کالم

بھارتی فوج ہندوتوا ایجنڈے کی محافظ

حالیہ دنوں میں بھارتی آرمی چیف جنرل اوپندر دویدی کی مذہبی سرگرمیوں نے سوشل میڈیا سے لے کر سیاسی حلقوں تک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا اب انڈین فوج محض دفاعی ادارہ نہیں رہی بلکہ ہندوتوا کے ایجنڈے کی محافظ بن چکی ہے؟جنرل دویدی نے حال ہی میں وردی میں نہ صرف کیدارناتھ کے مندر میں حاضری دی بلکہ رام بھدرآچاریہ کے آشرم میں بھی ماتھا ٹیکتے دکھائی دیے۔ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو انہوں نے فوجی وردی کو ہندو عقیدت کا لباس بنا ڈالا۔سوال یہ نہیں کہ کسی کا ذاتی عقیدہ کیا ہے، سوال یہ ہے کہ جب ایک سیکولر ملک کی مسلح افواج کا سربراہ وردی میں مذہبی رسومات ادا کرے تو اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ کیا فوجی وردی صرف ہندو دیوی دیوتاؤں کی خدمت کیلیے مخصوص ہوچکی ہے؟بھارتی آئین کی شقیں شاید کتابوں میں اب بھی سیکولرزم کا دعویٰ کرتی ہوں، مگر زمین پر حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ بھارتی فوج جسے تمام قومیتوں، مذاہب اور ثقافتوں کا محافظ ہونا چاہیے تھا، اب زعفرانی رنگ میں رنگتی جا رہی ہے۔ جنرل دویدی کے مذہبی مندر دوروں سے یہ تاثر ملتا ہے جیسے وہ صرف ایک مخصوص اکثریتی مذہب کے وفادار ہوں، اور اقلیتوں کے لیے ان کی فوجی قیادت سوالیہ نشان بن چکی ہو۔اگر آرمی چیف ہندو مندر میں ماتھا ٹیک سکتے ہیں، تو کیا وہ کسی مسجد میں دو گھڑی سکون کی دعا کے لیے رکیں گے؟ کیا وہ کسی چرچ جا کر دعائیہ کلمات سنیں گے؟ سکھوں کے گوردوارے میں عقیدت سے جھکیں گے؟ یا یہ سب صرف آر ایس ایس کی ”ہندو راشٹر” کی مہم کا حصہ ہے، جہاں وردی کو ایک مذہبی پرچم میں بدل دیا گیا یہ سارا معاملہ صرف ایک فرد کا مذہبی رجحان نہیں بلکہ اس پورے ادارے کے غیر جانب دار تشخص پر ایک سنجیدہ سوال ہے۔ جب جنرل دویدی میڈیا کے سامنے وردی میں پوجا پاٹ کرتے ہیں تو وہ نہ صرف آئین کے سیکولر اصولوں کی نفی کرتے ہیں بلکہ اقلیتوں کو بھی ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ ان کی نمائندگی اس فوج میں شاید صرف کاغذوں کی حد تک رہ گئی ہے۔کیا ہندوستانی سپہ سالار اب صرف ایک عقیدے کا نمائندہ ہے؟ اگر ایسا ہے تو اقلیتوں کو سوچ لینا چاہیے کہ ان کی حفاظت کے دعوے صرف کاغذی تحریر رہ گئے ہیں، کیونکہ وردی پہنے وہ ہاتھ جو ملک کی سرحدوں کے محافظ کہلاتے ہیں، اب شاید صرف ایک مخصوص مذہب کے سامنے جھکنے کے لیے اٹھتے ہیں۔بھارت میں اعلی فوجی افسران کی خاموشی اور سچائی کو دبانے کا عمل ایک تلخ حقیقت ہے، جو اب دنیا کے سامنے آچکی ہے۔ کیونکہ مودی حکومت نے جہاں بھارت کے تمام اداروں اور ان کے سربراہوں کو دھونس،دبائو،لالچ اور دوسرے حربوں کے ذریعے خاموش کرایا ہے،وہیں اپنے سیاسی ایجنڈے کے تحت اعلی فوجی افسران کی زبان بندی بھی کر دی ہے تاکہ اس کے اندرونی معاملات، خاص طور پر مقبوضہ جموں وکشمیر اور سرحدی تنازعات کی زمینی حقیقتوں کو دنیا سے اوجھل رکھا جا سکے۔ اس بات کا انکشاف سابق بھارتی فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نروانے نے اپنی یادداشت Four Stars of Destiny میں کیا ہے، جس میں 2020 کے لداخ تنازعے، اگنی پتھ اسکیم کے اچانک نفاذ اور سرحدی بدانتظامی جیسے تلخ حقائق کو بیان کیا گیا ہے۔ مگر ان کھلے حقائق اور سچائی کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوششیں بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے مسلسل سیکیورٹی کلیئرنسز کے بہانے روک دی جاتی ہیں، تاکہ مودی حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالا جا سکے۔ جنرل نروانے نے Four Stars of Destiny میں 2020 کے لداخ تنازعے کی حقیقت کو کھول کھول کر بیان کیا ہے۔ جب چین نے بھارتی سرحد کے قریب اپنی فوجی موجودگی بڑھائی اور ٹینک بھارتی حدود کے قریب پہنچائے، تو اس وقت بھارتی فوجی قیادت کو فوری اور واضح احکامات کی ضرورت تھی۔ مگر انہیں مودی حکومت کی جانب سے کوئی کھلی اور واضح ہدایات نہیں ملیں۔ جنرل نروانے نے بار بار بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے رابطہ کیا، اور سوال کیا: "ان کیلئے احکامات کیا ہیں؟ جواب ہمیشہ ایک ہی آیا: "اوپر سے کلیئرنس ملنے تک فائر نہ کیا جائے۔یہ جواب اس بات کا غماز تھا کہ بھارتی افواج اور مودی حکومت کے درمیان عدم ہم آہنگی اور عدم اعتماد کی سنگین فضاء قائم اور موجود تھی، جس کی وجہ سے بھارتی فوجی قیادت میدان جنگ میں کوئی فوری اور موثر کارروائی کرنے میں یکسر ناکام رہی۔اسی عدم ہم آہنگی نے بھارتی افواج کے عمل کو مفلوج کرکے رکھ دیا، جس کے نتیجے میں چین کیساتھ سرحدی کشیدگی کے دوران بھارتی فوجی قیادت پوری طرح سے بے بس دکھائی دی،اور تو اور 21 بھارتی فوجی بشمول ایک کمانڈنگ آفیسر کرنل سنتوش بابو بھی ہلاک کردیئے گئے۔بھارتی فوج بھی انتہاپسند ہندوتوا ایجنڈے کے رنگ میں رنگ گئی ہے۔انڈین فوج محض دفاعی ادارہ نہیں رہی بلکہ ہندوتوا کے ایجنڈے کی محافظ بن چکی ہے۔بھارت میں ہندوتوا کی سیاسی اور سماجی بالادستی اب اتنی گہری ہو چکی ہے کہ ملک کا ہر ادارہ اس کی جھلک دکھانے لگا ہے، حتیٰ کہ فوج جیسا حساس اور غیر جانبدار ادارہ بھی۔ اس تناظر میں جنرل دویدی کی مندر یاترا صرف ایک ذاتی عقیدے کا اظہار نہیں بلکہ ایک طاقتور پیغام ہے، اور وہ پیغام یہ ہے کہ نئی دہلی کی راہ صرف ہندوتوا کے قدموں کی چاپ سننے کو تیار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے