کالم

ہماری اجتماعی ذمہ داری

موسم نے ایک بار پھر انگڑائی لی ہے۔ فضا پر دھند کی دبیز چادر تن چکی ہے۔حدِ نگاہ سکڑ کر چند قدموں تک محدود ہو گئی ہے۔ سڑکیں خاموش مگر ہمہ وقت متحرک خطرات کی علامت بن چکی ہیں۔ ایسے موسم میں اگرچہ روزمرہ زندگی کی ضروریات ہمیں سفر پر مجبور کرتی ہیںمگر خدائے بزرگ و برتر کی عطا کردہ نعمت زندگی کی حفاظت بھی ایک دینی و اخلاقی اور شہری فریضہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سہولت اور سلامتی میں سے انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ دانش مندی ہمیشہ سلامتی کا ساتھ دیتی ہے۔دھند محض ایک موسمی کیفیت نہیںہے۔ یہ ایک آزمائش ہے۔ یہ صرف آنکھوں کی بینائی کو متاثر نہیں کرتی بلکہ سوچ و فیصلہ اور ردِعمل کو بھی دھندلا دیتی ہے۔ ایسے میں غیر ضروری سفر، ناتجربہ کار ڈرائیونگ، خطرناک راستوں کا انتخاب اور رات کے اوقات میں طویل مسافت طے کرنا خود کو اور دوسروں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ ذہنی دباؤ، شدید صدمہ یا غیر معمولی خوشی یہ سب کیفیات یکسوئی چھین لیتی ہیں اور جب توجہ بٹ جائے تو ایک لمحے کی لغزش پوری زندگی کا رخ بدل سکتی ہے۔دھند میں ڈرائیونگ کا پہلا اور بنیادی اصول رفتار کا درست توازن ہے۔ نہ اتنی تیز کہ گاڑی قابو سے باہر ہو جائے اور نہ اتنی سست کہ پیچھے آنے والی ٹریفک کے لیے خطرہ بنے۔ ہیڈ لائٹس، بیک لائٹس، فوگ لائٹس اور ڈبل انڈیکیٹر محض سہولت نہیں بلکہ زندگی کے خاموش محافظ ہیں۔ اگر دھند اس حد تک بڑھ جائے کہ سڑک دکھائی دینا مشکل ہو جائے تو کسی محفوظ مقام، ہوٹل یا پٹرول پمپ پر رک جانا عجلت اور ضد سے کہیں بہتر فیصلہ ہے۔ اگر سفر ناگزیر ہو تو اگلی اور پچھلی گاڑی سے معمول سے کہیں زیادہ فاصلہ رکھنا ہی عقل مندی ہے۔شدید دھند میں سڑک کنارے گاڑی کھڑی کرنا اکثر حادثات کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے اگر خدانخواستہ گاڑی خراب ہو جائے تو حتی الامکان اسے سڑک سے ہٹا کر مکمل کنارے پر لے جانا چاہیے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو تمام مسافروں کا فوراً گاڑی سے باہر نکل کر سڑک سے نیچے کسی محفوظ جگہ پر جانا ضروری ہے کیونکہ دھند میں گاڑی کے اندر بیٹھے رہنا بسا اوقات موت کو قریب بلا لینے کے مترادف ثابت ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں موٹر وے پولیس، مقامی پولیس یا ریسکیو 1122 کو بلا تاخیر اطلاع دینا کمزوری نہیں بلکہ ایک ذمہ دار شہری کا رویہ ہے۔رات کے وقت سنسان علاقوں میں غیر ضروری رکنا، معمولی حاجات کے لیے سڑک کنارے اترنا یا اجنبی افراد کو لفٹ دینا نہ صرف غیر محتاط بلکہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح سفر سے قبل گاڑی کی مکمل فٹنس بریک، وائپر، شیشوں کی صفائی، ٹائروں کی حالت، تیل اور پانی کی جانچ پڑتال کو یقینی بنانا کسی اضافی احتیاط کا نام نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت ہے۔ سپیئر ٹائر، ٹول کٹ، ٹارچ، رسی اور اضافی پانی جیسی چیزیں بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہیں مگر ہنگامی حالات میں یہی معمولی چیزیں زندگی اور موت کے درمیان فرق بن جاتی ہیں۔دھند، بارش اور برف باری میں سڑک پر پھسلن ایک مستقل خطرہ بن جاتی ہے۔ اچانک بریک لگانا، تیز موڑ کاٹنا یا کٹ مارنا گاڑی کو بے قابو کر سکتا ہے۔ اسی لیے حدِ رفتار کو منزل نہ سمجھا جائے بلکہ موسم، سڑک، ٹریفک اور گاڑی کی حالت کو مدنظر رکھ کر رفتار کا تعین ہی محفوظ ڈرائیونگ کہلاتا ہے۔ قافلے یا قطار کی صورت میں سفر ممکن تو ہے مگر صرف اس صورت میں جب غیر معمولی احتیاط اور اضافی محفوظ فاصلے کو یقینی بنایا جائے۔یہ ذمہ داری صرف ڈرائیور تک محدود نہیں۔ پیدل چلنے والے بھی اسی سڑک کا حصہ ہیں۔ انہیں سڑک کے دائیں جانب، فٹ پاتھ یا کچی پٹی پر چلنا چاہیے۔رخ آنے والی ٹریفک کی طرف رکھنا چاہیے اور سڑک عبور کرتے وقت جلد بازی اور غفلت سے اجتناب کرنا چاہیے۔ پل یا مخصوص کراسنگ کی موجودگی میں وہیں سے سڑک پار کرنا نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کی ضمانت بھی ہے۔ بچوں کا ہاتھ تھام کر رکھنا، رات کے وقت ہلکے یا روشن رنگ کے کپڑے پہننا اور سڑک پر غیر ضروری رکنے یا گپ شپ سے پرہیز وہ چھوٹی احتیاطیں ہیں جو بڑے سانحات کو جنم لینے سے روک سکتی ہیں۔یہ تحریر محض چند ہدایات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی اپیل ہے۔ سڑکیں صرف راستے نہیں ہوتیں یہ زندگیوں کو جوڑتی بھی ہیں اور اگر لاپرواہی برتی جائے تو انہیں توڑ بھی دیتی ہیں۔ دھند میں احتیاط دراصل زندگی سے محبت کا اعلان ہے۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے، قانون کو بوجھ نہیں بلکہ حفاظت کا حصار جانے تو موسم کی شدت بھی ہمیں خوف زدہ نہیں کر سکتی کیونکہ اصل دانش یہی ہے کہ منزل تک پہنچنے کی جلدی میں زندگی کو داؤ پر نہ لگایا جائے پہلے زندگی محفوظ۔۔۔پھر سفر۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے