ہر سال 5فروری کو پاکستان بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاکہ بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے، جو کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی اور عالمی طور پر تسلیم شدہ حقِ خود ارادیت کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ دن صرف قومی سطح پر یکجہتی کے اظہار تک محدود نہیں رہا بلکہ اب عالمی انسانی حقوق کے ایجنڈے کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے، جہاں بین الاقوامی ادارے اور سول سوسائٹی تنظیمیں کشمیری عوام کی آواز کو دنیا تک پہنچانے میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔کشمیر تنازع کی جڑیں 1947کی تقسیمِ ہند سے جڑی ہوئی ہیں، جب ریاست جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ بن گئی۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیری عوام کو آزادانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا، مگر یہ وعدہ آج تک وفا نہ ہو سکا۔ نتیجتاً خطہ مسلسل سیاسی بے یقینی، فوجی کشیدگی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا شکار رہا ہے، جس کے اثرات نسل در نسل منتقل ہو رہے ہیں۔یومِ یکجہتی کشمیر کی اہمیت اس اعتبار سے بھی بڑھ گئی ہے کہ حالیہ برسوں میں بین الاقوامی اداروں نے کشمیر کی صورتحال پر زیادہ واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق دفتر، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر عالمی اداروں نے اپنی رپورٹس میں ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گرفتاریوں، اظہارِ رائے پر پابندیوں اور شہری آزادیوں کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان رپورٹس نے عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر نمایاں کیا ہے۔اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد عالمی ردِعمل نے ثابت کیا کہ کشمیر اب محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں سے براہِ راست جڑا معاملہ بن چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل، او آئی سی اور کئی یورپی اداروں کی جانب سے تشویش کا اظہار اور بیانات اس امر کی علامت ہیں کہ عالمی ضمیر اب اس مسئلے کو نظرانداز کرنے کے موڈ میں نہیں۔یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانے، اوورسیز کشمیری کمیونٹیز اور انسانی حقوق تنظیمیں کانفرنسز، مظاہروں اور آگاہی پروگراموں کا انعقاد کرتی ہیں۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر، برسلز میں یورپی یونین کے دفاتر اور لندن و واشنگٹن جیسے عالمی مراکز میں ہونے والی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیر کا مقدمہ اب سرحدوں سے نکل کر عالمی انسانی حقوق تحریک کا حصہ بن چکا ہے۔پاکستان میں اس دن قومی قیادت کے پیغامات، ریلیاں، انسانی زنجیریں اور دعائیہ اجتماعات اس عزم کا اظہار ہوتے ہیں کہ کشمیری عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ یہ دن نہ صرف سفارتی حمایت کا اعلان ہے بلکہ اخلاقی ذمہ داری کا اعادہ بھی ہے۔ پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر عالمی فورمز پر مسلسل اٹھانا اس بات کی علامت ہے کہ یہ معاملہ وقت گزرنے کے ساتھ فراموش نہیں کیا جائے گا ۔ اصل سوال یہ ہے کہ عالمی برادری کب اس دیرینہ تنازع کے حل کیلئے عملی اقدامات کرے گی؟ انسانی حقوق کی رپورٹس، بیانات اور قراردادیں اہم ضرور ہیں، مگر کشمیری عوام کی مشکلات تب ہی کم ہو سکتی ہیں جب ان کی آواز کو فیصلہ سازی کے عمل میں حقیقی وزن دیا جائے۔ کشمیر کا مسئلہ صرف زمین کا تنازع نہیں بلکہ انسانی وقار، آزادی اور انصاف کا معاملہ ہے، جسے نظرانداز کرنا عالمی اصولوں سے انحراف کے مترادف ہوگا۔یومِ یکجہتی کشمیر دراصل عالمی ضمیر کیلئے ایک امتحان ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ظلم کیخلاف خاموشی غیر جانبداری نہیں بلکہ بالواسطہ تائید ہوتی ہے۔ اگر دنیا واقعی انسانی حقوق، خود ارادیت اور انصاف پر یقین رکھتی ہے تو اسے کشمیر کے مسئلے پر بھی عملی اور موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یومِ یکجہتی کشمیر ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔ اقوامِ متحدہ، او آئی سی، عالمی انسانی حقوق تنظیموں اور سول سوسائٹی کی بڑھتی ہوئی شمولیت اس امید کو تقویت دیتی ہے کہ کشمیر کا مقدمہ عالمی ایجنڈے پر زندہ رہے گا۔ ہر سال 5 فروری کو یہ پیغام ایک بار پھر گونجتا ہے کہ کشمیر کو فراموش نہیں کیا گیا اور انصاف، آزادی اور حقِ خود ارادیت کی جدوجہد جاری رہے گی۔

