(گزشتہ سے پیوستہ)
پھر بادشاہ نے اپنی معشوقہ کی فرمائش پر قوم کے اس صلاح ترین آدمی کاسر قلم کر کے ایک تھال میں رکھ کر اس کی نذر کیا گیا (مرقس ، باب ٦ ، آیت ١٧ ۔ ٢٩ ) ۔ ٨ ۔آخر میںحضرت عیسیٰ پر بنی اسرائیل کے علما اورسردارانِ قوم کا غصہ بھڑکا، کیونکہ وہ انھیں ان کے گناہوں اور ان کی ریاکاریوں پر ٹوکتے تھے اور ایمان و راستی کی تلقین کرتے تھے۔ اس قصور پر ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ تیارکیا گیا۔ رومی عدالت سے ان کے قتل کا فیصلہ حاصل کیا گیا اور جب رومی حاکم پیلاطس نے یہود سے کہا کی آج عید کے روز میںتمھاری خاطریسوع اوربرا بّا ڈاکو، دونوں میںکس کو رہا کروں، تو پورے مجمع نے بلا اتفاق پکار کر کہاکہ برابّا کو چھوڑ دے اور یسوع کو پھانسی پرلٹکا۔(متی۔باب ٢٧ ، آیت ٢٠ تا ٢٦ ) ۔یہ ہے اس قوم کی داستانِ جراہم کا ایک نہایت شرمناک باب جس کی طرف قرآن کی اس آیت میں مختصراً اشارہ کیا گیا ہے۔ اب یہ ظاہر ہے جس قوم نے اپنے فساق و فجار کو سرداری و سربراہ کاری کے لیے اپنے صلحا و اَبرار کو جیل اور دار کیلئے پسند کیا ہو،اللہ تعالیٰ اس کو اپنی لعنت کیلئے پسند نہ کرتا تو آخر کیا کرتا؟ یہودیوں کی ان مظالم کی روداد پڑھیں اور موجودہ اسرائیل ریاست کے کرتوتوں کو سامنے رکھیں۔١٩٤٨ء میں عیسائیوں نے اس بد کار قوم سے نجات حاصل کرنے کیلئے فلسطین میں بسا دیا۔ یہ ساری دنیا سے فلسطین میں آ کر آباد ہونا شروع ہوئے۔ فلسطینیوں کا قتل کیا۔ان کے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کیا ۔ فلسطینیوں پر اتنے مظالم ڈھائے کہ وہ فلسطین چھوڑ گئے۔جو سخت جان اور شیخ احمد یاسین ، عزالدین اور دیگر علماء کے تربیت یافتہ تھے ، اپناوطن فلسطین نہیں چھوڑا۔صہیونی یہود نے فلسطینیوں کو غلام بنا لیا۔ باہرسے آنیوالے یہودی دہشتگرد ہیں۔اسرائیلی حکومت کا ہر شہری فوجی ٹریننگ لینے کا پابند ہے۔ جوسولین ہیں وہ بھی دہشت گردی کی ٹریننگ لئے ہوئے ہیں۔ آباد کاروں اور اسرائیل حکومت نے مظالم ڈھا ڈھا کر فلسطینیوں کو اقلیت میں بدل دیا۔ صہیونی گریٹر اسرائیل بنانے کی مہم چلائے ہوئے ہیں ۔ یہودی کہتے ہیں یہ زمین ہمیں اللہ نے دی ہوئی ہے۔ اس فلسفہ کو ساری دنیا میں پھیلا کر ہمدردیاں حاصل کی ہوئی ہیں۔ ہم نے اسی کتاب میں ایک مضمون” کیا اسرائیل خدائی منصوبہ ہے؟ میں اسرائیل کو ننگا کیا ہے۔ ١٩ مئی١٩٤٨ء میں اسرائیل کی فلسطین رضاکاروں اور دیگر عرب ملکوں سے جنگ ہوئی اور اسرائیل نے امریکی مدد سے اور زیادہ فلسطین پر قبضہ کر لیا ۔ اسے نکبہ کہا جاتا ہے ۔ فلسطینی یہ دن منانے کیلئے ہاتھوں میں چابیاں لے کر سڑکوں پر نکلتے ہیں۔یہ جنگ ١٠ مارچ ١٩٤٩ء میں ختم ہوئی ۔ دوسری جنگ ١٩٥٦ء میں ہوئی۔اس میں اسرائیل نے مصر کے سینا کے صحرا پر حملہ کر دیا۔ برطانیہ اورفرانس نے اسرائیل کا ساتھ دیا۔پھر ١٩٦٧ء تیسری چھ روزہ جنگ ہوئی۔اسرائیل نے فلسطینی علاقے،غزہ پٹی، مغربی کنارہ،مشرقی یوروشلم صحرائے سینا اور گولان پہاڑیوں پر قبضہ کرلیا۔ چوتھی جنگ ١٩٧٣ء جسے یوم کپور اور رمضان جنگ کہتے ہیں۔اس جنگ میںمصر اور شام نے اسرائیل کا بڑا نقصان کیا۔ اسرائیل کے٢٦٥٦، فوجی ہلاک ہوئے،١٥٠٠٠، زخمی ہوئے اور ١٠٠٠، جنگی قیدی بنائے گئے ۔ اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا میئر پہلے سے تیار تھی۔ وزیر دفاع موشے دیان نے عربوں پر فوقیت کا اظہارکیا تھا۔اس جنگ میں اسرائیل کا غرورٹوٹا اس کو شکست ہوئی۔ عربوں میں ہمت بڑی پھر امریکا نے اسرائیل کو ایک ماہ میں ٢٤٠٠٠ ٹن فوجی سامان دیا جس میں گولا بارود،میزائل اور ٹینک شامل تھے۔ اس جنگ میں ہار مان کر وزیر دفاع موشے دایان نے استعفیٰ پیش کیا تھا۔کولڈا میئر خود کشی کرنے پرتیار ہوئی تھی۔٢٢اکتوبر کو سلامتی کونسل نے جنگ بندی کرا دی۔ا س کے بعد امریکی سفارت کاری سے مصر کے انوار سادات نے پہلا عرب حکمران تھا جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ ٢٥ برس تک لڑنے والوں میں چالیس سال جنگ نہ رہی۔ دنیا میں سب سے زیادہ امریکا سے فوجی مدد حاصل کرنے والا ملک اسرائیل ہے۔ امریکا نے عربوں کو ڈرا کر اسرائیل کے تسلیم کرنیکی مہم چلائی۔ عرب خاموش ہو گئے۔ عرب ملکوں میں امریکا نے فوجی اڈے بنا لیے ہیں۔ اسرائیل نے ایٹم بم بنا لیاجسے ابھی تک ظاہر نہیں کیا۔اپنے آپکا ناقابل تسخیر بنایا۔ فلسطینیوں پر مظالم کی ساری حدیں توڑ دیں۔ اس پر تنگ آکر حماس ٧اکتوبر ٢٠٢٣ ء کی پانچویں جنگ شروع کی۔ حماس نے اسرائیل میں قید ہزاروں فلسطین کو چھڑانے اور ظلم کا بدلہ لینے کیلئے دنیا کی انوکھی جنگ شروع کی۔زمین، فضااور سمندر سے اسرائیل پر حملہ آور ہو کر اس کے١١٩٥ جس میںفوجی سولین اورفارنر تھے ہلاک کر دیا ۔٢٥١ کو یرغمال بنا لیا۔یہ جنگ دو سال جاری رہی۔ اسرائیل حماس سے تو نہ لڑ سکا ۔ نہ اپنے یرغمالی چھڑا سکا۔ جنگ بندی معاہدے پر یرغمالی اور فلسطینی قیدی رہا ہوئے۔اسرائیل غزہ کے بے قصور نہتے لوگوں پر اپنا غصہ نکالا اور ایک لاکھ شہریوں جس میں بچے عورتیں زیادہ ہیںکو شہید کر دیا۔ پور ے غزہ کی ہر عمارت کو بمباری، گولا باری،کیمیائی ہتھیار ،میزائیل سے زمین بوس کر دیا۔آدھے غزہ پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ مگر غزہ کی نسل کشی سے اسرائیل دنیا میں تنہا ہو گیا ہے۔ ساری دنیا اسرائیل اور اس کو اسلحہ سپلائی کرنے والے ٹرمپ کے خلاف ہو گئی ہے۔اس دفعہ اس جنگ میں عربوں نے فلسطین کاساتھ نہیں دیا ۔ ایران نے یمن،لبنان کے ذریعے سے حماس کی فوجی مدد کی۔اسرائیل کو حماس نے بہت نقصان پہنچایا ۔جس کو اسرائیل نے چھپایا اورظاہر نہیں کیا ۔ اسرائیل امریکہ نے ایران کو حماس کا ساتھ دینے پر سزا دینے کیلئے حملہ کر دیا۔ اسکے سارے مرکزی لیڈر شہید کر دیے۔ ایران نے عرب ملکوں میں قائم امریکی فوجی اڈے تباہ کر دیے۔ اسرائیل کو ناقابل یقین حد تک تباہ کر دیا۔ ایران سے دونوں نے شکست کھائی۔ اب مستقل جنگ بندی معاہدے کیلئے پاکستان کے ذریعے سفارتکاری ہو رہی ہے ۔لگتا ہے اللہ انبیا ء کو ناحق قتل کرنیوالے اسرائیل کوایران کے ہاتھوں اس دنیا سے جلد ختم کرینے والا ہے۔ان شاء اللہ

