- الإعلانات -

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی رہائشگاہ کے باہر احتجاج، مستعفی ہونے کا مطالبہ

اسرائیل میں ہزاروں کی تعداد میں عوام نے ہفتے کی رات سے لے کر اتوار کی صبح تک وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف کئی ہفتوں سے جاری یہ احتجاج 11ویں ہفتے میں داخل ہو گیا ہے اور یہ احتجاج ایک ایسے موقع پر کیا جا رہا ہے جب اسرائیل کو ریکارڈ تعداد میں کورونا وائرس کے کیسز کا سامنا ہے۔

مظاہرین کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے میں ناکامی پر نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جہاں اس کے نتیجے میں ملک میں بیروزگاری میں اضافہ ہوا اور ان کا کہنا تھا کہ کرپشن مقدمات کا سامنا کرنے والے وزیر اعظم کو فوری استعفیٰ دینا چاہیے۔

مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینر اٹھائے ہوئے تھے جن پر انقلاب، یہاں سے نکل جاؤ کے نعرے درج تھے جبکہ عوام کی بڑی تعداد نے اسرائیل کے جھنڈے بھی ہاتھ میں لیے ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ قریبی عمارت پر عبرانی زبان میں ایک نشان بنا کر وزیر اعظم کی جانب اشارہ کیا گیا تھا جس کا مطلب تھا کہ ‘بس، تمہیں بہت برداشت کر لیا’۔

یروشلم کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی عوام نے پلوں اور اہم شاہراہوں پر احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

اسرائیل کی حکومت کورونا وائرس کی پہلی لہر پر تو قابو پانے میں کامیاب رہی تھی لیکن وہ معیشت کو دوبارہ معمول پر بحال کرنے کے حوالے سے صحیح اقدامات نہ کر سکی جس کی وجہ سے اب انہیں وائرس کی ایک شدید لہر کا سامنا ہے۔

اسرائیل میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور حکومت روزانہ ی بنیاد پر بڑھتے ہوئے متاثرین کی تعداد کو روکنے کے لیے دوبارہ لاک ڈاؤن پر غور کر رہی ہے۔

اسرائیل میں اس وقت کورونا کے 26ہزار فعال کیسز موجود ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ کیسز کی تعداد میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اکثر مظاہرے پرامن رہے البتہ بعض مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔

گزشتہ روز ہونے والے احتجاج کے بعد پولیس نے ایک خاتون سمیت 13افراد کو گرفتار کیا جبکہ ایک مقام پر مظاہرین نے رکاوٹ عبور کرنے کے بعد پولیس سے ہاتھا ہائی کی جس کے نتیجے میں دو پولیس افسر زخمی ہوئے۔

نیتن یاہو نے مظاہرین کو انتشار پھیلانے والے عناصر قرار دیتے ہوئے ان کے مطالبات کو مسترد کردیا لیکن ان پر دباؤ استعفے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

اسرائیل کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی عہدے پر براجمان وزیر اعظم پر کرپشن اور رشوت کے سنگین الزامات لگائے گئے ہوں، تاہم وہ اس کے باوجود بھی عہدے سے الگ نہیں ہو رہے ہیں۔

گزشتہ سال کرپشن کے تین سنگین الزامات کے تحت نیتن یاہو پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

نیتن یاہو پر لگائے گئے سنگین ترین الزام کو 4000 کا نام دیا گیا اور اس کیس میں نیتن یاہو پر رشوت لینے اور عوام کو ٹھیس پہنچانے جیسے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔

ان کے خلاف لگائے گئے دوسرے سنگین الزام کو 1000 کا نام دیا گیا ہے اور اس کیس میں اسرائیلی وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ پر امیر ترین افراد سے سیاسی فوائد کے عوض قیمتی تحائف لینے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم پر لگائے گئے تیسرے الزام کو 2000 کا نام دیا گیا ہے اور اس کیس میں ان پر ایک ٹیلی کام کمپنی کے مالک کو رشوت اور اپنے حوالے سے مثبت خبریں شائع کرنے کے عوض حریف اداروں کے لیے سخت مشکلات فراہم کرنے جیسے الزامات لگائے گئے ہیں۔

نیتن یاہو پر ان تینوں مذکورہ کیسز کے حوالے سے 2017 سے پوچھ گچھ کی جا رہی تھی اور 2018 میں حکومت نے ان کے خلاف کرپشن، رشوت اور دھوکے کے الزامات کے تحت چارج شیٹ تیار کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