صحت

گرمی میں دن میں کتنے انڈے کھانے چاہئیں؟

ایسا کون ہوگا جسے انڈا کھانا نہ پسند ہو؟ انڈے کو سب سے زیادہ غذائیت سے بھرپور خوراک مانا جاتا ہے۔

صرف ایک انڈے میں آپ کو وہ سب ملے گا جس کی ضرورت ہمارے جسم کو صحت مند رہنے کے لیے ہوتی ہے۔

انڈے کی زردی میں کیلشیم اور آئرن کی مقدار بہت زیادہ پائی جاتی ہے، جبکہ سفیدی میں پروٹین شامل ہے۔

وہ افراد جن کو انڈے سے کسی قسم کی الرجی ہے ان کے علاوہ انڈا ہر کسی کے لیے سب سے بہترین خوراک مانا جاتا ہے، لیکن انڈے کے لیے بھی لوگوں کے دلوں میں چند وہم موجود ہیں۔

انڈا کھانے کے حوالے سے سب سے زیادہ سوال جو سامنے آتا ہے وہ یہ کہ کیا گرمیوں میں بھی انڈا کھانا چاہیے، یا یہ صرف سردیوں میں کھانا صحت کے لیے مثبت ہے؟

دراصل یہ ایک غلط فہمی ہے کہ گرمیوں میں انڈے کھانا صحت پر منفی اثرات چھوڑتے ہیں۔

گرم موسم کا انڈوں سے کوئی تعلق نہیں، اور گرمیوں میں انڈا کھانے سے صحت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا، انڈوں میں طرح طرح کے وٹامنز اور منرلز موجود ہیں، جن کی ضرورت جسم کو گرمیوں میں بھی اتنی ہی پڑتی ہے جتنی کے سردیوں میں پڑتی ہے۔

یہ بات صحیح ہے کہ انڈے سے جسم میں گرمی پیدا ہوتی ہے، اور زیادہ کھانے سے نظام ہاضمہ متاثر ہوسکتا ہے، لیکن اگر انڈے کو صحیح مقدار میں کھایا جائے تو اس کا کوئی نقصان نہیں۔

گرمیوں میں دن میں ایک انڈا کھانا یقیناً فائدہ مند ہی ثابت ہوگا۔

انڈے کے دیگر فوائد جو آپ کو حیران کردیں گے:

امراض قلب کا خطرہ کم

ایک تحقیق کے مطابق انڈوں میں موجود کولیسٹرول صحت کے لیے نقصان دہ نہیں جبکہ اس میں موجود اومیگا تھری فیٹی اسیڈز ٹرائی گلائیسرائیڈز کی سطح میں کمی لاتا ہے جس سے خون کی شریانوں سے جڑے مسائل جیسے امراض قلب وغیرہ کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی

ایک امریکی تحقیق کے مطابق انڈوں کے ساتھ ناشتے میں کم کیلوری والی غذا جسمانی وزن میں دوگنا تیزی سے کمی لانے میں مدد دیتی ہے۔

بینائی کو تحفظ

ایک تحقیق کے مطابق انڈے لیوٹین نامی جز سے بھرپور ہوتے ہیں، یہ جز بینائی کو درست رکھنے کا ذمہ دار ہوتا ہے، جبکہ اس کی کمی آنکھوں کے ٹشوز میں تباہ کن تبدیلیاں لاتی ہے اور بینائی کو ناقابل نقصان پہنچ سکتا ہے۔

بانجھ پن سے بچائے

وٹامنز بی ایسے ہارمونز کو تشکیل دیتا ہے جو بانجھ پن سے بچاﺅ کے لیے ضروری ہے، وٹامن بی نائن یا فولک ایسڈ خون کے سرخ خلیات کو بہتر بناتا ہے جبکہ دوران حمل بچوں کی دماغی نشوونما میں رکاوٹ کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

جلد، بالوں اور جگر کے لیے بہترین

انڈوں میں موجود بائیوٹن، وٹامن بی 12 اور دیگر پروٹینز بالوں اور جلد کی مضبوطی اور لچک میں کردار ادا کرتے ہیں، اسی طرح انڈے کھانے کی عادت جگر سے زہریلے مواد کے اخراج کے عمل کو بہتر کرتی ہے۔


نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

کہیں آپ بھی نیند کے حوالے سے ان وہمات کا شکار تو نہیں؟

کیا انسان، کیا جانور یہاں تک کہ نباتات کے لیے بھی ‘نیند’ کو بنیادی ضرورت مانا جاتا ہے اور اسی ‘نیند’ کے حوالے سے لوگوں کے ذہنوں میں بہت سے وہم اور غلط تصورات بھی ہیں جن پر عمل کر کے صحت کے خرابی کے ساتھ ساتھ مزاج کی برہمی بھی شروع ہو جاتی ہے۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ نیند سے جڑے مسائل انسانی زندگی کم کرنے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

نیویارک یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے انٹرنیٹ پر ‘اچھی نیند’ سے متعلق کیے گئے دعووں کو سائنسی شواہد پر جانچا اور بعد ازاں یہ تحقیق سلِیپ ہیلتھ جرنل میں بھی شائع ہوئی۔

ٹیم کا کہنا ہے کہ نیند سے متعلق وہمات کی تردید سے لوگوں کی جسمانی اور ذہنی صحت بہتر ہونے میں مدد ملے گی۔

واہمہ نمبر 1 : ‘5 گھنٹوں سے کم کی نیند سے بھی گزارا کیا جا سکتا ہے’

یہ سمجھنا کہ 5 گھنٹے سے کم کی نیند سے صحت پر منفی اثرات نہیں ہوتے غلط ہے۔

سابق برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر اپنی رات کی چار گھنٹے کی نیند کے حوالے سے مشہور تھیں۔ جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل بھی کچھ ایسا ہی دعویٰ کرتی ہیں۔

عام لوگ بھی اسی طرح کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں تاکہ وہ بستر سے وقت بچا کر اپنے دیگر کاموں کو وقت دے سکیں۔

تاہم سائنسدانوں نے اس وہم کی تردید کی ہے، ان کے مطابق 5 گھنٹوں سے کم کی نیند صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

تحقیق کرنے والی ٹیم میں شامل ڈاکٹر ربیکا روبنسز کا کہنا ہے کہ مسلسل5 گھنٹوں یا اس سے کم کی نیند صحت پر برے اثرات مرتب کرتی ہے۔ان اثرات میں دل کی بیماریاں جیسے ہارٹ اٹیک اور فالج کا حملہ شامل ہوسکتے ہیں اور ان کی وجہ سے طبعی عمر میں کمی بھی ہوسکتی ہے۔

انھوں نے رات کو کم سے کم 7 یا 8 گھنٹوں کی نیند لینے کی تجویز دی ہے۔

وہم نمبر 2 : ‘سونے سے قبل ٹی وی دیکھنا سکون آور ہوتا ہے’

سونے سے قبل ٹی وی دیکھنے سے دماغ کو سکون ملنے کے دعوے بھی غلط ہیں۔ڈاکٹر روبنسز کا کہنا ہے کہ عموماً ہم سونے سے قبل ٹی وی پر خبریں یا ان سے متعلق تجزیے ہی دیکھتے ہیں۔اس سے نیند میں خلل پیدا ہوتا ہے یا اس کا نتیجہ ایک بے سکون نیند کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

ٹی وی اور دیگر جدید آلات کا ایک بڑا تکنیکی مسئلہ یہ ہے کہ ان سے نیلی روشنی کا انعکاس ہوتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں ‘سلیپ ہارمون میلاٹونن’ کی پروڈکشن تاخیر سے شروع ہوتی ہے۔

وہم نمبر 3 : ‘اگر آپ سونے کی کوشش کر رہے ہیں تو بستر میں لیٹے رہیں’

اکثر لوگ سونے کی کوشش میں خود کو تھکا لیتے ہیں اور نیند سے پھر بھی دور رہتے ہیں۔تو پھر کرنا کیا چاہیے،سائنسدانوں کا جواب ہے کہ زبردستی سونے کی کوشش ترک کر دیں۔

ڈاکٹر روبنسز کا کہنا ہے ایک صحت مند شخص کو بھی سونے کے لیے کم از کم 15 منٹ درکار ہوتے ہیں لیکن اس سے بھی زائد وقت ہونے کی صورت میں بستر سے نکل آئیں اور خالی ذہن کے ساتھ کچھ ایسا کریں جس سے دماغ نیند کے مدعے سے ہٹ جائے۔

وہم نمبر 4 : ‘الارم میں تاخیری حربوں سے نیند پوری ہوجاتی ہے’

الارم لگا کر پھر اس پر اسنوز کے بٹن دبا دبا کر بستر پر مزید لیٹے رہنے کے تاخیری حربے کون نہیں آزماتا۔لیکن کیا ان کچھ زائد منٹوں سے کوئی فرق پڑتا ہے؟

تحقیق کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ جیسے ہی الارم بند ہو بغیر کسی تاخیر کے آپ بستر سے اٹھنے کی کوشش کریں۔

ڈاکٹر روبنسز کا کہنا ہے کہ اسنوز کا بٹن دبا دینے کے بعد بے شک آپ کچھ دیر نیند کے لمحے حاصل کر لیتے ہیں لیکن یہ نیند بہت ہلکی اور بے آرام کر دینے والی ہوتی ہے۔

ان کی تجویز ہے کہ اسنوز کا بٹن دبانے کی بجائے اٹھ کر کمرے کے پردے پیچھے کر دیں اور دن کی روشنی کے سامنے کھڑے ہوجائیں، کوشش کریں کہ تازہ ہوا میں سانس لے سکیں۔ آپ فوری طور پر خود کو تازہ دم محسوس کریں گے۔

وہم نمبر 5 : ‘نیند کے دوران لیے جانے والے خراٹے ہمیشہ بے ضرر ہوتے ہیں’

خراٹے لینا بے ضرر ہو سکتا ہے لیکن ہمیشہ نہیں، یہ نیند کے ایک مسئلے ‘اپنوئیا’ کی نشانی بھی ہوسکتی ہے۔اس سے نیند کے دوران سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اس مسئلے میں مبتلا لوگ بلند فشار خون، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی یا ہارٹ اٹیک کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر روبنسز کا کہنا ہے کہ رات کی نیند جسمانی ، ذہنی صحت  اور مزاج کو بہتر رکھنے کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے لہٰذا رات کے وقت کم سے کم 8 گھنٹے کی پرسکون نیند لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔

واٹر فلٹر کو کتنی مدت بعد بدل دینا چاہیے؟

گھر میں متعدد چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کو جب بدلنا ہوتا ہے تو فوری معلوم ہوجاتا ہے جیسے لائٹ بلب بند ہوجاتا ہے یا پلیٹیں دھلنے کے بعد بھی صاف نہیں ہوتیں۔

مگر اکثر گھروں میں لگے واٹر فلٹر کے بارے میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ اسے کب بدل دینا چاہئے۔

درحقیقت بیشتر افراد جب تک فلٹر سے گزر کر نلکے میں پانی آتا رہتا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ واٹر فلٹر درست کام کررہا ہے۔

تو سوال یہ ہے کہ واٹر فلٹر کو کب بدل دینا چاہئے ؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر 3 سے 6 ماہ میں واٹر فلٹر کو بدل لینا معمول بنانا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق ہر گھر کی ضروریات اور پانی کے ذرائع مختلف ہوسکتے ہیں تو کسی مخصوص مدت کا تعین کافی مشکل ہوتا ہے بلکہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کس طرح کا فلٹر استعمال کرتے ہیں اور جو پانی فلٹر ہوتا ہے اس کا معیار کیا ہے اور آپ کتنا پانی استعمال کرتے ہیں۔

اگر آپ کے گھر میں اپنے کنویں کا ایسا پانی آتا ہے جس میں آئرن یا مٹی زیادہ آتی ہے تو بہتر ہے کہ ہر 3 ماہ بعد ہی فلٹر کو بدل دیں۔

اسی طرح سرکاری ادارے سے پانی آتا ہے تو ہر 6 ماہ بعد فلٹر بدل دینا ٹھیک ہوتا ہے۔

ویسے فلٹر بدلنے کے وقت کی ایک بڑی علامت وہ ہوتی ہے جب گھر میں پانی کے دباﺅ میں نمایاں کمی آنے لگتی ہے جبکہ پانی کے ذائقے یا بو میں تبدیلی بھی اس بات کا عندیہ ہے کہ اب فلٹر بدل دینا چاہیے۔

جب فلٹر میں مٹی زیادہ بھر جاتی ہے تو پانی کا بہاﺅ رکتا ہے اور ایسا ہونے پر کنویں کے پمپ سسٹم پر بھی دباﺅ بڑھتا ہے۔

واٹر فلٹر کو بدلنے میں غفلت کے نتیجے میں سسٹم کی مہنگی مرمت اور ناقص پانی جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں میں گردوں کی حفاظت کرنے والی دوا

واشنگٹن: ماہرین نے ذیابیطس قسم دوم (ٹائپ ٹو ڈائبٹیز) میں مبتلا مریضوں کے گردوں کی حفاظت کرنے اور انہیں مکمل طور پر ناکارہ ہونے سے بچانے کےلیے ایک نئی دوا کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

طبّی تحقیقی جریدے ’نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن‘ میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں ٹائپ ٹو ڈائبٹیز کے مریضوں میں گردوں کو مکمل طور پر ناکارہ ہوجانے سے محفوظ رکھنے کےلیے  ایک دوا کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ یہی مقالہ ’’انٹرنیشنل سوسائٹی آف نیفرولوجی‘‘ کی سالانہ کانفرنس میں بھی پیش کیا گیا۔

اسٹنیفرڈ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں پروفیسر کینتھ میفری اور ان کے ساتھیوں نے 34 ممالک میں ذیابیطس قسم دوم کے 4401 مریضوں پر بیس سال سے زائد عرصے تک تحقیق کرنے کے بعد جو حیرت انگیز نتائج حاصل کئے، ان سے معلوم ہوا ہے کہ بلڈ پریشر کم کرنے والی دوا Canagliflozin  اضافی طور پر ذیابیطس قسم دوم کے مریضوں کے گردوں کو ناکارہ ہوجانے سے بھی بچاسکتی ہے۔ یہ دوا گردوں سے گلوکوز کے اخراج کا عمل تیز کرتے ہوئے اپنا اثر دکھاتی ہے۔

واضح رہے کہ یہ دوا  پہلے ہی ڈائبٹیز ٹائپ ٹو کے مریضوں میں بلڈ پریشر کم کرنے کےلیے ایف ڈی اے سے منظور شدہ ہے جب کہ یہ دوا بلڈ پریشر کے ساتھ دل کے امراض سے بھی محفوظ رکھنے میں کارگر ثابت ہوتی ہے۔ حالیہ تحقیق میں گردوں کو ناکارہ ہونے سے بچانے میں بھی اس کی نئی افادتی سامنے آئی ہے۔

پروفیسر کینتھ نے اس دوا کو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے اُن مریضوں کو دی جن میں گردے کی خرابی کا عمل شروع ہو گیا تھا اور قریب تھا کہ گردے مکمل طور پر فیل ہوجاتے، تاہم اس دوا کے استعمال سے مریضوں میں گردے خراب ہونے کا عمل رک گیا اور گردوں کی کارکردگی آہستہ آہستہ بہتر بھی ہونے لگی۔ اب اس تحقیق کے نتائج ایف ڈی اے کو بھی بھیج دیئے گئے ہیں تاکہ اس دوا کو ذیابیطس قسم دوم سے متاثرہ مریضوں میں گردوں کے تحفظ کےلیے بھی استعمال کیا جاسکے۔

بتاتے چلیں کہ ٹائپ ٹو ڈائبٹیز اپنے مریضوں کو بتدریج متاثر کرتی ہے۔ بیماری کی شدت بڑھنے پر مریض کے زخم بند اور مندمل ہونے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے جبکہ گردے بھی اس بیماری سے متاثر ہوتے ہوتے، بالآخر مکمل ناکارہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹائپ ٹو ڈائبٹیز سے شدید طور پر متاثرہ مریض بار بار ڈائلیسس کروانے پر مجبور ہوتے ہیں جو ان کےلیے جسمانی تکلیف اور اضافی مالی بوجھ کی وجہ بنتا ہے۔ تاہم، اگر ایف ڈی اے نے یہ دوا باضابطہ طور پر ذیابیطس میں گردوں کی حفاظت اور انہیں پہنچنے والا نقصان روکنے کےلیے منظور کرلی تو اس سے ذیابیطس کے مریضوں کو ڈائلیسس سے پہنچنے والی اذیت اور زائد اخراجات، دونوں سے نجات مل سکے گی۔

سائنسدان پہلی بار تھری ڈی پرنٹر سے دل پرنٹ کرنے میں کامیاب

سائنسدانوں نے پہلی بار تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے انسانی ٹشوز اور خون کی شریانوں سے دل بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اگرچہ اس دل کا حجم ایک چیری جتنا ہے اور خون پمپ نہیں کرسکتا مگر طبی ماہرین کے مطابق یہ اہم طبی پیشرفت ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ خلیات، شریانوں اور چیمبر کے ساتھ تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے دل کو پرنٹ کیا گیا ہے۔

سائنسدانوں کو توقع ہے کہ اس دل کے ٹیسٹ ایک سال کے اندر شروع کیے جاسکتے ہیں۔

تل ابیب یونیورسٹی کے محققین نے اس تھری ڈی پرنٹڈ دل کو متعارف کرایا اور یہ بتایا کہ انہوں نے انسانی خلیات کی مدد سے اسے بنانے میں کیسے کامیابی حاصل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں دل جیسے اسٹرکچر تھری پرنٹ ہوچکے ہیں مگر خلیات یا خون کی شریانوں کو پہلی بار اس طرح کے عضو کاحصہ بنایا گیا ہے۔

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

اس دل کا حجم خرگوش کے دل جتنا ہے اور مسل کی طرح سکڑ سکتا ہے مگر یہ مکمل پمپ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

اس دل کو بنانے کے لیے ایک انسانی مریض کے فیٹی ٹشوز کے نمونے سے خلیات حاصل کیے گئے، جن کی تعداد بڑھا کر دل کے ٹشوز کا حصول ممکن بنایا گیا اور بتدریج پورا دل بنانے میں کامیابی حاصل کی گئی۔

مگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی سب سے بڑا چیلنج خلیات کی مدد سے ایک مکمل انسانی دل بنانا ہے۔

اس تیکنیک کی بدولت مستقبل میں دل کے مریض اپنے جسم کے ری سائیکل خلیات کو استعمال کرکے نیا ڈل حاصل کرسکیں گے، جس کا جسم کی جانب سے مسترد کیے جانے کا خطرہ بھی بہت کم ہوگا۔

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

محققین کا کہنا تھا کہ 10 برسوں میں اعضا پرنٹ کرنے والے پرنٹر دنیا بھر کے ہسپتالوں میں ہوں گے اور یہ عمل معمول بن جائے گا۔

اب سائنسدان اگلے مرحلے میں تھری ڈی پرنٹڈ دل کو انسانی دل کی طرح دھڑکنا سیکھانے کی کوشش کریں گے، جس کے بعد ان کا ٹرانسپلانٹ جانوروں میں کیا جائے گا۔

ان مشروبات کا استعمال اچھی نیند کو یقینی بنائے

 نیند کی کمی متعدد جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے جبکہ بے خوابی کی شکایت اکثر ہارٹ اٹیک اور فالج کے خطرے کی جانب اشارہ کررہی ہوتی ہے۔

بیشتر افراد کو نیند کے مختلف عوارض جیسے بے خوابی یا خراٹوں کی شکایت کا سامنا ہوتا ہے جو دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

نیند کی کمی سے متاثر جسم اپنے افعال مناسب طریقے سے کرنے میں ناکام رہتا ہے جبکہ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

تو کیا اکثر آپ کو سونے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور کروٹیں بدلتے رہتے ہیں؟

اگر ہاں تو آپ کو سونے سے قبل چند مشروبات کو آزمانا چاہیے جن میں ایسے اجزاءموجود ہوتے ہیں جو جلد سونے میں مدد دینے کے ساتھ اس کا معیار بھی بہتر بناتے ہیں۔

گرم دودھ

گرم دودھ اچھی نیند کے حصول میں بہت زیادہ مددگار ثابت ہوسکتا ہے، اکثر کیلشیئم کی کمی بے خوابی کی بڑی وجہ ثابت ہوتی ہے۔ دودھ سے جسم کو کیلشیئم ملتا ہے جبکہ اس کے ساتھ اس میں ایک اور کمپاﺅنڈ سیروٹونین بھی موجود ہوتا ہے جو ذہن کو سکون اور آرام کا احساس دیتا ہے۔

ناریل کا پانی

ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جسم میں میگنیشم کی کمی ڈپریشن اور ذہنی بے چینی کا خطرہ بڑھاتا ہے، ناریل کے پانی میں میگنیشم اور پوٹاشیم موجود ہوتا ہے جو ذہن کو پرسکون رکھتا ہے، جس سے جلد سونے میں مدد ملتی ہے۔

کیلے کا ملک شیک

کیلوں میں میگنیشم، پوٹاشیم کے ساتھ ٹرائی پیتھون نامی ایک امینو ایسڈ موجود ہوتا ہے جو نیند لانے میں مدد دینے والے کمپاﺅنڈ سیروٹونین بننے میں مدد دیتے ہیں۔ کیلے اور دودھ کے مکسچر میں شہد کا اضافہ اسے مزیدار بناتا ہے جو مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرکے میٹھی نیند کا حصول ممکن بناتا ہے۔

بادام اور زعفران کا دودھ

بادام کے دودھ میں ضروری اجزا موجود ہوتے ہیں جو تناﺅ پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں جبکہ معمولی زعفران کا اضافہ اس دودھ کی اعصاب کو ریگولیٹ کرنے کی خصوصیات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

بابونہ چائے

بابونہ(Chamomile) پودے کی چائے بھی ذہن کو پرسکون رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے، یہ ایک خاص قسم کی پھول نما جڑی بوٹی ہے، جس کے پتے سفید اور پیلے رنگ کے ہوتے ہیں اور پرسکون ذہن جلد نیند کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔

سبز چائے

سبز چائے کو دماغ کی صحت اور تھکاوٹ کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کا ایک اور فائدہ بھی ہوتا ہے کہ اگر اسے نیند سے ایک گھنٹہ قبل پیا جائے تو پر سکون نیند آتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ناشتے میں اس غذا کا استعمال ذیابیطس کے مریضوں کیلئے فائدہ مند

ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں کے لیے ناشتے میں انڈے کا انتخاب بلڈ شوگر کو دن بھر کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ ناشتہ دن کی وہ غذا ہے جو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ناقص انتخاب کے نتیجے میں بلڈشوگر لیول دن کے آغاز پر ہی اوپر جانے کا امکان ہوتا ہے، تاہم زیادہ پروٹین اور کم کاربوہائیڈریٹ والا ناشتہ دن بھر شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ذیابیطس کے مریض اگر سیریل، ٹوسٹ یا کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا ناشتے میں جزو بدن بنائیں تو بلڈشوگر لیول بڑھتا ہے جس سے ذیابیطس کی پیچیدگیوں کا خطرہ بھی وقت کے ساتھ بڑھنے لگتا ہے۔

محققین کے مطابق ناشتے میں انڈوں کا استعمال شوگر لیول کو بڑھنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ دن بھر میں گلیسمک کنٹرول بہتر کرتا ہے جبکہ دیگر پیچیدگیوں کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ناشتہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انتہائی اہم غذا ہے کیونکہ ناقص انتخاب دن میں میٹھی غذاﺅں کی اشتہا بڑھاتا ہے جس سے شوگر لیول مزید اوپر جاتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل آف دی امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل گزشتہ سال آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ہر ہفتے 12 انڈے کھانے کا سلسلہ اگر ایک سال تک بھی جاری رکھا جائے تو اس سے ذیابیطس ٹائپ ٹو اور ذیابیطس سے قبل کی علامات کے شکار افراد میں امراض قلب کا خطرہ نہیں بڑھتا۔

اس تحقیق کے آغاز پر رضاکاروں کے وزن کا جائزہ لینے کے ساتھ جانا گیا کہ وہ ہر ہفتے کتنے انڈے کھاتے ہیں اور 3 ماہ بعد نتیجہ نکالا گیا کہ محض 2 انڈے یا 12 انڈے کھانے سے خون کی شریانوں سے جڑے مسائل کے خطرہ نہیں بڑھتا۔

بعد ازاں رضاکاروں کو مزید 3 ماہ تک جسمانی وزن میں کمی لانے والی غذا کا استعمال کرایا گیا جس کے دوران انڈے کھانے کی تعداد کو بھی دیکھا گیا جبکہ مزید 6 ماہ تک ان افراد کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہر مرحلے میں کم یا زیادہ انڈے کھانے والے گروپس میں امراض قلب کے خطرات کے عناصر میں کوئی منفی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ذیابیطس کے شکار افراد کو انڈوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے مگر نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے امراض قلب کا خطرہ نہیں بڑھتا بلکہ یہ صحت بخش غذا کا ایک حصہ ہے۔

اسی طرح فن لینڈ کی ایسٹرن فن لینڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ انڈوں میں اگرچہ قدرتی طور پر کولیسٹرول کی مقدار کافی ہوتی ہے مگر ان کا استعمال جان لیوا ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ لگ بھگ 40 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انڈے دنیا بھر میں پھیلتی اس وباءکی روک تھام کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق انڈوں میں شامل غذائی اجزاءجسم میں چینی یا شوگر کو جذب ہونے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

محققین کے مطابق جو لوگ ہفتے میں 4 بار انڈوں کا استعمال کرتے ہیں ان میں اس جان لیوا مرض کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں 38 فیصد کم ہوتا ہے جو اسے کھانا پسند نہیں کرتے۔

نہار منہ اس مشروب کو پینے سے جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟

کشمش کو تو آپ نے دیکھا ہی ہوگا جو کہ انگور خشک کرکے بنائی جاتی ہے اور اس کی رنگت گولڈن، سبز یا سیاہ ہوسکتی ہے۔

وٹامنز، فائبر اور منرلز سے بھرپور کشمش سب سے زیادہ استعمال ہونے والا میوہ بھی ہے جو کہ کسی سپرفوڈ کی طرح کام کرتی ہے۔

کچھ لوگ اسے پانی میں بھگو کر بھی کھاتے ہیں اور یہ طریقہ کشمش کو صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند بنا دیتا ہے۔

رات بھر پانی میں بھیگے رہنے سے کشکش کے تمام منرلز اور غذائی اجزا پانی میں حل ہوجاتے ہیں اور اس میوے کو زیادہ صحت بخش بنادیتے ہیں۔

جگر اور آنتوں سے زہریلا مواد خارج کرے

کشمش کو رات بھر پانی میں رکھ کر صبح پی لینا جگر اور آنتوں کی صفائی میں مدد دیتا ہے، اس میں اینٹی آکسائیڈنٹس اور غذائی فائبر اس سلسلے میں مدد دیتے ہیں۔ اینٹی آکسائیڈنٹس جگر کے افعال کو درست رکھنے میں مدد دیتے ہیں اور جسم سے زہریلے مواد کی صفائی کا عمل تیز کرتے ہیں جبکہ فائبر آنتوں کے افعال بہتر کرکے قبض جیسے مسئلے کو دور کرتا ہے۔ یہ مشروب نہار منہ خالی پیٹ پینا اس کے کام کو زیادہ تیز کردے گا اور پانی میں بھیگی ہوئی کشمش کو کھانا مت بھولیں۔

جسمانی توانائی بڑھائے

سائنسدان اور کھیلوں کے ماہرین کا ماننا ہے کہ کشمش انرجی بار کا بہتر متبادل ثابت ہوسکتی ہے، کشمش میں فائبر اور دیگر اجزا کی بھرمار جبکہ چینی کی جگہ قدرتی مٹھاس ہوتی ہے، کشمش کا پانی نہار منہ صبح پینا دن بھر کے لیے جسم کو توانائی سے بھرپور رکھنے میں مدد دیتا ہے جبکہ اس مشروب کو جسمانی سرگرمیوں سے پہلے بھی پیا جاسکتا ہے۔

بلڈ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر مستحکم کرے

تحقیقی رپورٹس میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ کشمش فائبر، پوٹاشیم، اینٹی آکسائیڈنٹس اور phytonutrients ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ کشمش پانی کا استعمال نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح بھی کم کرتا ہے، جس سے خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے

کشمش فائبر سے بھرپور میوہ ہے اور یہ پانی میں بھگو کر کھانے پر جلاب کی طرح کام کرتا ہے، جس سے قبض سے نجات ملتی ہے اور نظام ہاضمہ درست طریقے سے کام کرتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی

کشمش قدرتی شکر سے بھرپور ہوتی ہے اور چینی کی طلب کی روک تھام کرتی ہے، مگر اعتدال میں رہ کر کھانا ہی بہتر ہوتا ہے جس سے بلڈشوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے کے ساتھ کھانے کی اشتہا کو قابو کرنے میں مدد ملتی ہے، جس سے جسمانی وزن میں کمی میں مدد ملتی ہے۔

ہڈیوں کی مضبوطی

کشمش میں ہڈیوں کے لیے ضروری جز Boron موجود ہوتا ہے جبکہ اس میں موجود کیلشیئم بھی ہڈیوں کی مضبوطی میں مدد دیتے ہیں، پانی میں بھگو کر کشمش کو کھانے سے یہ اجزا زیادہ بہتر طریقے سے جسم میں جذب ہوتے ہیں، جس سے ہڈیوں کی کثافت میں بہتری آتی ہے۔

سانس کی بو دور کرے

کشمش کی جراثیم کش خصوصیات منہ کی صفائی میں مدد دیتی ہیں اور سانس کی بو کا مسئلہ دور کرتی ہیں۔

خون کی کمی دور کرے

خون کے سرخ خلیات بننے کے عمل کے لیے آئرن بہت ضروری ہوتا ہے، کشمش آئرن سے بھرپور میوہ ہے، جس کو پانی میں بھگو کر کھانے سے جسم میں خون کی سپلائی بڑھتی ہے اور انیمیا کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

یہ خیال رکھیں

اس کو بنانے کے مختلف طریقہ کار ہیں اور یاد رکھیں کشمش کا پانی صحت بخش غذا کا اچھا اضافہ ضرور ہے مگر یہ ادویات کا متبادل ثابت نہیں ہوسکتا۔ اگر آپ کو جگر، دل، بلڈ پریشر یا کسی قسم کی بیماری کا سامنا ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرکے مناسب علاج کرائیں اور صحت بخش غذا کو طرز زندگی کا حصہ بنائیں۔

 

Google Analytics Alternative