کالم

یہ بڈھا بھی خود کو شاعر سمجھتا ہے”

راولپنڈی،اسلام آباد شہر کا فیض احمد فیض سے سلوک اور برتاو¿ بڑا ہی مختلف اور متنوع رہا ہے۔اسی شہر میں وہ ایم آئی سکس کی ایک کاذب رپورٹ پر راولپنڈی سازش کیس میں ماخوذ کیے گئے ، اسی شہر میں کالج میں پڑھانے والا استاد، افواج ہند کے محکمہ تعلقات عامہ کا لیفٹیننٹ کرنل اور بلاشبہ اردو زبان کا نہایت مقبول و محبوب شاعر گرفتار ہو کر حوالہ زنداں ہوا تھا اور یوں زنداں نامہ ان کی زندگی اور انکی شاعری کا بڑا حوالہ بن گیا ۔سازش کے لغو الزام کے بے بنیاد ثابت ہونے پر وہ رہا تو ہو گئے لیکن ان کا محبوب وطن زیادہ عرصہ ان کے لیے ایسے زندان کی صورت اختیار کرتا رہا ،جس سے وقتی رہائی کے لیے انہیں جلاوطن بھی ہونا پڑتا تھا۔ اسی شہر میں ان کے پسندیدہ ریسٹورنٹ، ان کے دلدادہ دوست اور ان سے بے لوث محبت کرنے والے لوگ بھی رہتے تھے ۔ فیض احمد فیض رائل برٹش آرمی کے مقاصد سے ممکن حد تک واقف و آگاہ تھے۔یہ آگاہی کچھ تو دستیاب معلومات کے حوالے سے تھی اور کچھ اپنے مشاہدات اور تجزیات کے نتائج کے حوالے سے۔ یہاں راولپنڈی ،اسلام آباد میں فیض احمد فیض سے اپنی نسبت جوڑ کر اپنی اہمیت ثابت کرنے اور خود کو فیض احمد فیض کا قریبی ساتھی قرار دے کر اپنی عظمت کی زمین ہموار کرنے والے گروہ کا سرغنہ بھی رہتا ہے۔ کاسہ لیسی اور دریوزہ گری میں اسکا کوئی ثانی نہیں۔ مراعات طلبی اس کا فخر اور حاکمان وقت کی قدم بوسی اس کی شناخت ہے ۔دوسرے شعرا کے اچھے شعروں کو خود سے منسوب کرنا اس کا چلن اور اپنے احساس عظمت کو فرضی قصوں کی صورت بیان کرنا اس کا مشغلہ ہے ۔ فیض احمد فیض اردو کے بے بدل اور صاحب تاثیر شاعر ہیں ، مادری زبان پنجابی تھی ، پنجابی دانش کی گہرائی، تحمل ، اور متبسم ٹھہرا ان کی شخصیت کی خاص پہچان ہے۔فیض احمد فیض نے پنجابی زبان سے نسبت،انسیت اور محبت کو اپنے دل کا حصہ بنا کر اپنے دماغ کو اردو شاعری کا لہراتا ہوا پرچم بنا رکھا تھا۔اس کے باوجود کہ فیض احمد فیض یہ بات بھی جانتے تھے کہ بعض کم ظرف ان کا اور دیگر اردو میں شاعری کرنے والے پنجابی شعرا کا ذکر اپنی نجی محفلوں میں اچھے طریقے سے نہیں کرتے،بلکہ انہیں”ابے سالے پنجابڑے“ بھی کہہ جاتے تھے ایسے ہی لوگوں میں افتخار عارف بھی شامل ہیں۔ سید مظہر جمیل ذکر فیض میں لکھتے ہیں کہ؛پاکستان میں ضیا الحق کا مارشل لا نافذ تھا جسکے نتیجے میں اکثر ترقی پسند شاعر اور دانش ور لندن میں وطن بدری کی زندگی گزار رہے تھے جن میں احمد فراز، شہرت بخاری، حبیب جالب وغیرہ ہم شامل تھے۔ رالف رسل ، آغا حسن عابدی، عبادت بریلوی، الطاف گوہر، عاشور کاظمی،افتخار عارف، خالد حسن وغیرہ ہم مستقل طور پر لندن میں اردو ادب و ثقافت کی پرکشش فضا قائم کیے ہوئے تھے۔ ہندوستان سے ڈاکٹر محمد حسن، سجاد ظہیر، علی سردار جعفری، کیفی اعظمی ، گوپی چند نارنگ، قمر رئیسں وغیرہ ہم تواتر کے ساتھ یہاں آتے جاتے رہتے تھے۔ آغا حسن عابدی کی تجویز پر لندن میں اردو مرکز قائم ہوا تو گویا لندن میں ہندوستان اور پاکستان کے تعلق سے ادبی، تہذیبی، ثقافتی مغائرت کا مکمل خاتمہ ہو گیا تھا کہ یہاں آئے دن کسی نہ کسی عنوان اور بہانے سے ادبی و ثقافتی ہنگامے برپا رہتے تھے۔ بی بی سی اور لندن یونیورسٹی کے ایسٹرن اسٹڈیز سینٹر کے بعد اردو مرکز سب سے بڑا مرکز کشش بن گیا تھا(ذکر فیض،ص785 )۔اسی لندن میں احمدفراز کے بقول جب وہ ضیا الحق کے دور میں جلاوطنی کے دن گزار رہے تھے ،تو ہماری سارے دن کی مصروفیات کا ایک اہم حصہ اردو مرکز لندن ہوا کرتا تھا۔وہاں ایک تو اردو اخبارات مل جاتے تھے ،پھر پاکستان سے آنے والے ادبا و شعرا و سیاست دانوں سے بھی ملاقات ہو جاتی تھی۔ اردو مرکز کا مہتمم افتخار عارف تھا۔ ایک مضبوط تاثر یہ بھی پایا جاتا تھا کہ افتخار عارف یہاں آنے والے مہمانوں کے نام ، آنے اور واپس جانے کا وقت اور گفتگو کا خلاصہ ایک رپورٹ کی صورت اوپر کسی کو بھیج دیا کرتے تھے۔اردو کے نامور افسانہ نگار اور استاد ڈاکٹر رشید امجد” تمنا بے تاب“میں فارغ بخاری کے حوالے سے اردو مرکز لندن میں افتخارِ عارف پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ؛ 77 کے مارشل لا کے دوران اردو مرکز کے بارے میں یہاں اچھی رائے نہ تھی۔ لندن پہنچے ہوئے بہت سے جلاوطن دانشور شام کو وہاں اکٹھے ہوتے تھے۔ فارغ بخاری نے مجھے ایک عجیب بات بتائی۔ وہ طویل جلا وطنی کے بعد لندن سے لوٹے تو میری ان سے ایک طویل ملاقات ہوئی۔ بے شمار ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں۔ اردو مرکز لندن کا ذکر آیا تو فارغ بخاری کہنے لگئے اردو مرکز کے حوالے سے مجھے ایک بات کا زندگی بھر افسوس رہے گا۔ میں نے تفصیل پوچھی تو بولے لندن میں کوئی باقاعدہ کام تو تھا نہیں،صبح ناشتہ کر کے گھر سے نکلتے تو مختلف جگہوں پر سر مارتے ۔ وہاں اتنا وقت کس کے پاس ہے کہ دفتر میں آپ کی میزبانی کرے، چنانچہ میں بھی اوروں کی طرح اپنے جیسے دوسروں کے دروازے کھٹکھٹاتا اور شام کو تھکا ہارا اردو مرکز پہنچتا کہ وہ ان دنوں ہم جیسوں کی ایک بیٹھک تھی ۔ شام کو بہت سے لوگ گپ شپ کےلئے وہاں آتے تھے۔ ان میں شاعر ادیب بھی تھے، جلا وطن سیاسی لیڈر بھی ۔ افتخار عارف ہمیں خوش آمدید کہتے دن بھر کی مصروفیات کا احوال پوچھتے ۔ میں کہتا صبح ناہید خان سے ملاقات ہوئی تھی۔ پھر کچھ دیر کھر صاحب کے پاس بھی چلا گیا تھا۔ افتخار عارف بڑے رسان سے پوچھتے سنائیے اپنی پارٹی کے کیا احوال ہیں، کیا کچھ ہونے جارہا ہے۔ میں بھولپن میں دن بھر کی سنی سنائی باتیں دہرا دیتا اور میں ہی نہیں دوسرے لوگ بھی یہی کرتے ۔ بہت بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ اکٹھی کی ہوئی معلومات یہاں فیکس ہو جاتی ہیں۔ مجھے دیر بعد سمجھ آئی کہ آخر اردو مرکز کس خوشی میں ہماری میزبانی کرتاہے۔( تمنا بے تاب ص 161,162))۔بہرحال ،احمد فراز ملک صاحب کو بتا رہے تھے کہ ایک بار ہم وہاں بیٹھے تھے کہ اطلاع ملی کہ فیض احمد فیض آ رہے ہیں۔فیض احمد فیض سے ملنے کا اپنا ایک لطف تھاپھر یہ گمان بھی ذہن میں تھا کہ افتخار عارف فیض صاحب کا خاص مداح اور مرید ہے۔خیر فیض صاحب کے استقبال کے لیے ہم دونوں اردو مرکز کے آفس سے نیچے اتر کر سڑک کنارے کھڑے ہو گئے ۔فیض صاحب ایک گاڑی پر آئے ہم نے استقبال کیا۔ان سے ڈھیروں باتیں ہوئیں، افتخار عارف کا لب ولہجہ اور انداز دیکھ کر کبھی خطرہ پیدا ہو جاتا کہ کہیں فیض صاحب کے سامنے سجدہ ریز ہی نہ ہو جائے ،خود فیض صاحب بھی اس طرح کے رویے سے گبھراتے تھے ۔فیض صاحب کو کہیں پہنچنا تھا ،اس لیے وہ جانے کےلئے اٹھے،ہم دونوں بھی ان کےساتھ سیڑھیاں اترے ، ادب سے سلام کیا ۔خیر فیض صاحب گاڑی پر بیٹھ کر رخصت ہوئے اور افتخار عارف نے میرا ہاتھ پکڑ کر سیڑھیوں کا رخ کیا ،اچانک اسکے منہ سے وہ بات نکلی ،جس نے مجھے آج تک مشتعل کر رکھا ہے۔ فیض صاحب کی جاتی ہوئی گاڑی کو دیکھتے ہوئے خلاف توقع کہنے لگا بھئی دیکھو تو اب یہ بڈھا بھی خود کو شاعر سمجھتا ہے۔میں یہ سن کر سکتے میں آگیا ،کہ ابھی تو یہ شخص انتہا درجے کی تعظیم کر رہا تھا اور اب پیٹھ پیچھے یہ بات کر رہا ہے میں نے جھٹکے سے ہاتھ چھڑایا اور غصے سے کہا کہ یہ کیا بات کر رہے ہو؟ کہنے لگا کہ میرا مطلب یہ ہے کہ اب ان بڈھوں کا دور گزر گیا ، اب تمہارا اور میرا زمانہ ہے ۔احمد فراز نے ملک صاحب کو بتایا کہ اس روز کے بعد سے میں اس شخص کو معاف نہیں کر سکا۔ملک صاحب نے کہا کہ میں یہ سب سن کر خاموش ہو گیا۔مجھے احمد فراز کا ملال سمجھ میں آ گیا تھا۔ یہ چشم کشا واقعہ سن کر میرا یہ تاثر مزید پختہ ہو گیا کہ راولپنڈی ،اسلام آباد شہر کا فیض احمد فیض سے سلوک اور برتا واقعتا بڑا ہی مختلف اور متنوع رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے