ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کی شہادت کی خبر دنیا بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔عالم اسلام کے ہر خطے میں درد ملت رکھنے والے مسلمان بلا امتیاز مسلک و فقہ اس عظیم سانحے پر دل گرفتہ ہیں۔اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں سے ایران میں ہونے والے قیمتی جانوں کے نقصان اور املاک کی تباہی کو مسلمانوں کی اکثریت غزہ میں کی گئی غیر انسانی نسل کشی کا تسلسل سمجھ رہی ہے۔ اسرائیل کے غیر انسانی مظالم پر نام نہاد مغربی مہذب دنیا کے اصل چہرے سے بھی نقاب اتر گیا ہے۔انسانی حقوق کے علمبردار اور انصاف و مساوات کے بھاشن دینے والی اقوام اسرائیل کے بدترین جنگی جرائم پر مہربہ لب ہیں۔غزہ سمیت ایران پہ کیے گئے گزشتہ اور حالیہ حملوں کے دوران جس طرح بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیری گئیں وہ لائق مذمت ہے۔تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر انسانی حقوق کی دہائی دینے والے معاشرے اور عالمی ادارے اسرائیل اور امریکہ بہادر کے معاملے پر گونگے, اندھے اور بہرے کیوں بن جاتے ہیں؟اس کی ایک واضح وجہ اسلام اور مسلمانوں سے ان معاشروں میں پائی جانیوالی صدیوں پرانی نفرت بھی ہے۔ مغربی میڈیا نے اس حوالے سے مجرمانہ جانبداری کا رویہ اختیار کیے رکھا ہے،جس انداز میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی سمیت ایران کے حکومتی عہدے داروں کو ہدف بنایا گیا اس کی عالمی قوانین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سپریم لیڈر کے ساتھ ان کی بیٹی داماد اور نواسے کو بھی بے رحمانہ انداز سے شہید کیا گیا۔ ایک خود مختار ریاست کے سربراہ اور روحانی پیشوا کو قریبی رشتے داروں کیساتھ ہدف بنایا جانا ایک بدترین جنگی جرم ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی اس جنگی واردات کی مذمت کرنے کے بجائے مغربی میڈیا داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہا ہے۔ مغربی میڈیا میں اسرائیل کے لیے موجود نرم گوشہ اور دوستانہ جذبات کا یہ عالم ہے کہ غزہ کے مظلوم شیر خوار بچوں کے لہو لہان جسد خاکی دیکھ کر بھی کوئی رحم کا جذبہ نہیں پیدا ہو پاتا۔ امریکہ کے مشہور اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکہ اور اسرائیل کے مجرمانہ حملوں پر تنقید کرنے کے بجائے ایک انتہائی گمراہ کن رپورٹ شائع کر کے عالم اسلام میں نفرت کی دراڑ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اس غیر مصدقہ افواہ نما رپورٹ میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو تو ایران سے کوئی خطرہ نہیں تھا البتہ اسرائیل اور سعودی عرب نے لابنگ کر کے صدر ٹرمپ کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا۔یہ گمراہ کن موقف زمینی حقائق کے یکسر برعکس ہے۔امریکہ میں سعودی سفارت خانے کے ترجمان نے واشگاف الفاظ میں واشنگٹن پوسٹ کے اس جھوٹے موقف کی تردید جاری کی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سعودی عرب سمیت مذاکراتی عمل میں شریک تمام ممالک نے مشرق وسطی میں پھیلنے والے اس بحران کو پرامن انداز میں مذاکرات کے ذریعے سلجھانے کے لیے نہایت مخلصانہ کاوشیں کیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی یہ رپورٹ جھوٹی ہونے کے علاوہ مضحکہ خیز بھی ہے۔ یہ تاثر نہایت غیر منطقی اور بے بنیاد ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ جیسا اکھڑ اور بڑبولا شخص محض سعودی قیادت کے اصرار پر ایران پر چڑھ دوڑا۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اس رپورٹ کے ذریعے واشنگٹن پوسٹ نے اسرائیل کے سیاہ جنگی جرائم کا ملبہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک پر ڈال کر ایک جانب نیتن یاہو کی شر پسندی سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے تو دوسری جانب عالم اسلام کے درمیان عدم اتفاق کی دراڑ ڈال کر مشترکہ موقف اختیار کرنے کے امکانات کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔ مغربی میڈیا نے ماضی میں عراق کے خلاف بھی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا پروپگنڈا کر کے جنگ کی فضا بنائی تھی۔ حیرت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں شہید ہونے والی165 سے زائد معصوم طالبات کا ذرہ بھر احساس مغربی میڈیا کو نہیں۔ اگر کسی مغربی ملک میں ایک یا دو بچے ہدف بن جائیں تو میڈیا پر قیامت بپا ہو جاتی ہے۔ چونکہ ایران میں شہید ہونے والی طالبات مسلمان تھیں اس لیے زبانوں پر قفل اور آنکھوں پر پردے پڑ گئے ہیں۔ کیا عالمی قوانین سکولوں، ہسپتالوں مریضوں اور غیر مسلح بے ضرر شہریوں کو نشانہ بنانے کی اجازت دیتے ہیں؟ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ قوانین صرف کمزور اقوام کو دبا میں لانے کیلئے بنائے گئے ہیں۔ اگر معاملہ مغربی قوتوں اور ان کے ناجائز بچے اسرائیل کا ہو تو پھر مسلمانوں کے خلاف تمام جنگی جرائم جائز سمجھے جاتے ہیں۔ ایران سمیت غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم کے خلاف عالم اسلام میں مذمت اور مزاحمت کے معاملے پر ممکنہ یکجہتی کو ختم کرنے کیلئے واشنگٹن پوسٹ نے شرانگیزی پر مبنی جو رپورٹ شائع کی ہے اس کا واحد مقصد یہ ہے کہ مسلمان اقوام میں اتحاد کی فضا کو برباد کر کے صیہونی ریاست کو دوام بخشا جائے۔

