صحت

توند کی چربی گھٹانے میں مددگار غذائی عادات

پیٹ اور کمر کے ارگرد چربی کا اجتماع یا توند صرف سطحی طور پر باعث تشویش نہیں بلکہ متعدد سنگین امراض جیسے ذیابیطس اور امراض قلب کا باعث بننے والے عنصر ثابت ہوسکتا ہے۔

ویسے تو ہر شخص کے پیٹ اور کمر کے ارگرد کچھ مقدار میں چربی ہوتی ہے مگر اس کی مقدار زیادہ بڑھ جانا ضرور خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے۔

اس مقصد کے لیے لوگ گولیاں، سرجری، ٹوٹکے اور ہربل نسخے آزماتے ہیں جو اکثر محفوظ ثابت نہیں ہوتے، مگر قدرتی طور پر بھی اس چربی کو گھلانا ممکن ہے، جس کے لیے بس غذا اور ورزش کے صحت بخش امتزاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

توند کی چربی کی سب سے خطرناک قسم کو Visceral fat کہا جاتا ہے جسے متحرک چربی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ متعدد اقسام کے ہارمونز بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

یہ قسم بہت زیادہ نمایاں نہیں ہوتی کیونکہ یہ شکم کی دیوار کے ساتھ جمع ہوتی ہے اور اہم اعضا کے گرد اکٹھی ہوکر ہارمونز کا اخراج کرتی ہے جس سے ذیابیطس، دائمی ورم اور دیگر سنگین بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ چربی کی یہ قسم واضح نہیں ہوتی مگر توند میں آہستگی سے اضافہ اس کی موجودگی کا عندیہ ہوتا ہے کیونکہ Visceral fat بڑھنے سے توند بھی بڑھتی ہے۔

یہ مسئلہ کسی بھی عمر کے مردوں یا خواتین میں سامنے آسکتا ہے مگر کچھ گروپس میں اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے جیسے سفیدفام مرد، افریقی امریکی خواتین، جنوبی ایشیائی مردوں اور خواتین، موٹاپے کے شکار افراد اور بہت زیادہ میٹھے مشروبات پینے والے افراد۔

اس سے بچنے کے لیے درج ذیل غذائی عادات کو اپنالیں۔

میٹھے مشروبات سے گریز

کچھ تحقیقی رپورٹس میں میٹھے مشروبات جیسے سوڈا، میٹھی چائے اور کافی وغیرہ اور توند بننے کے عمل میں تعلق کو دریافت کیا گیا ہے، تو اگر توند کی چربی بڑھ رہی ہو تو چائے یا کافی میں چینی کی مقدار کم کردیں جبکہ میٹھے مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس کو مکمل طور پر چھوڑ دیں۔

ریفائن کاربوہائیڈریٹس سے بچیں

سادہ کاربوہائیڈریٹس جیسے سفید ڈبل روٹی، ریفائن اجناس اور زیادہ کیلوریز والی میٹھی غذائیں جیسے کیک، پیسٹری یا بسکٹ وغیرہ توند کی چربی بڑھانے کا باعث بن سکتی ہیں تو ان کی جگہ پاستا، پھلوں اور سبزیوں کو دے دیں۔

پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال

پھلوں اور سبزیون کا زیادہ استعمال سادہ کاربوہائیڈریٹس کا صحت بخش متبادل ہے، جبکہ ان کے ذریعے غذا میں فائبر کا اضافہ بھی ہوجاتا ہے جو کہ بلڈ شوگر کو ریگولیٹ کرنے والا جز ہے، کیونکہ توند کی چربی سے انسولین کی مزاحمت اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کم چکنائی مگر زیادہ پروٹین والی غذائیں

ایسی غذائیں جیسے گریاں، دالیں اور بہت کم چربی والا گوشت پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مددگار ہیں جبکہ ان سے میٹھی اشیا کی خواہش بھی کم ہوتی ہے۔

چربی کے استعمال پر کنٹرول

غذا میں چکنائی یا چربی سے مکمل گریز بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے، اس کے مقابلے میں کم چربی والے گوشت اور ایسی ہی دیگر غذاﺅں کا انتخاب کریں۔

نقصان دہ چکنائی سے بچیں

ٹرانس فیٹ (تلی ہوئی اشیا یا بیکری کی مصنوعات میں زیادہ ہوتا ہے)اور سچورٹیڈ فیٹ (غذائی چربی یا چکنائی)دل کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں، اور اس کے ساتھ وزن میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ Visceral fat بھی بڑھتا ہے۔ ان دونوں کا استعمال کم از کم رکھنے کی کوشش کریں۔

ورزش

تحقیقی رپورٹس کے مطابق ورزش توند کی چربی گھلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اور اس کے لیے ضروری نہیں کوئی مخصوص ورزش ہی کی جائے درحقیقت جسمانی طور پر زیادہ متحرک رہنا زیادہ کیلوریز جلانے میں مدد دیتا ہے، جو لوگ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارے ہیں، انہیں کچھ دیر چہل قدمی کے لیے وقت نکالنا چاہیے، سیڑھیاں چڑھنا عادت بنائیں یا چہل قدمی کرنے سے زیادہ کیلوریز جلتی ہے اور دل کی بہتر ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ کارڈیو ورزشیں بھی کیلوریز جلانے میں مدد دیتی ہیں اور توند کی چربی خصوصاً Visceral fat کو گھلانے میں انتہائی موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔ ان ورزشوں کا آغاز چہل قدمی یا تیراکی سے کریں اور پھر اس کی شدت بڑھاتے جائیں جسیے دوڑنا یا رسی کودنا وغیرہ۔

اس سے آگے ذرا سخت ورزشیں بھی زیادہ کیلوریز جلانے میں مدد دے سکتی ہیں جیسے 3 منٹ کی چہل قدمی اور پھر 30 سیکنڈ تک دوڑنا، یہ امتزاج توند کی چربی کو زیادہ گھلا سکتا ہے اور ان افراد کے لیے بہترین ہے جو زیادہ سخت ورزشیں یا جم جانے کے لیے تیار نہیں۔

مسلز بنانے والی ورزشیں بھی جسمانی وزن کو بہتر کرتی ہیں کیونکہ ان کے دوران مسلز زیادہ کیلوریز جلاتے ہیں جبکہ ہڈیوں کے بھربھرے پن اور دیگر امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ وزن اٹھانے یا یوگا وغیرہ کو ہفتے میں کم از کم تین بار کرنا عادت بنائیں۔

لوگ ڈراؤنے خواب کیوں دیکھتے ہیں؟

خواب تو لگ بھگ ہر فرد ہی دیکھتا ہے اور کروڑوں یا اربوں افراد کو اکثر ڈراﺅنے یا برے خوابوں کا سامنا ہوتا ہے۔

اور اگر آپ بھی ان میں سے ایک ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ یہ ڈراﺅنے خواب درحقیقت ایک مثبت فائدے کا باعث بنتے ہیں۔

یہ دعویٰ امریکا اور سوئٹزر لینڈ کے سائنسدانوں کی مشترکہ تحقیق میں سامنے آیا۔

جنیوا یونیورسٹی، یونیورسٹی ہاسپٹل آف جنیوا اور وسکنسن یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیاکہ نیند کے دوران ڈرانے والے خواب بیداری کے دوران خوف کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے جائزہ لیا کہ مختلف اقسام کے خواب پر دماغ کس طرح کا ردعمل ظاہر کرتا ہے اور اس دوران کونسے دماغی حصے متحرک ہوتے ہیں۔

انہوں نے دریافت کیا کہ ڈراﺅنے خواب دیکھنے سے دماغ کے اس حصے کی افادیت بہتر ہوتی ہے جو بیداری کے دوران خوفزدہ کردینے والے تجربات پر ردعمل ظاہر کرتا ہے۔

