ہندوستانی ریاست مہاراشٹرا کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس ایس ایم مشرف کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہم نظریاتی انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ ہندوستان کی سب سے بڑی دہشت گرد جماعت ہے۔ آر ایس ایس کے کارکن دہشت گردی کے 13 ایسے واقعات میں مجرم قرار پائے جن میں دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ ایسے واقعات میں اگر انتہا پسند تنظیم بجرنگ دل کو بھی شامل کرلیا جائے تو دہشت گردی کے ان واقعات کی تعداد 17 ہوجاتی ہے۔ایس ایم مشرف نے 2007 میں حیدر آباد کی مکہ مسجد بم دھماکا، 2006 اور 2008 میں میلاگاؤں میں ہونے والے بم دھماکوں اور 2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آر ایس ایس ہندوستان کی سب سے بڑی دہشت گرد جماعت ہے۔ دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں، یہ ہمارے نظام کی خرابی ہے جس میں ایسی تنظیمیں پائی جاتی ہیں اور یہ ایک سوچ کا نام ہے، ایسی سوچ جو ظلم کے ذریعے غالب آکر پروان چڑھتی ہے۔واضح رہے کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ہندو انتہا پسند تنظیموں بالخصوص شیو سینا نے ہندوستان میں غنڈہ گردی اور عدم برداشت کا ماحول گرم کر رکھا ہے۔شیو سینا اور دیگر ہندو انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے کبھی گائے کے گوشت کا بہانہ بنا کر مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جاتا ہے تو کبھی اس انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہے اور پاکستان کا ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے۔مودی حکومت نے 1,400 سال پرانا ہندو مندر آر ایس ایس کو خوش کرنے کیلئے مسمار کر دیا۔ جھنڈیوالان میں 1,400–1,500 سال قدیم مندر کی مسماری نے واضح کر دیا کہ مودی حکومت کا اصل محور ہندو مذہب نہیں، بلکہ آر ایس ایس کی سیاسی طاقت ہے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ آر ایس ایس ایک عسکری نظریاتی ڈھانچہ ہے جو نہ صرف اقلیتوں بلکہ نچلی ذات کے ہندوؤں اور عام شہریوں کے لیے بھی شدید خطرہ بن چکا ہے۔ آر ایس ایس کبھی ہندوؤں کی نمائندہ نہیں رہی؛ یہ ایک شدت پسند نظریاتی مشین ہے جو ہندو شناخت کو سیاسی تسلط، سماجی کنٹرول اور طاقت کے کھیل میں ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ مودی حکومت کا ہر قدم اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اس کی وفاداری ہندو دھرم سے نہیں بلکہ آر ایس ایس سے جڑی ہوئی ہے—ایک ایسی غیر رجسٹرڈ تنظیم جو ریاست کے پیچھے ایک سایہ دار ‘متوازی حکومت ‘کی طرح کام کرتی ہے۔ 29–30 نومبر 2025 کی دہلی میونسپل کارپوریشن کی مسماری نے آر ایس ایس کا اصل چہرہ دکھا دیا کہ جھنڈیوالان میں آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کے ساتھ 3.75 ایکڑ پر پھیلے 150 کروڑ روپے کے ‘کیشو کنج ‘کمپلیکس کے برابر کھڑے ڈھانچوںجن میں ایک قدیم ہنومان مندر بھی شامل تھاکو بلڈوزر سے مٹا دیا گیا۔ وائرل ویڈیوز کے مطابق مندر 1,400–1,500 سال پرانا تھا، جسے آر ایس ایس کے لیے اضافی پارکنگ بنانے کی خاطر گرا دیا گیا۔ پورا عمل اچانک، جارحانہ اور ہندو مذہبی جذبات کی کھلی تذلیل تھا۔ خواتین چیختی رہیں، مقامی لوگ احتجاج کرتے رہے، مگر بلڈوزر نہ رکے ۔ وی ایچ پی نے بھی بغیر نوٹس دیے کارروائی پر حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ سپریا شرینیت، پریانک کھڑگے اور آتشی سمیت کئی رہنماؤں نے مسماری کی مذمت کی، جس کے بعد” سیودہلی ٹیمپلز”ملک بھر میں ٹرینڈ کرنے لگا، ہندو عوامی غصہ واضح طور پر سامنے آیا۔نچلی ذات کے ہندوؤں کے مندر ریاستی سرپرستی میں برسوں سے گرائے جا رہے ہیں۔6 اگست 2024: ویلور کا گیمّانکوپّم کالی امّن مندر اونچی ذات کے دباؤ پر منہدم، حالانکہ گاؤں کی نصف آبادی دلت تھی۔2019میں تغلق آباد کا تاریخی سنت روی داس مندر 27 سالہ قانونی جنگ کے بعد مٹا دیا گیا۔ 2023–24 لکھنؤ میں کْکرائل ندی آپریشن کے دوران 24.5 ایکڑ سے تجاوزات ہٹانے کے نام پر 1,800 سے زائد ڈھانچے اور 4 مندر مسمار کیے گئے۔ یہ اعداد و واقعات چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ آر ایس ایس ہندو مذہب کا محافظ نہیں بلکہ مسلمانوں، مسیحیوں، دلتوں، آدی واسیوں اور خود عام ہندوؤں کے لیے بھی ایک مسلسل خطرہ ہے۔ حقیقت واضح ہے: آر ایس ایس کی طاقت عقیدت سے نہیں، خوف سے چلتی ہے۔ اس کا ایجنڈا عبادت نہیں، غلبہ ہے۔ مودی کے بھارت میں مندر بھی محفوظ نہیں کیونکہ مقصد صرف ایک ہے: آر ایس ایس کی مطلق طاقت، چاہے مذہب قربان ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔بھارت کی متنازع ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ 2025 میں اپنی بنیاد کے 100 سال مکمل کر رہی ہے۔ ایک صدی قبل قائم ہونے والی اس تنظیم نے ملک بھر میں کروڑوں لوگوں کی زندگیوں پر اپنی چھاپ چھوڑی ہے۔ان سو سالوں میں ایسا شاذ و نادر ہی ہوا ہے کہ آر ایس ایس، اس کا نظریہ یا اس کے کام پر لوگوں کی توجہ نہ رہی ہو۔ 2014 میں مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے آر ایس ایس کا سیاسی اثر و رسوخ کئی گنا بڑھ گیا ہے اور یہ اب تک کی سب سے مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے۔لیکن آر ایس ایس کی تاریخ،بھارت کو ہندو راشٹر بنانے پر اس کے زور اور اقلیتوں کے تئیں اس کی پالیسی پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔اس پر ملک کی آزادی میں حصہ نہ لینے کا، قومی بھارتی پرچم کو نہ اپنانے اور بابائے قوم گاندھی جی کو قتل کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ گاندھی کے قتل کے بعد اس پر پابندی بھی لگائی گئی تھی۔ یہاں تک کہ گذشتہ سال تک سرکاری اہلکاروں پر اس میں شمولیت پر پابندی تھی جسے ‘چْپکے سے’ ہٹا دیا گیا ہے۔
