کالم

ٹیکنالوجی کی غلامی سے نجات

اگر ہم غور کریں تو موجودہ دور میں سوشل میڈیا ٹولز جس میں فیس بُک، یو ٹیوب، انسٹاگرام، ٹویٹرڈیجیٹل ذرائع ابلاع و سماجی روابط کے موثر اور کار آمد ذرائع ہیں۔مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ مندرجہ بالا سماجی روابط و ذرائع پر متعصب ہندو اور یہودیوں کا کنٹرول ہے جسکی وجہ سے یہی ذرائع مسلمانوں ، پاکستانیوں اورخا ص طور پر دوسرے اسلامی ممالک کے صارفین کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کرتے ہیں اور ان پر ایسی قدغنیں لگاتے ہیں جو بلا جواز ،غیر قانونی اور بین لاقوامی مسلمہ اصولوں کے خلاف ہوتی ہیں۔ یورپ اور عالمی برا دری میں اظہار آزادی کی جو باتیں کی جاتی ہیں وہ صرف کتابی ہیںاور حقیقت کے ساتھ اسکا کوئی تعلق نہیں۔ اگر ہم تجزیہ کریں تو گوگل سرچ انجن کا سربراہ سندر بچائی اور ٹویٹر کا سربراہ پراگ اگر وال دونوں متعصب ہندو ہیں ۔ فیس بک اور سماجی روابط کے دوسرے ذرائعوںکے اعلیٰ بین الاقوامی عہدوں پر متعصب ہندو اور یا یہودی براجمان ہیں جسکی وجہ سے وہ مسلمانوں اور خاص کر پاکستانیوں کے خلاف منفی اور زہریلے پوسٹس بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ بزنس لالچ کی وجہ سے انہی ایپس کے اعلیٰ عہدیداران بھارت سے رکھے جاتے ہیں جو بد قسمتی سے اظہار آزادی و آزادی صحافت کے بجائے بھارتی مفادات کو مقدم رکھتے ہیں ۔ نتیجتاًچھوٹے چھوٹے معاملات پر مسلمانوں اور خا ص طور پر پاکستانیوں کے فیس بک ٹویٹر، اور یوٹیوب اکاﺅنٹ یا تو بند کئے جاتے ہیں اور یا مختلف طریقوں سے انکی حو صلہ شکنی کی جاتی ہے ۔ اسرائیل اور فلسطین جنگ میں نہ صرف مخالفین کے الیکٹرانک چینلز بند کرائے بلکہ ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے اکاﺅنٹس سے فلسطین پر اسرائیلی کے ہاتھوں مظالم کی ویڈیو اور انکے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ بند کئے گئے ۔ بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر چین، روس اور ترکی فیس بک اور سوشل میڈیا کے دوسرے ذرائع کی طرح اپنے ایپس کھولیں تاکہ فیس بک ، تویٹر ، انسٹاگرام اور یو ٹیوب پر ان متعصب یہودیوں اور ہندوں کی منفی صحافتی جا رحیت سے بچا سکے۔علاوہ ازیں میں روس چین اور اظہار آزادی کے قائل دوسرے ممالک سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ ان ایپس پر براجمان لٹیروں پر دباﺅ ڈالیں اور انکو قابو کرنے کےلئے بین الاقوامی قانون سازی کریں تاکہ سوشل میڈیا کا منصفانہ اور غیر جانب دارانہ استعمال ہو۔اس سلسلے میں اگر بین الاقوامی برادری کسی قسم کے قانون سازی میں ناکام ہو تو پھر روس چین اور اظہار آزادی کے قائل ممالک اور طاقتوں کو چاہئے کہ وہ مندرجہ بالا ایپس کے مقابلے میں اپنے ایپس متعارف کروالیں تاکہ ان کے منفی ہتھکنڈوں آزادی صحافت اور اظہار آزادی والوں کو چھٹکارہ ملے۔اب امریکہ، بھارت اور اسرائیل، ٹیکنالوجی اور سماجی روابط کے ایپس اور دوسرے ذریعوں سے اگر ملکوں کو غلام رکھنا چاہتے ہیں تو وہ دن گئے کیونکہ دنیا کے بہت سارے ممالک اسرائیل ، بھارت اور امریکہ سے ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہیں ۔ دنیا کو دھوکے دھونس کے بجائے حقائق اور سچ بتا نا چاہئے کیونکہ اکیسویں صدی میں غلامی کی زنجیروں کے بجائے علم، سائنس وٹیکنالوجی اور فہم سے ملکوں کو قابو کرنا ہوگا۔ میں اس کالم کے توسط سے ایک دفعہ پھر چین، روس، ترکی اور اظہار آزادی پر یقین رکھنے والے دوسرے ممالک سے استد عاکرتا ہوں کہ وہ اس کے حل کےلئے مثبت اقدمات کریں اور دنیا کے عوام کو ٹیکنالوجی کی غلامی سے نجات دلائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے