پاکستان پر افغانستان نے بھارت اسرائیل سے معاہدہ کر کے پاکستان پر حملہ کیا ہے۔ دونوں طرف سے لڑائی جاری ہے۔ دوسری طرف اسرائیل امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا ہے۔ اسرائیل امریکہ بھارت نے مل کر فلسطین میں ظلم و سفاکیت سے غزہ کو تباہ کر دیا ہے۔ہم اپنی کزروں پر ماتم کر رہے ہیں،اور ہم پاکستان میں یوم الباب اسلام منا رہے ہیں۔ ایک وہ دور تھا اور ایک یہ دور ہے۔ محمد بن قاسم ثقفی نے10 رمضان المبارک مطابق 93 ھ سر زمین سندھ کے راستے برصغیر کو اسلام کی نعمتوں سے مالا مال کیا اس طرح سندھ کو تاریخ کے اندر باب الا سلام کا رتبہ ملا۔ اسی سندھ نے پاکستان کی قرارداد سندھ اسمبلی میں پیش کر کے دنیا کے اندر اس وقت کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کی بنیاد ڈالی جو دنیا کے نقشے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ جو دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہے جس پر امت مسلمہ کو بجا طور پر فخر ہے ۔محمد بن قاسم ثقفی بن محمد بن الحکم بن ابی عقیل عرب کے مشہور قبیلے بنوثقیف سے تعلق رکھتے تھے آپ 75ھ میں طائف میں پیدا ہوئے آپ کے والد قاسم حجاج بن یوسف کے دور میں بصرہ کے عامل مقرر ہوئے۔ محمد بن قاسم کی شہرت اور عظمت اس کے عسکری اور انتظامی کارناموں کی وجہ سے ہے جو اس نے چھوٹی عمر میں انجام دیے۔ 15سال کی عمر میں حجاج بن یوسف کے حکم پر فارس میں کرد قبائل کی سرکوبی کی اور انتظامی امور کے لیے شہر، شہراز کی بنیاد رکھی اسے فارس کا پایہ تخت بنایا۔اس کے بعد حجاج بن یوسف نے 92 ھ میں 17 سال کی عمر میں سندھ کی فتح کیلئے نامزد کیا۔ محمد بن قاسم نے پہلے مکران پر حملہ کیا اور اس کو فتح کیا۔ اس کے بعد دیبل کی بندرگاہ کو فتح کیا۔ اس کے بعد آگے بڑھتے ہوئے دریائے سندھ کے دائیں کنارے نیرون کوٹ اور سیون فتح کیے۔ اس کے بعد دریائے سندھ کو عبور کر کے 10رمضان ا لمبارک مطابق 93 ھ جون712ء راوڑ (روہڑ ی) قلعے کے نذدیک سندھ کے راجہ داہر کے لشکر کو شکست فاش دی۔ اس لڑائی میں راجہ داہر مارا گیا اوراس کے بعد محمد بن قاسم نے دریائے سندھ کے بائیں کنارے کی جانب قلعہ بہروز ، برہمن آباد اور آخر میں پایہ تخت ارور کو فتح کر لیا۔ اس کے بعد اوچ اور ملتان کو فتح کیا ۔سندھ پرخلیفہ حضرت عثمان کے شروع کے دورمیںبحران کے گورنر نے عمان کے راستے ایک بحری بیڑا روانہ کیاتھا۔ جس نے تھانہ اور بھروج پر حملہ کیا ۔ ایک دوسرا بحری بیڑا نے مغیرہ ابی العاص کے تحت سندھ کی بندر گاہ دیبل پر حملہ کیا۔حضرت امیر معاویہ کے زمانے میں ہندوستان پر دو طرف سے فوج کشی ہوئی۔ایک فوج محلب کی سرکردگی میں کابل سے آگے درہ خیبر کے راستے ہند میں داخل ہوئی۔ دوسری فوج منذر کی ماتحتی میں مکران کے راستے سر زمین ہند میں داخل ہوئی۔اس کے بعد مسلمانوں نے قندھار کو فتح کیا۔ اس کے بعد سندھ میں بوقان اورقیقان کے علاقے فتح کئے۔قلات پر بھی حملے کئے۔لیکن تمام سندھ کی فتح خلیفہ ولید کے زمانے میں محمد بن قاسم کے ہاتھوں ہوئی۔سندھ پر محمد بن قاسم نے مکران کے راستے چڑھائی کی۔ دیبل اور دوسری فتوحات کرتے کرتے راجہ داہر کو روہڑی کے قلعے کے نذدیک شکست دے کر ملتان تک پہنچ گئے۔ تاریخ میں یہ واقعہ آتا ہے کہ کچھ کشتیوں دیبل کے قریب بحری قزاقوں نے لوٹا، جن کے اندر لنکاسے کچھ مسلمان تاجروں کی بیوہ عورتیں اور ان کے بچے اورشاہ لنکا کے تحائف تھے جو اموی خلیفہ ولید بن عبدالمالک کیلئے بھیجے گئے تھے۔ان قزاقوں کو سندھ حکومت کی پشت پنائی حاصل تھی ۔کچھ مسلمان قیدی سندھ کی فتح کے بعد سندھ حکومت کی تحویل میں بھی پائے گئے تھے۔ اس حرکت کی وجہ سے عراق کے کے گورنر حجاج بن یوسف نے سندھی حکمران راجہ داہر سے ان قیدیوں اور مسروقہ سامان کی واپسی، نیز قزاقوں کی گرفتاری کا مطابعہ کیا جسے راجہ داہر نے بے التفاتی سے ٹال دیا۔ ان قزاقوں کی گوشمالی کیلئے حجاج بن یوسف نے فوجی بھیجے جہیں راجہ دہر کی فوجوں نے شکست دی ۔ تب حجاج بن یوسف نے چھ ہزار شامی سپاہیوں پر مشتمل ایک بڑا لشکر پوری تیاری کے اپنے چچا زاد بھائی محمد بن قاسم کی زیر نگرانی روانہ کیا جس نے خود راجہ داہر کو شکست سے دوچار کیا۔ راجہ داہر اس جنگ میں مارا گیا۔ اس طرح دیبل سے ملتان تک کا علاقعہ اسلامی سلطنت میں شامل ہوا۔ محمد بن قاسم نے سندھ میں امن وامان قائم کیا۔ عدل اور انصاف جو ایک کامیاب ریاست کی نشانی ہوتی ہے ۔سندھ کے بے ضرر عوام کے خلاف کوئی جوابی کاروائی نہیں کی۔ دست کاروں، تاجروں، غریب کسانوں اور دوسرے پیشہ ور لوگوں کو امان دی اور کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا۔ بلکہ ان سے نرمی برتی۔چنا قبائل کے لوگ اسلام کی فوجوں کی خبر سن کر تحفوں کے ساتھ محمد بن قاسم کے پاس حاضر ہوئے۔ اطاعت و مال گزاری قبو ل کر کے واپس ہوئے ۔ لوہانہ ، سہتہ ، جنڈ، ماچھی ، ھالیر اور کوریجا قبائل کے لوگ سراپا برہنہ ہو کر امان کیلئے آئے جنہیں امان دی گئی۔ اس طرح سمہ قوم کے لوگ ناچتے گاتے اورڈھول بجاتے امان کیلئے آئے ان کو امان دی گئی۔ ساتھ ساتھ ان کو 20 دینار انعام دیے بلکہ قطعات اراضی بھی عطا کی ۔ حجاج بن یوسف نے دیبل کی فتح کے موقع پر ہدایات جاری کیں جو کچھ حاصل ہوا ہے اس کو عوام پر خرچ کر دیں۔ اس سے عوام کی دلجوئی ہو گی ۔اگر کسان صنعت کار ،دستکار اور تاجرآسودہ ہوں گے تو ملک سرسبز رے گا۔محمد بن قاسم کی نرم مزاجی کے متعلق ڈاکڑ ممتاز حسین پٹھان فرماتے ہیں ”رواداری کسی بھی فاتح کیلئے رہنما اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ مخالف کو دبانے کی صلا حیت رکھتا ہو ۔