کالم

نظریاتی استقامت کی پہچان

میں محترمہ عائشہ مسعود صاحبہ کا دل کی گہرائیوں سے ممنون ہوں کہ انہوں نے اپنی بامقصد تصنیف برمنگھم کی اہم مسلم شخصیات کے انٹرویوز ذاتی طور پر عنایت فرمائی۔ کسی مصنف کی جانب سے کتاب کا تحفہ محض کاغذ اور روشنائی کا تبادلہ نہیں ہوتا بلکہ فکر، مشاہدہ، تجربہ اور طویل فکری ریاضت کا نچوڑ ہوتا ہے۔ اس کے پس منظر میں بے شمار ساعتیں، مطالعے کے لمحات اور سوالات کی ایک سنجیدہ دنیا کارفرما ہوتی ہے ۔ ایسے میں قاری محض پڑھنے والا نہیں رہتا بلکہ ایک فکری امانت کا امین بن جاتا ہے، جس پر لازم ہے کہ وہ کتاب کو سنجیدگی سے پڑھے اور اس کے اثرات کو دیانت داری سے مرتب کرے۔عائشہ مسعود پاکستانی ادبی اور صحافتی حلقوں میں جرتِ اظہار، فکری دیانت اور نظریاتی استقامت کی پہچان سمجھی جاتی ہیں۔ اس کتاب میں بھی وہی مزاج نمایاں ہے۔ انہوں نے برطانیہ میں مقیم مسلم شخصیات کے انٹرویوز کو تعارفی گفتگو تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں ایک سنجیدہ فکری دستاویز کی صورت عطا کی ہے۔ یہاں سوالات محض معلومات کے لیے نہیں بلکہ ایک فکری مکالمہ قائم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں، جس کے ذریعے ایک پوری کمیونٹی کی جدوجہد، شناخت اور سماجی کردار واضح ہوتا ہے۔اس کام کی اصل انفرادیت اس کے موضوع میں پوشیدہ ہے۔ تارکینِ وطن محض افراد نہیں ہوتے بلکہ دو تہذیبوں کے امین ہوتے ہیں۔ ایک اپنے آبائی وطن کی اور دوسری اس نئے معاشرے کی جہاں وہ زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کی گفتگو دراصل دو ثقافتوں، دو معاشرتوں اور دو تجربات کے درمیان ایک زندہ پل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے انٹرویوز ہمیں محض شخصیات سے نہیں بلکہ تہذیبی ادغام، سماجی ہم آہنگی، شناخت کی تشکیل اور نفسیاتی کشمکش جیسے گہرے موضوعات سے روشناس کراتے ہیں۔ ہجرت صرف جغرافیے کی تبدیلی نہیں بلکہ فکر، زبان، رویوں اور ترجیحات کی ازسرِ نو ترتیب کا عمل ہے۔ جب مختلف پس منظر رکھنے والے لوگ ایک نئے معاشرے میں جمع ہوتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ یادیں، روایتیں، ہنر اور زاویہ نظر لاتے ہیں۔ اسی ملاپ سے ایک نیا تمدن تشکیل پاتا ہے۔ عائشہ مسعود نے انہی زندہ تجربات کو محفوظ کیا ہے ۔یہ کتاب 231صفحات پر مشتمل ہے جسے فکشن ہاؤس، لاہور نے 2025میں شائع کیا۔ اس میں پندرہ اہم شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں جو مختلف مکاتبِ فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ موضوعاتی لحاظ سے یہ محض افراد کا تعارف نہیں بلکہ ایک عہد، ایک شہر اور ایک کمیونٹی کی اجتماعی داستان ہے۔کتاب کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس میں وقت بولتا ہے۔ 1960 کی دہائی سے لیکر آج تک کے تجربات ایک مسلسل دھارے کی صورت سامنے آتے ہیں۔ فیکٹریوں کا دھواں، اوور ورک سے متاثر صحت، نسل پرستی کے تلخ دن، حلال خوراک کی تلاش، خواتین کی محدود سرگرمیاں، ابتدائی مذہبی مشکلات، اور پھر بتدریج تنظیم، استحکام اور نمائندگی کا سفر۔ قاری محسوس کرتا ہے کہ برمنگھم کی موجودہ صورتِ حال کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد کا حاصل ہے۔مختلف راویوں کی گفتگو سے برطانوی ادارہ جاتی نظام کی جھلک بھی ملتی ہے۔ قانون کی بالادستی، انصاف کی فراہمی، فلاحی ڈھانچہ اور سیاسی نمائندگی جیسے عناصر بار بار سامنے آتے ہیں۔ یہ تکرار اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ منظم ریاست فرد کو سانس لینے کی جگہ دیتی ہے۔ اسکے مقابلے میں پاکستان کا ذکر آتے ہی سیاسی عدم استحکام، آمریت، بدعنوانی اور بیرونی اثر و رسوخ کی باتیں سامنے آتی ہیں۔ یہ تقابل الزام نہیں بلکہ ایک تلخ خود احتسابی بن کر ابھرتا ہے۔کتاب کا ایک اہم اور قدرے تکلیف دہ پہلو مسلمانوں کا داخلی بحران بھی ہے۔ مذہبی آزادی کے باوجود فرقہ واریت، باہمی عدم اعتماد، عید جیسے معاملات پر اختلاف، اور بچوں کی متضاد تربیت جیسے مسائل اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف بیرونی ماحول کا نہیں بلکہ ہماری اپنی فکری کمزوریوں کا بھی ہے۔ بعض بزرگوں کا یہ کہنا کہ پہلے مسلمان کم تھے مگر اسلام زیادہ تھا، پوری کتاب کے پس منظر میں ایک مستقل بازگشت کی طرح گونجتا رہتا ہے۔مصنفہ کی فنی دیانت یہاں پوری طرح نمایاں ہوتی ہے۔ ہر انٹرویو کے آغاز میں اس کا خلاصہ پیش کر دیا گیا ہے جس سے قاری کو چند سطور میں پوری گفتگو کا مزاج معلوم ہو جاتا ہے۔ یہ محض سہولت نہیں بلکہ ایک باقاعدہ فکری ترتیب ہے۔ سوالات غیر جارحانہ ہیں، انداز مکالماتی ہے مگر زبان ادبی وقار سے مزین ہے۔ عائشہ مسعود بطور سوال کنندہ کہیں حاوی نہیں ہوتیں بلکہ ایک سنجیدہ سامع کا کردار ادا کرتی ہیں، جس کے باعث ہر آواز اپنی اصل صورت میں سامنے آتی ہے۔یہ کتاب محض انٹرویوز کا مجموعہ نہیں بلکہ برمنگھم کے وسیلے سے مسلم ذہن کی تاریخ ہے۔ یہ ہجرت کے بعد پیدا ہونیوالی نئی شناخت، نئے سوالات اور نئی ذمہ داریوں کا ریکارڈ ہے۔ قاری یہاں معلومات نہیں بلکہ تجربہ حاصل کرتا ہے اور خود سے سوال کرنے پر مجبور ہوتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، ہم نے کیا پایا اور ہم نے کیا کھو دیا۔آج کے زمانے میں جب شناخت، تہذیب اور ہم آہنگی کے سوالات پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں، ایسی کتابیں غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہیں ۔یہ مکالمے کو محفوظ کرتی ہیں، تجربات کو ضائع ہونے سے بچاتی ہیں، اور آنے والی نسلوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ مختلف تہذیبوں کے ملاپ سے کس طرح ایک متوازن معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ یہ تعصب کے مقابل سمجھ بوجھ اور بیگانگی کے مقابل قربت پیدا کرتی ہیں۔عائشہ مسعود کی یہ کاوش ایک اہم فکری اور سماجی دستاویز ہے۔ یہ کتاب پڑھی بھی جاتی ہے اور قاری کو سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔ یہی کسی بامعنی تصنیف کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے