مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ ایران پر حالیہ حملہ اور اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال نے نہ صرف تہران بلکہ واشنگٹن، تل ابیب، بیجنگ، ماسکو اور دیگر عالمی مراکز کی سیاسی فضاؤں کو لرزا دیا ہے۔ یہ واقعہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ انٹیلی جنس، پراکسی حکمتِ عملی اور عالمی طاقتوں کی صف بندی کا مظہر ہے۔ایران گزشتہ چار دہائیوں سے عالمی دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تنہائی کا سامنا کر رہا ہے۔ ایرانی حلقوں میں یہ مؤقف شدت سے زیرِ بحث ہے کہ ملک کے اندر برسوں سے غیر ملکی خفیہ اداروں کا ایک وسیع نیٹ ورک سرگرم رہا ہے۔ خاص طور پر سی آئی اے اور موسادنے ایران کے اندر انسانی ذرائع، ٹیکنالوجیکل نگرانی اور داخلی رابطہ کاروں کے ذریعے ایک پیچیدہ جاسوسی ڈھانچہ قائم کیا، جس کے نتیجے میں اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا اور کارروائی میں سو فیصد نتائج حاصل ہوئے۔ یہ پہلو ایران کے لیے داخلی احتساب اور سیکیورٹی اصلاحات کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر غیر ملکی خفیہ نیٹ ورکس ریاستی ڈھانچے کے اندر سرایت کر سکتے ہیں تو یہ خطے کی مجموعی سیکیورٹی کیلئے بڑا خطرہ ہے ۔ جدید جنگ صرف میزائل اور ٹینک سے نہیں بلکہ معلومات، ڈیٹا، سائبر رسائی اور داخلی روابط کے ذریعے لڑی جاتی ہے ۔ پاکستان کے تناظر میں بھی یہ لمحہ تشویشناک ہے۔ اگر ایران جیسی مضبوط سیکیورٹی رکھنے والی ریاست میں نیٹ ورک کامیاب ہو سکتا ہے تو پاکستان کہاں محفوظ ہے؟ جنوبی ایشیا کی جغرافیائی اہمیت، سی پیک، کشمیر اور گلگت بلتستان کی اسٹریٹجک حیثیت، اور عالمی طاقتوں کی دلچسپی، یہ سب پاکستان کو پراکسی سیاست کے مرکز میں لا سکتے ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کھلے لفظوں میں ایران سے کہتے ہیں کہ ”سرنڈر کر دو”، مگر ایران کی قیادت کا موقف واضح ہے:”ہم لڑیں گے اور مرنے کے لیے تیار ہیں۔”یہ دو مختلف دنیاوں کے موقف کو ایک ساتھ ظاہر کرتا ہے: ایک طرف عالمی طاقت کی دباؤ والی پالیسی، اور دوسری طرف نظریاتی استقلال اور قومی خودمختاری۔بین الاقوامی میڈیاکی رپورٹس کے مطابق حملہ طویل نگرانی، جدید سیٹلائٹ ٹریکنگ اور سگنل انٹیلی جنس کے بعد انجام دیا گیا۔ ایران کے اندر اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ یہ کارروائی داخلی غداری کی بجائے بیرونی ٹیکنالوجیکل برتری کا نتیجہ تھی۔حملے کے فوری اثرات کے باوجود ایرانی نظام شخصیات پر نہیں بلکہ ادارہ جاتی ڈھانچے پر قائم ہے۔ قیادت پر حملے کے باوجود ریاستی مشینری معمول کے مطابق چلتی رہی اور بڑے پیمانے پر انتشار نہیں ہوا۔ ایرانی نظام میں داخلی ڈسپلن غیر معمولی ہے، عوام سڑکوں پر نکل آئے اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا، جس نے بیرونی اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔عسکری لحاظ سے ایران نے جوابی کارروائی میں متعدد اہداف کو نشانہ بنا کر واضح پیغام دیا کہ وہ صرف دفاعی نہیں بلکہ اسٹریٹجک طاقت کے حامل ہیں۔ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی دو دہائیوں کی منصوبہ بندی، مقامی انجینئرنگ اور خارجی تعاون کا نتیجہ ہے۔پاکستان میں بھی اس بحران کے اثرات واضح ہیں۔ مختلف شہروں میں مظاہرے، کشیدگی اور سیاسی بیانات نے یہ ثابت کیا کہ ایران کا معاملہ صرف جغرافیائی نہیں بلکہ نظریاتی اور جذباتی بھی ہے۔ سی پیک، کشمیر اور گلگت بلتستان جیسے حساس خطے کسی بڑی طاقت کیلئے عدم استحکام پیدا کرنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔موجودہ کشیدگی کو بعض مبصرین چین، روس اور امریکہ کے درمیان جاری پراکسی جنگ کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔ چین خطے میں معاشی اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے، روس توانائی اور عسکری تعاون کے ذریعے اپنی موجودگی مستحکم کر رہا ہے، جبکہ امریکہ اپنی عالمی برتری کے لیے پراکسی محاذ آرائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایسے ماحول میں کمزور یا داخلی طور پر منقسم ریاستیں عالمی طاقتوں کے کھیل کا میدان بن سکتی ہیں۔عالمی اداروں کا کردار بھی سوالات کی زد میں ہے۔ اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل ابھی تک فیصلہ کن پیش رفت دکھانے میں ناکام ہیں۔ اگر سفارتی چینلز فعال نہ ہوئے تو یہ تنازع طویل جنگ میں بدل سکتا ہے۔آج مشرقِ وسطیٰ ہائی الرٹ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ ایران پر جاری بمباری اور عسکری کارروائیوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ جدید جنگ صرف محاذ پر نہیں بلکہ اطلاعات، ٹیکنالوجی اور پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کھلے لفظوں میں ایران سے کہتے ہیں کہ ”سرنڈر کر دو”، مگر ایران کا موقف ہے:”ہم لڑیں گے اور مرنے کیلئے تیار ہیں ۔ ”یہ بحران واضح کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی مقامی تصادم کے اثرات عالمی سطح تک پہنچ سکتے ہیں؛ توانائی کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے، اور خطے میں طاقت کے نئے توازن سامنے آ سکتے ہیں۔ تجزیاتی نقطہ نظر سے کوئی بھی ملک اب جزوی محفوظ نہیں رہا۔ داخلی سیکیورٹی، سیاسی استحکام اور قومی اتحاد وہ واحد ڈھال ہیں جو ریاستوں کو عالمی پراکسی کھیل، خفیہ مداخلت اور عسکری دباؤ سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اگر سفارتکاری فوری طور پر مؤثر نہ ہوئی تو یہ کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پورے عالمی نظام کیلئے طویل اور پیچیدہ جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

