کالم

قائداعظم کا ایٹمی پاکستان

23 مارچ 1940، چودہ اگست 1947 اور 28 مئی 1998 تحریک پاکستان ،قیام پاکستان اور استحکام پاکستان کی داستان ، جہدوجہد مسلسل ، کمٹمنٹ ، لگن ریاست اور رعایا سے غیر معمولی وابستگی کا ثبوت ہے۔ خواب سے شروع ہونے والا سفر حقیقت بن کر جب سامنے آیا تو برصغیر کی مظلوم قوم خوشی سے پھولے نہ سمائی اور جب 28 مئی 1998 کو پاکستان عالمی ایٹمی کلب کا حصہ بناتو خوشی،مسرت اور اطمینان کی وہ دولت میسر آئی جس کے اظہار کیلئے الفاظ کم ہیں۔ آج جس طرح امریکہ اور اسرائیل کے خوانجوار پنجے اور خونیں قدم ایران کی طر ف عازم ہیں سامراج کا صرف اور واحد مقصد ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنا اور اس کے ارد گرد کمزور دیواریں کھڑی کرنا ہیں۔ ذرا لمحے بھر کیلئے پاکستان اور اس پر اللہ کریم رحمت ، فضل اور نعمتوں کا نظارہ دیکھیں۔ قدرت نے پاکستان کو ایٹمی چتھری عطا کی! تصور کریں اگر پاکستان جوہری صلاحیت کا حامل نہ ہوتا تو بھارت کو سامنے رکھ کر اسلام دشمن طاقتیں پاکستان کا جو حشر کرتیں اس کے تصور سے جسم کانپ جاتا ہے ۔پاکستان کو کمزور اور مسائل کی دلدل میں گرانے کی سازشیں ہوتی رہیں مگر قوم کی استقامت اور فوج کی گھن گرج کے باعث سازشیں نابود ہوتی رہیں۔ یہ رب کائنات کا انعام ہے کہ 6 مئی کو بھارت نے پاکستان کیخلاف جارحیت کی جس کے جواب میں 10 مئی 2025 کو وہ جواب دیا گیا جس کو بھارتی فوج ، مودی سرکار اور بھارتی عوام مدتوں یاد رکھے گی…23 مارچ نہ صرف پاکستان کی تاریخ میں سنہری دن کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے بلکہ یہ یوم ہمیں ہمارے قومی جذبے، قربانیوں اور آزادی کی اصل قیمت یاد دلاتا ہے۔ اسی دن 1940 میں لاہور میں تحریکِ پاکستان کے رہنمائوں نے قراردادِ پاکستان منظور کی جس نے مسلمانوں کیلئے الگ وطن کا خواب حقیقت میں بدل دیا۔ یہ دن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر قوم مقصد کیلئے متحد ہو اور ہر چیلنج کا مقابلہ حوصلے سے کرے،تو کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ "پاکستان کا مطلب یقیناایمان، اتحاد اور تنظیم ہے”یہ دن ہر پاکستانی کے دل میں فخر اور ولولہ پیدا کرتا ہے۔ 23 مارچ صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ آج کے نوجوانوں کیلئے روشنی کا مینار ہے کہ وہ اپنے وطن کیلئے مثبت کردار ادا کریں۔ آزادی محض حصولِ وطن تک محدود نہیں بلکہ یہ مسلسل جدوجہد، قربانی اور محنت کی راہ ہے یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قانون، انصاف اور مساوات کے بغیر کوئی قوم ترقی اور بقا حاصل نہیں کر سکتی۔ہمیں چاہیے کہ ہم صرف یادوں میں نہ جییں، بلکہ آج کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہوں۔ تعلیم، محنت اور سچائی کے ذریعے ہم وہی جذبہ دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں جو ہمارے رہنمائوں اور شہدا کے دلوں میں تھا۔”23مارچ کی اہمیت نوجوانوں کیلئے بھی ہے کہ وہ ہر شعبے میں ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریںچاہے تعلیم میں ہو، کھیلوں میں ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں یا معاشرتی خدمت میں۔ ہر چھوٹا قدم بھی پاکستان کو مضبوط اور روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے 23 مارچ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ آزادی آسان نہیں ملتی بلکہ اس کیلئے قربانی، محنت اور وطن کی محبت ضروری ہے۔ ہم سب کو چاہیے کہ ہم رہنما ئوں کے اصولوں پر عمل کریں اور ایسی قوم بنائیں جو ایمان، اتحاد اور قربانی کے جذبے سے مرقع ہو ؛ معروف قول ہے ” آزادی کی قدر وہی جانتے ہیں جنہوں نے اسے حاصل کرنے کیلئے اپنی جان اور قربانیاں دی ہیں۔”آئیے اس 23مارچ ہم سب ملکر اپنے وطن کی عزت، ترقی اور مستقبل کیلئے عزم کریں اور قائداعظم کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی طاقت اور حوصلہ پیدا کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے