خاص خبریں

امریکی صدر ٹرمپ ایران پر حملے سے پیچھےکیوں ہٹے؟ بڑی وجہ سامنے آگئی

امریکی صدر ٹرمپ ایران پر حملے سے پیچھےکیوں ہٹے؟ بڑی وجہ سامنے آگئی

اسرائیلی صحافی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملہ مؤخر کرنے کی ممکنہ وجہ کے حوالے سے بڑا انکشاف کیا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سے منسلک اسرائیلی صحافی باراک رویڈ (Barak Ravid) نے امریکی ذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودیہ، قطر اور امارات نے امریکا سے کہا کہ ایران پر حملہ ہوا تو قیمت انہیں چکانا پڑےگی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی صحافی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سعودیہ، قطر اور امارات کے رہنماؤں سے پچھلے 24 گھنٹوں میں بات کی، دوحہ،ابوظبی اور ریاض نے صدر ٹرمپ کو مشترکہ پیغام دیا۔
اسرائیلی صحافی کے مطابق تینوں ممالک نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ مذاکرات کو موقع دیں، ایران پرحملہ ہوا تو قیمت ہمیں چکانا پڑےگی۔اسرائیلی صحافی کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کے حامی اپنے ساتھیوں کو صورتحال سے آگاہ کیا تھا، ٹرمپ نے کہا خلیجی ممالک ردعمل میں اپنی آئل اینڈ انرجی تنصیبات کی تباہی نہیں چاہتے۔واضح رہے کہ پیر کی رات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب ، قطر اور یو اے ای کی درخواست پر ایران پر طے شدہ حملہ مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان آل سعود اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان کی جانب سے درخواست کی گئی ہے کہ ایران پر ہمارے طے شدہ فوجی حملے کو مؤخر کر دیا جائے، جو کل کے لیے مقرر تھا۔ٹرمپ نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور ان عظیم رہنماؤں اور اتحادیوں کی رائے میں ایک ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو نہ صرف امریکا بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر کے تمام ممالک کے لیے بھی قابلِ قبول ہوگا۔ یہ معاہدہ، سب سے اہم بات یہ ہے کہ، ایران کے لیے کسی بھی قسم کے جوہری ہتھیار نہ ہونے کو یقینی بنائے گا۔امریکی صدر نے کہا کہ ان رہنماؤں کے لیے اپنے احترام کی بنیاد پر میں نے سیکرٹری آف وار پیٹ ہیگسیتھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈینیئل کین اور امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ہم کل ایران پر طے شدہ حملہ نہیں کریں گے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے