نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے صوبے میں پلاسٹک روڈ متعارف کرانے اور اس کی تعمیر کیلئے منصوبہ بنانے کی ہدایت کی ہے۔ پلاسٹک روڈ تارکول روڈ کے مقابلے میں زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔ تارکول میں پلاسٹک مکس کر کے بنائی جانے والی سڑک جلد ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوتی۔ دنیا کے مختلف ممالک میں کلین اور گرین منصوبے کے تحت استعمال شدہ پلاسٹک سے پائیدار سڑکوں کی تعمیر کے کامیاب تجربے کے بعد اب اسلام آباد میں بھی یہ تجربہ کیا گیا ہے۔ مشروبات کی استعمال شدہ پلاسٹک کی بوتلوں سے اتا ترک ایونیو پر ایک کلومیٹر پلاسٹک کی سڑک بنانے کام شروع ہو گیا ہے۔ اس ایک کلو میٹر سڑک کی تعمیر کے لیے دس ٹن پلاسٹک استعمال ہوگا۔ اس منصوبے کا مقصد کلین اور گرین پاکستان کو فروغ دینا ہے۔ پلاسٹک روڈ ایک کم لاگت منصوبہ ثابت ہو گا۔ اس کے علاوہ کسی وجہ سے نقصان پہنچنے پر اس کی مرمت پر بھی عام سڑکوں کے مقابلے میں اخراجات کم ہوں گے۔ پلاسٹک روڈ کی ایک اور خاصیت یہ ہے کہ شدید درجہ حرارت میں بھی اس کی شکل و صورت کا برقرار رہتا ہے جب درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیئس سے بڑھ جاتا ہے تو تارکول سے بنی سڑکیں اپنی شکل و صورت برقرار نہیں رکھ پاتیں۔ یہ پگھلنے لگتی ہیں اور انھیں اصل حالت میں واپس لانے پر بھی کثیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ اس کے برعکس پلاسٹک روڈ کےلئے تیار کی گئی ٹائلیں منفی 40 ڈگری سے لے کر 80 ڈگری سیلسیئس تک درجہ حرارت برداشت کرسکیں گی۔وزیر اعلیٰ نے روڈز پراجیکٹس کے تعمیراتی کاموں میں شفافیت اوراعلیٰ معیار یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ پنجاب بھر میں 2600 کلو میٹر طویل سڑکوں کے بحالی کے 137منصوبے زیر تکمیل ہیں اور سڑکوں کی تعمیر کے تمام پراجیکٹ کے کنٹریکٹ ای۔ٹینڈرنگ کے ذریعے دیئے جارہے ہیں۔بین الاضلاعی سڑکوں کی تعمیر کے 107منصوبے تین ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔حکومت پنجاب اور وزیر اعلیٰ کی جانب سے عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کا کوئی بھی منصوبہ ہو یا صوبے کی ترقی اور فلاح و بہبودکے لیے اقدامات ، یہ سب کچھ اپوزیشن کو ایک آنکھ نہیں بھاتا کیونکہ اپوزیشن جب تنقید برائے تنقید کی عینک سے ان عوامی پراجیکٹس اور اقدامات کا جائزہ لیتی ہے تو اسے سوائے برائی کے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔پنجاب کی ترقی کی مثال ایسی ہی ہے کہ جیسے کوئی روز روشن میں سورج سے انکاری ہو۔وزیر اعلیٰ کے سیاسی مخالفین کے نزدیک ان کی کوئی کاوش اور کوشش ایسی نہیں جس پر اپوزیشن نے کھلے دل سے اس بات کو تسلیم کیا ہو کہ حکومت پنجاب نے عوام کی بہتری کے لیے جو فلاں منصوبہ مکمل کیا ہے یااقدامات اٹھائے ہیں وہ قابل ستائش ہیں۔لیکن نہیں کیونکہ اس کے لیے افراد اور سیاسی جماعتوں کو وسیع القلبی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ لانا پڑتا ہے تنگ نظری ،تعصب ،ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر اچھا کام کرنے والے کی حوصلہ افزائی بھی کرنا پڑتی ہے۔بہر حال پنجاب حکومت عوامی فلاح و بہبود کے اپنے مشن پر پوری تندہی سے گامزن ہے ۔ محسن نقوی نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کی ایمرجنسی کو ری ڈیزائن کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ مریض کو مختصر وقت میں کم سے کم نقل و حرکت کرنا پڑے۔ دل کے مریض کے فوری علاج کے لئے پائیدار اور قابل عمل سسٹم وضع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی کے نئے ڈیزائن میں مریض کے علاج میں سہولت اور آسانی کو مد نظر رکھا جائے اور علاج کے دوران ٹیسٹ کے لئے مریضوں کو وہیل چیئر کی بجائے سمارٹ بیڈ مہیا کئے جائیں۔ عوامی فلاح و بہبود کے حکومتی اقدامات قابل ستائش ہیں۔ آٹے اور چینی کی مہنگائی کے اس دور میں کچھ ذخیرہ اندوزوں نے اشیائے صرف ذخیرہ کر لی ہیں۔ دکانوں پر آٹا، گھی اور چینی کی قلت نظر آرہی ہے۔ اس کے تدارک کےلئے پنجاب حکومت کو چاہیے کہ ذخیرہ اندوزوں پر کڑی نظر رکھے۔بہر حال مہنگائی کی جو بھی وجہ ہو، حکومت کو پریشان عوام کو ریلیف دینا ہے۔ غیر معمولی حالات میں فوری اقدامات کے متقاضی ہیں۔ عام آدمی کےلئے آسانیاں پیدا کرنے کےلئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔بجٹ میں بھی محروم معیشت طبقے کی فلاح پر فوکس اور پنجاب کے 12 کروڑ عوام کیلئے مشکل حالات میں بہترین بجٹ پیش کیا ہے۔ پنجاب حکومت نے صوبے کے عوام کیلئے آسانیاں پیدا کی ہیں، متوازن، ٹیکس فری اورترقیاتی بجٹ سے صوبے میں ترقی اورخوشحالی کے نئے دور کا آغا ز ہوگا۔امید ہے کہ عام آدمی کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔

