صحت

گرم موسم کی شدت اور توند سے نجات دلانے والا مزیدار مشروب

اگر آپ توند سے نجات پانا چاہتے ہیں یا پیٹ پھولنے کے مسئلے سے پریشان ہیں تو اس موسم کے ایک فائدہ مند مشروب کو پینا عادت بنالیں۔

ستو سے بننے والا یہ مشروب گرم موسم میں جسم کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جو ڈی ہائیڈریشن سے بچانے کے ساتھ گرمی کے اثرات سے بھی بچاتا ہے۔

ستو ایک قسم کا آٹا ہے جسے مختلف قسم کی گندم یاجو وغیرہ کو آگ پر پکا کر حاصل کیا جاتا ہے۔ اس شربت بنایا جاتا ہے جبکہ کئی اقسام کی دیگر کھانوں میں بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

توند سے نجات

ستو پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ پروٹین جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے، پروٹین سے مسلز کو بنانے میں مدد ملتی ہے جبکہ یہ پیٹ کو بھی دیر تک بھرے رکھتا ہے، اس کے علاوہ ستو میں موجود پروٹین جسمانی وزن میں کمی یا یوں کہہ لیں چربی گھلانے کا بھی کام کرتا ہے، ستو پیٹ پھولنے کے مسئلے کو بھی دور کرتا ہے جبکہ میٹابولزم کو تیز کرتا ہے جس سے جسم کو کیلوریز جلانے میں مدد ملتی ہے۔

نظام ہاضمہ میں بہتری

خالی پیٹ ستو کا شربت پینا معدے کے مختلف مسائل پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے، اس کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے جو گرم موسم کی شدت کو کم کرتی ہے، جبکہ ستو فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو قبض کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔

جسمانی توانائی میں اضافہ

ستو میں آئرن موجود ہوتا ہے جو جسم میں خون کے سرخ خلیات کی نشوونما میں مدد دیتا ہے، جس سے جسم کو زیادہ آکسیجن ملتی ہے اور دن بھر جسمانی توانائی برقرار رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔

ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کے لیے مفید

ستو میں گلیسمیک انڈیکس بہت کم ہوتا ہے، اسی وجہ سے یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے کافی مفید ہوتا ہے۔ اس کا استعمال معمول بنانا (چینی یا گڑ کے بغیر) بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھتا ہے، اس کے علاوہ ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد کے لیے بھی اس کا شربت مفید ہے۔

ستو کا شربت بنانے کا طریقہ

ستو کو شکر (پسا ہوا گڑ) میں مکس کریں اور پھر اسے مکسچر کو ٹھنڈے پانی میں ڈال کر اچھی طرح مکس کریں، اس کے بعد اس میں تھوڑا سا لیموں کا عرق شامل کرکے پی لیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

سائنسدان پہلی بار جینوم سے ایچ آئی وی کا خاتمہ کرنے میں کامیاب

سائنسدانوں نے پہلی بار ادویات اور جین ایدیٹنگ کی مدد سے لیبارٹری کے چوہے کے پورے جینوم میں ایچ آئی وی کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔

اس کامیابی سے سائنسدانوں کو توقع ہے کہ اس 2 نکاتی طریقہ کار کی مدد سے اس لاعلاج مرض کے شکار انسانوں کے لیے پہلی بار علاج تشکیل دیا جائے گا اور انسانوں پر اس کی آزمائش اگلے سال سے شروع ہوگی۔

اب تک صرف 2 افراد کے ایچ آئی وی کا علاج ہوسکتا ہے جو کہ دونوں بلڈ کینسر کا شکار تھے اور ایک خطرنک بون میرو ٹرانسپلانٹ کے عمل سے گزر کر دونوں بیماریوں سے نجات پانے میں کامیاب ہوئے۔

مگر یہ طریقہ کار ہر ایک پر کام نہیں کرتا بلکہ کچھ کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ مریض ایچ آئی وی اور کینسر دونوں بیماریوں کا شکار ہوں۔

