کالم

میں خیال ہوں کسی اور کا

ایک بادشاہ کے دربار میں چینی اور رومی فنکاروں کا مقابلہ ہوا انہیں تصویر بنانے کے لیے دو دیواریں دے دی گئیں ایک گروپ والے صرف دیوار پر پالش کرتے رہے دیوار کو آئینے کی طرح صاف شفاف اور بے داغ کردیا۔ دوسرے گروپ نے بے پناہ محنت سے ایک خوبصورت اور شاندار پینٹنگ بنائی مقابلے کیلئے دونو ں گروپ پیش ہوئے تو پینٹنگ کا عکس جب شیشے والی دیوار پڑا تو وہ عکس اصل پینٹنگ سے زیادہ خوبصورت تھا اس طرح آئینہ صیقل کرنے والے کامیاب ہو گئے ایک شعر اسی حالت کو بیان کرتا ہے کہ
پہلے تو اپنے آپ کو اک آئینہ بنا
وہ خود نکل آئیں گے اپنے حجاب سے
تو ہمیں اپنے آپ کو آئینہ بنانا نہیںآیاوہ مالک ہم سے دور نہیں وہ تو ظاہر ہونے کے لیے بے تاب ہے اللہ کا فرمان ہے میں تو ایک مخفی خزانہ تھا میں نے چاہا کہ ظاہر ہو جاوں تو گویا اظہار اس کا اپنا مدعا ہے رکاوٹ ہم خود ہیں دنیا کی رنگینیوں میں الجھیہوئے ہیں ہم اس مالک کی طرف رجوع نہیں کرتے ہم اگر اس کی طرف رجوع کریں تو وہ پہلے ہی اظہار پر راضی ہے اسکا ظاہر ہونا ہی اظہار ہے ہم اپنے آپ کو چھپا دیں تو وہ ظاہر ہو جائے گا اگر اس کو چھوڑ دیں تو پھر ہماری انا ظاہر ہو جائے گی اور اسکی سزا ہے اگر غور کرنے کا وقت میسر آ جائے تو سوچیں اس میں نے مجھے اپنے گرد طواف پر لگا رکھا ہے اگر ہم اپنی نفی کر کے اس کا اثبات کر لیںتو اس مالک کا اظہا ر ہونا آسان ہو جاتا ہیاس کوشش میں کسی رہبر کی ضرورت ہوتی ہے جیسے اللہ پاک نے قرآن مجید میں فرمایا کہ اور رسول کہے گا اے میرے پروردگار بیشک میری امت نے قرآن کوچھوڑ رکھا تھا۔ پھر فرمایا کیا آپ اس خیال میں ہیں کہ ان میں اکثر سنتے اور سمجھتے ہیں ۔ وہ تو چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں 19ویں سپارے ہی میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار ہے وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان سب چیزوں کو چھ دن میں پیدا کر دیا پھر عرش پر مستوی ہواوہ رحمان ہے آپ اس کے بارے میں کسی خبردار سے پوچھ لیں ۔ اللہ پاک نے جن ہستیوں کو ان کے مراتب کے مطابق علم عطا کیا ہے وہی اس پاک ہستی کے بارے میں بیان کرنے کا حق رکھتے ہیں ان کی تلاش اور تعلق ہی ہمیں اس پاک ہستی کے بارے میں علم عطا کر سکتے ہیں یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں میں کہتا ہوں اگر انسان اپنے سراپے پر غور کرے تو اسکا ایک ایک عضو اللہ کی صناعی کی گواہی دیتا ہے کہ کوئی بنانے والا ہے اسے مخصوص فرائض انجام دینے کاسلیقہ اور حکم بھی اسی ذات نے عطا کیا ہے مثلا اپنی آنکھوں پر غور کریں اسکی ساخت