کالم

چیخیں ۔ لیکن سنتا کوئی نہیں!

latif khokhar

جون جولائی سے پورے ملک میں کہرام بپا ہے، ایسے لگتا ہے ہمارے اوپر اپنے نہیں کوئی دشمن حکومت کر رہا ہے۔ بجلی کے بلوں سے تو لوگ بلبلا اٹھے ہیں، سچ پوچھیں تو ایک بڑے طبقے کے منہ سے روٹی کا آخری نوالہ بھی چھین لیا ہے، لوگ پاگلوں کی طرح بل اٹھائے کبھی واپڈا کے دفتروں کے چکر کاٹ رہے ہیں اور کبھی اپنے نام نہاد لیڈروں جن کا اصل نام گیدڑوں ہونا چاہیے کو ڈھونڈتے پھر رہے ہیں جنہوں نے ووٹ لیتے وقت انہیں رنگ برنگے سہانے خواب دیکھائے تھے، جو کہتے تھے اگر ہمیں ” چھ ماہ آپ خدمت کا موقع دیں گے تو اس ملک کو وہ گل و گلزار بنا دیں گے اور پتہ نہیں کتنے اور اول فول وہ بکتے رہے۔ فریبی اتنے پرجوش ہوتے تھے کہ سامنے پڑے سپیکروں کو مکے گھونسے تک جڑ دیتے۔ جتنی دفعہ انہوں نے عوام کو بے وقوف بنایا، ہر دفعہ عوام انکے جھانسے میں آتے رہے، ستم یہ کہ اب عوام کا مکمل بھرکس نکال کر وہ پھر سے تروتازہ ہو کر اپنی اپنی خدمات پیش کرنے کو تیار بیٹھے ہیں اور اس دفعہ سٹیج کچھ اس طرح سجایا گیا ہے کہ مہنگائی اور بجلی کے بلوں کے ستائے عوام انکی نفرت میں کسی کھمبے کو بھی ووٹ ڈالیں گے توبچہ گھوم جا کے منتر سے وہ سارے کے سارے پھر انہی کے ڈبوں ہی سے نکلیں گا۔ اب کی بار کا ”وہ“ نہایت شاطر، ہوشیار چالاک بھی ہے اور مہا درجے کا ” وہ“ بھی ۔نہ اسے اپنی عزت کی پرواہ ہے نہ کسی اور کی بس اپنی ضد اور انا کا پرستار۔ اسے اپنے ملک کے بچوں جو بھوک سے مر رہے ہیں کی پرواہ نہیں یہ تو پہلے دشمن کے بچوں کو اخلاقی مار کا سبق پڑھانا جانتا ہے، یہ اقبال کے شاہینوں کی طرح ہر وقت آسمانوں میں ہی محو پرواز رہتا ہے، اسکا مشن تو آفاقی ہے، اسے نیچے اپنی دھرتی کے کیڑے مکوڑوں کی کیا پرواہ۔ گزشتہ تین ماہ سے عوام بجلی کے بلوں کی وجہ سے رل گئے ہیں، کچھ لوگوں نے بل جلا ڈالے، کھمبے پٹ لو، ”پٹ لو کھمبے پٹ لو “سے بھی کچھ نہ نکلا، اگلے ماہ اس سے زیادہ بل اور جب لوگوں نے ڈر کے مارے اپنی ساری ہی بتیاں گل کر دیں تو اس سے اگلا بل پھر ڈبل۔ سمجھ نہیں آتی یہ لوگ اس عوام سے کس جرم کا بدلہ لے رہے ہیں، جب سوال کیا جائے تو جواب الٹا، ہم کیا کریں یہ سارا تو”قاسم کے ابا“کا کیا دھرا ہے، کوئی ان بے شرموں سے پوچھے تمہیں ڈیڑھ سال ہو گیا ہے حکومت کرتے لیکن تمہیں جرات نہیں ہو رہی آئی ایم ایف سے بات کرنے کی عوام کی خاطر جبکہ خان تو سر عام ٹی وی پر آ کر اپنی عوام کے دکھوں پر مرہم رکھتا نظر آتا تھا، اس نے نہایت دلیری سے نہ صرف پیٹرولیم مصنوعات کے ریٹ کم کئے بلکہ بجلی بھی کافی حد تک کم کر دی تھی، اگر وہ غلط تھا تو اسے بھگتنے دیتے، کیا جلدی تھی، سال بعد کے الیکشنوں میں یہی صورتحال رہتی تو ہو سکتا ہے عوام اس سے اتنے متنفر ہو جاتے کہ وہ آپ کو ہی گلے لگا لیتے، لیکن ہمارا سوال تو یہ ہے کہ ایک ہنستے، بستے، آگے بڑھتے پاکستان کو کیا ضرورت تھی ڈی ریل کرنیکی؟ کسی کے کندھوں پر چڑھ کر امریکہ کی ہلہ شیری پر خان کا تختہ الٹا نے کی کیا ضرورت تھی اور اب سولہ ماہ کے بعد ایک ایک کر کے لندن فرار ہونے کے پتہ ہے جو نقشہ ملک کا اسوقت تم لوگ بگاڑ کر گئے ہو اسمیں اگر تم سارے مکس اچار پارٹیاں اپنی اپنی شکلیں دیکھو تو خوف سے تم سے چڑیلیں بھی بھاگ جائیں لیکن پھر بھی کس ڈھٹائی سے سینہ چوڑا کر کے کہتے ہیں کہ ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچا لیا،بھائی صاحب ہمیں ملک کے ڈیفالٹ شفالٹ سے کوئی لینا دینا نہیں، مجھے یہ بتائیں میں گاڑی سے بائیک اور سائیکل پر کیوں آ گیا، جبکہ میں ٹیکس بھی دیتا ہوں اور آئین اور قانون کا بھی دل سے احترام کرتا ہوں؟ کیوں ہم نے گھروں میں بجلی کے بلوں کے خوف سے اندھیرے مچا رکھے ہیں، گھروں میں روزانہ لڑائی جھگڑے کیوں بڑھتے جا رہے ہیں، لوگ مہنگائی اور بجلی کے بلوں سے کیوں اپنے بل،دل سب کچھ جلا کر اب خودکشیوں پر مجبور ہو چکے ہیں۔کیوں مفت خوروں کے عیش و عشرت ختم نہیں کئے جا رہے، کیوں ہمیں اب اپنے ہی ملک میں عجیب سی گھٹن اور بے قراری محسوس ہوتی ہے، کیوں ان نگرانوں کی بے حسیوں پر دل خون کے آنسو روتا ہے، کیوں حسن نثار جیسا محب وطن دانشور یہ کہنے پر مجبور ہو چکا ہے کہ ستر سال کی عمر کے بعد اسے حالات کچھ ایسے لگتے ہیں کہ دل چاہتا ہے کہ ملک ہی چھوڑ کر باہر چلا جاو¿ں۔ اگر کوئی صاحب اقتدار میرے بھی یہ الفاظ پڑھ رہا ہے اور اگر اسے میری یہ تحریر ، یہ باتیں اچھی نہیں لگتیں تو برائے مہربانی !بھائی صاحب مجھے بھی سزا کے طور پر آپ چند سالوں کیلئے جلا وطن کر دو، میں خود تو اتنا افورڈ نہیں کر سکتا کہ اپنے خرچے پر دیگر پاکستانیوں کی طرح اٹلی، لندن اور بیلجئم کی فضاو¿ں میں عیاشیاں مار سکوں، مجھے براہ کرم کسی عام سے ملک میں جہاں انسان کی عزت ہو، جدھر قانون کا احترام ہو، پولیس والا کسی کو گریبان سے نہ پکڑے، کسی کو گالی نہ دے، جہاں کوئی کسی شریف آدمی کی عزت نفس مجروح نہ کر سکے، جہاں مجھے ظالمانہ ٹیکسوں اور بے رحمانہ بجلی گیس کے بلوں کا خوف نہ ہو کیونکہ میرے ملک کے حالات اب ان شازشیوں نے اس حد تک بگاڑ دیئے ہیں کہ میرا بھی دل اب یہاں نہیں لگتا ،،ظلم کچھ اتنا بڑھ گیا ہے کہ اپنا گھر بھی اب زندان جیسا لگتا ہے، اپنے بے گانے اور اپنے سائے سے بھی اب خوف سا محسوس ہوتا ہے اور اب تو دل سے یہ دعا نکلتی ہے:چل اڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بے گانہ۔ اوپر سے جاتے جاتے ہم پر ایک عجیب سی دشمن نما مخلوق نگرانوں کی صورت میں یہ چھوڑ گئے ہیں جن کی ہر بات سے انتقام بدلے اور رنجش کی بو آتی ہے۔ چند روز قبل میں نے موجودہ ضرورت سے زیادہ ہوشیار، شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادارنگرانوں کی تعریف میں ایک کالم لکھا تھا جسکا عنوان تھا ”تو پھر کیا ہوا“شاید میرا یہ کالم میرے ایک دوست پروفیسر اشتیاق حسین صاحب نے بھی پڑھا ہو گا جبھی آج انہوں نے ٹی سکرین کے کچھ شارٹ مجھے واٹس ایپ کیے جسمیں پیٹرول کی قیمت میں پورے چھبیس روپے اضافے کی خبر چلائی جا رہی تھی اور نیچے نہایت ہی نفاست سے انہوں نے لکھا:-تو پھر کیا ہوا”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے