کالم

کشمیری امید کے سہارے زندہ

بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ سابق سربراہ اے ایس دْلت کا کہنا ہے کہ کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال میں وہاں بے بسی کا احساس غالب ہے اور مرکزی حکومت (دہلی) کو وہاں ہونے والے واقعات کی کوئی پروا نہیں ہے۔بھارت کے شہر چنئی میں منعقدہ ‘دی ہندو لٹ فار لائف’ فیسٹیول کے دوران ‘دی کشمیر کنیکشن’ کے عنوان سے منعقدہ ایک نشست میں سینیئر صحافی شوبھنا کے نائر کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘کشمیر اس وقت جمود کا شکار ہے، وہاں کے لوگ صرف امید پر زندہ ہیں اور وہاں بے بسی کی فضاء ہے۔’انہوں نے کشمیری رہنما میرواعظ عمر فاروق کے ایک حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘کشمیری عوام امید کے سہارے جی رہے ہیں لیکن مایوسی کا عنصر نمایاں ہے۔’کشمیر کے اہم ترین سیاسی خاندان ‘عبداللہ فیملی’ اور مرکز میں بی جے پی کی مختلف حکومتوں کے درمیان تعلقات کے ارتقاء پر بات کرتے ہوئے سابق سپائی چیف نے کہا کہ ‘اٹل بہاری واجپائی کی بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی کی بی جے پی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔’ ‘سابق وزیراعظم واجپائی کشمیر کے معاملے میں زیادہ متحرک تھے اور کسی نہ کسی شکل میں مسئلے کا حل چاہتے تھے جبکہ موجودہ حکومت کو اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔ ‘یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے اور ہمیں انتظار کرنا ہو گا کہ آگے کیا ہوتا ہے۔’آرٹیکل 370 کی منسوخی پر بات کرتے ہوئے اے ایس دْلت نے کہا کہ ‘یہ شق پہلے ہی کھوکھلی ہو چکی تھی’ تاہم انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ ‘کشمیریوں سے ان کا یہ آخری ‘پردہ’ یا سہارا چھیننے کی کیا ضرورت تھی؟’ ‘آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جس بڑے عوامی ردعمل یا احتجاج کی توقع کی جا رہی تھی وہ نہیں ہوا کیونکہ کشمیری خاموش ہو گئے تھے۔’ ‘یہ خاموشی خوفناک ہے کیونکہ جب لوگ خاموش ہو جائیں تو آپ کو اندازہ نہیں ہوتا کہ آنے والے وقت میں کیا ہونے والا ہے۔’ بھارت نے طاقت کے زور پر کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کی، کشمیری جھکنے والی قوم نہیں، کشمیریوں کو تسلط اور طاقت کے زور پر دبایا نہیں جا سکتا۔ ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب پاکستان یومِ یکجہتی کشمیر نہ مناتا ہو، جب بھی کشمیریوں پر ظلم کیا جاتا ہے، پاکستان پوری قوت کے ساتھ کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتا ہے۔کشمیری دنیا کی ایک باہمت اور مضبوط قوم ہیں جو اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں۔ بھارتی فوج نہتے کشمیریوں پر ظلم کر رہی ہے اور خواتین بھی بھارتی جارحیت سے محفوظ نہیں، سات دہائیوں سے جاری مظالم کے باوجود آٹھ لاکھ بھارتی فوج بھی کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکی، آج مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے۔ بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر قابض ہوئے 2 ہزار 375 دن مکمل ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود کشمیری عوام آج بھی ڈٹے ہوئے ہیں، پاکستان ہر فورم پر کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ کشمیری قوم جھکنے والی نہیں ہے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کشمیریوں کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ بھارتی فوج غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں اپنی جارحانہ عسکری پالیسی جاری رکھتے ہوئے ضلع جموں میں ویلج ڈیفنس گارڈز کو بھارت مخالف اور آزادی پسند سرگرمیوں کو روکنے کے نا م پر عسکری تربیت دے رہی ہے۔ بھارتی قابض حکام کی طرف سے جموں کے دور دراز علاقوں میں بھرتی کئے گئے ہندو جنونیوں پر مشتمل ولیج ڈیفنس گارڈ کو بھارتی فوج کی چناب بریگیڈ سات روزہ کی تربیت دے رہی ہے۔ متعدد سرحدی دیہات میں منعقد کیے جانیوالے ان کورسوں میں فوجی حکمت عملی، چھاپوں، حملوں اور فائرنگ کی تربیت دی جارہی ہے۔عام شہریوں کے قتل عام میں ملوث بھارتی فوج کے حمایت یافتہ ولیج ڈیفنس گارڈ کی فوجی تربیت کے پیش نظر انسانی حقوق کے گروپوں اور مقامی لوگوں میں عام کشمیریوں کے تحفظ بارے خدشات جنم لے رہے ہیں۔ ویلج ڈیفنس کمیٹیوں کے نا م سے پہلے کام کرنے والا یہ مسلح گروپ مسلمان شہریوں کے خلاف تشدداوران کے قتل عام کیلئے بدنام تھا۔اقوام متحدہ اپنی قرارداوں کے مطابق کشمیر یوں کوحق خودارادیت دلائے۔ ہرغیرت مند کشمیری ہندوستان کے غاصبانہ قبضے کیخلاف سراپا احتجاج ہے۔ نریندرا مودی مقبوضہ جموں کشمیر کو فوجی اڈہ بنانے کی کوشش کررہا ہے کشمیری عوام دورہ مسترد کرتے ہیں۔ آزادی، حقوق اور انصاف مانگنے والے کشمیری شہریوں کو کشمیریوں کو مودی حکومت جیلوں میں قید کر رہی ہے۔ مودی حکومت کشمیر میں اسلامی شناخت پر حملہ آور ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے لوگ مقبوضہ کشمیر کے اپنے بھائیوں کی تحریک آزادی میں برابر کے شریک ہیں مودی سرکار درندہ صفت بھارتی افواج کے ذریعے مظلوم کشمیریوں کو دبانے کی کوشش ناکام کر رہا ہے مودی کا مقبوضہ کشمیر جانا کشمیریوں کے حقوق پر شب خون مارے کے مترادف ہے۔ آزادی کی منزل حاصل کرنے کیلئے کشمیری قوم نے خون کی قربانی دی ہے اور اپنی نسلیں قربان کی ہیں۔ بھارتی وزیراعظم ایسے دوروں سے عالمی برادری کو علاقے کی صورت حال کے بارے میں گمراہ کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ عالمی برادری امن و استحکام کو یقینی بنانے کیلئے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کردار ادا کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے