صحت

مچھلی کھانے کی عادت کینسر سے بچاؤ میں مددگار

ہر ہفتے مچھلی کے 3 یا اس سے زائد ٹکڑے کھانا آنتوں کے کینسر سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی اور انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (آئی اے آر سی) کی مشترکہ تحقیق میں پونے 5 لاکھ افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا جس کے دوران ان سے مختلف سوالنامے بھروا کر جانا گیا کہ وہ کیا زیادہ کھانا پسند کرتے ہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ایک ہفتے میں 359 گرام کسی بھی قسم کی مچھلی کھانا آنتوں کے کینسر کا خطرہ 12 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

اسی طرح جو افراد ہفتہ بھر میں 124 گرام چربی والی مچھلی کھاتے ہیں، ان میں آنتوں کے کینسر کا خطرہ 10 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ مچھلی کھانے کی عادت آنتوں کے کینسر کا خطرہ کم کرتی ہے اور یہ لوگوں کی صحت بخش غذا کا حصہ ہونی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ چربی یا آئلی مچھلی میں پولی ان سچورٹیڈ فیٹی ایسڈز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو جسم کے حفاظتی اثر رکھتی ہے جبکہ ورم کی روک تھام کرتی ہے، جبکہ عام مچھلیوں میں بھی یہ فیٹی ایسڈ کمپاﺅنڈ موجود ہوتے ہیں۔

محققین کے مطابق ابھی یہ جائزہ لینا باقی ہے کہ مچھلی کے تیل کے سپلیمنٹس کس حد تک کینسر کے خطرے کو کم کرسکتے ہیں، اس حوالے سے مزید تحقیق کی جائے گی۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جنرل کلینیکل Gastroenterology اینڈ Hepatology میں شائع ہوئے، جس کے لیے ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ نے فنڈز بھی فراہم کیے تھے تاکہ لوگوں میں آنتوں کے کینسر کی روک تھام کے لیے غذائی مشورے دیئے جاسکیں۔

سرجری سے پہلے موسیقی مریض کو سکون پہنچاتی ہے، تحقیق

پنسلوانیا: طبّی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ اگر سرجری کےلیے لے جانے سے پہلے مریض کو مدھر اور کانوں میں رس گھولنے والی موسیقی سنا دی جائے تو وہ کسی سکون آور دوا کی طرح کام کرتے ہوئے اس کا اعصابی تناؤ ختم کردیتی ہے۔ یعنی موسیقی صرف روح کی غذا نہیں بلکہ اعصاب کی دوا بھی ہے!

واضح رہے کہ آپریشن سے پہلے اکثر مریضوں کو اختلاج ہونے لگتا ہے اور ان میں اعصابی تناؤ بڑھانے والے ہارمونز کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایسے میں اعصاب کو سکون پہنچانے کےلیے عموماً جو دوائیں دی جاتی ہیں ان کے سائیڈ ایفیکٹس بھی ہوتے ہیں جو سانس لینے میں دشواری اور دورانِ خون میں عدم توازن سے لے کر غصہ اور جھلاہٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔

یہ مسئلہ حل کرنے کےلیے یونیورسٹی آف پینسلوینیا کی ڈاکٹر وینا گراف اور ان کے ساتھی گزشتہ چند سال سے موسیقی کو بطور متبادل سکون آور آزمانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے اپنی حالیہ تحقیق کے نتائج ’’ریجنل اینستھیسیا اینڈ پین میڈیسن‘‘ نامی ریسرچ جرنل میں شائع کروائے ہیں۔

157 بالغ افراد پر کی گئی اس تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اگر آپریشن سے پہلے مریض کو اچھی اور کانوں میں رس گھولنے والی موسیقی سنائی جائے تو اس سے بھی مریض کے اعصابی تناؤ میں ٹھیک اسی طرح کمی واقع ہوتی ہے جیسی سکون آور دوائیں دینے پر۔ البتہ اس تحقیق کے دوران کچھ دوسرے مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔ مثلاً یہ کہ جو مریض پہلے سے یہ طے کیے ہوئے تھے کہ سکون آور دوا ہی ان پر اثر کرے گی، ان کے اعصاب پر موسیقی کا اثر خاصا کم ہوا۔ اسی طرح کچھ مریضوں نے شکایت کی کہ اسپتال کا عملہ انہیں اپنی من پسند موسیقی سنوا رہا ہے جبکہ وہ کسی اور قسم کی موسیقی کو سکون کا باعث سمجھتے ہیں۔

ڈاکٹر وینا گراف کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ مطالعے میں موسیقی اور اعصاب کو سکون پہنچنے کے درمیان تعلق واضح ہوگیا ہے لیکن موسیقی کو متبادل کے طور پر متعارف کروانے سے پہلے ایک اور طویل مطالعہ کرنا ہوگا جس میں موجودہ مطالعے کی خامیاں دور کرتے ہوئے مریضوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

کیا آپ بھی حد سے زیادہ سونے کے عادی ہیں؟

ویسے تو کہا جاتا ہے کہ آٹھ گھنٹوں کی نیند لے لینا انسان کو بالکل تازہ کردیتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آٹھ سے زیادہ گھنٹوں کی نیند فالج کے دورے کا خطرہ خطرناک حد تک بڑھا دیتا ہے؟

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

امریکی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جہاں کم نیند لینا بھی خطرناک ہی مانا جاتا ہے وہیں اس کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ سونے کو بھی عادت بنالینا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ 8 گھنٹے سے زائد نیند لینے کے عادی ہوتے ہیں ان میں فالج کا خطرہ اوسط دورانیے کے نیند لینے والے افراد کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اسی طرح جو لوگ رات بھر میں 6 گھنٹے سے کم سونے کو عادت بنا لیتے ہیں ان میں اس جان لیوا مرض کے دورے کا خطرہ 4 گنا زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے دماغ کے مختلف حصوں کی خون کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔

یہ تحقیق 7 ہزار افراد پر کی گئی جس میں بتایا گیا کہ رات کی اچھی اور مناسب دورانیے کی نیند بہت اہمیت رکھتی ہے مگر بہت زیادہ دیر تک بستر پر رہنا بلڈ پریشر کو بڑھا کر فالج کے خطرہ 46 فیصد تک اضافہ کردیتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس کی وجوہات ابھی واضح نہیں ہوسکی اور اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آخر کیوں بہت زیادہ نیند جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

بارشوں میں بیماریوں سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

پاکستان میں ان دنوں بارشوں کا سیزن چل رہا ہے اور رواں ہفتے کے شروع ہوتے ہی ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی سمیت کئی شہروں اور علاقوں میں برسات ہوئی۔

ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشیں بھی ہوئیں جب کہ ملک بھر میں مناسب صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بارشوں کے بعد بدبو اور تعفن پھیلنے کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس سے کئی لوگوں کو صحت کے مسائل ہونا شروع ہوگئے۔

بارشوں کے موسم میں عام افراد کو نزلہ، زکام، بخاراور سر درد جیسی شکایات ہوجاتی ہیں جب کہ کم عمر افراد اور بچوں کو الٹی، موشن، بخار اور اسہال جیسے مسائل ہوجاتے ہیں۔

اگرچہ بارشوں کے کم ہونے سے ان امراض میں بھی کم آجاتی ہے، تاہم اگر بارشوں کے دوران چند حفاظتی انتطامات کیے جائیں تو ان بیماریوں اور مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔

گھر کے ارد گرد صفائی رکھیں

بارشوں کے بعد جہاں گھر میں پانی جمع ہونے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، وہیں گھر کے ارد گرد پھیلی گندگی سے بھی مسائل پوتے ہیں۔ علاوہ ازیں بارشوں کے دوران باہر سے گھر میں داخل ہونے والے افراد بھی جوتوں کے ذریعے بیماریوں کے وائرس گھر کے اندر لے آتے ہیں، اس لیے ایسے میں اگر بارشوں کے دوران گھر سمیت ارد گرد کی صفائی کا خیال رکھا جائے تو بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔

بارشوں کے دوران گھر کے دروازے پر فٹ ویئر رکھنے سے بھی فائدہ ہوگا اور باہر سے آنے والے افراد کے پاؤں کے ذریعے گھر میں وائرس داخل نہیں ہوں گے۔

ہری سبزیوں اور سلاد کا استعمال ترک کردیں

بارشوں کے موسم میں ہرے پتوں والی سبزیوں سمیت سلاد کو کھانے سے گریز کیا جائے، کیوں کہ بارشوں کی وجہ سے تازہ سبزیوں میں وائرس اور گندگی شامل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

سادہ یا نیم گرم پانی استعمال کریں

نیم گرم پانی، لیموں۔ چائے اور کافی کا استعمال کیا جائے—فوٹو: شٹر اسٹاک
نیم گرم پانی، لیموں۔ چائے اور کافی کا استعمال کیا جائے—فوٹو: شٹر اسٹاک

بارشوں کے موسم میں نزلہ، زکام، تھکاوٹ اور بخار جیسے مسائل شروع ہوتے ہی سادہ یا نیم گرم پانی میں تھوڑے سا نمک شامل کرکے استعمال کرنا بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

ایسے موسم میں سیب کا سرکہ بھی مسائل سے چھٹکارہ دلوانے میں مددگار ہوتا ہے۔

چائے، کافی اور نیم کے پتوں کا استعمال

بارشوں کے موسم میں اگر نضام ہاضمہ کو بہتر رکھا جائے تو کئی بیماریوں اور مسائل سے بچا جا سکتا ہے اور نضام ہاضمہ کو بہتر بنانے کے لیے تازہ پھلوں کو پانی میں دھونے کے بعد استعمال کرنے سمیت چائے، کافی اور نیم کے پتوں کو گرم کرکے استعمال کیا جائے تو کافی اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

احتیاط علاج سے بہتر ہے

بارشوں کے موسم میں سب سے اچھا قدم احتیاط ہوتا ہے، ایسے موسم میں باہر کی غذائیں کھانے سے گریز کیا جائے، زیادہ کیچڑ اور گندگی سے بچنے کے لیے گھر میں ہی رہنے کو ترجیح دی جائے۔

کم مقدار میں، مناسب اور ہلکی پھلکی غذاؤں کو استعمال کیا جائے، بچوں کو بارش اور گندگی سے بچایا جائے۔


نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے، طبیعت خراب ہونے پر اپنے معالج سے رجوع کریں۔

شہد اور لیموں کا امتزاج صحت کے لیے کتنا فائدہ مند؟

شہد اور لیموں دونوں لگ بھگ ہر گھر میں موجود ہوتے ہیں جو غذاﺅں اور مشروبات کا ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ شہد اور لیموں ہر گھر میں پائے جانے والی عام چیزیں ہیں مگر ان کو ملا کر استعمال کرنے کے فوائد آپ کو معلوم ہیں؟

درحقیقت یہ آپ کو متعدد طبی فوائد پہنچانے کا باعث بنتا ہے، جیسے شہد چینی کا قدرتی متبادل ہے اور صحت کو مختلف فوائد پہنچاتا ہے۔

اسی طرح لیموں کا استعمال بھی صحت کے فائدہ مند ہوتا ہے اور ان دونوں کو پانی میں ملانا جادوئی اثرات مرتب کرتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی لانے میں مددگار

لیموں اور شہد ملا پانی جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے، مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ زیادہ مقدار میں پانی پینا میٹابولزم تیز کرتا ہے اور پیٹ کو دیر تک بھرے رکھتا ہے، یہ دونوں عناصر اضافی وزن میں تیزی سے لانے میں مدد دیتے ہیں۔ شہد اور لیموں کا پانی استعمال بھی یہی فائدہ پہنچاتا ہے، کیونکہ یہ جسم کو ہائیڈریشن پہنچا کر اضافی چربی گھلاتا ہے، خصوصاً کھانے سے پہلے اس مشروب کا استعمال کم کیلوریز جزو بدن بنانے میں مدد دیتا ہے۔

موسمی بیماریوں سے بچائے

شہد اور لیموں میں موجود اجزا عام موسمی بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، جیسے لیموں میں موجود وٹامن سی مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے جبکہ خون کے سفید خلیات کو بننے میں مدد دیتا ہے، جس سے جسم انفیکشن سے لڑتا ہے، دوسری جانب شہد میں موجود اجزا سانس کی نالی کے انفیکشن سے لڑنے میں مدد دیتا ہے، جیسے گلے کی خراش وغیرہ۔

نظام ہاضمہ کے لیے مفید

مناسب مقدار میں پانی پینا نظام ہاضمہ کو صحت مند رکھتا ہے، جبکہ پانی کی کمی قبض کا باعث بنتی ہے، لیموں اور شہد ملا پانی کا استعمال قبض کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ یہ بچوں کے لیے بہت ائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

گردوں کے امراض سے بچانے میں مددگار غذائی عادات

گردے ہمارے جسم میں گمنام ہیرو کی طرح ہوتے ہیں جو کچرے اور اضافی مواد کو خارج کرتے ہیں جبکہ یہ نمک، پوٹاشیم اور ایسڈ لیول کو بھی کنٹرول کرتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر معمول پر رہتا ہے، جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار بڑھتی ہے اور خون کے سرخ خلیات بھی متوازن سطح پر رہتے ہیں۔

مگر گردوں کے امراض کافی تکلیف دہ اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

اگر گردوں کے مسائل کو علاج نہ کرایا جائے تو اس عضو کے افعال بتدریج ختم ہونے لگتے ہیں۔

تاہم اپنی غذائی عادات میں چند عام تبدیلیوں کو اپنا کر آپ گردوں کی صحت کو بہتر بناسکتے ہیں۔

سافٹ ڈرنکس سے گریز

سوڈا یا کاربونیٹ مشروبات متعدد طریقوں سے صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں، ان مشروبات میں چینی بہت زیادہ ہوتی ہے جو فوری جسمانی توانائی تو فراہم کرتی ہے مگر طویل المعیاد بنیادوں پر صحت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ مشروبات گردوں کے لیے بھی نقصان دہ ہوتے ہیں، اس کی جگہ صحت بخش مشروبات جیسے لیموں کا پانی زیادہ بہتر انتخاب ہے یا ناریل کا پانی بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

نمک کی مقدار پر نظر رکھیں

بہت زیادہ نمک کا استعمال گردوں کے مسائل کی بنیادی وجہ بنتا ہے، گردوں کے مریضوں کو بہت کم مقدار میں نمک کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، اگر آپ اپنے گردوں کو زندگی بھر امراض سے بچانا چاہتے ہیں تو اعتدال میں رہ کر نمک کا استعمال کرنا چاہیے۔

پراسیس غذاﺅں سے اجتناب

پراسیس غذائیں یعنی چربی، نمک اور چینی سے بھرپور غذا کسی بھی طرح صحت کے لیے فائدہ مند نہیں، اگر آپ گھر کے کھانے کی بجائے باہر سے جنک فوڈ کو ترجیح دیتے ہیں، تو متعدد امراض کو دعوت دے رہے ہوتے ہیں۔ پراسیس غذاﺅں میں نقصان دہ چربی کی بھرمار ہوتی ہے اور اس طرح کی غذا کا بہت زیادہ استعمال دل، ہاضمے اور گردوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔

پانی کا استعمال بڑھائیں

پانی کا استعمال گردوں کی صحت پر بہت زیادہ اثرانداز ہوتا ہے، مناسب مقدار میں پانی پینا جسم سے زہریلے مواد کو خارج کرتا ہے، یعنی پانی کا زیادہ استعمال گردوں کے امراض کا خطرہ کم کرتا ہے، سادہ پانی سے لے کر ناریل کے پانی تک، اپنی پسند کے سیال کا انتخاب کریں جو گردوں کے افعال کو بھی بہتر کرے گا۔

پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال

پھلوں اور سبزیوں میں متعدد غذائی اجزا پائے جاتے ہیں جو گردوں کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتے ہیں، پھلوں اور سبزیوں میں نمکیات کی شرح بہت کم ہوتی ہے جبکہ کچھ پھل اور سبزیاں جیسے گوبھی، انگور، شملہ مرچ، پیاز، مولی اور انناس وغیرہ گردوں کی صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

خوشگوار زندگی گزارنے والے جوڑوں کی عام عادات

شادی کی تقریب کا موقع ہر کسی کی زندگی کا اہم ترین دن ہوتا ہے کیوں کہ وہ ہمیشہ یاد رہتا ہے اور اس کے لیے وہ ہر طرح کی تیاریاں بھی کرتا ہے۔

مگر کیا کوئی دلہا یا دلہن شادی کے بعد کی زندگی کے لیے کوئی منصوبہ بندی کرتے ہیں؟ ایسا اکثر نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ کچھ ماہ یا سال بعد یہ تعلق زندگی کا ایسا حصہ بن جاتا ہے جس میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے۔

شریک حیات کے ساتھ زندگی کو بانٹنا اطمینان بخش ہونے کے ساتھ چیلنج ثابت ہونے والا تجربہ بھی ہوتا ہے، کیونکہ کوئی بھی بات محبت کو بڑھانے یا ایک دوسرے سے علیحدگی کا باعث بن جاتی ہے۔

درحقیقت صرف محبت نہیں اور بھی بہت کچھ اس رشتے کو مضبوط اور خوشگوار بنانے میں مدد دیتا ہے۔

تو جانیں کہ اچھی ازدواجی زندگی گزارنے والے جوڑوں کے راز یا عادات کیا ہوتی ہیں اور ان میں سے صرف 3 بھی آپ میں موجود ہے تو شریک حیات سے تعلق میں کامیابی کا امکان بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔

کم از کم ایک مشغلے سے اکھٹے لطف اندوز ہونا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ہر فرد کی اپنی ذاتی پسند ہوتی ہے جس کے مطابق وہ مشاغل کو اختیار کرتا ہے، مگر شادی کے بعد ضروری ہے کہ جوڑا کسی ایک مشغلے سے اکھٹے لطف اندوز ہوسکے، جیسے کوئی خاص کھیل یا اکھٹے فلمیں دیکھنا، کوئی بھی ایک سرگرمی منتخب کریں اور اس پر عمل شروع کردیں۔ یہ ضروری ہے کہ میاں بیوی دونوں اس مشغلے کو اپنے معمولات کا حصہ بنائے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ تفریح کے ساتھ ایک ساتھ اچھا وقت گزاریں۔

ایک دوسرے کی حدود کا احترام کرنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

خوش باش جوڑوں میں بہت زیادہ قربت ہوتی ہے، مگر وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ حدود سے قدم باہر نہیں نکالنا چاہیے، اپنے شریک حیات کی حدود کا خیال رکھنا اچھے تعلق کی بنیاد ثابت ہوتا ہے، اگر آپ شریک حیات کو دبا کر رکھیں گے تو یہ دونوں کی زندگی میں زہر گھولنے جیسا ہوگا۔

اکھٹے گھومنے کے لیے وقت نکالنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

یہ ضروری نہیں کہ اس کے لیے شہر سے باہر کسی پرفضا مقام کا رخ کیا جائے، درحقیقت ہفتہ وار تعطیل پر بھی کسی جگہ گھومنے چلے جانا بھی تعلق کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔ ایسا کرنے سے ایک دوسرے کے ساتھ اچھا وقت گزارنے میں مدد ملتی ہے، روزمرہ کے خدشات اور ممکنہ لڑائی سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ کچھ دیر کی یہ تبدیلی تازہ دم بنانے کے لیے یہ کافی ثابت ہوتی ہے۔

ایک دوسرے سے لڑ کر بستر پر جانے سے گریز

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر ممکن ہو تو لڑائی کے بعد مسئلے کو اسی وقت حل کرنے کی کوشش کریں، اس کو بوتل کی طرح بند کرنے سے گریز کریں اور معاملات کو خود حل کریں۔ اگر آپ معاملات نظرانداز کرنے کے رویے کا اظہار کرتے ہیں، تو اس سے تعلق خراب ہوتا ہے۔ باشعور جوڑے ایک دوسرے کے مسائل پر بات کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف کینہ نہیں رکھتے، ایسا کرنے سے دماغی صحت بھی ٹھیک رہتی ہے۔

دن میں کم از کم ایک بار محبت کا اظہار

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ایک دوسرے سے تعلق میں یہ لازمی ہے کہ آپ دونوں ایک دوسرے تک اپنے جذبات پہنچا کر بتائیں کہ شریک حیات آپ کی زندگی میں کیا اہمیت رکھتا ہے۔ محبت کا اظہار اور زندگی میں اس کی اہمیت کو سراہنا قربت کو مزید بڑھاتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ اپنے جذبات کا اظہار گرمجوشی سے کریں اور یہ خالی الفاظ محسوس نہ ہو۔

ایک دوسرے کی خودمختاری کو یقینی بنانا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

مشاغل اور دلچسپیاں شیئر کرنا تو ازدواجی زندگی میں ضروری ہوتا ہے مگر ایک دوسرے کی خودمختاری کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے۔ شریک حیات کی خودمختاری کو تسلیم کرنا چاہیے اور یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ آپ کے بغیر وہ کچھ نہیں، یہ صحت مند تعلق کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ یہ تسلیم کریں کہ آپ کا شریک حیات اپنی جگہ منفرد شخصیت کا حامل ہے، جس سے تعلق بھی درست سمت میں گامزن رہتا ہے۔

ایک ساتھ کھانا کھائیں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

روزمرہ کے معمولات میں اگر یہ ممکن نہیں کہ ہر وقت کا کھانا ایک ساتھ کھاسکیں،تو کم از کم دن میں ایک وقت کا کھانا اکھٹے کھانے کی کوشش ضرور کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ سے لطف اندوز بھی ہوں۔ ایسا نہیں کہ بس ساتھ تو بیٹھ گئے مگر اپنے فون میں گم ہوگئے، ایک دوسرے کو پوری توجہ دیں، دن کی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھیں یا جو بھی دل کرے بات کریں۔ شریک حیات کے ساتھ کبھی بھی اکھٹے وقت گزارنا اچھا ہی ثابت ہوتا ہے۔

ایک دوسرے کے خوابوں کو سپورٹ کریں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

شریک حیات کی توقعات اور خوابوں کو پورا کرنے میں تعاون کرنا ایک دوسرے سے محبت بڑھاتا ہے، خوش باش جوڑے ایک دوسرے کی خواہشات کے بارے میں سنتے ہیں اور ایک دوسرے کو سراہتے بھی ہیں۔ وہ اس وقت ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں جب حالات اور وقت مخالف ہوجاتے ہیں۔

باہمی اعتماد

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اعتماد کے بغیر تعلق کچھ وقت کے بعد ٹوٹ جاتا ہے، اگر آپ حاسد اور قابض پسند شخصیت رکھتے ہیں تو تعلق خراب ہونے سے پہلے ان مسائل کو دور کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اگر شریک حیات آپ کو زیادہ پریشان کررہا ہے تو صورتحال کا تجزیہ کرکے حالات بہت بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ایک دوسرے کے کاموں میں مدد

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

گھر کے کام ایک فرد پر چھوڑ دینا زیادہ اچھا خیال نہیں، کیونکہ وہ فرد سمجھ سکتا ہے کہ سب بوجھ اس پر لاد دیا گیا ہے، جس سے رشتے میں توازن باقی نہیں رہتا۔ ضروری نہیں کہ گھر کے ہر کام کو اکھٹا کریں، مگر کچھ حد تک مدد کرنا بھی تعلق کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر صرف ایک بار بھی ایسا کیا جائے تو دوسرے کے لیے ایسا پیغام ہوگا کہ آپ نے اس کے اندر کی آواز سنی اور یاد رکھی۔

چھوٹی چھوٹی چیزیں زندگی خوشگوار بناتی ہیں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

بڑے تحائف یا اقدامات پرجوش اور رومانوی ہوسکتے ہیں، مگر ضروری ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے ایک دوسرے کو سراہیں، جیسے کوئی ضرورت کی چیز بطور تحفہ دے دیا، چائے یا ناشتہ بنا کر دے دینا، گھر میں کسی جگہ ایک نوٹ پر لکھ دینا کہ شریک حیات کتنا ہے اور محبت کا اظہار کرنا، شریک حیات کا پسندیدہ ٹی وی شو اکھٹے دیکھنا وغیرہ۔

شریک حیات کے پیاروں کے کام آنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

شادی کا تعلق صرف دو افراد کے درمیان نہیں بلکہ دو خاندانوں کے درمیان ہوتا ہے اور شوہر ہو یا بیوی، ان کی زندگی میں چند ایسے افراد ضرور ہوتے ہیں جو بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کے کام آنے کی کوشش کریں تاکہ شریک حیات بھی خوش رہے۔

پودینہ آدھے سر کے درد کا مؤثر علاج

پودینہ کھانا تو ویسے ہی صحت کے لیے کافی فائدہ مند مانا جاتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ سردرد کی شکایت کو بھی دور کرسکتا ہے؟

وہ افراد جو میگرین کا شکار ہیں یا جن کے سر میں اکثر و بیشتر درد رہتا ہے، وہ یقیناً اس بات سے اتفاق کریں گے کہ سردرد ہونے کے بعد ان کی روز مرہ کی زندگی کس حد تک متاثر ہوتی ہے۔

تاہم اب سامنے آئی ایک تحقیق میں سردرد سے نجات کا نہایت آسان نسخہ سامنے آگیا ہے۔

جاپان کی ایک یونیورسٹی نے تحقیق کے بعد انکشاف کیا کہ شدید سر درد یا میگرین کی صورت میں پودینے کا جیل لگانے سے تکلیف کم یا ختم ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ماضی میں بھی ایک امریکی تحقیق سامنے آئی تھی جس میں پودینے کے جیل کے استعمال اور اس کے اثرات کا مشاہدہ شہریوں پر کیا گیا تھا۔

ان افراد میں سے 7 افراد کا درد مکمل طور پر ختم ہوا تھا جبکہ 13 کے درد میں کمی آئی البتہ 5افراد کو کسی قسم کا افاقہ نہیں ہو سکا تھا۔

اس تحقیق کے بعد ایک جیل متعارف بھی کروایا گیا جس کو ‘اسٹاپ پین’ (Stopain) کا نام دیا گیا تھا۔

سر درد یا میگرین کے دورے کے دوران جیل گردن کے پچھلے حصے پر لگانے سے درد کم کرنے میں بہت حد تک مدد ملتی ہے۔

آدھے سر کے درد یعنی میگرین کے لیے مینتھول جیل انتہائی موثر ثابت ہوتا ہے اور اس کو سر کا درد کم کرنے میں مؤثر پایا گیا ہے۔

Google Analytics Alternative