹے کی قیمت میں 0.19 فیصد کمی ہوئی۔سرکاری سطح سے عوام روزمرہ اشیائے صرف سستے داموں مہیا کرنے کیلئے ملک بھر میں یوٹیلی سٹور قائم کئے گئے تھے جو ایک کارپوریشن کے تحت کام کررہے تھے اس کارپوریشن کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ عوام کو اوپن مارکیٹ میں ہونیوالی مہنگائی سے بچایا جاسکے مگر اب یہاں مہیا کی جانے والی اشیاءپر سے سبسڈی کا خاتمہ کردیا گیا ہے جس کی بدولت یوٹیلیٹی اسٹورز پر سبسڈی واپس لینےسے 20کلو آٹا 1544روپے مہنگا کردیا گیا۔عام صارفین کیلئے یوٹیلیٹی اسٹورز پرآٹے کے10کلوتھیلے کی قیمت میں772روپے اضافہ کر دیا گیا۔یوٹیلیٹی اسٹورز پرآٹے کی قیمت ملک میں آٹے کی اوسط قیمت سے بھی زیادہ ہوگئی۔یوٹیلیٹی اسٹورز پرعام صارفین کیلئے آٹے کی نئی قیمت مقرر کر دی گئی عام صارفین کیلئے یوٹیلیٹی اسٹورز پر20 کلو آٹا2840 روپے کا ملے گا ۔ملک میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی اوسط قیمت2824.73 روپے ہے۔عام صارفین کیلئے یوٹیلیٹی اسٹورز پرآٹے کے10 کلو تھیلے کی قیمت1420روپے مقرر کر دی گئی۔بی آئی ایس پی صارفین کیلے آٹے کے10کلوتھیلے کی قیمت 648 روپے ہے ۔عام صارفین کیلئے یوٹیلیٹی اسٹورز پرسبسڈی کے ساتھ20 کلوآٹا1296روپے کا تھا۔گذشتہ ہفتے بی آئی ایس پی کے سواباقی صارفین کیلئے سبسڈی ختم کی گئی۔
آرمی آفیشل سیکریٹ کی ایوان صدر سے منظوری
گوکہ کچھ حلقوں کی جانب سے پاکستان آرمی آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی منظوری کی مخالفت کی جارہی ہے مگر اقوام عالم میں جہاں بھی دیکھا جائے ہر ملک کے اندر آرمی آفیشل سیکریٹ ایکٹ موجود ہے ، کچھ حلقے ایسے عوامی اور جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں مگر ہم سمجھتے ہیں کہ اس ایکٹ کا نفاذ ملکی استحکام اور سالمیت کیلئے ہر حال میں ضروری ہے ، امریکا اور بھارت دنیا کی دو بڑی جمہوریتیں کہلانے کی دعویدار ہیں مگر وہاں بھی اس قسم کے ایکٹ موجود ہے جن کے اندر عوامی حکومتوں کو اس بات کی قطعاً اجازت نہیں کہ وہ آرمی کے آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں مداخلت کرسکے ، ماضی میں گوانتانا مووے میں بنائی گئی امریکن آرمی کی جیل اس بات کی گواہ اور واضح ثبوت ہے ، پاکستان کے داخلی و بیرونی استحکام کیلئے اس قسم کے ایکٹ کو بہت پہلے پاس ہوجانا چاہیے تھا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کر دیے۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق 31جولائی کو آرمی ایکٹ مشترکہ اجلاس میں منظور ہوا تھا، یہ بل صدر کو توثیق کےلئے یکم اگست کو ارسال کیا گیا تھا۔گزشتہ قومی اسمبلی نے مدت ختم ہونے سے پہلے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی منظوری دی تھی۔آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بلز صدر کے دستخط کے بعد قانون کی شکل اختیار کر گئے ہیں ۔خیال رہے کہ سینیٹ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل پیش کیا گیا تو اپوزیشن کے ساتھ حکومتی اتحادی بھی برہم ہوگئے تھے اور پیپلز پارٹی کے رضا ربانی نے کئی بلوں کی کاپیاں پھاڑ دی تھیں۔پاکستان بار کونسل کی جانب سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم کی شدید مذمت کی گئی تھی، اس حوالے سے پاکستان بار کونسل کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت فوری طور پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل واپس لے، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے خلاف کسی بھی اقدام کی بھرپور مخالفت کریں گے۔
اداریہ
کالم
ملک میں مہنگائی کا بڑھتا تناسب اور نگران وزیر اعظم کا موقف
- by web desk
- اگست 21, 2023
- 0 Comments
- Less than a minute
- 555 Views
- 3 سال ago

