کالم

پاکستان اور افغان میڈیا کا تقابلی بیانیہ!

بلوچستان میں درجن بھر مقامات پر حملے کرنیوالے فتنہ الہندوستان کا زخم ابھی تازہ تھا کہ اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی کلاں میں امام بارگاہ خدیجتہ الکبری میں قیامت صغریٰ برپا ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز مسلمانوں پر خودکش حملے نے ہماری دھرتی کو بیگناہ مسلمانوں کے لہو سے رنگین کردیا۔یکے بعد دیگرے اِن سانحات پر جہاں پوری پاکستانی قوم سوگوار اور غمزدہ ہے، وہاں کئی سوالات بھی ہمارے ذہنوں پر دستک دے رہے ہیں۔ مسلمانوں کو مسلمان نہ سمجھنے والے، انسانیت کی بنیادی صفت سے محروم اور صرف خود کو درست اور باقی سب کو غلط سمجھنے والوں سے بات ہوسکتی ہے؟ گزرے برس 2025 کی سردی بے حد سخت رہی ، لیکن سچ تو یہ ہے کہ سرحد پر لوگوں کیلئے سردی سب سے کم فکر کی بات بن چکی ہے۔ اَب یہ کوئی راز نہیں رہا کہ جنگ ‘ڈیورنڈ لائن’ کے اُس پار سے ہمارے اندر سرایت کر چکی ہے، اور حالات دِن بدن بگڑتے جا رہے ہیں ۔ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان ،جسے ریاست اب فتنة الخوارج کہہ رہی ہے، کی واپسی اب کوئی دور کا خطرہ نہیں رہی بلکہ اُن کے حملے ایک منظم جنگ مسلط کرنے کا ثبوت ہے۔ اس پورے سال کے دوران یہ بات انتہائی واضح ہو چکی ہے کہ یہ گروہ مشرقی افغانستان میں، خاص طور پر خوست اور پکتیکا جیسے علاقوں میں محفوظ پناہ گاہوں میں منظم ہو رہے ہیں اور تربیت حاصل کر کے سرحد پار آ کر تباہی پھیلا رہے ہیں۔ہم نے اِس کا خمیازہ نومبر میں بھی اسلام آباد میں بھگتا، جہاں خودکش دھماکوں میں بارہ بے گناہ جانیں ضائع ہوئیں، اور پھر چند دن بعد خیبر پختونخوا میں کیڈٹ کالج پر دل دہلا دینے والا حملہ ہوا۔ یہ سب محض اتفاق نہیں لگتا بلکہ ایک منظم اور مربوط کارروائی محسوس ہوتی ہے۔ اسے مزید خوفناک بنانیوالی بات شدت پسندوں کے زیر استعمال جدید اسلحہ ہے ۔ ہم ایسے دہشت گردوں کا سامنا کر رہے ہیں جو تھرمل اسکوپس اور اسنائپر رائفلز سے لیس ہیں۔ یہ وہ ہتھیار ہیں جو نیٹو افواج، افغانستان میں چھوڑ گئی تھیں۔ یہ سوچ ہی لرزا دینے والی ہے کہ جدید افواج کیلئے بنایا گیا سازوسامان اب پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال ہو رہا ہے، اور اس کے باوجود کہ اسلام آباد نے کوآرڈینیٹس اور انٹیلی جنس شیئر کی ، زمینی حقائق میں تبدیلی نظر نہیں آتی۔پاکستان کے اندر اگر آپ خبروں پر نظر ڈالیں تو مجموعی فضا صبر سے نکل کر شدید غصے میں بدل چکی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پورا ملک تنگ آ چکا ہے۔ انگریزی کے بڑے قومی اخبارات سخت اور مبنی برحقیقت اداریے لکھ رہے ہیں جن میں اُن وعدوں پر ناراضی کا اظہار کیا جا رہا ہے جو پورے نہیں کیے گئے۔ ملکی میڈیا کا بیانیہ اب واضح طور پر دفاعی ہو چکا ہے۔ چینلزبھی شہروں میں ہونے والے دھماکوں کو براہِ راست سرحد پار موجود ٹھکانوں سے جوڑتے ہیں۔ اب “فتنة الخوارج” کی اصطلاح مسلسل استعمال ہو رہی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ عوام اسے مذہبی جدوجہد نہیں بلکہ خالص مجرمانہ انتشار سمجھتے ہیں ۔جب پاکستان نے گزشتہ سال کے آخر اور 2025 کے دوران فضائی حملے کیے تو مقامی میڈیا نے اسے جارحیت کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ اسے اپنے دفاع کے ایک حق کی ایک مجبوری کے طورپر تسلیم کیا۔ یہ کہاگیا کہ ”ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا” کیونکہ پڑوسی ملک افغانستان میں موجودہ عبوری انتظامیہ کی جانب سے اِن دہشتگردوں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی تھی۔گو کہ پاکستان نے عبوری افغان انتظامیہ کو بارہا سمجھانے کی کوشش کی، تعاون کی بھی ہر ممکن حد تک کوشش کی، معاملات کو مشترکہ بنیادوں پر حل کرنے کیلئے کئی وفود بھی کابل گئے لیکن زمینی صورتحال جوں کی توں رہی اور پاکستان کی سرزمین پر حملے جاری رہے۔ لہٰذا اب یہ پاکستان کی بقا کا تقاضا ہے کہ وہ دہشتگردی کے مرکز اور محور بنے ٹھکانوں کو نشانہ کو نشانہ بنائے کیو نکہ لاشیں گنتے گنتے پاکستانی تھک چکے ہیں جبکہ دوسری طرف مسلسل مجرمانہ خاموشی اور بے حسی کا احساس طاری ہے۔اگر آپ افغان میڈیا کی رپورٹنگ دیکھیں تو یوں لگتا ہے جیسے وہ کسی بالکل متوازی دنیا میں رہ رہے ہوں اور یہ دیکھ کر شدید مایوسی ہوتی ہے۔ افغانستان کے سرکاری سرپرستی میں چلنے والے میڈیا کے ادارے صاف انکار کرتے ہیں کہ ایسی کوئی پناہ گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔ یہ نہ صرف حقیقت سے انکار ہے بلکہ سرکاری سطح پر اُس احساس کے نہ ہونے کا بھی ثبوت ہے کہ انہیں پاکستان میں بہتے لہو کو روکنے اور اس میں ملوث گناہ گاروں کی سرکوبی میں کوئی دلچسپی ہے۔وہ مسلسل یہ مؤقف اپناتے ہیں کہ پاکستان اپنے معاشی مسائل یا سیکیورٹی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے افغانستان پر الزام لگا رہا ہے۔ اسے مکمل طور پر ذمہ داری سے فرار ہی قرار دیاجاسکتا ہے۔ پاکستان شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر کارروائی کرتا ہے،تو افغان میڈیا فوراً بیانیہ بدل لیتا ہے۔وہ دہشتگردوں کو نہیں دکھاتے بلکہ صرف خواتین اور بچوں کی تصاویر دکھا کر غصہ بھڑکاتے ہیں اور پاکستان کو ظالم کے طور پر پیش کرتے ہیںجس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ افغانستان کی حکومت اس دہشت گردی کی براہ راست سرپرستی کر رہی ہے۔ اُن کے تجزیہ کار ٹی وی پر آ کر کہتے ہیں کہ ”ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے” ، گویا وہ پوری صورتحال سے ہاتھ جھاڑ کر دامن بچا رہے ہوں۔ یہ ایک نہایت خطرناک بیانیہ ہے کیونکہ مسئلے کے وجود سے انکار کر کے وہ اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ یہ مسئلہ کبھی حل نہ ہو اور بے گناہوں کا خون بہتا رہے ۔ پاکستانی لیڈرز کو اپنے سیاسی مفادات اور ذاتی مسائل کو ایک طرف رکھ کر دہشتگردی کیخلاف ایک بیانیہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ افغان عبوری انتظامیہ کے سربراہ کی طرف سے نیا کریمنل کوڈ کا قانون اور دہشت گردوں کی ”تحوش” کی پالیسی کو دیکھتے ہوئے کون یہ مان سکتا ہے کہ یہ اسلام کے نمائندے ہیں ؟ ایسا سوچنا اور سمجھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے