اداریہ کالم

میڈیا سے متعلق نئے آرڈیننس کا اجراء

بھارت کی افغانستان میں نئی سازش،غنی حکومت ہوش کے ناخن لے
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان الیکٹرانک ایکٹ ترمیمی ;200;رڈیننس جاری کردیا ہے جس کے مطابق کسی بھی فرد کے تشخص کے خلاف حملہ کی صورت میں قید کی سزا 3سال سے بڑھا کر 5سال کردی گئی ہے ۔ پاکستان الیکٹرانک ایکٹ ترمیمی ;200;رڈیننس صدر مملکت کی جانب سے جاری کیا گیا، ترمیمی ایکٹ میں شخص کی تعریف شامل کردی گئی، شخص میں کوئی بھی کمپنی، ایسوسی ایشن، ادارہ یا اتھارٹی شامل ہیں جبکہ کسی بھی فرد کے تشخص کے خلاف حملہ کی صورت میں قید 3 سال سے بڑھا کر 5سال کردی گئی ہے اورسیکشن 20 میں ترمیم کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ شکایت درج کرانے والا شخص متاثرہ فریق، اس کا نمائندہ یا گارڈین ہوگا ۔ جاری کردہ ;200;رڈیننس کے مطابق جرم کو قابل دست اندازی قرار دے دیا گیا ہے، یہ ناقابل ضمانت ہوگا، ٹرائل کورٹ 6 ماہ کے اندر کیس کا فیصلہ کرے گی، ٹرائل کورٹ ہر ماہ کیس کی تفصیلات ہائیکورٹ کو جمع کرائے گی، ہائیکورٹ کو اگر لگے کہ کیس جلد نمٹانے میں رکاوٹیں ہیں تو رکاوٹیں دور کرنے کا کہے گی ۔ آردیننس میں کہا گیا کہ وفاقی، صوبائی حکومتیں اور افسران کو رکاوٹیں دور کرنے کا کہا جائے گا، ہر ہائیکورٹ کا چیف جسٹس ایک جج اور افسران کو ان کیسز کیلئے نامزد کرے گا ۔ صدرمملکت نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بھی ;200;رڈیننس جاری کردیا جس کے مطابق تمام اسمبلیوں ، سینیٹ اور مقامی حکومتوں کے ممبران الیکشن مہم کے دوران تقریر کرسکیں گے، کوئی بھی پبلک ;200;فس ہولڈر اور منتخب نمائندے حلقے کا دورہ کرسکیں گے ۔ نیزوفاقی کابینہ نے الیکٹرانک کرائم بل 2016 میں ترمیم کیلئے آرڈیننس کی منظوری دےدی ;245;آرڈیننس کے مسودے کے مطابق کسی کی پرائیویسی یا ساکھ کو نقصان پہنچانا ناقابل ضمانت جرم قراردیا گیا ہے ;245;نئے قانون میں تین سال سے سزا بڑھا کر پانچ سال کر دی گئی ہے;245;کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے میں مدد کرنا بھی نا قابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے ;245;ٹرائل کورٹ کو 6 ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا پابند بنا دیا گیا ہے ;245;شکایت درج کرانے کا اختیار متاثرہ شخص یا ادارے کے نمائندے کو بھی ہو گا جبکہ ٹرائل کورٹ کو ماہانہ کارکردگی رپورٹ متعلقہ ہائیکورٹ کو بھجوانا ہو گی ;245;اگر ٹرائل کورٹ نے بروقت کیس نہ نمٹایا تو حکومت ہائیکورٹ کو کاروائی کی سفارش کر سکے گی، صدر مملکت نے کراچی میں خطاب کرتے ہوئے بھی یہ کہا کہ میڈیا پر ہر وقت ماتم چلتا رہتا ہے ، میڈیا ریاست کا چوتھا ستون کہلاتا ہے اور نہایت ذمہ داری سے اپنے فراءض سرانجام دیتے چلا آرہاہے ۔ آمرانہ ادوار میں یہی میڈیا ہی تھا جو عوام کی آواز بلند کیا کرتا تھا اور عوامی حقوق کی بات کیا کرتا تھا، اس لئے اس کیخلاف یکطرفہ قوانین کا بنایا جانا ہمارے نزدیک ٹھیک امر نہیں ہے کیونکہ میڈیا کا یکطرفہ طور پر گلا گھونٹ کر وہ ثمرات حاصل نہیں کئے جاسکتے جو کہ آزاد میڈیا کے ذریعے حاصل کئے جاسکتے ہے ۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ قوم کی منتخب کردہ اسمبلی کی موجودگی میں ایوان صدر کو آرڈیننس فیکٹری میں بدلنے کا کیا جواز بنتا ہے ، اس لئے حکومت کو میڈیا کے حوالے سے کئے جانیوالے فیصلوں میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔ موجودہ حکومت نے ساڑھے تین برسوں میں اب تک 63صدارتی آرڈیننس اور 6صدارتی فرمان جاری کئے ،حالانکہ ان میں سے بیشتر معاملات ایسے تھے جن کو قومی اسمبلی میں لاکر ان پر قانون سازی کی جاسکتی تھی ۔ مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی کا یہ کہنا بجا ہے کہ اہم قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ کو نظر انداز کرکے صدارتی آرڈیننس کو بطور ہتھیار استعمال کرنا جمہوری روایات اور پارلیمنٹ کی توہین ہے ۔ اس آرڈیننس کے جواز میں وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے معاشرے سے فیک نیوز کے خاتمے کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں ، یہ قانون فیک نیوز کا قلع قمع کرنے کے لیے بہت ضروری ہے ، میڈیا تنقید کرنا چاہتا ہے تو بالکل کرے لیکن فیک نیوز نہیں ہونی چاہیے، جدید دور میں میڈیا کی بہت اہمیت ہے، میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے، پیکا ;200;رڈیننس میڈیا پر قدغن سے متعلق نہیں ہے، پاکستان سے متعلق جھوٹی خبروں میں بھارت کا بڑا ہاتھ ہے، یہ قانون ان لوگوں کے لیے جو پبلک ;200;فس ہولڈر یا سلیبرٹی ہیں ،ذوالفقار علی بھٹو ، فیلڈ مارشل ایوب خان اور جنرل ضیاء کے ادوار میں بھی میڈیا پر کڑی پابندیاں لگائی گئی ، اخبارات اور جرائد کے ڈیکلریشن منسوخ کئے گئے مگر اس کا نتیجہ درست نہیں نکلا ، اس آرڈیننس کو میڈیا کی تمام تنظیموں نے مسترد کیا ہے ، ہم فیک خبروں کے حق میں نہیں مگر اس کی آڑ میں لگائی جانے والی پابندیوں کے حق بھی نہیں ، اگر حکومت اس حوالے سے کوئی نئی قانون سازی کرنا ہی چاہتی تھی تو اس کیلئے تما م اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیتی اور پھر اس پر کام کرتی تو یقینا یہ اقدام درست ہوتا ۔ موجودہ حکومت کو یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ جب یہ حزب اختلاف میں تھے تو یہی میڈیا ان کی آنکھ کا تارا تھا اور اس مقام تک انہیں لانے میں میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے ، اس وقت یہی حکمران صبح شام میڈیا کی آزادی کے حق میں آوازیں بلند کرتے تھکتے نہیں تھے مگر اب یکدم یہی میڈیا ان کی نظروں میں برا ہوچکا ہے ، اس لئے حکمرانوں کو سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے ہوں گے کہیں ایسا نہ ہواکہ عجلت میں جاری کی جانیوالی اس قسم کے آرڈیننس ان کے زوال کا باعث بن جائیں ۔

اسلحہ لائسنس اجرا ء کیلئے نئی پالیسی خوش آئند

وفاقی وزارت داخلہ نے اسلحہ لائسنسوں کا اجراء عارضی طور پر روک دیا، اسلحہ لائسنسوں کے لئے نئی پالیسی تشکیل دی گئی ہے جس کی منظوری کے بعد لائسنسوں کا اجراء شروع کیا جائے گا،نئی پالیسی میں درخواست گزار کے لئے ٹیکس کی شرح میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، ، ذراءع کے مطابق وزارت داخلہ نے ممنوعہ و غیر ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنسوں کے اجرا ء کے لئے نئی پالیسی مرتب کرلی ہے جس کی منظوری تک عارضی طور پر اسلحہ لائسنسوں کا اجراء روک دیا گیا ہے ، نئی پالیسی میں درخواست گزار کے لئے ٹیکس کی شرح میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے ، سابقہ پالیسی میں غیر ممنوعہ بور کے لائسنس کی درخواست دینے والے کے لئے کم ازکم ایک لاکھ سالانہ جبکہ غیر ممنوعہ لائسنس حاصل کرنے کے لئے کم ازکم پچاس ہزار سالانہ ٹیکس کی حد مقرر کی گئی تھی ۔ ماضی میں اسلحہ لائسنسوں کا جمعہ بازار لگاکر رکھ دیا تھا اور تھوک کے حساب سے اسلحہ لائسنس جاری کئے گئے ، وزارت داخلہ سے ایک ایک شخص کے نام پر بیس ، بیس لائسنسوں کا اجراء بھی دیکھنے میں آیا ، اسلحہ کے ہاتھ میں آتے ہی معاشرے میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ، چوری ، ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ۔ موجودہ وزیر داخلہ کی جانب سے اسلحہ لائسنسوں کے اجراء کیلئے نئی پالیسی کی تشکیل یقینا ایک حوصلہ افزا اور تاریخی اقدام ہے جو جرائم کے انسداد پر قابو پانے میں مدد دے گا، اسلحہ لائسنسوں کے اجراء کی حوصلہ شکنی اور روک تھام نہایت ضروری ہے کیونکہ جب ریاست کے پاس سیکورٹی فورسز کی کثیر تعداد موجود ہے تو پھر ہر ایرے غیرے کو لائسنس جاری کرنے کی بھلا کیا ضرورت ہے ۔

اسلام کے حقیقی چہرے کو دنیا میں متعارف کرانے کی ضرورت

وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا ہے کہ پاکستان ترکی کے امام خطیب اسکولوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، اسلام کے اصل چہرے اور تعلیمات کو دنیا میں متعارف کروانا اصل چیلنج ہے ۔ وفاقی وزیر کی یہ بات بالکل درست ہے اور وزیر اعظم پاکستان بھی علماء و مشاءخ سے یہ بات کہتے چلے آرہے ہیں کہ صرف اندرونی ملک بلکہ بیرون ممالک میں ہ میں اسلام کا حقیقی تشخص دیکھنانے کی ضرورت ہے کیونکہ قرآن کریم ام الکتاب ہے اور اس میں انسانیت کی بھلائی کا درس دیا گیا ہے مگر کچھ طبقات نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک اسلام کے تشخص کو صحیح انداز میں پیش نہیں کررہے ،اسلام ایک روشن خیال مذہب ہے جس کی تعلیمات ہر دور کیلئے ہیں مگر یہ عاقبت نا اندیش طبقات اسلام کو محدود انداز میں پیش کررہے ہیں ، اگر آج سے سو سال پہلے اس پر کام شروع کیا جاتو عالمی سطح پر نہ صرف بین المذاہب ہم آہنگی کی فضا پیداہوتی بلکہ ہ میں ان مسائل سے بھی نہ گزرنا پڑتا اور نہ ہ میں یہاں بیٹھ کر کسی ملک کیخلاف احتجاج کی ضرورت پیش آتی چنانچہ علماء کرام اور مشاءخ عظام کو اس حقیقت کو جان کر کام کرنا چاہیے ۔

]]>

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے