صحت

کینسر کیسے ہوتا ہے؟

کینسر کو اس وقت دنیا میں تیزی سے پھیلنے والے موذی امراض میں شمار کیا جاتا ہے اور ماہرین صحت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اس کی بروقت تشخیص ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ طریقہ کار کے تحت کینسر کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب وہ شروع ہوچکا ہوتا ہے اور وہ پہلی یا دوسری اسٹیج پر پہنچ چکا جاتا ہے۔

عام طور پر ’بریسٹ کینسر‘ کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب وہ دوسری یا تیسری اسٹیج پر پہنچ چکا ہوتا ہے، اسی طرح دیگر طرح کے کینسر بھی تاخیر سے تشخیص ہوتے ہیں۔

کینسر کی تشخیص کے بعد اگرچہ ماہرین اس کے ہونے کی وجوہات بھی جان لیتے ہیں،تاہم اب ماہرین نے ایک نئی تحقیق پر کام شروع کیا ہے جس کا مقصد کینسر کے پیدا ہونے کی وجوہات جاننا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق امریکا و برطانیہ کے ماہرین صحت نے مشترکہ طور پر ایک نئی تحقیق پر کام شروع کردیا۔

رپورٹ کے مطابق ’کینسر ریسرچ یوکے‘ برطانوی یونیورسٹی آف کیمبرج، یونیورسٹی کالج آف لندن اور امریکا کی ’اسٹین فورڈ اور اوریگن یونیورسٹی کے ماہرین کے ساتھ کینسر کے پیدا ہونے کی وجوہات پر تحقیق کرنے کا خیال شیئر کیا، جس کے بعد تمام اداروں کے ماہرین اس معاملے پر تحقیق کریں گے۔

نئی تحقیق کے دوران ماہرین اس بات کا پتہ لگائیں گے کہ کینسر کیسے ہوتا ہے اور وہ پہلے دن انسانی جسم پر کس طرح نمودار ہوتی ہے۔

اس نئی تحقیق کے دوران ماہرین خون، سانس اور پیشاب کے ٹیسٹ سمیت دیگر طریقہ کار کے تحت اس بات کو معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ کینسر کیسے ہوتا ہے۔

ماہرین اس دوران ایسے مشکوک افراد کو جدید آلات کے ذریعے معائنہ بھی کریں گے جن میں کینسر ہونے کے امکانات کے شکوک و شبہات موجود ہوں۔

اس منفرد تحقیق پر پہلی بار مرتبہ امریکی و برطانوی ماہرین مل کر کام کریں گے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ماہرین کو اس تحقیق میں کم سے کم تین دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

اس وقت دنیا بھر میں کوئی ایسا طریقہ موجود نہیں، جس کے تحت یہ معلوم کیا جا سکے کہ کینسر کیسے ہوتا ہے اور اس کے پیدا ہونے کے ابتدائی دن میں انسانی جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

کینسر کیسے ہوتا ہے پر تحقیق کرنے والی ٹیم میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں عام طور پر اس وقت کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جب وہ پروان چڑھ چکا ہوتا ہے اور بعض اوقات تو کینسر کی تشخیص آخری اسٹیج میں ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ کینسر اس وقت تیزی سے بڑھنے والا موذی مرض ہے اور حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق 2024 تک دنیا بھر میں کینسر کے کیسز کی تعداد 60 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔

حال ہی میں ہونے والی ورلڈ کینسر لیڈر کانفرنس کے دوران ماہرین نے کہا کہ دنیا بھر میں کینسر بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کی بڑی وجوہات تمباکو نوشی، ناقص غذا اور دنیا بھر بیٹھے رہنا ہیں، جو اس کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتی ہیں اور 2024 تک ایسے کیسز کی تعداد 60 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔

سردیوں میں موسمی نزلہ زکام دور رکھنے میں مددگار غذائیں

موسم سرما کے ساتھ ہی نزلہ زکام، فلو اور بخار کا سیزن بھی شروع ہوجاتا ہے اور لوگ بہت تیزی سے ادویات اور سیرپ وغیرہ خریدنا شروع کردیتے ہیں۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ کچن میں موجود چند چیزیں اس حوالے سے ادویات سے زیادہ موثر فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں اور مضر اثرات کا امکان بھی نہیں ہوتا۔

ویسے تو سوپ کا استعمال بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے مگر کچھ سبزیاں، پھل اور مشروبات آپ کو موسم سرما میں بھی ان عام بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔

جڑوں والی سبزیاں

وٹامن سی وہ اہم غذائی جز ہے جو سرد موسم میں موسمی نزلہ زکام کا دورانیہ کم کرنے کے ساتھ حالت کو بھی بہتر بناتا ہے، مالٹے اس کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے مگر جڑوں والی سبزیاں جیسے چقندر، گاجریں اور دیگر بھی یہ فائدہ پہنچاتی ہیں، گاجر کو تو آپ ایسے بھی کھاسکتے ہیں، ورنہ سالن یا سوپ میں ان کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

سبزچائے

سبز چائے سردیوں کے لیے بہترین گرم مشروب ہے، یہ ایسے منرلز اور وٹامنز فراہم کرتا ہے جو مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سبز چائے دیگر کیفین والی چائے کے مقابلے میں صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے، اس میں موجود ایک اینٹی آکسائیڈنٹس وائرس کو مارتا ہے۔

جو کا دلیہ

جو کا دلیہ سردیوں کے لیے ایک صحت بخش انتخاب ثابت ہوسکتا ہے، اس میں زنک اور حل پذیر فائبر ہوتا ہے، زنک سے مدافعتی نظام کو مدد ملتی ہے جبکہ فائبر جسم کو گرمائش کا احساس دینے کے ساتھ پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتا ہے۔

انار

سردیوں کا یہ پھل بہت کم عرصے تک ہی دستیاب ہوتا ہے اور اس کو چھیلنا کافی مشکل لگ سکتا ہے، یہ پھل اینٹی آکسائیڈنٹس اور ورم کش ہوتا ہے جو نزلہ زکام کو دور رکھنے میں مدد دیتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ دل کو تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے۔

آلو

سردیوں میں جسم گرمائش مانتا ہے اور آلو جسم کو گرمی فراہم کرسکتے ہیں، آلو کھانے سے دوران خون کا نظام بہتر ہوتا ہے اور جسمانی کاموں کے لیے ایندھن بھی ملتا ہے۔

میٹھا کدو

نارنجی رنگ کا یہ کدو بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتا ہے اور فائبر کے حصول کا بہترین ذریعہ بھی ہے جو سردیوں کی طویل راتوں میں بے وقت منہ چلانے کی عادت کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد دیتا ہے جبکہ موسمی نزلہ زکام سے بھی تحفظ ملتا ہے۔

لہسن

جراثیم کش خاصیت سے بھرپور یہ سبزی موسم سرما کے مخصوص بیکٹریا اور وائرسز وغیرہ کے خلاف بھرپور مزاحمت کرتی ہے۔ اس میں شامل جز الیسین انفیکشنز کو بلاک کرتا ہے اور چکن سوپ کے ساتھ اسے استعمال کریں آپ کو اس کے فوائد یقیناً حیران کرکے رکھ دیں گے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

طرز زندگی کی خراب عادات کینسر کے خطرے میں اضافے کی وجہ

آبادی اور بوڑھے افراد کے اضافے کے نتیجے میں دنیا بھر میں کینسر کیسز کی تعداد 2040 تک 60 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ہے مگر طرز زندگی کی خراب عادات اس اضافے کو زیادہ بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ بات ورلڈ کینسر لیڈر کانفرنس کے دوران کینسر اٹلس کے نئے ایڈیشن میں سامنے آئی ہے۔

درحقیقت دنیا بھر میں کینسر بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کی بڑی وجوہات تمباکو نوشی، ناقص غذا اور دنیا بھر بیٹھے رہنا ہیں، جو اس کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔

اس اٹلس میں دنیا بھر میں کینسر کا جائزہ لیا گیا جو کہ امریکن کینسر سوسائٹی، یونین فار انٹرنیشنل کینسر کنٹرول اور انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر نے تیار کیا۔

کینسر اس وقت دنیا بھر کے 91 ممالک میں 70 سال سے کم عمر افراد کی اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے اور کینسر کی روک تھام میں پیشرفت ممکن ہے۔

اس اٹلس یا رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی کینسر سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی روک تھام کی جاسکتی تھی۔

صرف 2017 میں تمباکو نوشی کے نتیجے میں 23 لاکھ اموات ہوئیں اور ان میں سے 24 فیصد کینسر کی وجہ سے ہوئیں۔

انفیکشن ایجنٹ دنیا بھر میں 15 فیصد نئے کیسز کی وجہ بنتے ہیں جن میں ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی وغیرہ نمایاں ہیں۔

موٹاپا اور جسمانی وزن زیادہ بڑھ جانے سے 13 اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جبکہ یہ 2012 میں کینسر کے 3.6 فیصد کیسز کی وجہ بنا۔

رپورٹ کے مطابق موٹاپے، ناقص غذا اور سست طرز زندگی سے جڑے کینسر کیسز کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے جبکہ الکحل سے پوری دنیا میں کینسر سے ہونے والی اموات کی شرح 4.2 فیصد ہے۔

لگ بھگ ہر ملک میں بریسٹ کینسر خواتین میں سب سے عام کینسر ہے اور ہر 4 میں سے ایک کیس ان میں ہی سامنے آتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر مٰں ہر سال 2 لاکھ 70 کینسر کیسز بچوں میں تشخیص ہوتے ہیں اور اس حوالے سے 80 فیصد کیسز ترقی یافتہ ممالک میں رپورٹ ہوتے ہیں۔

بڑی عمر میں ورزش کرنے کے خطرناک نتائج بھی ہوسکتے ہیں، تحقیق

لندن: سائنس دانوں نے 36 ہزار عمر رسیدہ افراد کے مشاہدے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ بڑی عمر کے افراد کے خود کو فٹ رکھنے کے لیے غیر محتاط ورزش کا معمول ان کی صحت کے لیے خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

برطانوی تحقیقی جریدے میں شائع ہونے والے مقالے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نوجوانی کی عمر میں ورزش کو معمول بنا لینا چاہیئے اس سے صحت مند رہا جا سکتا ہے اور لمبی عمر بھی پائی جا سکتی ہے تاہم غفلت میں گزاری جوانی کے بعد بڑی عمر میں خود پر ورزش کے بوجھ لاد لینے سے مثبت کے بجائے منفی نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ بزرگوں کو ورزش کے لیے مستند اور ماہر انسٹرکٹر یا ڈاکٹر سے مشاورت کے بعد ورزش کرنی چاہیئے۔

امریکی اور برطانوی تحقیق کاروں نے وزن میں اضافے اور عمر بڑھنے کے ساتھ موت کے تعلق کا مشاہدہ کیا اور نتائج کے طور پر وزن کم کرنے سے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں اور قبل از وقت موت کے خدشے کو بیان کیا گیا ہے جس میں سب سے زیادہ امراض قلب میں مبتلا افراد کو غیر محتاط ورزش کے باعث قبل از وقت اموات کے خطرے کا سامنا رہتا ہے۔

پروفیسر آن پین کا کہنا تھا کہ وہ افراد جو عمر بھر موٹے رہے ہوتے ہیں ایسے افراد کی قبل از وقت موت کے امکانات بھی کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں، اسی طرح 20 سال کی عمر کے بعد وزن بڑھنے اور درمیانی عمر تک یہی کیفیت رہنے سے ان افراد کی موت کے امکانات ان لوگوں کے مقابلے میں بڑھ جاتے ہیں جن کا وزن کم یا متوازن ہوتا ہے۔

پروفیسر آن پین نے مزید بتایا کہ عمر کے درمیانی حصے یا اس کے بعد غیر ارادی طور پر وزن کا کم ہونا کسی مرض کی علامت بھی ہو سکتا ہے کیوں کہ عمومی طور پر ذیابطیس یا سرطان کے باعث لوگوں کا وزن تیزی سے کم ہوتا ہے۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ ورزش کو بچپن سے ہی معمول بنایا جائے اور نوجوانی میں زیادہ اور بھرپور ورزش کی جائے تاہم ڈھلتی عمر کے ساتھ ورزش کو کم اور آسان کیا جائے۔

جوڑوں کے درد سننے والا مائیکروفون

لندن: پوری دنیا میں پلوں اور تعمیرات میں ٹوٹ پھوٹ نوٹ کرنے والے مائیکروفون عام استعمال ہوتے ہیں۔ یہ چھوٹے مائیکروفون کسی بھی قسم کی شکست و ریخت کو نوٹ کرتے ہیں۔

اب برطانوی ماہرین نے دعویٰ کیا ہےکہ عین اسی ٹیکنالوجی سے ہڈیوں کے جوڑوں کی ٹوٹ پھوٹ کا جائزہ لیا جاسکتا ہے کیونکہ ہڈیوں اور گٹھیا کے مرض کے شکار افراد سے اس فری کوئنسی کی آواز خارج ہوتی ہے جو سنائی نہیں دیتی لیکن دیگر آلات سے انہیں محسوس کیا جاسکتا ہے۔

لنکاسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر جان گڈایسر اور ان کے ساتھیوں نے پلوں پر لگنے والا مائیکروفون مریض کے گٹھنے پر لگایا ہے اور اندر کی آواز بتاتے ہیں کہ اندر کے جوڑوں میں اینٹھن ہے یا پھر سوجن موجود ہے۔

اسی بنیاد پر انہوں نے گٹھیا اور جوڑوں کے درد کی شناخت کے لیے اسے استعمال بھی کیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ خصوصاً گھٹنوں پر نرم کرکی ہڈی رگڑ کر خراب ہوجاتی ہے اور اس کے بعد وہاں سوزش اور درد شروع ہوجاتا ہے۔ اس عمل میں جوڑوں سے آوازیں بھی خارج ہوتی ہیں اور خود ایسی فری کوئنسی والی آوازیں بھی نکلتی ہیں جو ہمیں سنائی نہیں دیتیں۔

اسی لیے گھٹنوں پر حساس مائیکروفون لگا کر اس کا جائزہ لیا گا اور اس وقت گٹھیا کے دیگر ماہرین بھی موجود تھے۔ اس عمل میں 89 کے قریب مریضوں کے گھٹنوں پر مائیکروفون لگا کر ان کی آوازوں کو جمع کرکے اس کا کمپیوٹر سے جائزہ لیا گیا۔ مریضوں کو پہلے کھڑا کیا گیا اور اس کے بعد انہیں بٹھایا گیا ۔ اس طرح ہاتھ اور پیر ہلانے کے دوران آوازوں کو نوٹ کیا گیا۔

اس طرح تجزیہ کرنے میں بہت آسانی ہوئی کہ کونسا مریض جوڑوں کے درد کی کس شدت میں مبتلا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس نئی تکنیک کو ایکس رے کے ساتھ ملاکرمرض کی مزید بہتر تشخیص کی جاسکتی ہے۔

غذا میں فولاد کی مقدار بتانے والا کاغذی سینسر

الینوائے: ترقی پذیر اور غریب ممالک میں بالخصوص بچے غذائی قلت کے شکار ہوتے ہیں اور ان کے کھانوں میں ضروری اجزا ناپنے والے نظام بہت مہنگے ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر امریکی ماہرین نے کاغذ کا کم خرچ سینسر بنایا ہے جو اسمارٹ فون کے ذریعے کام کرتے ہوئے کھانے میں فولاد کی مقدار ناپ سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف الینوائے کے ماہرین کی اس ایجاد میں کیمیا، غذائی سائنس، کمپیوٹر، انجینئرنگ اور دیگر میدانوں سے مدد لی گئی ہے لیکن اس کے باوجود یہ کم خرچ ، دیرپا اور مؤثر ہے۔ اس کام کی سربراہ اینا والر ہیں اور اس کا تفصیلی مقالہ جرنل نیوٹریئنٹس میں شائع ہوا ہے۔

یہ ایک سادہ اور دیرپا کاغذی سینسر ہے جس سے حاصل شدہ ڈیٹا کی  تفصیل سیل فون پر دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کا ڈیٹا کلاؤڈ پر شامل کرکے پورے ملک کی غذا میں فولاد کی مقدار یا کمی بیشی کا احوال معلوم کیا جاسکتا ہے اور ماہرین کے مطابق یہ عالمی ادارہ صحت کے معیارات کے عین مطابق ہے۔

لیکن اس ایجاد کے لیے درست ترین کاغذ کا انتخاب ایک بڑا چیلنج تھا۔ اس کے لیے انہوں نے سلیکون پر مشتمل ہائڈرو فوبک (پانی دھکیل) کاغذ استعمال کیا جس سے بالکل درست نتائج حاصل ہوتے ہیں اور سینسر بھی بہتر بنتا ہے۔

اگلے مرحلے میں اینا نے کیمیا کا پس منظر استعمال کرتے ہوئے دیکھا کہ آخر فولاد کے ساتھ کونسا ری ایکشن ہے جس سے کاغذ کا رنگ بدل سکتا ہے جسے فیروزائن ری ایکشن بھی کہتے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے مائع کی مقدار کم کردی اور اس کی مائیکرولیٹر مقدار کاغذ پر ڈال کر اسے خشک کردیا اور سینسر بنایا۔

اس کے بعد اسے تنزانیہ میں فولاد والے آٹے اور شیر خوار بچے کے فارمولے سے  بھی آزمایا گیا  اور رنگ بدلنے کی صورت میں ایپ اس کا تجزیہ کرکے غذا میں فولاد کی مقدارنوٹ کرکے بتاتی ہے۔

کئی ممالک میں کیے گئے تجربات سے کاغذ کے سینسر کی افادیت سامنے آئی ہے لیکن اب بھی حتمی پراڈکٹ سے قبل کئی مراحل موجود ہیں جن سے گزرنے کے بعد ہی یہ ایجاد بازار میں پیش کی جاسکے گی۔

سائنسدان ہر طرح کے ’زکام‘ کی ایک ہی ویکسین تیار کرنے کے قریب

عام طور پر ’نزلہ و زکام‘ کو بڑی بیماری نہیں سمجھا جاتا، تاہم ماہرین صحت کے مطابق بعض مرتبہ اس بیماری کو اہمیت نہ دینے اور اس کا درست اور بروقت علاج نہ کروانے پر سنگین مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

نزلہ و زکام عام طور پر ’انفلوئنزا‘ نامی وائرس سے پیدا ہوتے ہیں اور یہ وائرس دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتا ہے۔

’انفلوئنزا‘ سے عام طور پر سب کو نزلہ و زکام ہوتا ہے، تاہم کئی افراد اس کی وجہ سے سانس، حلق کی نالیوں، پھیپھڑوں اور نظام تنفس کی بیماریوں کا شکار بھی ہوتے ہیں۔

’انفلوئنزا‘ کو وبائی زکام بھی کہا جاتا ہے اور یہ مون سون کے موسم میں پھیلنے والی عام بیماری ہے.

چونکہ یہ وائرس کھلی فضا میں موجود ہوتا ہے اس لئے ایک فرد سے دوسرے میں بآسانی منتقل ہوجاتا ہے. انفلوئنزا وائرس ہوا کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے اور ناک، گلے اور پھیپڑوں کو متاثر کرتا ہے. اس بیماری کی نشانیوں میں بہتی ہوئی ناک، جسم اور گلے میں شدید درد اور بخار شامل ہیں. اس وبائی مرض سے بچنے کے لئے اچھی غذا لینا چاہیے تاکہ جسم کی قوت مدافعت زیادہ مضبوط ہو جو اس وائرس کو ختم کرسکے.

اگرچہ دنیا بھر میں اس وقت بھی ’انفلوئنزا‘ یا نزلہ و زکام سے بچنے اور اس کے علاج کے لیے متعدد دوائیاں موجود ہیں، تاہم اب خبر سامنے آئی ہے کہ ماہرین صحت اس کے لیے ایک ایسی ویکسین تیار کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں جو ہر طرح کے نزلہ و زکام کو ختم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

سائنس جرنل میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق امریکا کی ماؤنٹ سنائی یونیورسٹی کے ماہرین نے دیگر اداروں اور ہسپتالوں کے ماہرین کے تعاون سے ایک ایسا طریقہ کار دریافت کرلیا ہے جسے مستقبل میں ’انفلوئنزا‘ کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین نے 2017 سے 6 درجن کے قریب رضاکاروں پر نئے طریقہ کار کے تحت ٹیسٹ کیے اور انہیں امید ہوئی ہے کہ یہ نیا طریقہ کار ایک ایسی ویکسین تیار کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو ’انفلوئنزا‘ وائرس سے ہونے والے ہر طرح کے نزلہ و زکام میں یکساں مفید ہوگی۔

ماہرین نے بتایا کہ نئے دریافت کیے گئے طریقہ کار پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اور اسے ایک ایسے ویکسین میں بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جو دنیا بھر میں ہر طرح کے نزلہ و زکام کے لیے موزوں ہو۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ نئے دریافت کیے گئے طریقہ کار پر کام کرکے اسے مزید بہتر بنایا جائے گا۔

خیال رہے کہ اس وقت دنیا بھر میں نزلہ و زکام کے لیے عام معالج اینٹی بائیوٹک اور اینٹی وائرل دوائیاں دیتے ہیں۔

دنیا کے مختلف ممالک میں انفلوئنزا سے بچاؤ کے لیے مختلف قسم کی دوائیاں دستیاب ہیں اور ہر طرح کے موسمی یا وبائی نزلہ زکام کے لیے بھی الگ الگ دوائیاں موجود ہیں۔

تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ دریافت کیے گئے نئے طریقہ کار سے صرف ایک ہی قسم کی دوائی سے انفلوئنزا سے شروع ہونے والے ہر طرح کے نزلہ و زکام کا علاج ممکن ہو سکے گا۔

عالمی بازار میں اضافے کے باوجود مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں کمی

کراچی: عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں 2 ڈالر اضافہ جب کہ مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 100 روپے کی کمی ہوگئی۔

عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں 2ڈالر کا اضافہ ہوا اور عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت 1491 ڈالر تک پہنچ گئی، تاہم اسکے برعکس مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ اور دس گرامی قیمت میں بالترتیب 100 روپے 85 روپے کی کمی ہوئی۔

قیمتوں میں کمی کے بعد کراچی، حیدرآباد، سکھر، ملتان، فیصل آباد، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت کم ہوکر 86 ہزار 900 روپے جب کہ دس گرام سونے کی قیمت گھٹ کر 74 ہزار 503 روپے ہوگئی۔ اس کے برعکس فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 1040 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت 891 روپے 63 پیسے پر مستحکم رہی۔

 

Google Analytics Alternative