پاکستان کی سڑکوں، گلیوں، اسپتالوں اور کچی بستیوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کی زندگیاں نہ اقتدار کے ایوانوں میں گزریں، نہ شہرت کے قمقموں میں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے طاقت، دولت اور نام کے پیچھے دوڑنے کے بجائے انسانیت کا ہاتھ تھاما۔ یہ ہمارے معاشرے کے وہ گمنام ہیروز ہیں جو خاموشی سے خدمت کرتے ہیں، جن کے نام شاید خبروں کی سرخی نہ بنیں، مگر جن کے اعمال ہزاروں زندگیاں بدل دیتے ہیں۔ یہی لوگ ہمارے سماج کے اصل چراغ ہیں، جو ہر دور کے اندھیروں میں امید کی روشنی جلاتے ہیں اور یہ یقین دلاتے ہیں کہ انسانیت ابھی مکمل طور پر مری نہیں۔مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے، غالباً 1988 کا زمانہ تھا۔ میں کراچی میں اپنی تعلیم کے دوران پی سی ایچ سوسائٹی میں ایک نیوی افسر کے بچوں کو پارٹ ٹائم ٹیوشن پڑھایا کرتا تھا۔ ایک دن گھر کے سامنے سڑک پر ایک بلی گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہو کر تڑپ رہی تھی۔ بچے یہ منظر دیکھ کر گھبرا گئے اور فورا ایدھی ایمبولینس کو فون کر دیا۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ یہ بچوں کی معصومیت ہے، جانور کے لیے کون ایمبولینس بھیجتا ہے؟ مگر چند ہی منٹوں میں ایدھی کی ایمبولینس وہاں موجود تھی۔عملے نے زخمی بلی کو نہایت احتیاط سے اٹھایا اور علاج کے لیے لے گئے۔یہ ایک معمولی واقعہ نہیں تھا، یہ میرے لیے ایک زلزلہ تھا۔ اس ایک لمحے نے میرے اندر بہت کچھ بدل دیا۔میں نے کراچی میں قیام کے دوران فسادات، لسانی جھگڑے، خون خرابہ اور انسان کی انسان سے بے رحمی کے ان گنت مناظر دیکھے تھے۔ وہ قیامتیں آج بھی میرے دل و دماغ پر بدنما داغ کی طرح نقش ہیں، جہاں گوشت پوست کے انسانوں کو نفرت، سیاست اور مفاد کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ مگر ان تمام اندھیروں کے بیچ اگر کسی چیز نے انسانیت پر میرا یقین زندہ رکھا تو وہ عبدالستار ایدھی کا نام تھا۔ وہ ایمبولینس محض ایک گاڑی نہیں تھی، بلکہ اس بات کی گواہی تھی کہ ہمارے معاشرے میں احساس، رحم اور ہمدردی ابھی زندہ ہے۔عبدالستار ایدھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے ریاست کے خلا کو اپنی ذات سے پر کیا۔ ایک چھوٹی سی ڈسپنسری سے آغاز کرتے ہوئے انہوں نے ایسا نظام قائم کیا جو آج دنیا کا سب سے بڑا رضاکارانہ ایمبولینس نیٹ ورک ہے۔ لاوارث بچوں کے لیے جھولے، یتیم خانے، بے سہارا عورتوں اور بزرگوں کے لیے پناہ گاہیں، ذہنی مریضوں کی دیکھ بھال، آوارہ جانوروں کی خدمتایدھی فانڈیشن ہر اس جگہ نظر آتی ہے جہاں انسان تنہا اور بے یار و مددگار ہو۔ ایدھی صاحب خود انتہائی سادہ زندگی گزارتے رہے، مگر دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے رہے۔ وہ ہمیں یہ سبق دے گئے کہ عظمت خاموشی میں ہوتی ہے، شور میں نہیں۔ایدھی کے بعد بھی یہ چراغ بجھا نہیں۔ ڈاکٹر روتھ فا اسی سلسلے کی ایک روشن مثال ہیں۔ جرمنی سے تعلق رکھنے والی یہ خاتون محض ایک ڈاکٹر نہیں تھیں بلکہ انسانیت کا چلتا پھرتا استعارہ تھیں۔ وہ 1960میں پاکستان آئیں اور یہاں جذام کے مریضوں کی حالت دیکھ کر واپس جانے کے بجائے یہیں رکنے کا فیصلہ کیا۔ پچاس سال سے زائد عرصہ انہوں نے ان مریضوں کی خدمت میں گزار دیا جنہیں معاشرہ چھونے سے بھی کتراتا تھا۔ ان کی انتھک جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان 1996 میں جذام سے پاک ملک قرار پایا۔ 2017 میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کی محبت، قربانی اور خدمت آج بھی زندہ ہے۔ ڈاکٹر روتھ فا نے ثابت کیا کہ انسانیت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔اسی طرح انسانی خدمت کا ایک اور روشن نام ڈاکٹر ادیب الرضوی ہے۔ انہوں نے سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کی بنیاد رکھ کر یہ انقلابی تصور دیا کہ علاج کسی کی جیب کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔ گردوں کے امراض، ڈائیلاسس اور ٹرانسپلانٹ جیسے مہنگے ترین علاج یہاں مکمل طور پر مفت کیے جاتے ہیں۔ اس ادارے میں مریض صرف مریض ہوتا ہے، اس کی حیثیت، لباس یا بینک بیلنس نہیں دیکھا جاتا۔ ڈاکٹر ادیب الرضوی نے اپنی پوری زندگی اس مشن کیلئے وقف کر دی اور خاموشی سے لاکھوں زندگیاں بچائیں۔غربت کے خلاف ایک مختلف مگر موثر جنگ ڈاکٹر امجد ثاقب نے لڑی۔ انہوں نے اخوت کے نام سے بلا سود قرضوں کا ایسا نظام متعارف کرایا جو محض مالی مدد نہیں بلکہ عزت نفس کی بحالی ہے۔ مواخاتِ مدینہ کے تصور پر قائم یہ نظام لاکھوں خاندانوں کو اپنے پاں پر کھڑا کر چکا ہے۔ اخوت نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو تو معیشت بھی اخلاق کے ساتھ چل سکتی ہے۔حکیم محمد سعید نے علم اور خدمت کو یکجا کیا۔ ہمدرد فائونڈیشن کے ذریعے انہوں نے یونانی طب کو جدید خطوط پر استوار کیا اور مدین الحکمت جیسے عظیم تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی۔ وہ بچوں کی اخلاقی اور ذہنی تربیت کے حوالے سے فکر مند رہتے تھے اور آخری دم تک قلم اور خدمت کے ذریعے قوم کی رہنمائی کرتے رہے۔مولانا بشیر فاروقی نے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے ذریعے کوئی بھوکا نہ سوئے کے نعرے کو عملی حقیقت بنا دیا۔ آج یہ ادارہ روزانہ لاکھوں افراد کو مفت کھانا فراہم کرتا ہے، ساتھ ہی تعلیم، صحت اور آئی ٹی ٹریننگ کے ذریعے نوجوانوں کو باعزت روزگار کے قابل بنا رہا ہے۔ یہ خدمت صرف پیٹ بھرنے تک محدود نہیں بلکہ خودداری بحال کرنے کی جدوجہد ہے۔یہ تمام لوگ ہمارے معاشرے کے اصل ہیروز ہیں۔ انہوں نے نہ اقتدار مانگا، نہ شہرت کی تمنا کی۔ انہوں نے خاموشی سے انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات بنایا۔ آج جب ہم بدعنوانی، نااہلی اور مایوسی کا رونا روتے ہیں تو ہمیں ان چراغوں کو بھی دیکھنا چاہیے جو اندھیروں میں مسلسل روشنی بانٹ رہے ہیں۔پاکستان اگر آج بھی سانس لے رہا ہے تو انہی گمنام ہیروز کی بدولت۔ رمضان المبارک کی آمد ہمیں یہ موقع دیتی ہے کہ ہم سوچیں پرکھیں اور فیصلہ کریں۔ ایسے اداروں کی مدد کریں جو آزمودہ ہیں جو خدمت کو کاروبار نہیں بناتے جو چندوں سے جائیدادیں نہیں بلکہ زندگیاں بناتے ہیں۔یاد رکھیے صدقہ وہی ہے جو کسی کے آنسو پونچھ دے اور خدمت وہی ہے جو خاموشی سے ہو کیونکہ شور تو مفاد بھی مچاتا ہے مگر انسانیت ہمیشہ آہستہ چلتی ہے۔

