امریکہ دنیا بھر میں رجیم چینج کا کھلاڑی ہے اورعالمی سیاست میںاس کا یہ سفر جاری ہے اب اس کی نظر ایران پر ہے اور ایران کے ڑوس پڑوس تو بس امریکہ کی ٹلی فون کی مار ہے ۔ جب کسی ملک میں رجیم چینج کی کا کا ارادہ ہو تو پہلے اس کیلئے ماحول بنایا جاتاہے ، چونکہ عالمی میدیا پر امریکی نظام کا قبضہ ہے پہلے الفاظ کی جنگ شروع ہوتی ہے پھر اس کی معنوی وسعت بڑھتی جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے اسے عالمی امن یا عالمی خطرے کا نام دے دیا جاتا ہے اور یوں کھیل شروع ہو جاتا ہے لیکن جب سے صدرڈونلڈ ٹرمپ نے موجودہ منصب کو سنبھالا ہے تو ایک طرف وہ دنیا سے جنگوں کے جنگ رکوانے اور امن قائم کرنے کی بات کرتے رہے ہیں لیکن جب سے انہیں نوبل انعام سے نہیں نوازا گیا تو ان کا لہجہ بدل گیا ہے اور ان کی بیان بازی مزید براہِ راست اور غیر روایتی ہو جاتی ہے۔ وہ سفارتی نزاکتوں کے بجائے کھلے الفاظ میں بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنے پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل کو بھی اسی ”سچ” کے بیانیے کیلئے استعمال کرتے ہیںاور سچ بولتے ہیں ، کھل کر اظہار کرتے ہیں جارحیت کی بات کرتی ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ جو کہتا ہوں وہ کر کے دکھائونگا ۔ امریکہ اور ایران کے تعلقات 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے مسلسل کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ 2015 میں طے پانے والا جوہری معاہدہ ایک اہم پیش رفت تھا، مگر 2018 میں امریکہ کی علیحدگی کے بعد پابندیوں کا دائرہ دوبارہ وسیع ہو گیا۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق 2018 کے بعد ایران پر سینکڑوں نئی پابندیاں عائد کی گئیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کے اندازوں کے مطابق 2018 سے 2020 کے دوران ایران کی معیشت مجموعی طور پر تقریباً 12 سے 15 فیصد تک سکڑی، جبکہ افراطِ زر بعض برسوں میں 40 فیصد سے تجاوز کر گئی۔ تیل کی برآمدات، جو ایک وقت میں یومیہ تقریباً پچیس لاکھ بیرل تھیں، سخت پابندیوں کے بعد بعض ادوار میں پانچ سے سات لاکھ بیرل یومیہ تک گر گئیں۔ یہ محض معاشی اعداد نہیں بلکہ دباؤ کی ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ تھے۔”رجیم چینج” یعنی حکومت کی تبدیلی، اسی حکمتِ عملی کا وہ پہلو ہے جس پر کھل کر بات کم اور اشارے زیادہ کیے جاتے ہیں۔ عراق میں 2003 کی فوجی مداخلت کے بعد صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ ہوا، مگر اس کے بعد جو خلا پیدا ہوا اس نے ملک کو طویل بدامنی میں دھکیل دیا۔ مختلف اندازوں کے مطابق اس جنگ میں لاکھوں عراقی شہری ہلاک ہوئے اور امریکہ کو ٹریلین ڈالر سے زائد مالی لاگت برداشت کرنا پڑی۔ لیبیامیں 2011 کی بیرونی مداخلت کے نتیجے میں معمر قذافی کا اقتدار ختم ہوا، لیکن آج تک مکمل سیاسی استحکام قائم نہیں ہو سکا۔ وینزویلا میں براہِ راست فوجی کارروائی کے بجائے سخت اقتصادی پابندیوں اور سفارتی دباؤ کو ترجیح دی گئی، مگر وہاں بھی فوری سیاسی تبدیلی واقع نہ ہو سکی۔ان مثالوں سے ایک بات واضح ہوتی ہے: حکومت کا خاتمہ نسبتاً آسان مرحلہ ہو سکتا ہے، مگر ریاستی استحکام کی بحالی کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ ایران کا معاملہ ان سب سے مختلف اور زیادہ پیچیدہ ہے۔ اس کی آبادی آٹھ کروڑ سے زائد ہے، ریاستی ادارے منظم ہیں اور سکیورٹی ڈھانچہ داخلی طور پر مضبوط سمجھا جاتا ہے۔ ایران خلیج فارس کے اس جغرافیائی مقام پر واقع ہے جہاں سے عالمی تیل کی رسد کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے روزانہ اندازاً ڈیڑھ سے دو کروڑ بیرل تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں کسی بڑے تصادم کے اثرات محض ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی منڈی کو براہِ راست متاثر کرینگے ۔ اقتصادی پابندیاں دباؤ ضرور بڑھاتی ہیں، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ وہ ہمیشہ مطلوبہ سیاسی نتیجہ پیدا نہیں کرتیں۔ کیوبا ہو یا شمالی کوریا، طویل پابندیوں کے باوجود نظامِ حکومت فوری طور پر تبدیل نہیں ہوا۔ ایران میں بھی بیرونی دباؤ بعض اوقات قوم پرستی کے جذبات کو تقویت دیتا ہے اور داخلی صف بندی کو مضبوط کر دیتا ہے۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرکے محض معاشی کمزوری کو سیاسی تبدیلی کا یقینی ذریعہ سمجھ لینا درست تجزیہ نہیں ہوگا۔اگر فرض کیا جائے کہ ایران میں کسی بیرونی دباؤ کے نتیجے میں نظام تبدیل ہو بھی جاتا ہے تو اصل امتحان بعد ازاں استحکام کا ہوگا۔ عراق میں 2003 کے بعد شدت پسند گروہوں کا ابھرنا اسی خلا کی پیداوار تھا۔ لیبیا میں متوازی حکومتوں کا قیام اسی عدم استحکام کا تسلسل ہے۔ ایران میں کسی بڑی تبدیلی کے اثرات شام، عراق، لبنان اور خلیج کے دیگر ممالک تک محسوس ہوں گے۔ توانائی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ عالمی معیشت کو بھی متاثر کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی معاشی غیر یقینی سے دوچار ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید دور میں مداخلت صرف ٹینکوں اور میزائلوں کے ذریعے نہیں ہوتی۔ مالیاتی دباؤ، عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط، سفارتی تنہائی، میڈیا کے ذریعے بیانیہ سازی اور سیاسی اثر و رسوخ بھی طاقت کے مؤثر ہتھیار ہیں۔ اسی لیے اصل سوال بیرونی خطرے سے زیادہ داخلی مضبوطی کا ہے۔ جس ملک کی معیشت مستحکم، سیاسی نظام متوازن اور ادارے قابلِ اعتماد ہوں، وہاں بیرونی دباؤ کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔ایران کے حوالے سے حالیہ بیانات کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ مذاکرات کی پیش کش اور طاقت کے اشارے بیک وقت دینا امریکی حکمتِ عملی کا پرانا انداز ہے، مگر مکمل رجیم چینج ایسا قدم ہے جس کے نتائج کا تعین محض فوجی برتری سے نہیں کیا جاسکتا ۔ طاقت دروازہ کھول سکتی ہے، لیکن اس کے بعد کی راہ ہموار کرنا کہیں زیادہ پیچیدہ مرحلہ ہوتا ہے اور ایران کی سر زمین اور وہاں کے لوگوں کا مزاج ذرہ مختلف ہے اور یہ بات صدر ٹرمپ کیلئے حیران کن ہے اتنی دھمکیوں کے باوجود وہ کہتے ہیں ایران ڈرتا کیوں نہیں؟ ۔

