کالم

راہیمہ بی بی کیس۔ گھروں تک پھیلا دہشت گردی کا جال

سنجیدہ مبصرین کے مطابق راہیمہ بی بی کیس محض ایک انفرادی واقعہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر سکیورٹی چیلنج کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومتِ بلوچستان اور متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری تحقیقات اور کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست ان نیٹ ورکس کے خلاف سنجیدہ ہے۔ تاہم اس مسئلے کے حل کے لیے صرف سکیورٹی اقدامات ہی کافی نہیں، بلکہ سماجی شعور، بیانیاتی اصلاح اور علاقائی تعاون بھی ناگزیر ہیں، تاکہ دہشت گردی کے اس پیچیدہ جال کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔یہاں اس امر کا تکذہ بھی ضروری ہے کہ ماضی قریب میں جس طور کراچی میں دہشتگرد خواتین کوا ستعمال کیا گیا وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں اور اسی پیرائے میں حالیہ دنوں میں راہیمہ بی بی کے انکشافات سامنے آنے سے معاملے کی سنگینی کا احساس ہوتا ہے اور پاکستان میں دہشتگردی میں بھارت اور دیگر بیرونی قوتوں کے ملوث ہونے کے شواہد کو مزید تقویت ملتی ہے۔ایسے میںبجا طور پر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ساری صورتحال کے سیاسی اور سماجی معاملات کو بھی پوری طرح سامنے رکھ کر اس کے تدراک کی شعوری کوششیں کی جائیں ۔ یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ راہیمہ بی بی کیس نے بلوچستان میں دہشت گردی کے بدلتے ہوئے خدوخال کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کیوں کہ جہاں صرف مسلح کارروائیاں ہی نہیں بلکہ منظم بھرتی، سماجی استحصال اور سرحد پار سہولت کاری جیسے عناصر بھی مزید نمایاں ہو کر سامنے آ رہے ہیں۔یاد رہے کہ کوئٹہ میں 18 اپریل 2026 کو حکومتِ بلوچستان کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں پیش کیے گئے انکشافات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گرد نیٹ ورکس اب زیادہ پیچیدہ، منظم اور معاشرتی ڈھانچے میں گہرائی تک سرایت کر چکے ہیں۔اسی تناظر میں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ بلوچستان کی ثقافتی اور سماجی روایات خواتین کے احترام، تحفظ اور وقار پر مبنی ہیں۔ ماہرین کے مطابق خواتین کودہشت گردی جیسے پرتشدد مقاصد کیلئے استعمال کرنا ان روایات کے سراسر خلاف ہے اور مذہبی اور اخلاقی اصول بھی اس عمل کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، کیونکہ کسی بھی صورت میں خواتین کا استحصال قابلِ قبول نہیں۔سکیورٹی ماہرین کے بقول دہشت گرد نیٹ ورکس اب ایک کثیر سطحی ڈھانچے کے تحت کام کر رہے ہیں، جس میں بھرتی کرنے والے، سہولت کار، تربیت دینے والے اور حملہ آور سب ایک مربوط نظام کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ نیٹ ورکس نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی جڑے ہوتے ہیں، جس کے باعث ان کے خلاف کارروائی مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ راہیمہ بی بی کے بیان کے مطابق اس کے شوہر نے ایک خاتون خودکش حملہ آور کو پناہ فراہم کی، جو بعد ازاں فرنٹیئر کور کے ایک کیمپ پر حملے میں ملوث پائی گئی۔سنجیدہ حلقوں کے مطابق یہ پہلو اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ دہشت گردی کے نیٹ ورکس نے گھریلو ماحول کو بطور محفوظ پناہ گاہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے نہ صرف سکیورٹی چیلنجز بڑھتے ہیں بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔اسی تناظر میں ایک اور اہم پہلو خواتین کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ راہیمہ بی بی کے انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کو محض معاون کردار تک محدود نہیں رکھا جا رہا بلکہ انہیں باقاعدہ تربیت دیکر خودکش حملوں جیسے انتہائی اقدامات کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔مبصرین کے مطابق یہ رجحان دہشت گرد تنظیموں کی حکمت عملی میں ایک خطرناک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں وہ سماجی کمزوریوں اور جذباتی پہلوؤں کو نشانہ بنا کر خواتین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔مبصرین کے مطابق یہ امر بھی خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ مذکورہ خاتون حملہ آور کو افغانستان منتقل کیا گیا جہاں اسے تربیت دی گئی، اور بعد ازاں پاکستان میں کارروائی کے لیے استعمال کیا گیا۔سفارتی و سکیورٹی ماہرین کے بقول یہ پہلو سرحد پار دہشت گردی کے ان خدشات کو تقویت دیتا ہے جو طویل عرصے سے زیرِ بحث رہے ہیں۔ افغانستان میں موجود مبینہ تربیتی ڈھانچے نہ صرف بلوچستان بلکہ خیبر پختونخوا میں بھی عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں، جس کے لیے مربوط علاقائی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔مزید برآں، راہیمہ بی بی کے موبائل فون کا استعمال دہشت گرد عناصر سے رابطے کے لیے کیا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح ذاتی شناخت اور گھریلو وسائل کو چھپاؤ اور رابطہ کاری کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جان کاروں کے مطابق یہ طریقہ کار قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے تحقیقات کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے، کیونکہ بظاہر عام نظر آنے والے افراد اور وسائل کو خفیہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔مبصرین کے مطابق اس کیس کا ایک اہم پہلو نظریاتی اور بیانیاتی جنگ بھی ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں نہ صرف مسلح کارروائیوں پر انحصار کر رہی ہیں بلکہ وہ ایک مخصوص بیانیہ بھی تشکیل دے رہی ہیں جس کے ذریعے نوجوانوں اور خواتین کو متاثر کیا جاتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کچھ سماجی و سرگرم پلیٹ فارمز غیر ارادی طور پر ایسے ماحول کو فروغ دیتے ہیں جہاں حساس افراد کو شدت پسندانہ سوچ کی طرف مائل کیا جا سکتا ہے، جسے بعد ازاں دہشت گرد تنظیمیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہیں۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب ایسے افراد کو قانون نافذ کرنے والے ادارے گرفتار کرتے ہیں یا ان کی سرگرمیوں کو روکا جاتا ہے تو بعض حلقے انہیں”لاپتہ افراد”کے بیانیے کے تحت پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس طرزِ عمل سے نہ صرف اصل حقائق دھندلا جاتے ہیں بلکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں کو بھی متنازع بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔توقع کی جانی چاہیے کہ تمام متعلقہ ادارے اور پوری قوم لاپتہ افراد اور دہشتگر د گروہوں کے درمیان بنیادی اور واضح فرق کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا انسانی فریضہ نبھائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے