کالم

بزدلی کے بیانیے اور اقوام متحدہ کا سچ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے انٹیلی جنس ماہرین نے 10فروری 2026 کو کونسل کی سینکشنز کمیٹی کو ایک ایسی رپورٹ فراہم کی ہے جس نے پاکستان کے سیاسی اور دفاعی افق پر پھیلی دھند کو ہمیشہ کیلئے صاف کر دیا ہے۔ ایک سال کی عرق ریزی، سیٹلائٹ شواہد اور میدانِ جنگ کے ٹھوس حقائق پر مبنی یہ 37ویں مانیٹرنگ رپورٹ کابل کی پناہ گاہوں سے لیکر ٹی ٹی پی کے جدید نیٹو اسلحے تک، ہر کڑی کو ایک خوفناک حقیقت کی صورت میں جوڑتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر عالمی میڈیا میں شور مچانے والی اس رپورٹ پر ہماری مقامی بحث اس حد تک نہیں ہوئی جتنی ضرورت تھی، حالانکہ یہ رپورٹ ہمارے ان تمام داخلی سیاسی بیانیوں اور سیاسی وکیلوں کے تضادات کا پردہ چاک کرتی ہے جنہوں نے برسوں تک ڈرون حملوں اور امریکی موجودگی کے جھوٹے بہانوں تلے دہشت گردی کے اس عفریت کو پال کر قوم کو گمراہ کیا۔رپورٹ کا ڈھانچہ ان مستند ذرائع پر مبنی ہے جو براہِ راست سرحدی علاقوں میں ہونے والی مشکوک نقل و حرکت، جدید ہتھیاروں کی منتقلی اور طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں میں ہونیوالی خفیہ ملاقاتوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ 2025کے آخر میں سیٹلائٹ تصاویر اور دہشتگردوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کے جائزے سے یہ ناقابلِ تردید حقیقت سامنے آئی کہ کابل انتظامیہ نے نہ صرف ٹی ٹی پی کو پناہ گاہیں فراہم کیں بلکہ انہیں وہ جدید ترین نیٹو اسلحہ، نائٹ ویژن ٹیکنالوجی اور تھرمل گنز بھی تھمائیں جو امریکہ یہاں چھوڑ گیا تھا ۔ یہ انکشاف ان تمام دعوؤں کے منہ پر طمانچہ ہے جو افغانستان میں طالبان کے قبضے کو پاکستان کی جیت قرار دے رہے تھے۔ رپورٹ نے ثابت کیا کہ افغان طالبان نے عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کو جعلی شناختی دستاویزات اور اسلحہ کے لائسنس جاری کیے تاکہ انہیں مقامی آبادی کا حصہ دکھایا جا سکے۔اقوام متحدہ نے دو ٹوک واضح کر دیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کابل کی سرپرستی میں ایک باقاعدہ علاقائی خطرہ بن چکا ہے جس کا واحد ہدف پاکستان کی ریاست کو مفلوج کرنا ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ان چہروں کی شناخت مشکل نہیں جنہوں نے اس فتنے کو سیاست کیلئے استعمال کیا۔ ایک مقبول جماعت نے برسوں یہ راگ الاپا کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ ہر خودکش حملے اور شہادت کو امریکی ڈرون حملوں کا شاخسانہ قرار دیا گیا۔ ان کے لیڈر کا یہ بیانیہ کہ ڈرون رکیں گے تو دہشتگردی رکے گی، دراصل ان قاتلوں کیلئے ایک اخلاقی ڈھال بن گیا تھا۔ انہوں نے طالبان کو ناراض بھائی قرار دیکر انہیں پاکستان میں دفاتر کھولنے کی دعوت دی، گویا وہ ریاست کے باغی نہیں بلکہ کوئی سیاسی حریف ہوں۔ آج جب امریکہ جا چکا ہے اور ڈرون حملے بند ہیں، تو پھر وہ کون سا ردِ عمل ہے جو آج بھی پاکستانیوں کا لہو بہا رہا ہے؟ یہ ثابت ہو گیا کہ یہ کبھی ڈرون کا ردِ عمل نہیں تھا، بلکہ ایک سوچی سمجھی نظریاتی جنگ تھی ۔مصلحت پسندی کی اس فہرست میں صرف وہی ایک مقبول جماعت ہی شامل نہیں تھی۔ 2013 کے انتخابات کے بعد حکومت نے امن مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر دہشت گردوں کو وہ قیمتی وقت فراہم کیا جس میں انہوں نے خود کو دوبارہ منظم کیا۔ بزدلی کا یہ عالم تھا کہ مذاکراتی کمیٹیوں میں ان لوگوں کو بٹھایا گیا جو خود طالبان کے نظریاتی وکیل بنے ہوئے تھے۔ وزیر داخلہ نے ریاست کے دشمن حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کو امن کا قتل قرار دیا تھا۔ ایک ایسے شخص کیلئے آنسو بہانا جس نے ہزاروں پاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہو ، سیاسی دیوالیہ پن کی آخری حد تھی۔ اسی طرح ہماری مذہبی جماعتوں نے بھی دہشت گردوں کو نظریاتی تحفظ فراہم کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی ۔ ایک امیر صاحب نے حکیم اللہ محسود کو شہید کہا تو دوسرے نے ہمیشہ اسے امریکہ اور اسلام کی جنگ بنا کر پیش کیا، جس سے عام آدمی کے ذہن میں یہ ابہام پیدا ہوا کہ شاید یہ دہشت گرد واقعی کسی مقدس مقصد کیلئے لڑ رہے ہیں۔ ان مصلحت پسندوں کے برخلاف کچھ جرات مند آوازیں بھی تھیں جنہوں نے اس فتنے کو اس وقت پہچان لیا تھا ۔ محترمہ بینظیر بھٹو وہ قد آور شخصیت تھیں جنہوں نے 2007میں اپنی واپسی سے قبل ہی واضح کر دیا تھا کہ یہ پاکستان کی اپنی بقا کی جنگ ہے۔ اسی طرح اے این پی کے سینکڑوں کارکنوں نے جانیں دیں، بشیر بلور شہید ہوئے، لیکن انہوں نے کبھی دہشت گردوں کو بھائی نہیں کہا۔ ان کا موقف آج یو این رپورٹ کی صورت میں سچا ثابت ہوا ہے کہ یہ جنگ کسی اور کی نہیں بلکہ ہماری اپنی دھرتی کو ان درندوں سے پاک کرنے کی جنگ ہے۔ اب ہمیں ان تمام سیاستدانوں سے سوال کرنا ہوگا جنہوں نے حکیم اللہ محسود اور بیت اللہ محسود جیسے درندوں کی ہلاکت پر ماتم کیا تھا۔ یہ عناصر آج پھر عیاری سے سوال اٹھاتے ہیں کہ جب اب تک درجنوں آپریشنز سے امن نہ ہو سکا، تو نئے آپریشن کی افادیت کیا ہے؟یہ منطق دراصل قاتلوں کو بچانے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب سوات میں صوفی محمد کے ساتھ کیا گیا۔امن معاہدہ ناکام ہوا، تو اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت نے تذبذب کی دھند چھانٹ کر 2009میں آپریشن راہِ راست اور آپریشن راہِ نجات کا علم بلند کیا۔یہ وہ یادگار معرکے تھے جب سویلین حکومت اور عسکری قیادت ایک ہی نظریاتی پیج پر کھڑے تھے اور دشمن کے مکمل خاتمے پر ان کا کوئی اختلاف نہ تھا اور ان آپریشنز میں شاندار کامیابی ملی۔اس کے برعکس، دیگر مہم جوئیوں میں ہماری سیاسی اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ کبھی بھی اس درجے کی فکری یکسوئی پیدا نہ کر سکے، جس کی قیمت ہمیں آپریشنز کی ادھوری کامیابیوں اور دہشتگردی کی واپسی کی صورت میں چکانی پڑی۔ اس کالم کا مقصد محض تنقید نہیں بلکہ اس تلخ حقیقت کا ادراک ہے کہ جب تک ریاست اور اس کی سیاسی قیادت ایک واضح بیانیہ اختیار نہیں کرے گی، تب تک یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ ہمیں اچھے اور برے طالبان کے فرسودہ تصور کو دفن کرنا ہوگا اور یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جو کوئی بھی پاکستان کے آئین اور اس کے شہریوں کیخلاف ہتھیار اٹھاتا ہے، وہ صرف اور صرف دہشت گرد ہے۔ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ ان تمام گمنام سپاہیوں اور معصوم شہریوں کے نام ایک خراجِ عقیدت ہے جنہوں نے اس جنگ میں اپنی جانیں دیں جبکہ ان کے لیڈر ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر دہشتگردوں کا دفاع کر رہے تھے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم ان بہادروں کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتے ہیں جنہوں نے اس جنگ کو اپنی جنگ کہا، یا ان بزدلوں کی پیروی کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے دہشت گردوں کی وکالت کر کے اس ملک کو اس نہج پر لا کھڑا کیا۔ تاریخ بے رحم ہوتی ہے، یہ کسی کو معاف نہیں کرتی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ نے سچائی کی مہر لگا دی ہے، اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اس سچائی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا پھر سے کسی نئے بہانے کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے