صحت

ان آسان نسخوں سے چہرے کی جھریوں سے نجات حاصل کریں

اپنے چہرے پر جھریاں دیکھنا کس کو اچھا لگتا ہوگا؟ خاص طور پر تب جب عمر زیادہ بھی نہ ہو اور نوجوانی کا وقت ہی ہو۔

تام ان جھریوں کو چھپانے یا ختم کرنے کے لیے لوگ اکٹر مہنگی کریموں اور طبی طریقہ کار کو اپنانا چاہتے ہیں۔

اگر آپ بھی ایسا ہی کچھ سوچ رہے ہیں تو ان قدرتی نسخوں کو بھی آزما کر دیکھ لیں ہوسکتا ہے یہ آپ کے لیے کافی مؤثر ثابت ہوں۔

زیتون کا تیل

قدرتی زیتون کا تیل آپ کی جلد کو ملائم اور لچکدار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اپنے چہرے پر سونے سے قبل زیتون کے تیل کے چند قطروں کا مساج کریں اور نرم تولیے سے صاف کردیں۔ جب صبح آپ سو کر اٹھیں گے تو جلد نرم اور صحت مند نظر آئے گی۔

انڈے کی سفیدی

کسی چھوٹے ڈونگے میں کئی انڈوں کی سفیدی کو مکس کرلیں۔ اس مکسچر کا مساج اپنی جلد پر کریں، اور پھر کم از کم پندرہ منٹ تک خشک ہونے دیں۔ اس کے بعد گرم پانی سے دھولیں اور انڈوں کی سفیدی میں شامل قدرتی وٹامن بی اور وٹامن ای کو جھریوں پر قابو پانے کا کام کرنے دیں۔

پھل اور سبزیاں

تازہ پھل اور سبزیاں وٹامن اے اور ڈی سے بھرپور ہوتی ہیں جو آپ کی جلد کو گداز بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ جلد چمکنے لگی ہے۔ تازہ پھلوں اور سبزیوں کا جوس خود بناکر پینے کو عادت بناکر بھی آپ یہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔

مساج

اپنے کسی پسندیدہ لوش کو لیں، چند منٹ تک اپنے چہرے پر نرمی سے اس کا مساج کریں۔ زیادہ توجہ متاثرہ حصوں جیسے گردن، آنکھوں کے نیچے اور کہنی پر دیں۔ اس کا ایک اور علاج بھی ہے یعنی کسی اچھی جگہ سے فیشل کرانا جو فائدہ مند بھی ثابت ہوتا ہے۔

لیموں کا عرق

ایک لیموں کے ٹکڑے کریں اور اس کے عرق کا مساج چہرے پر موجود جھریوں پر کریں۔ لیموں میں موجود تیزابیت جلد کو روشن کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے جبکہ جھریوں کا نمایاں ہونا کم ہوجاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ایسا ائیرکنڈیشنر جو جیب میں بھی فٹ آجائے

کیا آپ کو گرمی بہت لگتی ہے اور دل کرتا ہے کہ ہر وقت ائیرکنڈیشنر آپ کے ساتھ ہو؟

اگر ہاں تو اچھی خبر یہ ہے کہ جاپانی کمپنی سونی نے اس کا حل لگتا ہے کہ تلاش کرلیا ہے۔

جی ہاں یہ کمپنی ایسا وئیرایبل ائیرکنڈیشر متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جسے جیب میں رکھا جاسکتا ہے جبکہ اسے استعمال کرنے کے لیے ایک خاص ٹی شرٹ کو پہننا ہوگا۔

ریون پاکٹ نامی اے سی کو اس خصوصی ٹی شرٹ کی گردن اور کمر کے درمیان موجود جیب میں رکھ دیا جائے گا اور یہ خاموش ڈیوائس گردن پر ٹھہر کر تھرمو الیکٹرک کولنگ خارج کرے گی۔

اگر موسم گرم ہے تو یہ اے سی آپ کا جسمانی درجہ حرارت 13 ڈگری تک پہنچائے گا جبکہ سرد موسم میں یہ جسمانی درجہ حرارت بڑھا کر 8 ڈگری تک لے جائے گا۔

کمپنی کے مطابق اس اے سی میں پلیٹیر ایفیکٹ استعمال کیا گیا ہے جو کہ عام طور پر گاڑی کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس اے سی کو ایک موبائل ایپ کی مدد سے کنٹرول کیا جاسکے گا جبکہ آٹومیٹک موڈ بھی کمپنی مستقبل میں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے اور ہاں سنگل چارج پر 24 گھنٹے کام کرسکے گا۔

اس کے بعد یو ایس بی سی پورٹ سے 2 گھنٹے میں اسے مکمل چارج کرنا ممکن ہوگا۔

فی الحال یہ اے سی کراﺅڈ فنڈنگ کے لیے پیش کیا جارہا ہے جس کی شپنگ مارچ 2020 میں شروع ہونے کا امکان ہے اور وہ بھی صرف جاپان میں۔

اس کی قیمت 12 ہزار جاپانی ین (لگ بھگ 19 ہزار پاکستانی روپے)سے زائد رکھی گئی ہے۔

اس ڈیوائس کا وزن محض 85 گرام ہے جبکہ حجم ایک اسمارٹ فون سے بھی چھوٹا ہے۔

اچانک ہارٹ اٹیک سے موت کا باعث بننے والی وجہ سامنے آگئی

دیگر جانداروں کے برعکس انسانوں میں اچانک ہارٹ اٹیک کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے، جس کی اب تک کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آسکی تھی، تاہم اب سائنسدانوں نے اسے دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اچانک ہارٹ اٹیک کی وجہ ایک جین ہے جو انسانوں میں لاکھوں سال پہلے انسانی جسم میں ڈی ایکٹیویٹ ہوگیا تھا۔

امراض قلب کے دوران شریانیں سکڑ کر بلاک ہوجاتی ہیں اور اس کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھتا ہے ، شریانوں کے بلاک ہونے کے متعدد عناصر جیسے موٹاپا، فشار خون، تمباکو نوشی اور خون میں کولیسٹرول وغیرہ ہوتے ہیں، تاہم ہارٹ اٹیک کے 15 فیصد کیسز میں دریافت کیا گیا کہ ان افراد کو شریانوں کے مسائل کا سامنا ہی نہیں تھا۔

یہ اچانک اور بغیر کسی وجہ کے ہونے والے ہارٹ اٹیک دیگر جانداروں میں نظر نہیں آتے اور سائنسدانوں کے مطابق اس کی وجہ جانوروں میں موجود ایک سنگل شوگر مالیکیول نیو5 جی سی (اس کے کوڈز کو سی ایم اے ایچ کہا جاتا ہے) ہے، جو انسانوں میں نہیں ہوتا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ لاکھوں سال انسانوں کی ابتدا میں یہ جین انسانی جسم میں ڈی ایکٹیویٹ ہوگیا اور اس کی ایک ممکنہ وجہ ملیریا کے خلاف انسانی جسم کا ارتقا خیال کیا جارہا ہے۔

آج کے انسانوں میں اب بھی ملیریا کی اس مخصوص قسم کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے جس کا خطرہ جانوروں کو زیادہ ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران محققین نے چوہوں میں سی ایم اے ایچ کو ڈی ایکٹیویٹ کیا تو ان جانوروں میں نیو5 جی سی کی بھی کمی ہوگئی اور ان میں اچانک ہارٹ اٹیک کا خطرہ 1.9 فیصد بڑھ گیا۔

محققین کے مطابق حالات اس وقت بدترین ہوگئے جب ان چوہوں کو بہت زیادہ سرخ گوشت کا استعمال کرایا گیا، جس کے نتیجے میں شریانوں کے بلاک ہونے کا خطرہ 2.4 گنا زیادہ بڑھ گیا، اس کی وجہ سرخ گوشت میں نیو5 جی سی کی مقدار بہت زیادہ ہونا ہے، جو کہ ایک دفاعی ردعمل کو حرکت میں لاتا ہے جس کا کام اس جین کو شناخت کرکے تباہ کرنا ہے، اس عمل کے دوران شریانوں میں ورم طاری ہوتا ہے اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اگرچہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ بہت زیادہ سرخ گوشت خون کی شریانوں کے امراض کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھا سکتا ہے، تاہم سپرفٹ اور تمباکو نوشی سے دور افراد میں بھی جینیاتی کمزوری موجود ہے، جو بغیر کسی وجہ ہارٹ اٹیک کا شکار بناسکتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئے۔

روزانہ صرف ایک ناشپاتی کھانے کے فائدے جانتے ہیں؟

کون ہوگا جسے اس گرم موسم میں رسیلی اور ذائقے دار ناشپاتی پسند نہ آئے؟ کیونکہ یہ پھل جسم کو ٹھنڈک فراہم کرتا ہے۔

اس میں فائبر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جبکہ اینٹی آکسائیڈنٹس متعدد امراض سے لڑنے کے لیے جسمانی مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

یہ پھل مجموعی صحت کے لیے زبردست ہے جس کی وجہ اس میں فائبر، اہم غذائی اجزا اور منرلز کا موجود ہونا ہے اور صرف ایک ناشپاتی روزانہ کھانا ہی صحت کو بہت زیادہ فائدہ پہنچانے کے لیے کافی ہے۔

اس کے مختلف فوائد درج ذیل ہیں۔

جسمانی خلیات کا تحفظ

ناشپاتی میں وٹامن سی، وٹامن کے اور کاپر موجود ہوتے ہیں جو جسم میں گردش کرنے والے فری ریڈیکلز سے لڑتے ہیں جو جسمانی خلیات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

امراض قلب اور فالج سے بچانے میں مددگار

جیسے اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ ناشپاتی میں فائبر پایا جاتا ہے جو کہ جسم میں کولیسٹرول کی سطح میں کمی لاتا ہے، جس سے امراض قلب سے بچنے میں مدد ملتی ہے، روزانہ فائبر سے بھرپور غذا جیسے ناشپاتی کھانے سے فالج کا خطرہ 50 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

کینسر کی روک تھام

ناشپاتی میں فائبر کی موجودگی آنتوں کے کینسر کا باعث بننے والے خلیات کی روک تھام کرکے اس مرض سے بچاتا ہے، جبکہ روزانہ ایک ناشپاتی کھانا چالیس سال سے زائد عمر کی خواتین میں بریسٹ کینسر کا خطرہ 34 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

بلڈ شوگر لیول کنٹرول کرے

اگرچہ ناشپاتی کافی میٹھی ہوتی ہے مگر کم گلیسمک انڈیکس اور زیادہ فائبر کی موجودگی کے باعث یہ پھل بلڈشوگر لیول کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے اور ذیابیطس سے بچاتا ہے۔

جسمانی مدافعتی نظام مضبوط بنائے

اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جسمانی مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کا کام کرتے ہیں، جس سے عام موسمی بیماریوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

ہڈیوں کے بھربھرے پن کا خطرہ کم کرے

ہڈیوں کی کمزوری بہت عام ہوچکی ہے اور اچھی غذا ہڈیوں کی صحت میں اہم کردار ادا کرتی ہے جبکہ بھربھرے پن سے بچاتی ہے۔ ناشپاتی بھی ایسا پھل ہے جو ہڈیوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ یہ کیلشیئم کو آسانی سے جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔

جسمانی توانائی بڑھائے

ناشپاتی میں موجود گلوکوز فوری جسمانی توانائی فراہم کرنے والا جز ہے، یہ گلوکوز بہت تیزی سے جسم میں جذب ہوجاتا ہے اور جسمانی توانائی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

نظام ہاضمہ کے لیے بہترین

ایک درمیانی ناشپاتی روزانہ درکار فائبر کا 20 سے 25 فیصد حصہ فراہم کرتی ہے، یہ فائبر حل نہیں ہوتا تو آنتوں سے بہت آسانی سے گزر جاتا ہے، اسی طرح فائبر کے باعث یہ نظام ہاضمہ کو بہتر کرنے میں مدد دیتا ہے۔

بلڈ پریشر کو قابو میں رکھے

اس پھل میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس اور دیگر اجزا بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

بخار سے تحفظ

یہ پھل اپنی تاثیر میں ٹھنڈا ہوتا ہے اور یہ ٹھنڈک بخار کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

جسمانی ورم سے بچائے

ناشپاتی ورم کش خصوصیات رکھنے والا پھل ہے جو جوڑوں کی شریانوں میں کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور ایسے ہی دیگر مسائل سے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

گلے کی تکلیف کے لیے بھی بہترین

اس پھل کا استعمال گرم موسم میں گلے کی خراش اور دیگر مسائل سے بچانے میں مدد دیتا ہے، روزانہ ایک ناشپاتی یا اس کے جوس کا ایک گلاس پینا گلے کی عام موسمی بیماریوں سے بچانے کے لیے کافی ثابت ہوسکتا ہے۔

جھریوں سے تحفظ

روزانہ ناشپاتی کھانا عمر بڑھنے سے چہرے پر نمودار ہونے والی جھریوں کو دور رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، وٹامن سی، وٹامن کے اور کاپر سے بھرپور یہ پھل فری ریڈیکلز سے لڑتے ہیں اور جلد کے خلیات کو نقصان سے بچاتے ہیں، جس سے جلد کو ہموار رکھنے اور جھریوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