مگر سائنسدانوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ بہت زیادہ ڈرا دینے والے خواب کا منفی اثر بھی مرتب ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل ہیومین برین میپنگ میں شائع ہوئے اور اس مقصد کے لیے رضاکاروں کے سروں پر ای ای جی الیکٹروڈز کا استعمال کرکے دماغی تحریک کا جائزہ لیا گیا۔

سائنسدانوں نے 18 رضاکاروں کے سروں پر 256 ای ای جی الیکٹروڈز لگائے اور انہیں رات کو کئی بار جگایا گیا۔

ہر بار بیدار ہونے پر ان رضاکاروں سے مختلف سوالات کے جوابات حاصل کیے گئے جیسے کیا آپ نے خواب دیکھا؟ اگر ہاں تو کیا خوف محسوس کررہے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔

محققین کے مطابق دماغی تحریک کا تجزیہ کرنے پر ہم نے شناخت کیا کہ خواب کے دوران وہ دماغی حصے متحرک ہوتے ہیں جو ڈر یا خوف جیسے جذبات کو کنٹرول کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پہلی بار ہم خواب کے دوران خوفزدہ کردینے والے دماغی حصوں کی شناخت کرنے میں کامیاب ہوئے اور یہ دیکھا کہ ایسے ہی حصے نیند اور بیداری کے دوران خوف کی صورت میں متحرک ہوتے ہیں۔

اس کے بعد محققین نے نیند کے دوران خوف اور بیداری کے دوران جذباتی تجربے کے درمیان تعلق کا جائزہ لینے کے لیے 89 رضاکاروں کو ایک ہفتے تک خوابوں کو ڈائری میں لکھنے کی ہدایت کی۔

ہر صبح ان رضاکاروں کو خواب لکھنے کا کہا گیا اور ایک ہفتے بعد ایم آر آئی مشین کا استعمال کیا گیا۔

اس مشین میں ان افراد کو جذباتی طور پر مفنی تصاویر جیسے حملہ یا خطرناک حالات کی تصاویر دکھائی گئیں اور ان دماغی حصوں کی تصاویر لی گئیں جو ڈر کی صورت میں متحرک ہوتے ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا کہ برے خواب لوگوں کو بیداری کی حالت میں ڈر سے لڑنے کے لیے تیار کرتے ہیں اور جتنے زیادہ ڈراﺅنے خواب دیکھیں گے، اتنا ہی زیادہ دماغ کا وہ حصے متحرک ہوگا جو ڈر کو کنٹرول کرتا ہے۔

محققین کے مطابق خواب ممکنہ طور پر بیداری کی حالت میں ہمارے مستقبل کے ردعمل اور حقیقی زندگی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہونے میں تربیت فراہم کرسکتے ہیں۔

تاہم اگر خواب کی شدت بہت زیادہ بڑھ جائے تو یہ مثبت کی بجائے منفی ہوجاتا ہے کیونکہ اس سے نیند متاثر ہوتی ہے جبکہ منفی اثر بیداری کے بعد بھی برقرار رہ سکتا ہے۔

مچھلی پر دودھ پینا نقصان دہ یا صرف وہم؟

اگر آپ کو مچھلی کھانا بہت پسند ہے تو ایسا اکثر سننے کو ملتا ہوگا کہ اسے کھانے کے بعد کبھی بھی دودھ نوش نہ کریں۔

درحقیقت ایسا مانا جاتا ہے کہ جب مچھلی کے اوپر دودھ پیا جاتا ہے تو یہ جلد پر سفید رنگ کے دھبے یا برص نامی مرض کا باعث بن سکتا ہے۔

اس مرض میں جلد کو اس کی قدرتی رنگت دینے والے خلیات مخصوص رنگدار مادہ بنانا چھوڑ دیتے ہیں۔

اور یہ اب کا نظریہ نہیں بلکہ صدیوں پرانا خیال ہے اور ان دونوں کا امتزاج صحت کے لیے تباہ کن مانا جاتا ہے۔

مگر کیا یہ واقعی درست ہے؟

تو اس کا جواب طبی سائنس نے یہ دیا ہے کہ ایسے کوئی شواہد موجود نہیں کہ مچھلی کھانے کے فوری بعد دودھ پی لینا یا ڈیری مصنوعات کا استعمال نقصان کا باعث بنتا ہے یا جلد پر سفید دھبے ابھر آتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق مچھلی کے متعدد پکوان دہی سے تیار کیے جاتے ہیں اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ دہی دودھ سے ہی بنتا ہے، جس سے یہ خیال ویسے ہی غلط ثابت ہوجاتا ہے۔

تاہم ہوسکتا ہے کہ ان دونوں کا امتزاج بد ہضمی کا باعث بن جائے مگر یہ بھی بہت کم افراد کے لیے مسئلہ بنتا ہے۔

اگر کوئی فرد کسی قسم کی الرجی کا شکار ہو تو انہیں مچھلی اور دودھ کے امتزاج سے ضرور گریز کرنا چاہیے تاکہ کسی قسم کی الرجی کا نشانہ نہ بن سکیں۔

مگر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مچھلی اور دودھ کے اکھٹے استعمال سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہوتا۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

دنیا کا پہلا ایچ آئی وی پوزیٹو اسپرم بینک قائم

اگرچہ دنیا بھر میں ’اسپرم بینک‘ موجود ہیں، تاہم نیوزی لینڈ وہ پہلا ملک بن گیا ہے جس نے خطرناک وائرس ’ایچ آئی وی‘ میں مبتلا مریضوں کے اسپرم جمع کرنے کا بینک قائم کردیا۔

جی ہاں، نیوزی لینڈ میں تین مختلف اداروں نے مشترکہ طور پر مل کر ’ایچ آئی وی پوزیٹیو اسپرم بینک‘ کو قائم کیا ہے، جس میں اس مرض میں مبتلا افراد اپنے اسپرم عطیہ کر سکیں گے۔

برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ کے مطابق نیوزی لینڈ میں قائم کیے گئے دنیا کے پہلے منفرد اسپرم بینک کے قائم کیے جانے کے فوری بعد ایچ آئی وی میں مبتلا تین مرد حضرات نے اپنے اسپرم بھی عطیہ کردیے۔

’ایچ آئی وی اسپرم بینک‘ کو نیوزی لینڈ کے تین مختلف فلاحی اداروں ’نیوزی لینڈ ایڈز فاؤنڈیشن، پوزیٹو ویمن انشورنس اور باڈی پوزیٹو‘ نے مل کر قائم کیا ہے اور مذکورہ تنظیموں نے ملک بھر میں موجود ایچ آئی وی کے مریضوں کو اپنے اسپرم عطیہ کرنے کی درخواست کی ہے۔

ایچ آئی وی کا وائرس ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے والا وائرس ہےفوٹو: رائٹرز
ایچ آئی وی کا وائرس ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے والا وائرس ہےفوٹو: رائٹرز

مذکورہ اسپرم بینک میں اگرچہ ایچ آئی وی مریضوں کے اسپرم رکھے جائیں گے، تاہم اس بینک میں عطیہ کردہ اسپرم دوسرے انسان میں منتقل ہونے کے بعد وائرس کو نہیں پھیلائیں گے۔

اسپرم بینک قائم کرنے والے ماہرین کے مطابق اس بینک میں ان ایچ آئی وی مریضوں کے اسپرم رکھے جائیں گے جنہیں یہ مرض لاحق تو ہے، تاہم ان میں اس مرض کی نوعیت اتنی بڑی نہیں ہوگی جو ان کے اسپرم دوسروں میں اس مرض کو منتقل کر سکیں۔

یعنی ’ایچ آئی وی پوزیٹو اسپرم بینک‘ میں ایسے مریضوں کے اسپرم ہوں گے جنہیں یہ مرض تھوڑا ہوگا جو دوسروں میں منتقل نہیں ہوسکے گا۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ ’ایچ آئی وی‘ کا وائرس جنسی تعلقات، خون اور اسپرم کے تبادلے سے دوسروں میں منتقل ہوتا ہے، تاہم مذکورہ بینک میں ایسے مریضوں کے اسپرم رکھے جائیں گے جنہیں یہ مرض انتہائی کم نوعیت کا ہوگا یا پھر وہ اس مرض کو علاج کے ذریعے شکست دینے میں کامیاب گئے ہوں گے۔

دنیا کے اس پہلے منفرد اسپرم بینک میں اسپرم عطیہ کرنے والے تینوں نیوزی لینڈ مرد حضرات کو ایچ آئی وی تشخیص ہوا تھا، تاہم ان میں اب اس مرض کی نوعیت انتہائی کم ہوگئی ہے اور ان کے اسپرم کسی اور میں منتقل کیے جانے سے وائرس منتقل نہیں ہوگا۔

تاہم اس منفرد اسپرم بینک پر دیگر ماہرین نے فوری طور پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔

خیال رہے کہ عام طور پر دنیا بھر میں اسپرم بینک موجود ہیں جہاں پر لوگ اپنے اسپرم عطیہ کرتے ہیں اور ان کے اسپرم بانجھ خواتین یا بے اولاد جوڑوں کے علاج میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

نزلہ، زکام کا شکار افراد یہ ڈرنک ضرور پسند کریں گے

جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں سردی میں بھی اضافہ ہورہا ہے اور اس ٹھنڈے موسم میں ہر کوئی کھانسی، نزلہ و زکام جیسی بیماریوں سے پریشان ہے۔

سردی میں ہمیں اس لیے زیادہ انفیکشنز کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوں کہ ہماری ڈائیٹ اس موسم کے حساب سے شاید غذائیت سے بھرپور نہیں ہوتی۔

متعدد ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ اس موسم میں اپنی ڈائیٹ میں کھجور شامل کرنا مثبت ثابت ہوتا ہے۔

تاہم صرف میٹھے پکوان میں کھجور کا استعمال کرنے کے بجائے اسے دوسرے طریقوں سے بھی کھانا سیکھیں۔

کھجور غذائیت سے بھرپور ہے، جس کے صحت پر کئی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، پھر چاہے نظام ہاضمہ کے مسائل ہوں، دل کی صحت یا پھر ذیابطیس کا مسئلہ ہو،

تاہم کیا آپ جانتے ہیں کہ کھجور اس موسم میں سردی، نزلہ زکام جیسی بیماریوں میں بھی مؤثر ہے؟

کھجور میں وٹامن سی، بی ون، بی ٹو، بی تھری، بی فائیو اور اے ون جیسے وٹامنز موجود ہوتے ہیں۔

وٹامن سی ہمارے جسم کو متعدد انفیکشنز سے محفوظ رکھ سکتا ہے جن میں نزلہ و زکام جیسی بیماریاں شامل ہیں۔

کھجور اور دودھ کا مشروب ایسی بیماریوں سے نجات کا سب سے بڑا حل بھی ثابت ہوسکتا ہے کیوں کہ اس میں وٹامنز کے ساتھ فائبر بھی موجود ہوتا ہے۔

کھجور کا مشروب گھر پر کیسے بنائیں؟ یہاں پڑھیں:

اجزاء:

دودھ – 2 کپ

کھجور – کٹی ہوئی آدھا کپ

بادام – ڈیڑھ کھانے کا چمچ

دار چینی پاؤڈر – آدھا چائے کا چمچ

چینی – حسب ذائقہ

ترکیب:

کھجور کو 40 منٹ کے لیے آدھا کپ دودھ میں رکھیں، بعدازاں ان کھجور اور دودھ کو بلینڈر میں ڈالیں، جس کے ساتھ بادام بھی شامل کریں۔

جس کے بعد انہیں اچھی طرح بلینڈ کرنے کے بعد اسے الگ رکھ دیں، ایک پتیلی میں رکھا ہوا دودھ ابالیں اور اس میں بلینڈ کیے گئے کھجور شامل کریں، دار چینی پاؤڈر اور چینی ڈال کر 5 منٹ تک اچھی طرح پکائیں۔

کھجور کے اس مشروب کو گرم گرم پئیں تاکہ کھانسی میں واضح فرق محسوس ہو۔

گھر میں بنا سوپ ملیریا سے لڑنے کے لیے بھی مفید

ایسا مانا جاتا ہے کہ سوپ (چکن کا) موسم سرما میں نزلہ زکام اور بخار وغیرہ کا بہترین علاج بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

اس سے ہٹ کر بھی یہ سرد موسم کی شدت کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے مگر اب دریافت کیا گیا کہ ذائقے سے ہٹ کر گھر میں پکنے والی یخنی یا سوپ ملیریا سے لڑنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

امپرئیل کالج لندن کی تحقیق میں بتایا گیا کہ گھر میں بننے والے چکن، بیف یا سبزی سمیت کسی بھی قسم کے سوپ میں ایسے متحرک اجزا ہوتے ہیں جو ملیریا کا علاج بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

طبی جریدے بی ایم جے جرنل آرکائیو آف ڈیزیز ان چائلڈہوڈ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ لگ بھگ دنیا کی نصف آبادی میں ملیریا انفیکشن کا خطرہ ہے اور ہر سال دنیا بھر میں اس مرض کے نتیجے میں 5 لاکھ بچے مرجاتے ہیں۔

مچھروں سے ہونے والے اس مرض میں ملیریا سے نجات کے لیے دی جانے والی ادویات کے خلاف مزاحمت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سائنسدان اس کے لیے نئے طریقہ علاج کو تلاش کررہے ہیں۔

تحقیق کے دوران دریافت کیا گیا کہ صدیوں سے لوگوں کے پاس موجود یخنی یا سوپ بنانے کی ترکیب میں اس بخار کا علاج بھی چھپا ہوا ہے۔

تحقیق کے دوران سوپ کے 56 نمونوں کا تجزیہ کیا گیا، جن میں سے 5 ملیریا کا باعث بننے والے پیراسائٹ (جو مچھروں کو انفیکٹ کرتے ہیں، جس کے بعد یہ انسانوں میں پھیلتا ہے)کے خلاف 50 فیصد سے زیادہ موثر ثابت ہوا جبکہ 2 نے بخار کے علاج میں اس وقت دی جانے والی ادویات جتنی ہی کامیابی حاصل کی۔

4 اور سوپ اس پیراسائٹ کو بڑھنے سے موثر ثابت ہوا یا یوں کہہ لیں کہ یہ سوپ ملیریا انفیکشن کو مکمل طور پر بلاک کرسکتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ جب ہم نے مختلف اقسام کے سوپ کا جائزہ لیا تو نتائج سے ہم بہت خوش اور پرجوش ہوئے، مگر ابھی تک یہ واضح نہیں کہ وہ کونسے اجزا ہیں جو ملیریا کش خصوصیات رکھتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے یورپ، شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ سمیت دنیا بھر سے سوپ کی مختلف اقسام کو لیا گیا تھا جن میں متعدد اجزا جیسے چکن، بیف، چقندر اور گوبھی وغیرہ شامل تھے۔

محققین نے دریافت کیا گیا کہ گوشت کی طرح سبزیوں کے سوپ سے بھی یہی نتائج حاصل ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں اس مرض کے لیے ایسی بہترین ریسیپیز موجود ہیں جن کا کسی کو علم بھی نہیں۔

اس موسم میں مالٹے کھانا صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند

یہ تو سب نے سنا ہوگا کہ ایک سیب روزانہ ڈاکٹر کو ہمیشہ دور رکھے مگر مالٹوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟

مالٹوں میں کیلوریز کی مقدار بہت کم ہوتی ہیں اور غذائیت کے لحاظ سے بہترین ہوتے ہیں، جو شفاف، صحت مند جلد کے حصول میں مدد دینے کے ساتھ متعدد امراض کا خطرہ بھی کم کرتے ہیں۔

اس میں صرف 85 کیلوریز ہوتی ہیں اور چربی، کولیسٹرول یا سوڈیم تو بالکل بھی نہیں ہوتے، یہی وجہ ہے کہ اس کے متعدد طبی فوائد بھی ہیں۔

ایک مالٹے میں 170 مختلف phytochemicals اور 60 سے زائد فلیونوئڈز ہوتے ہیں، ان میں سے بیشتر ورم کش خصوصیات رکھتے ہیں اور طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹس جسم کو فراہم کرتے ہیں۔

اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

فالج

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ترش پھلوں جیسے مالٹوں میں موجود مرکبات کی زیادہ مقدار کو جزوبدن بنانا فالج کے خطرے کو کم کرسکتا ہے۔ جو لوگ زیادہ مالٹے یا ترش پھل کھاتے ہیں، ان میں فالج کا خطرہ 19 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

بلڈ پریشر

بلڈ پریشر کی سطح کو کم رکھنے کے لیے کم نمک یا سوڈیم کا استعمال ضروری ہوتا ہے جبکہ پوٹاشیم کی مقدار کا غذا کی شکل میں زیادہ استعمال بھی اہمیت رکھتا ہے۔ مالٹوں میں پوٹاشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، پوٹاشیم کا زیادہ مقدار جزوبدن بنانا بلڈ پریشر کم کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف امراض سے موت کا خطرہ بھی 20 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

کینسر

مالٹے وٹامن سی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، اور اس پھل کو کھانے سے کینسر کا باعث بننے والے جسم میں گردش کرنے والے فری ریڈیکلز سے لڑنے میں مدد مل سکتی ہے۔ وٹامن سی کا استعمال جسم کے لیے ضروری اور بہت فائدہ مند ہے اور کینسر کے مریضوں کے لیے یہ دوا کے اثر کے لیے بھی ضروری سمجھا جاسکتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ مالٹوں میں موجود وٹامن سی آنتوں کے کینسر سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

دل کی صحت

مالٹوں میں موجود فائبر، پوٹاشیم، وٹامن سی اور کولین سب دل کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ نمک کے کم استعمال کے ساتھ پوٹاشیم کا زیادہ استعمال خون کی شریانوں سے جڑے امراض جیسے ہارٹ اٹیک یا امراض قلب کا خطرہ کم کرتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کای گیا کہ روزانہ 4069 ملی گرام پوٹاشیم کا استعمال امراض قلب کا خطرہ 49 فیصد تک کم کرسکتا ہے جبکہ اس سے فالج کا امکان بھی کم ہوتا ہے، جبکہ مسلز کے حجم میں کمی سے تحفظ ملتا ہے، ہڈیوں کی صحت بہتر ہوتی ہے جبکہ گردوں میں پتھری بننے سے تحفظ ملتا ہے۔

ذیابیطس

فائبر سے بھرپور ہونے کے باعث مالٹے ٹائپ ون ذیابیطس کے شکار افراد میں بلڈ شوگر لیول کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں میں بلڈ شوگر اور انسولین کے لیول کو بہتر کرتے ہیں۔ امریکن ڈائیبیٹس ایسوسی ایشن نے تو مالٹوں کو ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے سپرفوڈ کی فہرست میں شامل کررکھا ہے۔

جلد

غذائی شکل یعنی مالٹے کے ذریعے وٹامن سی کا استعمال سورج اور آلودگی سے جلد کو پہنچنے والے نقصان کے خلاف لڑتا ہے، جھریاں کم ہوتی ہیں جبکہ جلد کی ساخت میں مجموعی طور پر بہتری آتی ہے۔ وٹامن سی جلد کے لیے ضروری کولیگن بننے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

مگر کچھ احتیاط بھی ضروری ہے

امراض قلب کے مریضوں کے لیے اکثر تجویز کرنے والی ادویات کی ایک قسم Beta-blockers، سے خون میں پوٹاشیم کی سطح بڑھتی ہے، تو زیادہ پوٹاشیم والی غذائیں جیسے کیلے اور مالٹوں کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے سے اعتدال میں رہ کر کرنا ضروری ہوتا ہے۔ بہت زیادہ پوٹاشیم ایسے افراد کے گردوں کی صحت متاثر کرسکتی ہے جو مکمل طور پر فعال نہ ہو، اگر گردے خون میں اضافی پوٹاشیم کو خارج نہ کرسکے تو یہ جان لیوا بھی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ سینے میں جلن کا اکثر شکار ہوتے ہیں ان کے لیے زیادہ تیزابیت والی غذائیں جیسے ترش پھل سے یہ شکایت بڑھ سکتی ہے۔

کیا آپ بھی مونگ پھلی کھانے کے بعد یہ غلطی کرتے ہیں؟

اس موسم میں مونگ پھلی کھانے کا شوق تو اکثر افراد کو ہوتا ہے مگر کیا اس گری کو کھانے کے بعد پانی پینا واقعی صحت کے لیے نقصان دہ ہے؟

آپ نے اکثر لوگوں سے سنا ہوگا کہ مونگ پھلی کھانے کے بعد پانی پینے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اس کے نتیجے کھانسی اور گلے میں خراش ہوسکتی ہے۔

اگرچہ یہ سائنسی طور پر ثابت شدہ نہیں مگر کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حوالے سے کئی خیالات گردش کررہے ہیں جن میں سے طبی سائنس نے کسی کو بھی فی الحال ثابت نہیں کیا۔

ایک خیال یہ ہے کہ چونکہ مونگ پھلی جیسی گریاں قدرتی طور پر خشک ہوتی ہیں تو ان کے کھانے سے پیاس محسوس ہوتی ہے اور اس میں موجود تیل کی موجودگی پانی سے دور رہنے کو بہتر ثابت کرتی ہے۔

اس خیال کے مطابق زیادہ تیل والی غذائیں یا گریاں کھانے کے بعد غذائی نالی میں چربی کا اجتماع ہوسکتا ہے جو کہ گلے میں خراش اور کھانسی کا باعث بنتا ہے، ویسے یہ اب تک ثابت نہیں ہوسکا ہے۔

فوٹو/ شٹراسٹاک
فوٹو/ شٹراسٹاک

ایک اور خیال یہ ہے کہ مونگ پھلی کھانے سے جسم میں حرارت پیدا ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے سردیوں میں زیادہ کھایا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پانی پینا اس حرارت کو کم کرتا ہے، مگر حرارت اور ٹھنڈک کا یہ عمل بیک وقت ہونا نزلہ زکام، کھانسی اور نظام تنفس کی متعدد بیماریوں کا باعث بنتا ہے، ویسے کچھ ماہرین تو کسی بھی کھانے کے بعد پانی پینے کو اچھا عمل نہیں سمجھتے کیونکہ اس سے بدہضمی یا تیزابیت کا امکان بڑھتا ہے، اس لیے کم از کم دس سے پندرہ منٹ تک انتظار کرنا بہتر ہوتا ہے۔

اسی طرح ایک خیال یہ بھی ہے کہ مونگ پھلی کھانے کے بعد پانی پینا معدے کے مسائل کا باعث بنتا ہے خصوصاً بچوں میں، اکثر اوقات یہ مونگ پھلی سے الرجی کا نتیجہ ہوتا ہے اور اس پر پانی پینا حالات بدتر بنادیتا ہے۔

ویسے اگر مونگ پھلی کے بعد پانی پینا نقصان دہ ثابت نہیں بھی ہوا تو بھی احتیاطی تدبیر اختیار کرنا کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاتا۔

Google Analytics Alternative