محمد بن قاسم نے سندھ کے باشندوں کیلئے مہربانی اور رواداری کا طریقہ اختیار کیا ۔”جو جارحیت کی بجائے مصالحت کیلئے آمادہ ہوا اس کی پیشکش قبول کی ۔بدھیہ کا راجہ کاکابن کوتل اپنے سرداروں کے ہمراہ وفاداری اور اطاعت کے وعدے کے ساتھ آیا۔ اس خلعت و کرسی سے نوازا۔جامہ ہندی ریشم اور حریر عطا کی ۔انہیں سابقہ عہدوں پر برقرار رکھا۔ سورتھ کا حاکم راجہ موکہن وسایو جو قلعہ بیٹ پر متعین تھا اس کوبھی امان دی اور سابقہ عہدے پر برقرار رکھا۔راجہ کے وزیر سیاکر کو بھی اپنا مشیر خاص بنایا۔اس کے مشورے سے مالیہ زمین کو قدیم دستور کے مطابق رکھا ۔راجہ داہر کے چچا زاد بھائی راجہ ککسو کو سابقہ قلعہ بھالیہ کا حاکم قائم رکھا۔ اسے اپنا مشیر بنایا اسے مبارک مشیر کا لقب عطا کیا۔ خزانہ بھی اس کی مہر کے حوالے کیا۔ وہ ہر لڑائی میں محمد بن قاسم کے ساتھ رہا۔حجاج بن یوسف اگرچہ سخت گیر حکمران تھا مگر جب محمد بن قاسم نے جب اپنے خط میں اہل نیرون کی وفا شعاری و اطاعت کی اطلاع دی تو اس نے جواب میں لکھا”ان کے آرام کا ہر طرح سے خیال رکھو اور انہیں ہماری مہربانیوں کا امیدوار بنائو۔ جو بھی تم سے امن طلب کرے اس امان دینا اور جو بھی بزرگ اور خاص آدمی تم سے ملنے آہیںقیمتی خلعتوں سے سرفراز کرکے اپنے احسان کے زیر بار کرو۔ اور ہر ایک کی اہلیت کے مطابق ان کو انعام واکرام دیناواجب اور عقل کو اپنا رہبر بنائو تاکہ ملک کے امیر اور مشہور ومعروف لوگ تمہارے قول اور فعل پر پورا اعتماد رکھیں” ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے جو علاقعے فتح کیے ان پر سابق حکرانوں کو برقرا رکھا۔عرب صرف فوجی اور سپاہیانہ نظام کیلئے تھے اور باقی سارا نظام ہندوئوں کے پاسد رہنے دیا۔ مسلمانوں کے مقدمات کا فیصلہ قاضی کرتے تھے اور ہند وئوں کیلئے پنجائتیں بدستور قائم تھیں۔ محمد بن قاسم اپنے عدل وانصاف رواداری کی وجہ سے سندھ میں احترام اور مقبولیت پا چکا تھا۔ جب اس کوگرفتار کر کے واپس بھیجا گیا توسندھ کے لوگ روتے ہوئے اس کی سواری کے سامنے لیٹ گئے۔ محمد بن قاسم کی صفات اور کار نامے تاریخ اسلام کا سنہری باب ہیں۔ اس نے سرزمین سندھ کے راستے برصغیر کو اسلام کی نعمتوں سے مالا مال کیا۔ مسلمانوں نے محمد بن قاسم سے لیکر بہادر شاہ ظفر تک برصغیر پر ایک ہزار حکومت کی جو ایک ریکارڈ حقیقت ہے۔ یہ صرف رعایا کے ساتھ عدل و انصاف اور رواداری سے ممکن ہوا۔ انگریز جنہوں نے سارے دنیا کو اُدھیڑ رکھا تھا اپنی سیاسی چال بازیوں کی وجہ سے صرف سو سال حکومت کر ک برصغیر سے رخصت ہو گئے۔ آج مسلمانوں کے ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے اپنے آبا ئو اجداد کے طریقوں کو پس پشت ڈال کر آپس میں ہی لڑے رہے ہیں۔ بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے ۔ اللہ مسلمانوں کے حفاظت فرمائے آمین۔

