ایک جانب معاشی اور سفارتی ماہرین نے اس امر کو انتہائی حوصلہ افزا قرار دیا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو 1.2ارب ڈالر کی قسط جاری کر دی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہونے کے واضح امکانات ہیں دوسری طرف یہ امر قابل ذکر ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے سال 2025 کے لیے ”نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے (NCPS) جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق ملک میں کرپشن کے تاثر میں نمایاں کمی، شفافیت میں اضافہ اور حکمرانی کے مختلف شعبوں میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک معاشی اصلاحات، گورننس بہتر بنانے اور ادارہ جاتی کارکردگی کو مضبوط کرنے کی سمت پیش رفت کر رہا ہے۔ یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ NCPS بدعنوانی کی اصل شرح نہیں بتاتا بلکہ عوامی تاثر کو جانچتا ہے، جس کے ذریعے ریاستی اداروں اور حکومتی پالیسیوں کے اثرات کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔سروے کے مطابق 66 فیصد پاکستانیوں نے بتایا کہ انہیں گزشتہ 12 ماہ کے دوران کسی بھی سرکاری سروس کے لیے رشوت دینے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اسی تناظر میں ہر تین میں سے دو شہریوں نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ سال کے دوران بغیر کسی غیر قانونی ادائیگی کے سرکاری خدمات حاصل کیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ نچلی سطح پر رشوت ستانی میں کمی واقع ہوئی ہے، جو کہ ایک مثبت معاشرتی اشارہ ہے اس کے ساتھ ساتھ، 60 فیصد پاکستانیوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ آئی ایم ایف پروگرام اور FATF گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد ملکی معیشت کو جزوی طور پر استحکام ملا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 43 فیصد شہریوں نے اپنی قوتِ خرید میں بہتری محسوس کی، اگرچہ 57 فیصد نے قوتِ خرید میں کمی کا اظہار کیا۔ معاشی ماہرین کے بقول یہ تقسیم اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ معاشی بہتری کا سفر ضرور شروع ہوا ہے، مگر ابھی تک معاشرے کے تمام طبقات اس کے ثمرات سے یکساں طور پر مستفید نہیں ہو سکے۔NCPS 2025 کا ایک اہم پہلو سروے کا وسیع حجم اور عوامی شرکت ہے۔ رواں برس 2023 کے مقابلے میں کہیں زیادہ یعنی 4000 افراد نے سروے میں حصہ لیا، جن میں 55 فیصد مرد، 43 فیصد خواتین اور 2 فیصد خواجہ سرا شامل تھے۔ شرکا میں 59 فیصد شہری علاقوں جبکہ 41 فیصد دیہی علاقوں سے تھے، جس سے رپورٹ کا دائرہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ نمائندہ اور متوازن ہو جاتا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی رپورٹ کے مطابق بدعنوانی کے تاثر میں سرِفہرست ادارہ پولیس رہا،جبکہ ٹینڈر اور پروکیورمنٹ دوسرے ، عدلیہ تیسرے، بجلی و توانائی چوتھے اور صحت کا شعبہ پانچویں نمبر پر رہا۔ تاہم اس کے باوجود ادارہ جاتی سطح پر پولیس کے بارے میں عوامی تاثر میں 6 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ پولیس ریفارمز، سروس ڈلیوری، موبائل ایپس، فرنٹ ڈیسک سسٹمز اور شفافیت سے متعلق اقدامات عوامی اعتماد کی بحالی میں مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ اسی طرح تعلیم، زمین و جائیداد، لوکل گورنمنٹ اور ٹیکسیشن کے شعبوں میں بھی تاثر میں بہتری دیکھی گئی۔رپورٹ کے ایک اور اہم حصے میں بدعنوانی کی وجوہات پر عوامی رائے شامل ہے۔ 59 فیصد شرکا کے مطابق صوبائی حکومتوں میں بدعنوانی کا تاثر زیادہ ہے۔ عوام نے بدعنوانی کی بنیادی وجوہات میں شفافیت کی کمی، معلومات تک محدود رسائی اور کرپشن کیسز کے فیصلوں میں تاخیر کو نمایاں عوامل قرار دیا۔ اسی پس منظر میں 42 فیصد شرکا نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں زیادہ مؤثر وہسل بلوور قوانین نافذ کیے جائیں تاکہ شہری محفوظ ماحول میں بدعنوانی کی نشاندہی کر سکیں۔NCPS 2025 میں عوام نے فلاحی اداروں اور این جی اوز سے متعلق بھی واضح رائے پیش کی۔ 51 فیصد شہری چاہتے ہیں کہ ٹیکس چھوٹ حاصل کرنیوالے فلاحی و خدمت گار ادارے عوام سے کوئی فیس وصول نہ کریں۔ اسی طرح 53 فیصد پاکستانیوں نے تجویز دی کہ ایسے ادارے اپنے ڈونرز اور عطیات کی تفصیل عوام کے سامنے ظاہر کریں۔ اس رائے کو شفاف طرزِ حکمرانی کیلئے ایک مضبوط مطالبہ قرار دیا جا رہا ہے۔سیاست اور انتخابی نظام کے حوالے سے بھی سروے میں اہم رجحانات سامنے آئے۔ 83 فیصد شہریوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی جماعتوں کی بزنس فنڈنگ پر یا تو مکمل پابندی ہونی چاہیے یا کم از کم سخت ریگولیشن نافذ کیا جانا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام سیاست میں ”صاف پیسہ” اور ”برابر کے مواقع” کے خواہاں ہیں تاکہ انتخابی عمل پر غیر ضروری مالی اثرات کم کیے جا سکیں۔اسی طرح 78 فیصد شرکا نے اس رائے کا اظہار کیا کہ احتساب کے اداروں کو بھی اپنے احتساب کے عمل سے گزرنا چاہیے۔ یہ رائے اس اہم اصول کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ احتساب کا عمل شفاف، غیر جانب دار اور سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے، تاکہ ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد مستحکم ہو سکے۔البتہ رپورٹ کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ 70 فیصد افراد کسی بھی سرکاری کرپشن رپورٹنگ نظام سے واقف نہیں ہیں۔ یہ امر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ حکومتی ادارے عوام تک معلومات کی رسائی بہتر بنائیں، سرکاری ہیلپ لائنز، ایپس اور رپورٹنگ میکانزم کو زیادہ فعال، آسان اور مؤثر بنایا جائے۔ شفافیت کے بغیر بدعنوانی کے خلاف جنگ ادھوری رہتی ہے، اور عوامی شمولیت کے بغیر شفافیت ممکن نہیں۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی یہ رپورٹ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (برلن) کی عالمی کرپشن پرسیپشن انڈیکس (CPI) سے الگ ہے اور اس پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ اس کا مقصد صرف پاکستان میں مقامی سطح پر عوامی تاثر جانچنا ہے، جب کہ CPI عالمی سطح کے تقابل پر مبنی انڈیکس ہے۔مجموعی طور پر NCPS 2025 پاکستان میں گورننس کے بارے میں ایک بہتر ہوتے رجحان کی نشاندہی کرتی ہے، اگرچہ کئی شعبے اب بھی چیلنجز سے دوچار ہیں۔ عوامی تاثر میں بہتری اس بات کی علامت ہے کہ اصلاحات کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں، مگر بدعنوانی کا مکمل خاتمہ مسلسل پالیسی اقدامات، شفاف معلومات کی فراہمی، مضبوط ادارہ جاتی اصلاحات اور سیاسی و انتظامی عزم کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ رپورٹ یاد دہانی ہے کہ کرپشن کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، لیکن ایک مثبت سمت ضرور اختیار کر چکی ہے۔

