کالم

امریکہ۔ایران تنازع، حکمتِ عملی اور وقت کی نزاکت

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی آج عالمی سیاست کے سب سے حساس اور خطرناک معاملات میں شمار ہوتی ہے۔ اس تنازع میں ہر قدم انتہائی سوچ سمجھ کر اٹھایا جا رہا ہے کیونکہ معمولی غلطی بھی پورے خطے کو بڑے تصادم کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اس وقت مذاکرات اور عسکری تیاری دونوں ساتھ چل رہی ہیں۔ امریکہ کا مقف ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب نہیں آنے دینا چاہیے، جبکہ ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام توانائی اور سائنسی ترقی کیلئے ہے۔ یہ بنیادی اختلاف دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کو مزید گہرا کر رہا ہے ۔ سفارتی کوششوں میں تیزی آئی ہے اور عمان نے ثالثی کے ذریعے مذاکرات کا ماحول فراہم کیا ہے۔ تاہم سفارت کاری کے ساتھ ساتھ عسکری تیاریوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ دونوں ممالک کی نازک حکمتِ عملی کا حصہ ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ غلطی یا جلد بازی سے بچا جا سکے۔امریکہ نے خلیج فارس اور خلیج عمان میں اپنی فوجی موجودگی مضبوط کر رکھی ہے۔ ابتدائی طور پر دو ایئرکرافٹ کیریئر، چار ایڈوانسڈ ڈیسٹرائرز اور متعدد جنگی جہاز تعینات کیے گئے ہیں۔یہاں 150سے زائد جدید فائٹر طیارے اور متعدد مسلح اور نگرانی ڈرونز موجود ہیں ۔ مزید یہ کہ ایئرکرافٹ کیریئر گروپس میں ایٹمی اور روایتی میزائل سسٹمز نصب ہیں اور پیٹریاٹ و تھاڈ دفاعی نظام علاقے کی سلامتی کو یقینی بناتے ہیں۔ یہ تمام تعیناتیاں امریکی حکمتِ عملی اور مذاکرات میں دبائو کیلئے ہیں ۔ ایران نے بھی اپنی فوجی صلاحیتیں بڑھائی ہیں ۔ اس نے میزائل تجربات کیے اور بحری مشقیں کیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے نزدیک۔ یہ پیغام ہے کہ ایران دبا کے آگے نہیں جھکے گا اور کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کیلئے تیار ہے۔علاقائی اثرات بھی شدید ہیں۔ سعودی عرب، اسرائیل، عراق اور متحدہ عرب امارات کشیدگی کے براہِ راست اثرات سے دوچار ہیں۔ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتا ہے۔ خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ جنگ کی صورت میں ان کی تیل کی تنصیبات اور معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔ عراق میں امریکی اور ایرانی اثر و رسوخ کی وجہ سے صورتحال پیچیدہ ہے۔عالمی توانائی اور معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ کسی بھی رکاوٹ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس کا براہِ راست اثر ترقی پذیر ممالک، خاص طور پر پاکستان پر پڑے گا۔ مہنگائی اور مالی دبا میں اضافہ متوقع ہے۔عالمی سطح پر اس تنازع میں چین اور روس کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ روس ایران کی سیاسی اور عسکری حمایت کرتا ہے اور امریکہ کے دبائو کے خلاف کھڑا ہے۔ روس ایران کے جوہری اور دفاعی پروگرام کے حوالے سے تکنیکی اور سفارتی مدد فراہم کر رہا ہے۔چائنابھی ایران کا اہم اقتصادی اور تجارتی شراکت دار ہے۔ چین توانائی کی ضروریات کے پیش نظر خطے میں استحکام چاہتا ہے اور ایران کے ساتھ تعلقات مضبوط رکھ کر اپنے عالمی اثر و رسوخ کو بڑھا رہا ہے۔ دونوں ممالک خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کشیدگی میں فوری جنگ سے بچنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔یورپی ممالک سفارتی حل پر زور دیتے ہیں کیونکہ وہ جنگ کے معاشی اور انسانی اثرات سے پریشان ہیں۔ ترکی اور پاکستان ثالثی اور مذاکرات کی حمایت کر رہے ہیں تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے اور خطے میں امن قائم ہو۔مستقبل کے حوالے سے صورتحال تین طرح سے سامنے آ سکتی ہے۔ ایک امکان یہ ہے کہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں اور ایک نئے معاہدے کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام پر محدودیت عائد کی جائے اور پابندیوں میں نرمی ہو۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ کشیدگی برقرار رہے لیکن کھلی جنگ نہ ہو، یعنی دونوں ممالک اپنی عسکری موجودگی کے ساتھ دبا اور مذاکرات کو جاری رکھیں۔ تیسرا اور سب سے خطرناک امکان براہِ راست عسکری تصادم ہے، جو پورے خطے اور عالمی امن کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔ ہر منظرنامے میں حکمتِ عملی اور وقت کا درست انتخاب ضروری ہے تاکہ حالات قابو سے باہر نہ ہوں۔مجموعی طور پر، امریکہ۔ایران تنازع میں حکمتِ عملی اور وقت کا درست استعمال انتہائی اہم ہے۔ دونوں ممالک سفارتی دبا اور عسکری تیاری کے ذریعے اپنے موقف کو مضبوط کر رہے ہیں۔ خطے اور عالمی امن کے لیے قیادتوں کا احتیاط سے فیصلہ کرنا لازمی ہے۔ دنیا بھر کی نظریں واشنگٹن اور تہران پر مرکوز ہیں کیونکہ ان کے فیصلے آنے والے برسوں میں عالمی سیاست اور معیشت کی سمت متعین کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے