آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے خاتمے کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے پس منظر میں دیکھا جائے تو اس میں پاکستان کھڑا دکھائی دے گا ۔عالمی سیاست کی وسعتوں میں دیکھا جائے تو اس میں بعض مواقع ایسے آتے ہیں جب جنگ کے بادل گہرے ہو جاتے ہیں، عالمی معیشت خطرات سے دوچار ہو جاتی ہے اور خطے کے ممالک ایک غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسے نازک حالات میں اگر کوئی ملک امن، مفاہمت اور مذاکرات کے فروغ کے لیے کردار ادا کرے تو وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتا ہے بلکہ عالمی برادری میں بھی عزت و وقار حاصل کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے حالیہ سفارتی پیش رفت کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں پاکستان کی متحرک سفارت کاری کو اہمیت دی جا رہی ہے۔آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس سے گزرنے والی تیل اور گیس کی بڑی مقدار اسی آبی گزرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی نہ صرف مشرق وسطی بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس خطے میں تنا بڑھا تو عالمی طاقتوں، علاقائی ممالک . youاور بین الاقوامی اداروں کی توجہ فوری طور پر اس جانب مبذول ہو گئی۔پاکستان نے ہمیشہ سے اپنی خارجہ پالیسی میں امن، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی ہے۔ حالیہ بحران کے دوران بھی اسلام آباد نے کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے مفاہمت اور مذاکرات کی راہ اختیار کی۔ پاکستانی قیادت نے مختلف عالمی اور علاقائی رہنماں سے رابطے کیے، کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اس امر کی وکالت کی کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جائے۔پاکستان کی سفارتی کوششوں کا سب سے نمایاں پہلو اس کا متوازن اور ذمہ دارانہ رویہ تھا۔ ایک طرف پاکستان کے برادر اسلامی ممالک کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں تو دوسری جانب امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی اس کے اہم روابط موجود ہیں۔ یہی توازن پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث اور رابطہ کار کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس موقع پر پاکستانی قیادت نے خطے میں امن و استحکام کے لیے جو پیغامات دیے، انہیں عالمی سطح پر مثبت انداز میں دیکھا گیا۔بین الاقوامی مبصرین کے مطابق پاکستان نے پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے مختلف فریقین کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سفارت کاری کی کامیابی اکثر اوقات میڈیا کی شہ سرخیوں میں نہیں آتی بلکہ خاموش کوششوں کے نتیجے میں سامنے آتی ہے۔ پاکستان کی کوششیں بھی اسی نوعیت کی تھیں جن کا بنیادی مقصد تصادم کے امکانات کو کم کرنا اور مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا تھا۔اگر آبنائے ہرمز کے حوالے سے کشیدگی میں کمی آتی ہے یا کسی قسم کی ناکہ بندی کے خاتمے کی راہ ہموار ہوتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں استحکام آئے گا، توانائی کی فراہمی بہتر ہوگی اور عالمی تجارت کو درپیش خطرات میں کمی واقع ہوگی۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہوگی کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں استحکام براہِ راست قومی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔پاکستان کی سفارتی کامیابی کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ طاقت کا اصل استعمال جنگ مسلط کرنے میں نہیں بلکہ امن قائم کرنے میں ہے۔ آج کے دور میں وہی ممالک زیادہ احترام حاصل کرتے ہیں جو بحرانوں کو بڑھانے کے بجائے ان کے حل میں کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا خواہاں ہے۔یہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کی موجودہ قیادت نے خارجہ محاذ پر متحرک کردار ادا کرتے ہوئے ملک کے مثبت تشخص کو اجاگر کیا ہے۔ عالمی رہنمائوں کے ساتھ مسلسل رابطے، علاقائی استحکام کے لیے کوششیں اور امن کے فروغ کا عزم پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیادی ترجیحات کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اس حکمت عملی نے پاکستان کو ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر مزید مضبوط مقام دلایا ہے۔آج دنیا کو ایسے ممالک کی ضرورت ہے جو اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے پر یقین رکھتے ہوں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی سوچ کی عکاس ہیں۔ اگر خطے میں امن قائم رہتا ہے اور آبنائے ہرمز جیسے حساس مسئلے پر کشیدگی کم ہوتی ہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔بلاشبہ، امن کی راہ طویل اور صبر آزما ہوتی ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ مستقل مزاج سفارت کاری اور دانشمندانہ قیادت بڑے سے بڑے بحران کو بھی حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں بلکہ امن، تصادم نہیں بلکہ مکالمہ، اور کشیدگی نہیں بلکہ استحکام کا خواہاں ہے۔ یہی سوچ مستقبل میں خطے اور دنیا کو زیادہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

