اِس میں کوئی شک نہیں کہ جنگیں مسائل کاحل نہیں ہوتیں اورمسائل کاحل ہمیشہ مفاہمت سے ہی نکلتاہے ۔لیکن۔کئی دفعہ مسائل کے حل کیلئے سفارتکاری کوکمزوری سمجھاجائے توایسے موقع پرمنہ توڑجواب دیناواجب ہوجاتاہے ۔گزشتہ سال مئی میں بھارت نے بھی جب فالس فلیگ آپریشنزکے ذریعے پاکستان کیخلاف زہراُگلناشروع کیاتوپاکستان نے ثبوت مانگے ۔لیکن۔وہ کہتے ہیں ناں کہ جھوٹ کے پائوںنہیں ہوتے ۔بجائے ثبوت دکھانے کے بھارت نے پاکستان میں جارحیت کی جب مذموم کوشش کی توپھرمعرکہ حق اورآپریشن بنیان مرصوص میں پاکستان کی چٹان صفت مسلح افواج ،حکومت پاکستان اورپاکستانی قوم نے یکجاں ہوکرایسادندان شکن جواب دیاکہ مودی سرکارکے ایسے اوسان خطاہوئے کہ فوراًامریکی صدرکی منت سماجت کرکے جنگ بندی کی درخواست کردی۔آج پاکستان جہاں دُنیامیں ایک نئی پہچان کیساتھ اُبھررہاہے تووہیں بھارت اِس وقت دُنیامیںایک فاشسٹ ریاست کے طورپرجاناجاتاہے۔نہ صرف بین الاقوامی طورپربلکہ بھارت کے اندرسے بھی ہندوتوااورفاشسٹ حکومت کیخلاف آوازیں بلندہورہی ہیں۔ آپریشن غضب اللحق سے قبل بھی پاکستان نے بھرپورسفارتکاری کی اوردوست ممالک سمیت ثالث ممالک کوثبوت بھی دکھائے کہ کس طرح افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہورہی ہے ۔لیکن طالبان رجیم کی ڈھٹائی اوردہشتگردوں کی سرپرستی کے بعدجب آپریشن غضب اللحق شروع کیاگیاتوآج افغانستان بھی سفارتکاری پرآچکاہے ۔آج دُنیاپاکستان کے کردارکونہ صرف سراہ رہی ہے بلکہ دہشتگردی کی جنگ میں جتنی قربانیاں پاکستان نے دی ہیں یادے رہاہے اوراِس ناسورکاخاتمہ کررہے اقوام عالم پاکستان کے ہرفیصلے کی بھرپورتائیدکررہے ہیں۔آپریشن بنیان مرصوص اورمعرکہ حق کی کامیابی کے بعدحکومت کی کامیاب خارجہ پالیسی کی بدولت اِس وقت پاکستان خارجہ محاذ پربھی ایک نئے دورمیں داخل ہورہاہے ۔آج ایک دفعہ پھرجب خطہ بحران کاشکارہے ،امریکہ ،ایران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمزکی بندش نے کئی ممالک کی معیشتوں کوجھنجھوڑکے رکھ دیاہے وہیں پاکستان کی کامیاب کفایت شعاری پالیسی کی بدولت اِس وقت حالات معمول پرہیں اورآبنائے ہرمزسے صرف پاکستان کے بحری جہازوں کوگزرنے کی اجازت ہے جوکہ نہ صرف پاکستان کیلئے باعث فخرہے بلکہ اقوام عالم کاپاکستان کے کردارپربھرپوراعتمادکابھی ثبوت ہے۔ وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل،آرمی چیف،حافظ جنرل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارخلوص و محنت کے ساتھ جنگ کی شدت کو کم کرنے کے لیے کرداراداکررہے ہیں ۔گزشتہ دِنوں اسلام آبادمیں سہ فریقی وزرائے خارجہ اجلاس کے بعداِس وقت نائب وزیر اعظم ووزیرخارجہ اسحاق ڈارچین میں موجود ہیں۔ دفترخارجہ کے مطابق گزشتہ روزدونوں عظیم دوست ممالک پاکستان اورچین نے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو واحد قابل عمل راستہ قرار دیتے ہوئے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی، ایران اور خلیجی ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، قومی آزادی اور سلامتی کا تحفظ کرنے اور مذاکرات کے دوران طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کرنے پر زور دیا اور خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پانچ نکاتی اقدام پیش کر دیا ہے۔دونوں ممالک نے غیر فوجی اہداف کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہاکہ مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ کے اصولوں کی مکمل پاسداری کی جائے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پابندی کرتے ہوئے توانائی، پانی صاف کرنے کے پلانٹس اور بجلی کی تنصیبات سمیت اہم انفراسٹرکچر، نیز پرامن جوہری تنصیبات پر حملے روکے جائیں۔آبنائے ہرمزکے حوالہ سے بھی پاکستان اورچین نے دونوں فریقین پرزور دیاہے کہ وہاں موجود جہازوں اور عملے کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے، شہری و تجارتی جہازوں کی جلد اور محفوظ آمدورفت ممکن بنائی جائے اور اس راستے پر معمول کی نقل و حرکت جلد بحال کی جائے۔ اقوام متحدہ کے چارٹرکی بالادستی کے مطابق پاکستان اور چین حقیقی کثیرالجہتی نظام کے فروغ، اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط بنانے اور ایک جامع امن فریم ورک کے قیام کیلئے معاہدے کی حمایت کرتے ہیں تاکہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی بنیاد پر پائیدار امن حاصل کیا جا سکے۔قارئین کرام!امریکہ اورایران سمیت عرب امارات،چین ،مصر، تُرکیہ پاکستان پرنہ صرف بھرپوراعتماد کرتے ہیںبلکہ گزشتہ روزہی ایرانی سفیر رضاامیری مقدم نے بھی پاکستان کی خیرسگالی پرمبنی سفارتکاری کی کوششوں کابھرپورخیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی اقدامات خطے میں پائیدار امن کے قیام اور کشیدگی میں کمی کے لیے اہم پیش رفت ہیں۔پاکستان اورچین کی جانب سے پانچ نکاتی اقدام نہ صرف دونوں فریقین بلکہ خطہ اورامن کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

