- الإعلانات -

سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اچھی خبر آ گئی

ریاض: سعودی حکومت کی جانب سے کورونا وبا کے دوران تیل کی معیشت بُری طرح متاثر ہونے کے بعدیکم جولائی 2020ء کو ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی شرح پانچ فیصد سے بڑھا کر 15 فیصدکر دی گئی تھی جس کے باعث کھانے پینے اور دیگر روزمرہ استعمال کی سینکڑوں اشیاء مہنگی ہو گئی تھیں۔ اس مہنگائی سے لاکھوں پاکستانی بھی متاثر ہوئے تھے ، جو پہلے ہی وبا کے دوران کئی ماہ کی تنخواہیں نہ ملنے سے خاصی پریشانی میں گھرے ہوئے تھے۔

تاہم اب سعودی حکومت نے ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے حوالے سے اچھی خبر سُنا دی ہے۔ سعودی عرب نے کرونا وائرس کی وبا کے خاتمے کے بعد اضافی قدری ٹیکس ( ویٹ) کی اضافہ شدہ شرح پر نظرثانی کا اعلان کیا ہے۔ قائم مقام وزیر اطلاعات ماجد بن عبداللہ القصبی نے جمعرات کے روز صحافیوں کو بتایا ہے کہ ” یہ فیصلہ بھی کسی اور فیصلے کی طرح کا ہے،ان شاء اللہ اس پر اس بحران کے خاتمے کے بعد نظرثانی کی جائے گی۔

“ان کا اشارہ کرونا وائرس کی وبا کی جانب تھا۔انھوں نے کہا کہ ”اس سال کے اوائل میں ویٹ کو تین گنا کرنے کا فیصلہ تکلیف دہ تھا۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی اگلے روز اپنی تقریر میں اس تکلیف دہ فیصلے کی جانب اشارہ کیا ہے۔“واضح رہے کہ سعودی عرب نے یکم جولائی سے ویلیوایڈڈ ٹیکس کی شرح پانچ فی صد سے بڑھا کر پندرہ فی صد کردی تھی۔سعودی وزارتِ خزانہ نے یہ فیصلہ کرونا وائرس کی وَبا کے قومی معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کو زائل کرنے اور طویل المیعاد مالیاتی استحکام کے لیے مختلف اقدامات کے ضمن میں کیا تھا۔ویٹ کی شرح میں اس اضافے اور زندگی الاوٴنس کی معطلی پر سعودی شہری اور کاروباری ادارے سخت پریشانی سے دوچار ہوگئے تھے کیونکہ وہ حکومت سے مزید مالی معاونت کی توقع کررہے تھے جبکہ ماہرین معیشت نے خبردارکیا تھا کہ اس سے شرح نمو کم ہو کررہ جائے گی۔

دنیا میں تیل کے سب سے بڑے برآمد کنندہ سعودی عرب نے اس سال کی تیسری سہ ماہی میں قریباً 11 ارب ڈالر کا بجٹ خسارہ ظاہر کیا ہے۔یہ گذشتہ سہ ماہی میں ہونے والے بجٹ خسارے کے نصف سے کچھ زیادہ ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب کی غیرتیل آمدن میں اضافہ ہوا ہے جبکہ اس کو تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن میں کمی واقع ہورہی ہے۔