امریکا کی نبراسکا یونیورسٹی کے ماہرین نے ایچ آئی وی سے نجات دلانے والے نئے طریقہ کار کو دریافت کرنے میں کامیابی حاصل کی جو کہ 5 سال سے اس پر کام کررہے تھے۔

اس طریقہ کار میں انہوں نے آہستی سے اثر کرنے والی ادویات اور جین ایڈیٹنگ کرسپر کاس 9 کا استعمال کیا اور اس کے نتیجے میں لیبارٹری کے ایک تہائی چوہوں کے مکمل جینوم سے ایچ آئی وی کو ختم کرنے میں کامیاب رہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس کامیابی پر ہمیں یقین ہی نہیں آیا، پہلے تو ہمیں لگا کہ یہ اتفاق ہے یا گرافس میں کوئی گڑبڑ ہے، مگر کئی بار اس عمل کو دہرانے کے بعد ہمیں یقین آیا ہے کہ ہم نے بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ طبی جریدوں نے بھی ہم پر یقین نہیں کیا اور کئی بار ہمارے مقالے کو مسترد کیا گیا اور ہم بڑی مشکل سے یقین دلانے میں کامیاب ہوئے کہ ایچ آئی وی کا علاج اب ممکن ہے۔

ایچ آئی وی سے نجات اس لیے لگ بھگ ناممکن ہوتی ہے کیونکہ یہ وائرس جینوم کو متاثر کرتا ہے اور خود کو خفیہ مقامات پر چھپا کر کسی بھی وقت دوبارہ سر اٹھالیتا ہے۔

ویسے اس وقت ایسی انتہائی موثر ادویات موجود ہیں جو اس وائرس کو دبا دیتی ہیں اور مریض میں یہ وائرس ایڈز کی شکل اختیار نہیں کرپاتا جس سے صحت مند اور لمبی زندگی گزارنا ممکن ہوجاتی ہے، تاہم یہ ادویات ایچ آئی وی کو ختم کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔

اب محققین اس نئے طریقہ کار کو بندروں پر آزمائیں گے اور توقع ہے کہ اگلے سال موسم گرما میں انسانوں پر اس کا ٹیسٹ شروع ہوگا۔

محققین کا کہنا تھا کہ ابھی اسے مکمل علاج قرار نہیں دیا جاسکتا ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ کم از کم یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ ایچ آئی وی کا مکمل علاج ممکن ہے۔

تلی ہوئی غذائیں کھانے کا شوق جان لیوا بیماری کا شکار بنائے

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو تاریخی کامیابیاں مل رہی ہیں ، آئی ایم ایف کی جانب سے قرضہ منظور ہونے سے قبل اس نقار خانے میں طرح طرح کی آوازیں آرہی تھیں ، ہر ایک بھانت بھانت کی بولی بول رہا تھا، سب یہ کہہ رہے تھے کہ خدانخواستہ ملک دیوالیہ ہو جائے گا لیکن آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے چھ ارب ڈالرز کا قرضہ منظور کرلیا، اس سے ایک دن قبل سعودی عرب نے موخرادائیگی کے عوض پاکستان کو پٹرول دینے کا بھی اعلان کیا ہے ۔ اس اعتبار سے پاکستان کی معیشت مضبوط ہوتی جارہی ہے ۔ ڈالر کو بھی کنٹرول کیا جارہا ہے ۔ عالمی مالیاتی ادارے ;200;ئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 6 ارب 20 کروڑ ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری دے دی ۔ ترجمان ;200;ئی ایم ایف جیری رائس نے قرض کی منظوری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قرض پاکستان کے اقتصادی پلان کی مدد کیلئے دیاجائے گا، اس سے پاکستان کی معیشت کی تسلسل سے ترقی بحال ہوگی اور پاکستان میں معیار زندگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی، تین سال کیلئے 6ارب ڈالر پیکیج کی منظوری ;200;ئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے دی ۔ ;200;ئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ادارہ پاکستان کو تین سال میں 6 ارب ڈالر فراہم کرے گا ۔ پاکستان کو فوری طور پر ایک ارب ڈالر ملیں گے جبکہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو 2 ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے ۔ اس قرض سے پاکستان کی معاشی مشکلات کم ہوں گی ، توانائی کے شعبے میں خسارے کو کم کیا جائے گا ، اداروں کو مضبوط اور شفافیت کو فروغ دیا جائے گا ۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ زر مبادلہ کی شرح کا تعین پاکستان خود کرے گا ۔ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ ;200;ئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کیلئے 6 ارب 20 کروڑ کے قرض کی منظوری دی گئی ہے جس سے معاشی کمزوریاں دور ہوں گی اور معیشت میں استحکام ;200;ئے گا ۔ اس پیکج سے معیشت کے کمزور سیکٹر کو تحفظ ملے گا ، ایجنڈے کے تحت ملکی ;200;مدن بڑھائی جائے گی ۔ یہ تمام تر اقدامات اس وجہ سے کیے گئے ہیں کہ حکومت پاکستان نے کرپشن کیخلاف حتمی اور نتیجہ خیز اعلان کیا ہے ۔ ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کیا تھا اس میں چند دن کا اضافہ کیا گیا ساتھ ہی یہ بتا دیا گیا تھا کہ اس کے بعد اضافہ نہیں ہوگا جیسے ہی وقت ختم ہوا اس کے ساتھ ہی حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے سینیٹر چوہدری تنویر کی6ہزار کنال زمین ضبط کرلی جبکہ مشیر اطلاعات کے مطابق سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی بھی اربوں کی جائیدادیں منجمد کردی گئی ہیں ۔ حکومت نے مزید فہرستیں تیار کرلی ہیں اور بتایا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایسے سینکڑوں افراد کی جائیدادیں بحق سرکار ضبط کرلی جائیں گی جوکہ بے نامی ہیں ۔ حکومت کی جانب سے بے نامی اثاثے ظاہر کرنے کی مہلت ختم ہوگئی،فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)نے حکومتی ڈیڈلائن ختم ہوتے ہی اسلام آباد، راولپنڈی اور کراچی میں بے نامی جائیدادوں کی ضبطی شروع کردی ۔ اثاثے ڈیکلریشن اسکیم کا وقت ختم ہوتے ہی ایف بی آر نے اسکیم سے فائدہ اٹھانے کا پورٹل بند کر دیا، اب اسکیم سے مزید فائدہ نہیں اٹھایا جاسکے گا ۔ چوہدری تنویر کی پراپرٹی منجمد کرنے کے احکامات ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے جاری کئے،دوسری جانب کراچی میں بھی بے نامی جائیدادوں کے خلاف کاروائی کا آغاز ہو گیا ہے ۔ کراچی میں بے نامی اثاثے رکھنے والوں کو نوٹس ڈپٹی کمشنر انکم ٹیکس سید مشکور علی نے جاری کئے ۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ کارروائی کا وقت شروع ہوگیا ہے ۔ حکومت نے انہیں قانونی حد میں آنے کا پورا موقع دیا تھا،یہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ اس بار ویسا ہی ہوگا جیسا ہوتا آیا ہے جبکہ وزیراعظم صرف کارروائی چاہتے ہیں ۔ وزیراعظم کی معاون برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ایف بی آر نے زرداری خاندان کے اربوں روپے کے بے نامی اثاثے بھی منجمد کردئیے ہیں ۔ ابھی تو یہ ابتدائے عشق ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ، حکومت مساوات کو قائم رکھتے ہوئے بے نامی اثاثوں کیخلاف کارروائی جاری رکھے چاہے اس میں کوئی بھی ملوث ہو اس کی جائیداد ضبط کرنی چاہیے انہی بنیادوں کو دیکھتے ہوئے آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے قرضوں کی منظوری دی ہے ۔ اگر ان اقدامات میں لیت و لعل سے کام لیا گیا تو آنے والے وقت میں بہت زیادہ مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔ وزیراعظم نے بھی دوٹوک اور واضح انداز میں کہاکہ چاہے کسی بادشاہ کی سفارش کراءوں یا گھٹنے پکڑو میں کسی صورت بھی این آراو نہیں دوں گا ۔ اس اعتبار سے سب کو یہ جان لینا چاہیے کہ اب کرپٹ افراد کی اس ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔

بھارت کی ریاستی دہشت گردی

بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں ، پہلے وہ ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ کرتا رہتا ہے جس کا پاک فوج منہ توڑ جواب دیتی ہے مگر چونکہ مودی بنیادی طورپر امن پسند نہیں بلکہ دہشت گردوں کا حامی ہے اسی وجہ سے اس نے خطے کا امن و امان تہہ و بالا کرکے رکھا ہوا ہے ۔ آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن پر دھماکے میں پاک فوج کے 5 جوان شہید ہوگئے جبکہ ایک جوان زخمی بھی ہوا ۔ لائن آف کنٹرول سے چند میٹر دور چھمب سیکٹر کے علاقے برنالہ میں دھماکا خیز مواد پھٹا ۔ پاک فوج کے ترجمان اور آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ واقعہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے ، بھارت سیزفائرمعاہدے اور بین الاقوامی قواعد کی خلاف ورزی کر رہا ہے، دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جارہا ہے ۔ پاک فوج کے ترجمان کے مطابق بھارت دوطرفہ سیز فائر معاہدے اور بین الاقوامی قواعد کی خلاف ورزی کر رہا ہے، بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کو ان مذموم کارروائیوں سے روکے جس سے خطے کا امن داءو پر لگ سکتا ہے ۔

آرمی چیف کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس

مسلح افواج کے سربراہ نے بالکل درست کہا کہ اس وقت ملک ترقی کی مثبت سمت کی جانب بڑھ رہا ہے کیونکہ حکومت معاشی اعتبار سے ملک کو مضبوط کرنے کیلئے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں کرپشن کیخلاف بھی بالکل کھلے عام جنگ جاری ہے، اب وقت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ کرپشن کو جڑ سے ختم کیا جائے، یہ ایک ایسا ناسور ہے جو وطن عزیز اور قوم کوگُھن کی طرح کھارہا ہے، اگر اب بھی اس کو نہ روکا گیا تو ناقابل تلافی نقصان ہوگا انہی اقدامات کے تحت ملک ترقی کی جانب رواں دواں ہے ۔ ;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاکستان امن اور ترقی کی مثبت سمت میں بڑھ رہا ہے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( ;200;ئی ایس پی ;200;ر)کے مطابق ;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہوئی ۔ کور کمانڈرز کانفرنس میں جیو اسٹرٹیجک اور علاقائی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔ کانفرنس میں قومی سلامتی کی صورتحال، بھارت، افغانستان اور ایران سمیت علاقائی سیکیورٹی صورت حال کا جائزہ بھی لیا گیا ۔ ;200;رمی چیف نے کور کمانڈرز کانفرنس میں قومی معیشت کو مضبوط اور بہتر بنانے کے مشکل مگر انتہائی ضروری حکومتی اقدامات سے ;200;گاہ کیا ۔ سربراہ پاک فوج نے کہاکہ پاکستان امن اور ترقی کی مثبت سمت میں بڑھ رہا ہے، پاکستان پائیدار امن اور خوشحالی کی مثبت سمت میں ;200;گے بڑھتا رہے گا ۔

کھانے کے مخصوص اوقات صحت کے لیے ضروری کیوں؟

کیا آپ نے کبھی رات کا کھانا کسی کام میں پھنسے ہونے کی وجہ سے کافی دیر کے لیے ملتوی کردیا؟ یا زیادہ دیر تک سونے کی وجہ سے ناشتے کو چھوڑ دیا؟ کیا دیر سے کھانا یا نہ کھانا کچھ زیادہ بڑا مسئلہ نہیں؟

اگر تو آپ ایسا سوچتے ہیں تو درحقیقت متعدد امراض کو دعوت دے رہے ہوتے ہیں۔

یہ انتباہ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کھانے کے اوقات میں غیرمعمولی تبدیلیاں موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس ٹائپ ٹو جیسے امراض کے خطرات بڑھاتی ہیں چاہے آپ کم کیلوریز کو ہی جسم کا حصہ کیوں نہ بنائیں۔

تحقیق کے مطابق معمول کے اوقات میں خوراک کا استعمال کرنے والے افراد جسمانی لحاظ سے موٹاپے کے شکار نہیں ہوتے تاہم دیر سے یا چھوڑ دیےن کے عادی افراد موٹاپے کے شکار ہوجاتے ہیں۔

محققین کا تو کہنا تھا کہ اگرچہ کھانے کے اوقات میں تبدیلی یا ان سے منہ موڑنا بظاہر کسی قسم کے نقصان کا باعث نظر نہیں آتے مگر اس کے نتیجے میں میٹابولزم اور جسمانی گھرڑی کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر شخص کی جسمانی گھڑی 24 گھنٹوں کے اندر مخصوص اوقات میں بھوک، ہضم، کولیسٹرول، گلوکوز اور چربی کے میٹابولزم کی عادی ہوتی ہے تاہم کوئی خاص وقت نہ ہونا اس گھڑی کے افعال کو متاثر کتا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ مداخلت موٹاپے اور دیگر طبی خطرات کا باعث بنتی ہے۔

تو محققین نے مشورہ دیا ہے کہ روزانہ ایک ہی وقت کھانے کی عادت پر قائم رہنا صحت کے لیے بہتر ثابت ہوتا ہے۔

یہ تحقیق طبی جریدے پروسیڈنگز آف دی نیوٹریشن سوسائٹی میں شائع ہوئی۔

وہ عام عادت جو دل کی صحت کے لیے تباہ کن

 دن کے اختتام پر گھر یں سکون سے بیٹھ کر ٹیلیویژن دیکھنا کافی اچھا خیال لگتا ہے مگر یہ عادت دل کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ دن بھر میں 4 گھنٹے سے زیادہ ٹی وی دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں، ان میں امراض قلب اور فالج سے موت کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سارا دن بیٹھ کر گزارنے کے مقابلے میں ٹی وی کے سامنے بیٹھنا دل کے لیے زیادہ تباہ کن ثابت ہوتا ہے کیونکہ پروگرام دیکھتے ہوئے لوگ اکثر زیادہ چربی والی غذائیں کھانا پسند کرتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ درمیانی عمر میں اس عادت کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک، فالج اور دیگر امراض قلب کا کطرہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ ایسے افراد دن کے اختتام پر جب ٹی وی دیکھنے بیٹھتے ہیں تو اس کے بعد وہ اپنی جگہ سے اسی وقت ہلتے ہیں، جب وہ سونے کے لیے بستر پر جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ٹی وی دیکھتے ہوئے زیادہ مقدار میں غذا کو جزوبدن بنانا اور پھر گھنٹوں تک بیٹھے رہنے ایک خطرناک امتزاج ہے جبکہ رات کے کھانے سے ہٹ کر بھی لوگ ٹیلیویژن دیکھتے ہوئے کچھ نہ کچھ کھانا پسند کرتے ہیں جو کہ عام طور پر چپیس یا زیادہ نمک یا چینی والی کوئی چیز ہوتی ہے۔

ساڑھے 3 ہزار سے زائد افراد میں اس عادت کا جائزہ 8 برسوں سے زائد عرصے تک لیا گیا اور دریافت کیا گیا کہ جو لوگ دن میں کئی گھنٹے ٹی وی دیکھتے ہوئے گزارتے ہیں، وہ جسمانی طور پر بہت کم متحرک ہوتے ہیں، جس سے جسمانی وزن بڑھ جاتا ہے، جبکہ ان کی غذائی عادات بھی ناقص ہوتی ہیں اور اکثر ہائی بلڈ پریشر کا بھی شکار ہوتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں ہر عمر کے افراد خصوصاً درمیانی عمر میں ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

محققین نے مشورہ دیا کہ اگر آپ دن بھر میں کئی گھنٹے تک ٹی وی دیکھنے کے عادی ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ ہفتہ بھر میں 150 منٹ تک سخت جسمانی سرگرمیوں کو بھی زندگی کا حصہ بناکر اس خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔

یا ورزش کرنا مشکل لگتا ہے تو کم از کم تیز چہل قدمی یا جاگنگ کو ضرور اپنا کر بہت زیادہ وقت ٹی وی دیکھنے سے لاحق ہونے والے خطرات کو کم کرسکتے ہیں۔

زیادہ نمک کھانے کی عادت کا ایک اور نقصان سامنے آگیا

بہت زیادہ یا بہت تیزی سے کھانے کے نتیجے میں پیٹ پھول جاتا ہے یا یوں کہہ لیں اندر سے سوج جاتا ہے جس کے نتیجے میں کافی تکلیف کا سامنا ہوتا ہے۔

مگر ایسا بھی ممکن ہے کہ آپ کی غذا میں ہمیشہ شامل کی جانے والی ایک چیز اس مسئلے کا باعث ہو۔

کہا جاتا ہے کہ زیادہ نمک کھانے کی عادت بلڈ پریشر کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے مگر اس کے نتیجے میں پیٹ پھولنے کے مسئلے کا بھی زیادہ سامنا ہوتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

جونز ہوپکنز بلومبرگ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ غذا میں زیادہ نمک کھانے کے عادی ہوتے ہیں، ان کو پیٹ پھولنے کے مسئلے کا بھی زیادہ سامنا ہوتا ہے۔

پیٹ پھولنے کی شکایت دنیا بھر میں بہت عام ہے اور محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اپنی غذا میں نمک کی مقدار کم کرکے بھی اس مسئلے پر قابو پاسکتے ہیں۔

پیٹ پھولنے کا مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب معدے میں گیس کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کہ نمک اس کی وجہ بننے والے عمل کو متحرک کرنے کا باعث بنتا ہے۔

یہ پہلی بار ہے جب دریافت کیا گیا کہ نمک پیٹ پھولنے کے مسئلے کا باعث بنتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ زیادہ نمک کھانے والوں میں پیٹ پھولنے کا خطرہ 27 فیصد تک بڑھ جاتا ہے اور اس سے بچنے کا ایک موثر طریقہ غذا میں نمک کی مقدار کم کردیتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے امریکن جرنل آف Gastroenterology میں شائع ہوئے۔

صاف ستھری مچھلی کھانے سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ کم ہوجاتا ہے

سویڈن: مچھلی کھانے کے بہت سے فوائد مسلمہ ہیں اور اب سویڈن کےماہرین نے کہا ہے کہ اگر آپ صاف ستھرے پانی سے پکڑی گئی اور غیرآلودہ مچھلی کھائیں تو جہاں اس کے بہت سے فوائد حاصل ہوں گے وہیں اس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بھی کم کیا جاسکتا ہے۔

یہ تحقیق سویڈن میں واقع چامرز یونیورسٹی کے ماہرین نے کی ہے اور انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر آلودہ مچھلی کھائی  جائے تو اس کے سارے فوائد ضائع ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تحقیق غذا کے معیار اور صفائی پر مزید روشنی ڈالتی ہے۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ بعض تحقیقات سے تیل والی مچھلیوں اور ذیابیطس پر جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ ایک دوسرے کا رد کرتے ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ایسی مچھلیاں شوگر کو دور رکھتی ہیں جبکہ بعض ماہرین نے یہاں تک کہدیا کہ مچھلی کھانے سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

چامرز یونیورسٹی کے ماہرین نے اسی سوال کا جواب تلاش کیا ہے اور وہ یہ ہےکہ اگر مچھلی بالکل صاف ستھری ہو تو اس کا فائدہ ہوگا ورنہ آلودہ مچھلی کھانے سے الٹا نقصان ہوسکتا ہے۔

اب سائنسدانوں کا اصرار ہے کہ مچھلی صاف ہوتو ذیابیطس میں فائدہ ہوگا اور اگر آلودہ ہوئی تو الٹا نقصان اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اس کی دلیل دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ آلودہ پانی میں ڈائی آکسن، ڈی ڈی ٹی، پی سی بی جیسے آلودہ کیمیکل پائے جاتے ہیں جو سمندری غذاؤں میں سرایت کرجاتے ہیں اور یہ آلودہ مرکبات انسانی جسم میں جاکر ٹائپ ٹو ذیابیطس کی وجہ بن سکتے ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ ڈائی آکسن ہوں یا پی سی بی جیسے آلودہ مرکبات ہوں وہ غذاؤں کے ذریعے ہی ہمارے جسم میں سرایت کرتے ہیں۔ یہ مرکبات چکنے گوشت والی مچھلیوں میں ذیادہ جمع ہوتے ہیں اور یوں وہ ذیابیطس سمیت کئی پیچیدگیوں کی وجہ بنتے ہیں۔

موت کے قریب انسان کیا دیکھتے یا محسوس کرتے ہیں؟

موت کے قریب انسان کیا دیکھتے ہیں یا وہ کیا کچھ دیکھتا یا محسوس کرتا ہے، اس بارے میں معلومات تو نہ ہونے کے برابر ہے، مگر اب سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا بھر میں 10 فیصد افراد زندگی میں ہی اس قسم کے تجربے سے گزرتے ہیں۔

35 ممالک میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہر 10 میں سے ایک ایک فرد کو قریب المرگ یا سکتے کا تجربہ ہوتا ہے جس کے دوران وہ متعدد روحانی اور جسمانی تجربات سے گزرتے ہیں، جیسے روح جسم سے باہر نکلنے، دنیا سے گزر جانے والے پیاروں کو دیکھنا، خیالات کی دوڑ اور وقت کا احساس تھم جانا وغیرہ۔

طبی زبان میں اسے نیئر ڈیتھ ایکسپیرنس (این ای ڈی) کہا جاتا ہے جو ایسے افراد میں عام ہوتا ہے جن کو زندگی کے لیے خطرہ بن جانے والے واقعات جیسے ہارٹ اٹیک، گاڑیوں کے حادثات، ڈوبنے یا جنگی حالات کا سامنا ہوتا ہے۔

ڈنمارک میں ہونے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس طرح کے تجربے سے گزرنے والے 87 فیصد افراد کو وقت کے غیرمعمولی تصور کا تجربہ ہوا، خیالات کی رفتار بہت تیز ہوجانے کا سامنے کرنے والے افراد کی شرح 65 فیصد رہی جبکہ روح جسم سے الگ ہونے کا تجربہ 53 فیصد افراد کو ہوا۔

کوپن ہیگن یونیورسٹی کے محققین نے بتایا کہ ایسے تجربات سے گزرنے والے افراد نے مکمل سکون کے احساس کا اظہار کیا ہے جبکہ فرشتوں کی آوازیں سننے کے ساتھ اپنی زندگی کو آنکھوں کے سامنے بجلی کی طرح گزرتے دیکھنے کا بھی سامنا ہوا۔

اسی طرح کچھ افراد نے ایک تاریک سرنگ کے ایک کونے میں چمکدار روشنی کو دیکھنے کے بارے میں بتایا جبکہ کچھ کا کہنا تھا کہ انہیں اس طرح کے سکتے سے قبل اپنے ارگرد کسی اور کی موجودگی کا احساس بھی ہوا۔

اس تحقیق کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد سے آن لائن سوالات کیے گئے اور ان سے پوچھا گیا کہ انہیں کبھی موت کے منہ میں جانے کا تجربہ ہوا ؟

محققین کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس طرح کے تجربات اور انتہائی گہری نیند کے درمیان تعلق موجود ہے، جس کے بارے میں فی الحال تفصیلات موجود نہیں۔

اس تحقیق کے نتائج یورپین اکیڈمی آف نیورولوجی کی کانفرنس میں پیش کیے گئے۔

Google Analytics Alternative