توند کی چربی گھلائے

سیب اور ناشپاتی دونوں میں پانی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، چھلکوں کے ساتھ ان پھلوں کو کھانا اضافی فائبر فراہم کرتا ہے جو پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مدد دیتا ہے، ان کے جوس کی بجائے پھل کو کھانا توند میں کمی لانے میں مدد دیتا ہے جس سے زیادہ فائبر جسم کو ملتا ہے جبکہ ان پھلوں کو چبانے سے بھی چند کیلوریز جل جاتی ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

بارشوں میں بیماریوں سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

پاکستان میں ان دنوں بارشوں کا سیزن چل رہا ہے اور رواں ہفتے کے شروع ہوتے ہی ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی سمیت کئی شہروں اور علاقوں میں برسات ہوئی۔

ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشیں بھی ہوئیں جب کہ ملک بھر میں مناسب صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بارشوں کے بعد بدبو اور تعفن پھیلنے کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس سے کئی لوگوں کو صحت کے مسائل ہونا شروع ہوگئے۔

بارشوں کے موسم میں عام افراد کو نزلہ، زکام، بخاراور سر درد جیسی شکایات ہوجاتی ہیں جب کہ کم عمر افراد اور بچوں کو الٹی، موشن، بخار اور اسہال جیسے مسائل ہوجاتے ہیں۔

اگرچہ بارشوں کے کم ہونے سے ان امراض میں بھی کم آجاتی ہے، تاہم اگر بارشوں کے دوران چند حفاظتی انتطامات کیے جائیں تو ان بیماریوں اور مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔

گھر کے ارد گرد صفائی رکھیں

بارشوں کے بعد جہاں گھر میں پانی جمع ہونے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، وہیں گھر کے ارد گرد پھیلی گندگی سے بھی مسائل پوتے ہیں۔ علاوہ ازیں بارشوں کے دوران باہر سے گھر میں داخل ہونے والے افراد بھی جوتوں کے ذریعے بیماریوں کے وائرس گھر کے اندر لے آتے ہیں، اس لیے ایسے میں اگر بارشوں کے دوران گھر سمیت ارد گرد کی صفائی کا خیال رکھا جائے تو بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔

بارشوں کے دوران گھر کے دروازے پر فٹ ویئر رکھنے سے بھی فائدہ ہوگا اور باہر سے آنے والے افراد کے پاؤں کے ذریعے گھر میں وائرس داخل نہیں ہوں گے۔

ہری سبزیوں اور سلاد کا استعمال ترک کردیں

بارشوں کے موسم میں ہرے پتوں والی سبزیوں سمیت سلاد کو کھانے سے گریز کیا جائے، کیوں کہ بارشوں کی وجہ سے تازہ سبزیوں میں وائرس اور گندگی شامل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

سادہ یا نیم گرم پانی استعمال کریں

نیم گرم پانی، لیموں۔ چائے اور کافی کا استعمال کیا جائے—فوٹو: شٹر اسٹاک
نیم گرم پانی، لیموں۔ چائے اور کافی کا استعمال کیا جائے—فوٹو: شٹر اسٹاک

بارشوں کے موسم میں نزلہ، زکام، تھکاوٹ اور بخار جیسے مسائل شروع ہوتے ہی سادہ یا نیم گرم پانی میں تھوڑے سا نمک شامل کرکے استعمال کرنا بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

ایسے موسم میں سیب کا سرکہ بھی مسائل سے چھٹکارہ دلوانے میں مددگار ہوتا ہے۔

چائے، کافی اور نیم کے پتوں کا استعمال

بارشوں کے موسم میں اگر نضام ہاضمہ کو بہتر رکھا جائے تو کئی بیماریوں اور مسائل سے بچا جا سکتا ہے اور نضام ہاضمہ کو بہتر بنانے کے لیے تازہ پھلوں کو پانی میں دھونے کے بعد استعمال کرنے سمیت چائے، کافی اور نیم کے پتوں کو گرم کرکے استعمال کیا جائے تو کافی اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

احتیاط علاج سے بہتر ہے

بارشوں کے موسم میں سب سے اچھا قدم احتیاط ہوتا ہے، ایسے موسم میں باہر کی غذائیں کھانے سے گریز کیا جائے، زیادہ کیچڑ اور گندگی سے بچنے کے لیے گھر میں ہی رہنے کو ترجیح دی جائے۔

کم مقدار میں، مناسب اور ہلکی پھلکی غذاؤں کو استعمال کیا جائے، بچوں کو بارش اور گندگی سے بچایا جائے۔


نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے، طبیعت خراب ہونے پر اپنے معالج سے رجوع کریں۔

وزن گھٹانے کیلئے صبح 8 سے دوپہر 2 بجے تک ہی کھائیے

نیویارک: اگر کوئی وزن کم کرنے میں سنجیدہ ہے تو دن کے اہم کھانوں کو صرف دن کے ابتدائی حصے میں ہی ختم کرلے۔ دن بھر کھانے کے اس نئے انداز سے کیلوریز کے بجائے بھوک اور اشتہا کے ہارمون کم ہوں گے اور وزن گھٹانے میں مدد ملے گی۔ اس کا اہم مقصد یہ ہے کہ اس طرح کھانے کے اوقات جسم میں استحالہ (میٹابولزم) پر اثر ڈالتے ہیں اور کھانے کے اوقات انسانی قدرتی گھڑی سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔

پھر اس سے قبل مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ اگر صبح 8 سے دوپہر 2 بجے تک ہی بڑے کھانوں کو محدود رکھا جائے تو اس سے بھوک میں کمی واقع ہوتی ہے۔

ماہرین نے دو بجے تک کھانا کھانے کی تحقیق ’’اوبیسٹی‘‘ نامی جنرل میں شائع کی ہے اور اس میں ماہرین نے زور دیا ہے کہ دن کی روشنی میں کھانا کھانے سے ’’یہ عمل جسمانی اندرونی گھڑی (سرکاڈیئن ردم) سے ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔ اس سے وزن کم کرنے اور میٹابولزم کو صحت مند بنانے میں مدد ملتی ہے۔‘‘

ماہرین نے اس عمل میں لوگوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا اور چار روز تک روزانہ تین وقت کا کھانا دیا گیا۔ ایک گروپ کو دن کے اوقات میں کھانا کھلایا گیا اور دوسرے گروہ کو ان مرضی کے اوقات میں کھانا کھانے دیا گیا۔

مطالعے میں شامل تمام شرکا صحت مند تھے جن کی عمریں 25 سے 45 برس تھیں۔ البتہ ان سب کا وزن معمول سے زیادہ تھا۔ چار روز کے تجربے کے بعد معلوم ہوا کہ جس گروہ کو صبح 8 سے دوپہر 2 بجے تک کھانے تک محدود رکھا گیا، انہوں نے اگلے 18 گھنٹے تک کچھ نہیں کھایا۔ دوسرے گروہ نے 8 بجے ناشتہ کیا اور دن کا آخری کھانا رات کے 8 بجے کھایا۔

چوتھے روز تمام شرکا کے ٹیسٹ کئے گئے جن میں خرچ کردہ کیلوریز کے علاوہ چکنائی، کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین وغیرہ کی معلومات لی گئیں۔

شرکا سے بھوک لگنے، کھانے پینے کی طلب، کھانے کی مقدار اور پیٹ بھرنے جیسی معلومات بھی لی گئیں۔ اس کے علاوہ صبح و شام خون اور پیشاب کے نمونے لے کر ان میں بھوک سے وابستہ ہارمون کی بھی پیمائش کی گئی۔

معلوم ہوا کہ دو بجے کے بعد کھانا نہ کھانے والوں کی کیلوریز میں تو کئی کمی نہ ہوئی لیکن بھوک لگانے والے ہارمون ضرور کم ہوئے اور اشتہا/ بھوک میں کمی واقع ہوئی۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ دو بجے کے بعد بھوکے رہنے والے افراد میں کاربوہائیڈریٹس کے بجائے چربی استعمال ہونے لگتی ہے جو وزن کم کرنے کا باعث بنتی ہے۔

تاہم دیگر ماہرین نے چار روز کے بجائے زیادہ افراد پر طویل عرصے کےلیے تحقیق پر زور دیا ہے۔ اس کے باوجود بھی چار روزہ تحقیق سے حوصلہ افزا نتائج ضرور سامنے آئے ہیں۔

کیا اسمارٹ فون واقعی نوجوانوں کو موٹا کررہا ہے؟

وینزویلا: وہ نوجوان جو روزانہ پانچ گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت کےلیے اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں وہ بہت جلد اور زیادہ موٹے ہوجاتے ہیں۔ یہ خلاصہ ہے کولمبیا یونیورسٹی میں کی گئی اس تحقیق کا جس میں 1060 نوجوانوں میں اسمارٹ فون کے استعمال اور ان کی جسمانی صحت میں تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اس مطالعے میں اوسطاً 19 سال کی 700 لڑکیاں جبکہ اوسطاً 20 سال عمر والے 360 لڑکے شامل تھے جن سے روزمرہ معمولات، خاص طور پر اسمارٹ فون استعمال کرنے کے بارے میں تفصیلی سوالنامے بھروائے گئے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ان میں صحت کی مجموعی کیفیت اور موٹاپے وغیرہ کا معائنہ بھی کیا گیا۔ یہ تمام نوجوان کاراکاس، وینزویلا کی سائمن بولیور یونیورسٹی میں ہیلتھ سائنس فیکلٹی کے طالب علم تھے۔

تجزیہ مکمل ہونے کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ روزانہ پانچ گھنٹے یا اس سے زیادہ دیر تک اسمارٹ فون استعمال کرنے والے نوجوانوں کے موٹاپے میں مبتلا ہونے کا خطرہ، اسمارٹ فون کم استعمال کرنے والے نوجوانوں کے مقابلے میں 43 فیصد تک زیادہ تھا۔

مطالعے میں یہ بھی معلوم ہوا کہ اسمارٹ فون استعمال کرتے دوران ایک طرف جسمانی مشقت بہت کم رہ جاتی ہے تو دوسری جانب میٹھی کولڈ ڈرنکس، فاسٹ فوڈ، کیک، پیسٹریاں اور اسنیکس وغیرہ زیادہ کھائے جاتے ہیں جو بہت جلد ایسے نوجوانوں کو موٹاپے کی طرف لے جاتے ہیں۔

اس تحقیق کی تفصیلات 25 جولائی 2019 کے روز ’’امریکن کالج آف کارڈیالوجی (اے سی سی)، لاطینی امریکا کانفرنس‘‘ میں پیش کی گئیں جو کارٹاگینا، کولمبیا میں منعقد ہوئی۔ البتہ، اس بارے میں پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے ’’اے سی سی‘‘ نے خبردار کیا ہے کہ جب تک یہ تحقیق کسی طبّی تحقیقی جریدے میں باقاعدہ طور پر شائع نہ ہوجائے، تب تک اسے صرف ’’ابتدائی مطالعہ‘‘ ہی تصور کیا جائے۔

دھنیے میں مرگی کے خلاف اہم مرکب دریافت

کیلیفورنیا: اگرچہ طبِ مشرق و یونانی میں دھنیا ایک عرصے سے مرگی اوردیگر امراض کے لیے استعمال ہورہا ہے۔ لیکن اب امریکی ماہرین نے اس میں ایک اہم مرکب دریافت کیا ہے جو مرگی کے مرض میں مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، اِروِن کے ماہرین نے کہا ہے کہ دھنیے میں موجود ایک اہم مرکب (کمپاؤنڈ) مرگی کے مریضوں میں دورے کی تعداد اور ان کی شدت کم کرسکتا ہے۔

سائنس بتاتی ہے کہ مرگی کی صورت میں جو جھٹکے اور دورے رونما ہوتے ہیں ان میں کے سی این کیو پوٹاشیئم چینلوں کا کردار اہم ہوتاہے۔ اسی بنا پر ماہرین نے دھنیے کی پتیوں پر غور کیا اور ایک اہم سالمہ (مالیکیول) دریافت کیا۔

’ہم نے دھنیے میں ’ڈوڈیسینل‘ دریافت کیا ہے جو پوٹاشیئم چینل کے مخصوص حصوں سے چپک جاتا ہے اور انہیں کھولنے میں مدد دیتا ہے،‘ مرکزی سائنسداں جیف ایبٹ نے کہا۔ ان کے مطابق یہی وہ مرکب ہے جو مرگی کے جھٹکوں اور دوروں کو روکتا ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ ’ڈوڈیسینل‘ ایک ایسا ’پراثر‘ مرکب ہے جو مرگی کے علاج میں استعمال ہوسکتا ہے۔ اس سے مرگی کے دوروں کو روکنے والی پرتاثیر دوائیں بنانے میں مدد ملے گی۔ لیکن ابھی کسی دوا کی منزل بہت دور ہے اور دوا سازی میں کئی سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

Google Analytics Alternative