اور پھر ہمیں ہر شے کا نظر آنا رنگوں کی تعریفیں بھی یہی نظر یں کر سکتی ہیں کہ یہ سبز ہے کہ سرخ سفید پیلا نیلا وغیرہ یہ کیسے ہے کس طرح ہے جب اسی نظرمیں موتیا اتر آتا ہے تو نظر آنا مشکل ہو جاتا ہے پھر آپریشن کے لیے کسی ماہر ڈاکٹر کی خدمات حاصل کرنا پڑتی ہیں دعا ہوتی ہے کہ آپریشن کامیاب ہو جائے تاکہ بصارت لوٹ آئے سماعتوں کا بھی یہی حال ہے کہ ہر آواز کانوں کے ذریعے دل دماغ کو تاثیر دیتی ہے جن کو سنائی نہیں دیتا یا سماعتیں کسی وجہ سے کمزور ہو جائیں تو نعمت سے کسی حد تک محروم ہونا پڑتا ہے یا پھر سماعت کیلئے ایجاد کردہ آلہ لگانا پڑتا ہے اس مالک کا کتنا کرم ہے کہ سب انسانی اعضا ٹھیک کام کر رہے ہوں اور انسان تو اپنی انا کے گھوڑے پر سوار متکبر ہو کر چلتا رہتا ہے بغیر توجہ دیے کہ میں کس کی تخلیق ہوں اور میں کس کے کنٹرول میںہوں اگر سب کچھ میرا اپنا ہے تو پھر خرابی یا کمزوری کی صورت میں خود اسے اپنی اصل حالت میں کیوں نہیں لا سکتا میں پیدائش سے تادم مرگ مختلف مراحل سے گزرتا ہوں مجھے بچپن سے جوانی میں کون پہنچا دیتا ہے مجھ میں طاقت اور جوانی کیسے پیدا ہوتی ہے پھر ادھیڑعمری کی طرف کیسے رخ ہو جاتا ہے غیر محسوس طریقے سے یا مانوس طریقے سے میں بڑھاپے میں داخل ہو جاتا ہوں میری طاقت وہ نہیں رہتی جو جوانی اور شباب میں تھی یہ کیسے ہو گیا کہ میں چلتا ہوا تھک جاتا ہوں محفلوں کی زینت بنتے بنتے تنہائی پسند ہو گیا اب ہاتھ کانپتے ہیں میرے بالوں کا سٹائل نہیں رہا یہ کیوں کمزور ہو کر گرنا شروع ہو گئے خوبصورتی ماند پڑگئی اب میں اکثریت کی نظر میں اہم شخصیت نہیں رہا اپنے بھی دور ہوتے جاتے ہیں پہلے میرے مشورے اہم تھے اب مجھے وسوسوں نے گھیر رکھا ہے مجھے میرا اپنا آپ ہی چھوڑتا جا رہا ہے یہ کبھی میرا اپنا تھا ا ب میرے کنٹرول میں نہیں میرے ہاتھوں سے میر ے وجود کی ہر شے سرکتی جا رہی ہے میں کچھ نہیںکرسکتا مجبوری کی حدود میں داخل ہو گیا ہوں ہر وجود کو اسی طرح عروج زوال کی داستان بننا پڑتا ہے لیکن کبھی یہ خیال غالب نہیں آتا کہ میں اپنے تخلیق کرنے والے پر بھی غور کرو ں نعمتوں کے انبار لگانے والے کا شکر ادا کروں بس یہی تو اسے پسندہیکہ انسان اپنے مالک کا شکر ادا کرتا ہے ہر شے عطا کرنے والے کی ایک ہی طلب ہے کہ اسکا شکر ادا کیا جائے لیکن اس کے برعکس فتح کامرانیوں کا سہرا میں اپنے سر باندھ لیتا ہوں کامیابی کی صورت میں اپنی منصوبہ بندیوں کا اظہارکرتے ہوئے ستائش کی گل افشانی کا طالب ہوتا ہوں میں اپنے علم پر نازاں رہتا ہوں خودی اور نفس کی سرشاری پر مست رہتا ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے